Free AIOU Solved Assignment Code 8639 Spring 2021

aiouguru

Free AIOU Solved Assignment Code 8639 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiouguru.

Course: Tadrisat Urdu (8639)
Semester: Spring, 2021
Assignment-1

ASSIGNMENT No. 1

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

Check Also: AIOU Solved Assignment Code 8639

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔ اردو کا نصاب مرتب کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل مقصد زبان کی تدریس ہے۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو نہایت ذہانت اور فن کارانہ حس تناسب کے استعمال سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح وضع کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی نصابی کتب مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی پابند ہو جائیں یعنی اس میں مقاصد اور طریق کار کے متعلق واضح ہدایات درج ہوں۔ مثلاً یہ کہ پڑھ کر عبارت کی درست تفہیم کے لیے جو تحریری ٹکڑے منتخب کیے جاتے ہیں ان میں بچوں کی عمر، ذوق، استعداد اور دلچسپی کو تو مد نظر رکھا ہی جاتا ہے لیکن زبان کی چاشنی اور اثر انگیزی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور تفہیم کے ساتھ ساتھ تحسین کے عمل کو جزو ِ نصاب بنایا جائے۔غیر ضروری طوالت اور پھسپھسی، بے جان عبارتوں سے گریز کر کے، اردو کے نئے پرانے عظیم اور معتبر انشا پردازوں کی تحریروں کے ٹکڑے پیش کیے جائیں جن کے معنوی اور فنی پہلوؤں کی تفہیم و تحسین اساتذہ کے ذریعے کروائی جائے اور اس مقصد کے لیے خود اساتذہ کو بھی نہایت واضح ہدایات دی جائیں۔ نیز اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ بچے عبارت کو پڑھ کر اس کے مرکزی نکتے یا نکات کو سمجھ لیں اور پھر اسے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر سکیں۔ ابتدا میں طویل عبارتوں کے بجائے مختصر اقتباسات کے ذریعے مشق کروانا اہم ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سی باتوں کے بجائے ایک ہی مرکزی خیال تک پہنچناکافی ہو۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے مشق کا آغاز خوش خطی اور پھر املا سے ہونا چاہیے۔ پہلے حروف کی درست نشست اور ان کے جوڑ واضح کرنا ضروری ہیں۔ اس مشق کے لیے خاطر خواہ وقت مخصوص کرنا ضروری ہے۔ بار بار کی جانے والی مشق سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تختیوں اور قلم دوات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تختیاں بار بار دھو کر استعمال کی جا سکتی تھیں، ماں باپ پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا اور بچے تختی دھونے اور سکھانے کے عمل کے دوران نہ صرف ایک جسمانی ورزش کر لیتے تھے بلکہ چھوٹے موٹے گیت گا کر کھیل اور تفریح کا ذریعہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے جدید تدریسی مہارتوں کو پیش نظر رکھ کر نصاب سازی کی جائے تو زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی تحریر کی مشق کروائی جائے یعنی تصویر کو دیکھ کر عنوان لکھنا، تصویری کہانیاں لکھنا، نامکمل جملوں کو مکمل کرنا اور پھر بتدریج خاکے کی مدد سے کہانی یا مضمون لکھنا وغیرہ۔ یہ تو محض چند اشارے ہیں۔ اس نوع کی درجنوں سرگرمیاں ہیں جو تخیل کو مہمیز کر سکتی ہیں اور افکار و خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی تربیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ صرف کی جائے۔

ان چاروں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ زبان کے قواعدی نکات سے آشنائی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے رائج استخراجی طریقے کے بجائے استقرائی طریقے پر عمل مفید رہتا ہے۔ اگرچہ نصابات میں استقرائی طریقہ استعمال کرنے کی سفارش تو کی جاتی ہے مگر عملی طور پر وہی پرانا طریقہ رائج ہے جس کے تحت پہلے تعریفیں یاد کروا دی جاتی ہیں اور پھر ان کی مثالیں بتائی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ تدریسی اسباق میں سے مختلف قواعدی نکات کی شناخت کروانے کے بعد ان کے قواعدی نام یا تعریف سے آگاہ کیا جائے۔ اس طریقے کی مدد سے بچوں میں تجسس اور دلچسپی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تعریفیں رٹنے کے عمل سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

مختصر یہ ہے کہ زبان کی تدریس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانا ضروری ہے۔ دلچسپی صرف لطیفوں یا مزاحیہ باتوں سے نہیں پیدا ہوتی۔ دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچہ اپنے درس میں خود پوری طرح شریک ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی مشکلات کو حل کر کے، سوالات کے جواب تلاش کر کے اور کسی نئے نکتے کی دریافت کر کے مسرت بھری کامیابی کو محسوس کرتا ہے۔اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تدریس کا عمل دو طرفہ اور عملی نوعیت کا ہو۔ یہ استاد سے بچوں کی طرف معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کا نام نہ بن جائے، جیسا کہ عملی طور پر ہمارے ہاں رائج ہے

رشید حسن خاں نے اردو میں باغ و بہار اور فسانہ عجائب جیسے کلاسکل متون کی تدوین کا کام انجام دے کر اردو میں تدوین کی روایت کو جتنا عروج و ارتقا بخشا ہے اس سے  تمام اردو والے واقف ہیں۔ اپنے عمیق مطالعے اور  کل  وقتی  مشاہدے سے خاں صاحب نے اردو میں املا ، انشا اور قوائد کے ایسے اصول وضع کیے جس سے جدید اردو رسم خط کی بنیاد پڑی  اور اس رسم خط سے اردو میں تدوین کے حوالے سے نئے انقلابات رونما ہوئے۔ رشید صاحب سے قبل  ایک نام قاضی عبدالستار کا بھی  آتا ہے جو املا و انشا کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔ پر تدوین کی رو سے قاضی صاحب کے بالمقابل رشید صاحب نے زیادہ اہم کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ تدوین متن کے تعلق سے خاں صاحب نے فسانہ عجائب اور باغ و بہار دونوں  کے مقدمات میں جو باتیں کی ہیں در اصل وہی ان کی تدوین متن   کے توسط سے نظری تنقید کا نمونہ ہیں۔ جس کا implicationہمیں ان  دونوں کلاسکل متون   پر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثلا ً اگر فسانہ عجائب  پر خاں صاحب کے لکھے ہوئے مقدمے اور  اس داستان کے متن کو غور سے پڑھا جائے  تو متن کی تدوین کی ضرورت کے متعلق یہ اہم باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
٭    قدیم متن کو پڑھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
٭    قدیم لفظیات  پر حرکات  کا اضافہ ہو جاتا ہے تاکہ ان کے صحیح تلفظ سے واقفیت حاصل ہو جائے۔
٭    متروک لفظیات کی  حاشیے  میں وضاحت کر دی جاتی ہے اور قدیم لغات سے اس کے معنی بھی دے دیئے جاتے ہیں۔
٭    متن میں punctuation (توقیف نگاری)کا اضافہ کر دیا جاتا ہے، تاکہ قاری کے لئے جملہ سمجھنا آسان ہو جائے۔
٭    گنجلک عبارت کی حاشیہ میں یا حوالے کے طور پر وضاحت پیش کر دی جاتی ہے۔
٭    آخر میں مشکل  الفاظ کی فرہنگ دے دی جاتی ہے۔
تدوینِ متن ایک ترکیب ہے جو اضافت کے ذریعے تدوین اور متن کوجوڑے ہوئے ہے ۔ لفظ تدوین ، عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ ہیت میں مونث ہے اور ایک فن کی حیثیت رکھتا ہے جب کہ اس کا معنی تالیف کرنا، جمع کرنا یا مرتب کرناہے۔ ۱ ؂
جبکہ لغات کشوری میں تدوین کے معنی’’ جمع کرنااور تالیف کرنا‘‘کے ہیں۔ ۲ ؂
اضافت کے بعد اگلے سہہ حرفی لفظ متن کے معنی کتاب کی اصل عبارت،کتاب،کپڑے یا سڑک کے بیچ کا حصہ، درمیان، وسط، درمیانی اور پشت کے ہیں ۔ ۳ ؂
متن انگریزی لفظ Textکا ہم معنی ہے جو کہ عبارت یا عکس، نقشِ عبارت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ڈا کٹر تنویر احمد علوی نے اسٹنڈرڈ اردو ڈکشنری کے صفحہ نمبر ۱۲۰۸سے اس کی تعریف یوں نقل کی ہے۔

AIOU Solved Assignment 1 Code 8639 Spring 2021

مصنف کے اصل الفاظ، کتاب کی اصل عبارت (شرح وغیرہ سے قطع نظر کر کے ) ، کتاب الہٰی انجیل (وقرآن) وغیرہ کی آیت یا آیات جو کسی وعظ یا مقالے کے مو ضوع یا سند کے طور پراستعمال کی جائیں ۔ متن کتاب کامضمون(حواشی وغیرہ سے قطع نظر کر کے)۔جلی خط،نصاب کی کتاب،درسی کتاب ۔ ۴ ؂
پروفیسر ایس ایم کاترے نے متن کی تعریف اپنی کتاب Indian Textual Criticim Introductioin to میں صفحہ نمبر ۲۷پر اس طرح سے کی ہے:
By a text we understant a document written in a language known more or less to the inquirer and assumed to have a meaning which has been or can be ascertained. Sinca a text implies a written document, the knowledge of writing has to be presumed the basis of our study.
تدوین درحقیقت کیاہے ؟ اس حوالے سے پروفیسر خالق داد ملک اپنی کتاب ’’تحقیق وتدوین کا طریقہ‘‘میں اس طرح سے رقمطراز ہیں :
’’
اردو زبان میں تدوین عربی میں تحقیق اور انگریزی میں ایڈیٹنگ (Editing)ایک جدید اصطلاح ہے جس سے مراد مخطوطہ (قلمی کتاب)کو ایسی شکل میں متعارف کروانا ہے جیسے کہ اس کے مولف نے اسے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا تھا۔ وہ قابل مطالعہ و قابل فہم ہوجائے اور مقرری معیارات کے مطابق اسے مدون شکل میں پیش کیاجائے۔لہٰذا یہ کہا جاسکتاہے کہ کسی مخطوطہ کی تدوین کا عمل اس بات کا تقا ضا کرتا ہے کہ مخطوطہ کا عنوان،اس کے مولف کا نام، مخطوطہ کی مولف کی طرف نسبت ، مخطوطے کی عبارت اور اس میں آنے والے تمام مواد کواول لفظ سے آخری لفظ تک پوری تحقیق، تصدیق اور ضبط کے ساتھ مرتب و مدون کیا جائے اور اسے ایسی صورت میں منصہ شہور پر لایا جائے جواس کے مولف کی وضع کردہ صورت کے بالکل مطابق ہو۔ ‘‘ ۵ ؂
مخطوطہ کی بحث میں اس سے مراد ایسی ہر قلمی کتاب ہے جو مولف نے خود اپنے ہاتھ سے لکھی ہو یا اس کے شاگردوں میں سے کسی نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا ہو یا ان کے بعد آنے والے کاتبوں نے اسے ہاتھ سے تحریرکیاہو۔ تدوین کے حوالے سے مخطوطہ سب سے اہم مقام رکھتا ہے۔اس کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم اصل نسخہ ہے جسے خود مصنف نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہو۔ یہ نسخہ اصلیہ یا نسختہ الام بھی کہلاتاہے جس کو انگریزی میں Orignal Copy کہا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد جو نسخہ اصل نسخے سے کاپی کیا گیا ہو وہ اہمیت کاحامل ہے۔ اس کے بعد فرعی نسخے جنھیں اصل یا ثانوی نسخوں سے نقل کرکے تیار کیا گیا ہو ۔ کوئی نسخہ جو اصل نسخے سے جتنا قریب العھد ہوگا اتنا ہی اہم ہوگا۔ اگردنیا بھر میں مخطوطات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تویہ اندازہ لگاناہر گز مشکل نہیں ہوگا کہ یہ کام اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ فنِ کتابت۔انسان نے جب سے لکھنا پڑھنا سیکھا تبھی سے مخطوطات کاآغاز ہو گیاتھالیکن یہ مخطوطات کاغذ پر نہیں لکھے گئے تھے۔انسان نے اول اول تو اپنے خیالات کے اظہار و ابلاغ کیلئے پتھروں پر ان کی ترجمانی لکھنے کی صورت کی جس کا پہلا روپ عجیب و غریب اشکال کی صورت میں تھا۔بعد میں یہی اشکال علامات اور پھرالفاظ کی صورت میں ڈھلنے لگیں۔پھر یہ فن مذہبی عبارات و آیات کو دیواروں پرکندہ کاری کرنے کی طرف مائل ہوا ۔ وہاں سے مخطو طات کی حفاظت کے لیے چمڑے اور پتوں کا استعمال کیا جانے لگا جنھیں انسان نے لکھنے کیلئے استعمال کیا۔بہت ساری جگہوں پر کپڑا بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہوا۔ اس کے بعد چین کے ایک موجدتسائی لون نے کا غذ کی ایجاد کے ساتھ ہی یہ سہرا اپنے سر باندھ لیا اور دنیا بھر میں
فنِ کتابت تیزی سے پر وان چڑھنے لگا۔ اس طرح دنیا بھر میں مخطوطات کی تاریخ میں سب سے پہلے مخطوطات کی اقسام پتھروں کی تھی،دوسری چمڑے، پتے ،کپڑے اورتیسری کاغذ کی۔
جب ان مخطوطات کی جانچ پرکھ کا کام شروع ہوا اور انھیں سمجھنے اور جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کام شروع ہوا تو تدوینِ متن کا آغاز ہوگیا۔ یو ں عرفِ عام میں کہا جا سکتا ہے کہ تدوینِ متن کی اصطلاح سے مراد ہے کہ مصنف کی اصل عبارت کو احسن انداز میں جمع کرنا اور ترتیب دینا۔یہ ترتیب اس طرح کی ہو کہ اصل اورنقل عبارت میں فرق واضح کر سکے اور یہ بیان کر سکے کہ اصل عبارت میں کہاں کہاں اور کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں ہیں۔اس حوالے سے پروفیسر S.Mکاترے نے متنی تنقید کی بھی وضا حت کی ہے جو کہ تدوینِ متن سے جُڑی ہوئی ہے ۔
’’
متنی تنقید کاکام مخطو طات کی داخلی کیفیات کی شہادت پر مصنف کے متن تک پہنچنے کی کوشش ہے ‘‘ ۶ ؂
گو کہ اردو میں مخطوطات کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے بل کہ یہ مورخین کے مطابق اردو کے جنم لینے کے بعد آغاز پذیر ہوئی اور اسی لحاظ سے مخطوطات کی تدوین بھی بہت زیادہ پرانا کام نہیں لیکن اگر دنیا بھر کی زبانوں میں موجود مخطوطات کی تدوین کے حوالے سے دیکھا جائے توحقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اردو میں اس سے قدرے بے اعتناعی برتی گئی بل کہ اعلیٰ درجے کے مدونین کی تعداد بھی محدود رہی ہے ۔ مخطو طا ت کی کم یابی کی ایک وجہ لائبریریوں میں اور ذاتی ذخیروں میں موجود مخطوطات کی جانب عدم توجہی بھی ہے۔
ڈاکٹر عطا الرحمن میو اردو میں تدوینِ متن کی روایت کے حوالے سے اس طرح رقمطراز ہیں :
’’
اردو میں ادب میں کتابوں کی تصنیف و تالیف کا باقاعدہ باضابطہ ادارہ ایشیا ٹک سوسائٹی (بنگال )کے نام سے 15جنوری 1784سے وارن ہینگٹو (Warren Hastings)کی سرپرستی میں قائم ہوا۔ اس کے پہلے بانی صدر سر ولیم جونز کے بیان کے مطابق اس ادارے کا دائرہ کار ایشیا کے علمی ، تمدنی اور تاریخی کارناموں کی تحقیق مغرب کے جدید اصولوں کے مطابق کرنا تھی۔ اس کے بعد 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قا ئم ہوا جس کا مقصد انگریز افسروں کے واسطے، جو تازہ وارد ہوئے تھے ، ایسی کتابیں تیار کی جائیں جن سے انتظام ملکی اور ہندوستانیوں کے ساتھ میل جول اور ربط و ضبط بڑھانے میں آسانی ہو۔‘‘ ۷ ؂
اردو میں تدوین کے ابتدائی دور میں اس کی صورت کیسی تھی اس حوالے سے رام بابو سکسینہ ، تاریخِ ادب اردومیں اپنی تحقیق ان الفاظ میں سمیٹتے نظر آتے ہیں:
’’
ان اداروں میں جو کتب تحریر ہوئیں ، ان کا تدوینی معیار بہت حد تک ابتدائی شکل میں تھا لہٰذا ناقص تھا۔آج امتدادزمانہ سے متعدد پہلوؤں سے مخطوطات اور مسودات کی ترتیب و تدوین میں جدید اصولوں کے مطابق اضافہ ہوتا ہے ، ترمیم و تنسیخ ہوتی ہے ۔ اضافہ یا ترمیم و تنسیخ ان معنوں میں نہیں کہ تحریف کی جائے بل کہ ان معنوں میں کہ وقت کے ساتھ ساتھ الفاظ کا املا اور جملے میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر میں جو تغیر آتا ہے جب یہ مسودہ تدوین کی سان پر چڑھتا ہے تو اسے مدون اپنے دور کے اصولوں کے مطابق تیار کرتا ہے۔ اس کی بہترین مثال باغ و بہار کا وہ نسخہ ہے جسے رشید حسن خا ں نے مرتب کیا ہے۔ باغ و بہار، میر امن نے فورٹ ولیم کالج میں ملازمت کے دوران تحریر کی۔ میر امن کے دور میں الفاظ کا جو املا رائج تھا جو بعض محاورات و الفاظ رائج تھے ، امتدادِ زمانہ سے وہ متروک ہوگئے۔ بعد میں ان کا املا بدل گیا۔ رشید حسن خاں نے جب اسے مدون کیا تو الفاظ کا وہ املا اختیار کیا جو آج رائج ہے‘‘ ۸ ؂
ایک اور جگہ پر ڈاکٹرعطا الرحمن رائے دیتے ہیں کہ اردو ادب میں تصنیف و تالیف کا کام اسی دور میں شروع ہوا جب تدوینِ متن کی پاس داری کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ چھاپہ خانے کے رواج سے پہلے قلمی نسخوں کی نقول تمام تر کاتبوں اور خطاطوں کی مر ہونِ منت تھیں۔ وہ نقلِ متن کو مروجہ اسلوب کے مطابق اور کچھ اپنی افتادِ طبع کے مطابق نقل کردیتے تھے ۔ اس میں بہت سی لغزشیں بھی ہو جاتی تھیں اور تحریف و التباس کا دروازہ بھی کھل جاتا تھا۔
درجہ بالا بحث کے باوجوداردو میں متنی تنقید بالکل نئی نہیں ہے۔اس کاسِرا اردو کے اس پہلے دور سے جڑا ہوا ہے جب بارھویں صد ی عیسوی کے شاعر امیر خسرو نے اردو شاعری کی جو داغ بیل ڈالی اس کلام کو اکٹھا کرنے اوران کا ذکر اردو کے اولین شعرا کا تذ کرہ کر نے کی بابت بات ہوئی ، تب سے ہی تدوینِ متن کا بے قاعدہ آغاز ہوا۔ لیکن یہ تدوین تذکروں میں اردو و فارسی شعرا ء کے تذکروں اوران کے نمو نہ کلام سے آگے کچھ اور نہیں تھی۔ تذکروں سے چلنے والا سلسلہ بہت آہستگی سے تدوین کے مراحل میں داخل ہوا۔ بہر حال ابھی تک پاک و ہند کی تاریخِ ادب میں تحقیق کی دو صورتیں دست یاب ہیں اول کا تعلق متون کی تدوین سے ہے جبکہ دوئم حقائق کی بازیافت اور ان کی تفہیم و تحلیل سے تعلق رکھتی ہے ۔ تحقیق کی پہلی قسم میں کلاسیکی ادب کا حصہ زیادہ رہا ہے اور اس میں چوں کہ کلام (نظم اور نثر)دونوں ہی مخطوطات کی صوررت میں دست یاب ہیں اس لئے ان کی تدوین ایک مشکل مر حلہ بھی ٹھہرا اس سلسلے میں ڈاکٹر ایم سلطانہ بخش اپنی کتاب ’’اردو میں اصولِ تحقیق‘‘ کے مقدمہ میں اس طرحسے رقمطراز ہیں :
(چوں کہ)قدیم مشرقی زبانوں کا کلاسیکی ادب زیادہ تر مخطوطات کی شکل میں ملتا ہے اور انھی قلمی نسخو ں کی مدد سے ان کی ہےئت اور حدودتک رسائی ممکن ہے اس لیے کہ ہر متن ایک مستقل وجود ہے اور اپنی مختلف روایتوں کی شکل میں اپنے میں ایک سے زیادہ ذیلی وجود رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں متون کی صحیح ہےئت اور حدود روایت کا تعین ایک نہایت اہم، مشکل مگر نتیجہ خیز کام ہے، جس کیلئے غیر معمو لی سطح پر ذہنی کاوش اور اہتمام تلاش جزئیات ضرور ی ہوتا ہے ، اس کے بغیر حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ اس میں بہت سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے اور روایتہ اوردرایتہ صحیح اخذ کرتا ہے ۔ ترتیب متن کا کام سائنسی نہ ہوتے ہوئے بھی ایک سائنسی طریقہء کار کاتقاضا کرتا ہے جس سے مآ خد کی جستجو اور معیاری بندی ہو سکے۔ ۹؂
اردوکو بطورِ زبان شروع ہوئے کم و بیش چھ سو سال ہو چکے ہیں مگر تدوین کا کام ابھی تک نا مکمل ہے ۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ اردو میں تدوین کے ذرائع مخطوطات اور تذکرے ہی تھے جن سے کسی بھی شاعر یا ادیب کا کلام تدوین کیا جا سکتا تھا اس لئے اردو میں تدوینِ متن کا ذکر ان تذکروں کے بغیر ادھورا ہے جنھوں نے اردو میں تدوین کو بنیاد ی صورت عطا کی۔ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضرور ی ہے کہ مولانا محمد حسین آزاد ؔ اس نظرےئے کے قائل ہیں کہ اردو میں پہلے نظم اور اس کے بعد نثر کی ایجاد ہوئی ۔ اس لیے اردو میں تدوین کے حوالے سے شعرا ء کرام کے کلام کا ہی زیادہ حصہ ملتا ہے ۔اس زبان میں جو تذکرے لکھے گئے ہیں وہ اردو تحقیق کے ابتدائی نقوش ہیں ۔ تذکروں کے بعد محمد حسین آزادؔ کی ’’آبِ حیا ت ‘‘ سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آبِ حیات تذکرہ نویسی اور باقاعدہ تاریخ نویسی کے درمیان مضبوط کڑی ہے۔ اگرچہ اس پر بہت اعتراض کیے گئے اور اس کے بعض معلومات کو غیر مستند قرار دیا گیا تاہم آبِ حیات کی بنیادی حیثیت کے بارے میں کلا م نہیں ۔
اردو میں تحقیق و تدوین کے حوالے سے سر سید احمد خان کی علم دوست تحریک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کی وجہ سے جو نیا علمی اور سائنسی رُجحان پیدا ہوا، اس سے تحقیق کو بھی تقویت پہنچی۔ بیسویں صدی میں اس روایت کی مزید توسیع محمودشیرانی ، ڈاکٹر عبدالحق، مولوی محمد شفیع، قاضی عبدالودود مسعود حسن رضوی اور امتیاز علی عرشی جیسے بلند پایا محققین ادب کے ہاتھوں ہوئی۔ آزادی سے پہلے ہی ہند و پاک میں نئی آگاہی کے احساس کے ساتھ ساتھ تحقیقی ضرورت کا احساس بھی روز بروز بڑھنے لگا اور تحقیق کی مضبوط اور مسلسل روایت اُسی وقت قائم ہوئیں جب تعلیم کی اعلیٰ جماعتوں میں اردو کو فروغ دیا گیا۔ جا معا ت میں نہ صرف اردو بل کہ دوسری زبانوں اور دوسرے مضامین میں بھی تحقیق پر زور دیا گیا۔ ان مضا مین میں تحقیق کے اصول مغرب سے لیے گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی تحقیق میں بھی مغربی طریقہ کار سے استفادہ کیاگیا۔ بقول سلطانہ بخشبر صغیر پاک و ہند میں اردو کے مختلف شعبوں میں ہر سطح پر بکثرت تحقیقی کام ہوا ہے ، جن میں لسانیاتی تحقیق قدیم متون کی دریافت ، متون کی تصحیح و ترتیب،اصناف ، عہد اور مشاہیر ادب پر تحقیق، حوالے کی کتابوں کی فہارس ، نادر مخطوطات کی فہارس، ادبی تاریخیں اور تبصرے تصنیف ہوئے ۔ اس عرصے میں تحقیق کا اتنا زیادہ کام ہوا ہے کہ ان کا اجمالی جائزہ لینا بھی مشکل ہے۔
متون کو صحت کے ساتھ پیش کرناتحقیق و تدوین میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس سلسلے میں پاک و ہند دونوں جانب کے محققین نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ پاکستا ن میں اس حوالے سے ڈاکٹر جمیل جالبی نے فخرا لدین نظامی کی مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، دیوان حسن شوقی اور دیوان نصرتی اردو ادب کے حوالے سے اہم کام کیاجبکہ دکنی ادب کی دریافت کے سلسلے میں مولوی عبدالحق کی مرتبہ نصرتی کی مثنوی ’’من لگن‘‘رستمی بیجا پوری کی مثنوی ’’خاورنامہ‘‘مرتبہ چاند حسین شیخ، شاہ تراب بیجا پوری کا’’ دیوان تراب‘‘مرتبہ ڈاکٹر سلطانہ بخش اور شاہ قاسم اورنگ آبادی کا ’’‘دیوان‘‘مرتبہ سخاوت مرزا پہلی بار ترتیب و طباعت سے مزین ہوئے ۔ ان کے علاوہ ایک نایاب بیاض، دکنی شعراکے چند نایاب مرثیے، مثنوی ’’برہ بھبھوکا‘‘مثنوی ’’مثل خالق باری ‘‘ اور ’’ارشاد نامہ ‘‘دیوان ولی کا غیر مطبو عہ کلام اور مثنوی ’ ’ معنو ی ‘ ‘ پا کستا ن کے مختلف علمی اور ادبی رسالوں میں شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر خلیق انجم نے خواجہ بندہ نواز سے منسوب معراج العاشقین ، جاوید وشسٹ نے سب رس کے حوالے سے قصہ حسن و دل ، ڈاکٹر غلام عرفان نے غواصی کی مثنوی مینا ستونتی، ڈاکٹر مسعود حسین خان نے بیدری ’’پرت نامہ‘‘ مبارزالدین رفعت اور زینت ساجدہ نے ’’کلیاتِ شاہی ‘‘کو مرتب کیا۔ دیوا ن ہاشمی ’’کلمتہ الحق ‘‘مثنوی چندر بدن و مہیار، قصہ رضوان شاہ و روح افزا، مثنوی طالب و موہنی، علی نامہ، گلشنِ عشق ، مثنوی تصویرِ جاناں، پنچھی راچھا، کلیات غواصی اور من سمجھاون بھی بڑے سلیقے سے مرتب کر کے شائع کیے گئے۔ پاکستان میں شمالی ہند کی منظومات کی ترتیب و تدوین کے سلسلے میں فگار دہلوی کا کلام، اسمٰعیل امروہوی کی دو مثنویاں ’’وفات نامہ بی بی فاطمہ اور معجزہ انار‘‘مسدس رنگین، شاہ حاتم کا’’ دیوان زادہ‘‘ مرتبہ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، عالم شاہ ثانی کے فرزندجہاں وار شاہ کا ’’دیوان‘‘مرتبہ ڈاکٹر وحید قریشی (ضمیموں کا اضافہ ڈاکٹر صاحب کے تحقیقی مزاج کا آئینہ دار ہے )۔ خلیفہ معظم کی مثنوی جنگ نا مہ آصف الدولہ و نواب رام پور ، دیوان حیدری ، شکوہ فرنگ اہم کام رہے ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے منثور اور منظوم کلام کی ترتیب و تدوین کی جا چکی ہے۔

AIOU Solved Assignment 2 Code 8639 Spring 2021

یہ ایک انتہائی اہم اور پھیلا ہوا موضوع ہے جس کی کئی جہتیں اور پہلو ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں خود کو اس موضوع پر کوئی مستند رائے دینے کی اہل نہیں سمجھتی کیوں کہ جدید علمی دنیامیں یہ ایک باقاعدہ علم ہےجس میں نفسیات، سماجیات اور دیگر علوم کی مدد سے نصاب سازی کے اصول مرتب کیے جاتے ہیں۔ البتہ اپنے تیس سالہ تدریسی تجربے کی بنا پر، جس میں ہر سطح کی تدریس شامل ہے،میں اپنے چند مشاہدات اور ان سے حاصل ہونے والئے نتائج آپ کے سامنے پیش کر سکتی ہوں۔

یہ تو تمام اصحاب علم کو معلوم ہے کہ نصاب، درسی کتاب کو نہیں کہتے۔ نصاب دراصل وہ مجموعی خاکہ ہے جس میں کسی خاص مضمون کی تدریس کے مقاصد، عمومی موضوعات اور اس کی سطح کی حد بندی کی جاتی ہے۔ مثالی اردو نصاب کے بارے میں گفتگو سے پہلے چند بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔

مثلا ً یہ کہ نصاب سے کس درجے کا نصاب مراد ہے؟ پرائمری سے لے کر جامعات تک ہر درجے کے نصاب کے تقاضے الگ ہیں اور ان کے لیے سفارشات بھی مختلف نوعیت کی ہونی چاہییں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اردو سے مراد اردو زبان ہے یا ادب؟ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تو اسی تخصیص کی ضرورت ہے کہ جب ہم تدریس ِاردو کہیں تو اس سے مراد ہو اردو زبان۔ ادب کو زبان کی تدریس کے لیے ضرور استعمال کیا جائے مگر اس کے علاوہ بھی اردو کی تدریس کے مراحل پر توجہ دی جائے۔ کم از کم پہلے بارہ سال کی تعلیمی زندگی میں اردو زبان کے تدریس کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس کے لیے ادبی مواد کی مدد لی جا سکتی ہے مگر صرف ادب کی تدریس پیش نظر نہ رہے بلکہ معروضی نثر لکھنا، سائنسی اور تکنیکی مضامین کے پیرایۂ بیان کی تربیت دینا اور روزمرہ بات چین اور بول چال کے مختلف اسلوب سکھانا اردو کی تدریس کے لازمی اجزا سمجھے جانے چاہییں۔ ادب کی تدریس ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں میں بطور اختیاری مضمون کی جا سکتی ہے۔

زبان کی تدریس کی چار بنیادی مہارتیں ہیں۔ جو بتدریج سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے سننا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور پھر لکھنا۔ ان میں سے دو مہارتیں ان پٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو آؤٹ پٹ کی۔ سننا اور پڑھنا ان پٹ ہیں اور بولنا اور لکھنا آؤٹ پٹ۔ اب ان میں سے پہلی مہارت یعنی سننے کے عمل کا آغاز فطری طور پر ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور بولنا بھی بچہ سماجی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں سیکھ لیتا ہے لیکن یہ سننا اور بولنا دونوں اس کی مادری زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی کی دوسری زبان یعنی سیکنڈری لینگویج ضرور ہے۔ اگر کسی ماحول میں اردو بولنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہ ہو، تب بھی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن، گانوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے اردو کے الفاظ اور لب و لہجے سے واقفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

لہذا میرے نزدیک بنیادی جماعتوں کے اردو نصاب کی پہلی شرط تو یہ ہونی چاہیے کہ پڑھنے اور لکھنے سے پہلے سننے اور بولنے کی مشق کروائی جائے اور یہ مشق صرف استاد کی صوابدید پر نہ چھوڑی جائے بلکہ اسے باقاعدہ امتحانی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر سطح کے اساتذہ کی اکثریت اپنے منصب کے تقاضوں اور ان کی اہمیت سے بے خبر ہے اور اس وقت تک، کسی کام پر آمادہ نہیں ہوتی جب تک اسے سزا یا جزا کے کسی سلسلے سے مربوط نہ کیا جائے۔ محض ایمان داری اور اخلاقی تقاضے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طور پر نبھانا اب قصہ ٔپارینہ بن چکا ہے اور جو استاد اب بھی اس جرات رندانہ کے مرتکب ہوتے ہیں انھیں اپنی برادری میں کوئی خاص محبت یا عزت کے قابل نہیں سمجھا جاتا بلکہ دیگر ہم کار اکثر ان سے نالاں نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی سازش کے ذریعے انھیں منظر عام سے ہٹانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اور فی الحال زیر بحث نہیں ہے حالانکہ نظام تعلیم کا اہم ترین ستون اساتذہ ہی ہوتے ہیں۔ موجودہ صورت حال اور اساتذہ کی اس کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نصاب میں کچھ ایسی تبدیلیاں کر سکتے ہیں جو اساتذہ کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔لیکن یہ نصابی تبدیلیاں صرف اس صورت میں مؤثر ثابت ہوں گی جب انھیں امتحان کے عمل سے گزارنا لازمی قرار دیا جائے۔ نصاب اور امتحانی نظام یعنی ایویلیوایشن سسٹم لازم و ملزوم ہیں۔

لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں بلند خوانی اور مکالمے کی تربیت کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائےاور اس کی جانچ کے لیے اردو کے زبانی امتحان کا اہتمام کیا جائے جسے پڑھانے والے استاد کے بجائے کوئی دوسرا استاد لے۔ اس طرح بچے تلفظ، ادائیگی اور گفتگو کے آداب سیکھ سکیں گے اور بتدریج بڑی جماعتوں میں جاتے جاتے مدلل گفتگو کرنے اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

دوسری تجویز یہ ہے کہ بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں مرحلہ وار اضافہ کرنے کا ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ مرتب کیا جائے۔ محض یہ فرض کر لینا کافی نہیں ہوگا کہ نصابی کتب کے اسباق پڑھنے سے بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں خود بخود اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس مقصد کے لیے علیحدہ کتابچے مرتب کیے جائیں جن میں الفاظ، ان کے معانی اور ان کے استعمال کو واضح کیا جائے۔ ان الفاظ کی تعداد کیا ہونی چاہیے یا انھیں کس ترتیب سے سکھایا جائے، اس بارے میں پیشہ ور ماہرین نصاب بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً آسان سے مشکل کی جانب۔ روزمرہ استعمال کے الفاظ سے لے کر بتدریج بڑھتی ہوئی سماجی، علمی اور فکری ضروریات پر مبنی الفاظ کی جانب۔ مفرد سے مرکب کی جانب۔ یا اسی نوع کی کوئی ترجیحی صورت یا ان تمام صورتوں کو پیش نظر رکھ کر ذخیرہ الفاظ مرتب کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ترکیب سازی، نئےنئے الفاظ بنانے اور انھیں استعمال کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

ذخیرۂ الفاظ کے سلسلے میں بچوں کو ابتدائی جماعتوں ہی سے لغت کے استعمال کی عادت ڈالنے کے لیے اس اہم سرگرمی کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کے مجوزہ ذخیرہ ٔ الفاظ پر مشتمل بولنے والی لغات یا ٹاکنگ ڈکشنریز خصوصی طور پر تیار کی جا سکتی ہیں۔ اب تو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انتہائی کم لاگت میں ایسی لغات تیار کر کے بلا قیمت بچوں اور ان کے اساتذہ تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔

اردو الفاظ کی املاء ماہرین زبان کے نزدیک تاحال متفق علیہ نہیں ہے بلکہ ہر زبان میں معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ انگریزی کو ہی لے لیں تو امریکہ اور برطانیہ کی انگریزی کی املاء میں بہت فرق موجود ہیں کہ ایک ہی لفظ کے سپیلنگ وہ کچھ لکھتے ہیں اور یہ کچھ لہذا املاء پر اتفاق ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ قرآن مجید میں بھی املاء کے اختلافات موجود ہیں جیسا کہ قراءات، علم الضبط اور رسم الخط کا علم رکھنے والے ان سے بخوبی واقف ہیں۔

یہ واضح رہے کہ “املاء”، “خط” اور “رسم الخط” میں فرق ہوتا ہے۔ املاء سے آسان الفاظ میں کسی لفظ کے سپیلنگ مراد ہوتے ہیں۔ خط سے مراد “فونٹ” ہے یعنی لکھنے کا اسٹائل وغیرہ جیسا کہ اردو میں “نسخ” اور “نستعلیق” وغیرہ خط ہیں۔ اور رسم الخط سے مراد اردو کو “رومن” یا “دیونا گری” یا “فارسی” رسم الخط میں لکھنا ہے۔ “دیوناگری” ہندی زبان کو لکھنے کا رسم الخط ہے۔ تو اردو زبان کے رسم الخط کی تبدیلی کی تحریک کہ اردو کو “رومن” یا “دیوناگری” میں لکھنا چاہیے تو یہ اسٹوپڈٹی ہے اور کچھ نہیں کہ اس کا مطلب زبان کو ایک مرتبہ مار کر دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

علاوہ ازیں جہاں تک املاء کی بات ہے تو ہمارے ہاں جو لوگ غلطی سے املاء کی تصحیح یا اصلاح وغیرہ پر کوئی ایک آدھا مضمون یا کتاب دیکھ لیں تو ایک ایکسپرٹ کی طرح دوسروں کی تصحیح شروع کر دیتے ہیں کہ یہ لفظ یوں نہیں یوں لکھا جاتا ہے بلکہ ان میں سے تو بعض کو “اردو” کے “اردو” کہلوائے جانے پر بھی اعتراض ہے کہ ان کا اصرار ہے کہ اسے “ریختہ” کہو کہ یہی اس کا اصل نام ہے۔

لیکن انسان اگر اس موضوع پر زیادہ نہ سہی لیکن دو چار اچھی کتابیں ہی دیکھ لے تو اس میں اتنی عاجزی پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اگر کوئی اچھا رائٹر ایسے لکھ رہا ہے تو اس کی بھی گنجائ

ش نکلتی ہے۔ مثال کے طور ڈاکٹر گوہر شاہی کی کتاب “اردو املا ورموز اوقاف” ایک اچھی کتاب ہے کہ جسے “مقتدرہ قومی زبان” نے شائع کیا ہے جو پندرہ ماہرین لسانیات کے منتخب مقالات پر مشتمل ہے۔

مثال کے طور ترقی اردو بورڈ، انڈیا نے دو کتابیں شائع کی ہیں؛ ایک رشید حسن خان صاحب کی “اردو املا” اور دوسری ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی “املا نامہ”۔ ان دونوں کتابوں میں بھی املاء کے قواعد میں یکسانیت نہیں ہے جیسا کہ پہلے کے نزدیک “ذرا” لکھنا چاہیے تو دوسرے کے نزدیک “زرا” اصل املا ہے۔ پہلے کے نزدیک “آزمایش” صحیح املاء ہے تو دوسرے کے نزدیک “آزمائش”۔ پہلے کے نزدیک “چوں کہ” لکھنا چاہیے اور دوسرے کے نزدیک “چونکہ” وغیرہ وغیرہ

املاء کے زیادہ تر اختلافات “ہائے مختفی”، “ہمزہ” اور “نون غنہ” سے متعلق ہیں۔ مثلا “ڈراما” لکھنا چاہیے یعنی “الف” کے ساتھ یا “ڈرامہ” یعنی “ہائے مختفی” کے ساتھ۔ تو اس میں اہل لغت کا کہنا ہے کہ وہ الفاظ جو انگریزی یا دوسری زبان سے آئے ہیں، انہیں “ہائے مختفی” کی بجائے “الف” سے لکھنا چاہیے یعنی “ڈراما”۔ لیکن اس میں بھی ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اہل زبان اس لفظ کو بول کیسے رہے ہیں۔ اگر وہ یعنی ان کی ایک بڑی تعداد “ڈرامہ” بھی بول رہی ہے یعنی بولنے میں “ہائے مختفی” کی آواز بھی نکال رہی ہے تو دونوں طرح لکھنا ہی راجح قرار دیا جائے۔

ماہرین لسانیات کا کہنا یہ ہے کہ عربی الفاظ کہ جن کے آخری میں ہمزہ ہے، اردو میں انہیں لکھتے وقت ہمزہ غائب کر دیں جیسا کہ “علماء” کو “علما” لکھیں۔ میں نے اپنی کتاب “صالح اور مصلح” میں ایسے ہی کیا تھا لیکن اب کی بار اپنی کتاب “مکالمہ” میں اسے “علماء” ہی لکھنے کا ارادہ ہے کہ یہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے اور رائج املاء کی مخالفت ہے کہ ہمارے ہاں اردو لکھنے پڑھنے والا بڑا طبقہ مذہبی ہے اور اسے عربی الفاظ کو عربی اصل کے ساتھ املاء اور عربی لہجے میں ادائیگی کی ایسی عادت ہے کہ اسے ترک کرنے کی دعوت دینا بھی تکلف محض ہے۔

اسی طرح ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ جن عربی الفاظ کے آخر میں الف مقصورہ ہے تو ان کو اردو میں “الف” کے ساتھ لکھا جائے اور “یاء” کو املاء میں سے ختم کر دیا جائے مثلا “تقوی” کو اردو میں “تقوا” اور “دعوی” کو “دعوا” لکھا جائے۔ یہ بھی تکلف ہی ہے کہ یونانیوں کے اصول “شعور حرف بوسیلہ سماعت” کے مطابق اس کی املاء “تقوی” رکھنے میں بھی حرج نہیں ہے اور مجھے بھی یہی پسند ہے کہ اس سے ہم عربی اصل سے بھی جڑ جاتے ہیں اور یہ دو علیحدہ حروف معلوم نہیں ہوتے اور رائج اور عرف کا بھی دھیان رہ جاتا ہے۔

اب “لیے” اور “دیے” وغیرہ کو “لئے” اور “دئے” لکھنا چاہیے یا “لیئے” اور “دیئے” تو اس میں ماہرین لسانیات میں تینوں رائے موجود ہیں۔ کچھ صرف “یاء” سے لکھتے ہیں، کچھ صرف “ہمزہ” سے اور کچھ دونوں سے اور ہر کسی کے پاس اپنی اپنی دلیل موجود ہے۔ اردو میں شامل کیے جانے والے انگریزی الفاظ کو ایک ساتھ لکھنا چاہیے یا علیحدہ علیحدہ مثلا “یونیورسٹی” کو “یونی ورسٹی” تو اس بارے میں دونوں رائے موجود ہیں اور دونوں کے پاس اپنی اپنی دلیل ہے۔ میری رائے میں بس کوئی سی صورت آپ کو اچھی لگے، اسے اختیار کر لیں اور دوسرے کی “تصحیح” یا “اصلاح” کا فریضہ سرانجام نہ دیں کہ تا حال املاء کی بہت سی صورتیں متفق علیہ نہیں ہیں۔

اصولی اختلاف اس بارے میں یہ ہے کہ “شعورِ حرف بوسیلہ سماعت” اصل ہے یا “شعورِ حرف بوسیلہ حدوث”۔ یونانیوں کا کہنا یہ ہے کہ حرف کے اسی شعور کا اعتبار ہو گا جو سماعت سے حاصل ہوتا ہے جبکہ اہل ہند کا عمومی رجحان اس بارے یہ ہے کہ حرف کا شعور وہی معتبر ہے جس کی ادائیگی پر انسان قدرت رکھتا ہو۔

اسے ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ عربی زبانی میں “ڑ” نہیں ہے تو اگر اہل عرب “پہاڑ” کا لفظ سنیں گے تو اب اس “پہاڑ” کے لفظ کی ادائیگی میں ان کے لیے “سماعت” اصل ہے یا “حدوث” یعنی انہوں نے جیسے یہ لفظ سنا ہے، ایسے ہی اس کی ادائیگی ضروری ہے یا اس لفظ کی ادائیگی ویسے ضروری ہے جیسے ان کے حنجرہ صوت [larynx] کے لیے آسانی ہو؟

میرا رجحان اس طرف ہے کہ یہ دونوں اصول اپنی جگہ درست ہیں اور کسی زبان کی املاء میں ان دونوں سے برابر طور استفادہ کرنا چاہیے اور استفادے کی اصل عرف اور رواج کو بنایا جائے کہ زبان میں جو املاء رائج اور عام ہے، اگر وہ ان دونوں میں سے کسی بھی اصول کے تحت آ رہی ہے تو اسے رائج رہنے دینا چاہیے، اس کی اصلاح یا تصحیح پر اصرار وقت کا ضیاع ثابت ہو گا۔ واضح رہے کہ املاء کی تصحیح اور اصلاح میں بھی فرق کیا جاتا ہے کہ تصحیح، غلط املاء کی ہوتی ہے جبکہ اصلاح سے مراد راجح املاء کا تعین ہے۔

AIOU Solved Assignment Code 8639 Spring 2021

پہلی ضرورت:

ہمیشہ جو کچھ لکھیں اسے کم سے کم ایک بار ضرور پڑھ لیں۔ جب آپ لکھنے بیٹھتے ہیں تو آپ کا خیال ، آپ کے قلم یا کی بورڈ پر انگلیوں کی رفتار سے زیادہ تیز چلتا ہے۔انگلیاں جب خیال کے ساتھ دوڑ لگاتی ہیں تو غلطیاں کرجاتی ہیں۔ ان میں صرف زبان کی غلطیاں نہیں ہوتیں بلکہ facts کی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

اگر آپ اپنے لکھے ہوئے کو دوبارہ پڑھ لیں توان غلطیوں کو خود ہی ٹھیک کرلیں گی/ کرلیں گے۔

ایک مثال دیکھیے جس میں ایک چھوٹی سی غلطی ہے جو سکرپٹ کو دوسری بار پڑھنے سے دور کی جاسکتی تھی:

پولیس کے مطابق ڈبل کیبن میں سوار نامعلوم ملزمان نے سکول پر قبضہ سے پہلے ضلع کرک سے ایک سرکاری افسر اور ان کے ڈرائیور کو اغواء کر کے لے جا رہے تھے۔ کرک سے ایک سرکاری افسر نے بی بی سی بتایا کہ اغواء ہونے والوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کرک کے انچارج شامل ہیں۔

پہلی سطر میں ’نے‘ غلط ہے۔ دوسری سطر میں بی بی سی کے بعد ’کو‘ ہونا چاہیے ۔ بالکل اسی طرح کی ایک اور مثال:

سائنسدانوں نے آتش فشانی کا سراغ ریڈار سے حاصل کردہ معلومات سے لگیا جو کہ سنہ دو ہزار چار اور پانچ کے دوران ایک فضائی سروے میں حاصل کی گئی تھیں۔

اس جملے میں بھی لگایا کی بجائے لگیا لکھ دیا گیا ہے

میں جانتا ہوں کہ آپ انہیں ٹائپنگ کی غلطیاں کہیں گے جو ہر تحریر میں ہوتی ہیں لیکن اگر غور کیجۓ تو ہماری تحریروں میں ایسی غلطیوں کی مثالیں کچھ زیادہ ہی مل جائیں گی۔

ٹائپنگ کی ضرورت سے زیادہ غلطیوں کا نقصان براڈکاسٹنگ میں یہ ہوتا ہے کہ مائیکروفون کے سامنے ہم ہچکچاتے ہیں، رکتے ہیں، زبان ٹھوکر کھا جاتی ہے۔

آن لائن پر پڑھنے والا الجھن محسوس کرتا ہے۔ اور ایک آئٹم میں ایک سے زیادہ غلطیاں نظر آئیں تو اس کی طبیعت اچاٹ ہو جاتی ہے۔

دونوں صورتوں میں سننے اور پڑھنے والے کا اعتماد ہم کھو بیٹھتے ہیں۔

دوسری ضرورت:

غیر ضروری الفاظ کا استعمال نہ کیجیے۔

ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کے لیے اس قرارداد کے تحت تجویز کردہ پابندیوں کی چین اور روس نے مخالفت کرنے کی کافی کوششیں کیں۔

غور کیجیے تو اس جملے میں کے تحت غیر ضروری ہے، صرف میں سے کام چل سکتا تھا۔ یعنی قرارداد میں تجویز کردہ

اسی طرح آگے چل کر مخالفت کے بعد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یعنی مخالفت کی کافی کوششیں کیں۔

ایک اور مثال:

اس اعزاز کے اعلان کے بعد ایک بیان میں بارڈم نے کہا کہ ایسے میں جب اس زمرے میں بہت سی شاندار کارکردگیاں موجود ہیں انہیں یہ ایوارڈ ملنا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

کیا صرف یہ کافی نہیں تھا یہ ایوارڈ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

تیسری اور چوتھی ضرورت:

چھوٹے چھوٹے جملے، چھوٹے چھوٹے پیراگراف، ایک پیرے میں ایک سے زیادہ باتوں سے اجتناب۔

اس اصول کی مدد سے آپ کی تحریر میں روانی آجاتی ہے۔ اسے پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔ قاری کو بار بار واپس جاکر بات سمجھنے کی تکلیف برداشت نہیں کرنی پڑتی اور سب سے بڑھ کر قاری کا ذہن آپ کی فراہم کردہ معلومات کو قبول کرتا جاتا ہے۔ ­­­­­­­­­­­­­­ ­­­­­­­­­­­­­­

یہاں صرف ایک مثال اس لیے دے رہا ہوں تاکہ آپ کو اندازہ ہوجائے کہ طویل جملے کیسی مشکل پیدا کرسکتے ہیں:

یاد رہے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نے بطور آرمی چیف اپنے صدر بن جانے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پیشتر ہی تین نومبر کو آئین معطل کرکے چیف جسٹس افتخار چودھری سمیت عدالت عظمی اور ہائی کورٹوں کے ساٹھ ججوں کو برطرف کردیا تھا جس کے خلاف وکلاء اب تک احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اس جملے کو کیسے آسان بنایا جاسکتا تھا:

یاد رہے کہ تین نومبر کو صدر شرف نے اس وقت آئین معطل کردیا تھا جب وہ بطور آرمی چیف صدر تو بن چکے تھے لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے چیف جسٹس افتخار چودھری سمیت عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹوں کے ساٹھ ججوں کو بھی برطرف کردیا تھا۔ اس کے خلاف وکلاء اب تک احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پانچویں ضرورت:

انگریزی زبان میں clauseاورsub clause کی مدد سے پیچیدہ باتیں آسانی کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہیں لیکن اردو کا مزاج بالکل مختلف ہے۔ اس میں جملے کے اندر جملہ بات کو اتنا الجھا دیتا ہے کہ اسے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ اردو میں عام طور سے طویل جملے میں دو تین باتیں ایک ساتھ بتانےکی جب کوشش کی جاتی ہے تو عالموں اور دانشوروں کی تحریروں میں تو یہ انداز برا نہیں لگتا لیکن صحافتی تحریر میں الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک مثال دیکھیے:

فروری 2007 میں انہوں نے افغانستان میں اطالوی فوجیوں کی تعیناتی اور شمالی اٹلی میں اپنے فوجی اڈے کی توسیع کے امریکی منصوبے پر بائیں بازو کے سیاستدانوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

غور کیجیے تو اس جملے کو بڑی آسانی سے اس طرح توڑ کے لکھا جاسکتا تھا:

فروری 2007 میں انہو

ں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔کیونکہ وہ افغانستان میں اطالوی فوجیوں کی تعیناتی اور شمالی اٹلی میں امریکی فوجی اڈے کی توسیع کے منصوبے پر بائیں بازو کے سیاست دانوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اردو میں طویل جملے، خاص طور سے وہ جن میں جملوں کے اندر جملے ہوتے ہیں، قابل قبول نہیں ہوتے۔ ایسے جملوں کو توڑ کے کئی فقرے بنا لینے چاہئیں۔

AIOU Solved Assignment Code 8639 Autumn 2021

چھٹی ضرورت:

ناموں کے ہجے spellings اور ان کے تلفظ کی درستی کا خیال رکھیے۔

مثلاً:

یہ القائدہ ہے یا القاعدہ

حامد کرزائی ہے یا کرزئی

براک اوباما ہے یا بارک اوباما

سرکوزی ہے یا سارکوزی

ریڈیو پر درست تلفظ اور آن لائن پر درست ہجے آپ کی تحریر کو معتبر بنا دیتے ہیں۔

زبان کی تدریس کی چار بنیادی مہارتیں ہیں۔ جو بتدریج سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے سننا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور پھر لکھنا۔ ان میں سے دو مہارتیں ان پٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور دو آؤٹ پٹ کی۔ سننا اور پڑھنا ان پٹ ہیں اور بولنا اور لکھنا آؤٹ پٹ۔ اب ان میں سے پہلی مہارت یعنی سننے کے عمل کا آغاز فطری طور پر ماں کے پیٹ سے ہی ہو جاتا ہے۔ اور بولنا بھی بچہ سماجی زندگی کے ابتدائی چند سالوں میں سیکھ لیتا ہے لیکن یہ سننا اور بولنا دونوں اس کی مادری زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی کی دوسری زبان یعنی سیکنڈری لینگویج ضرور ہے۔ اگر کسی ماحول میں اردو بولنے والا کوئی ایک فرد بھی موجود نہ ہو، تب بھی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن، گانوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے اردو کے الفاظ اور لب و لہجے سے واقفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

اسکول میں رسمی تعلیم کے ذریعے اس ابتدائی واقفیت کی پرورش و نمو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نصاب میں ان دونوں بنیادی مہارتوں یعنی سننے اور بولنے کی تربیت کا مناسب یا ضروری اہتمام نہیں ملتا۔ ہم ابتدائی جماعتوں سے دیکھتے ہیں کہ سارا زور پڑھنے اور لکھنے پردیا جاتا ہے۔ سننے اور سن کر درست معنی اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی مشق اگر ہو بھی تو اتنی معمولی ہوتی ہے کہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں بھی طلبہ کی ؛لیکچرسن کر سمجھنے اور اسے یادداشت میں محفوظ کر لینے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز بار بار بدل جاتا ہے اور وہ اگلے جملوں کو پچھلے جملوں سے مربوط کر کے کلام کے مجموعی معانی سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اب سے چالیس پچاس برس پہلے یہ صورت حال نہیں تھی اور ابتدائی جماعتوں

Free AIOU Solved Assignment Code 8639 Spring 2021

میں ان دونوں مہارتوں کی تربیت کے لیے انتہائی سادہ اور نتیجہ خیز مشقیں عام تھیں۔ مثلا ًہر نیا سبق استاد پہلے خود اور بعد میں مانیٹر کے ذریعے بچوں سے بار بار بآواز بلند کہلواتا تھا۔ استاد ایک سطر پڑھتا تھا، بچے اس کے بعد مل کر باجماعت اس سطر کو دہراتے تھے اور یوں نہ صرف استاد کی، بلکہ خود اپنی بھی،آوازسن کر تلفظ، لب و لہجہ اور ادائیگی کی مشق کر لیتے تھے۔ اب اس مشق کو فرسودہ طریقہ سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے۔ استاد بمشکل ایک بار بچوں کے سامنے سبق کی قرات کرتا ہے اور چند بچوں سے منتخب اقتباسات کی قرات کرواتا ہے۔ اس سے ایک تو سب بچوں کو قرات کا موقع نہیں ملتا جس سے ان کی آموزش نہیں ہوتی اور دوسرے ان کی دلچسپی بھی سبق میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمبی گفتگو سن کر اس سے معانی اخذ کرنا اور انھیں دوبارہ بیان کرنے کے قابل ہونا اب جامعات کے طلبہ کے لیے بھی آسان نہیں رہا۔اسی طرح مارننگ اسمبلی کے نام سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سرگرمی میں بچے مل کر کوئی دعا، نغمہ یا ترانہ پڑھتے تھے اور اس سے بھی ان کے اعضاے نطق کی مناسب ورزش ہو جاتی تھی۔ اب کہیں دہشت گردی کے ڈر اور کہیں عمارتوں کی تنگی کے باعث یہ رسم بھی متروک ہوتی جارہی ہے اور صبح صبح ایک گیت گا کر بچوں کے ذہن میں جو تازگی پیدا ہوتی تھی وہ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کی تربیت کے لیے نصاب کو اس طور پر تشکیل دیا جائے کہ اخلاقی، دینی اور تہذیبی مقاصد بھی بے شک پیش نظر رہیں لیکن ان کی نوعیت ضمنی رہے۔ اردو کا نصاب مرتب کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل مقصد زبان کی تدریس ہے۔ اس مقصد کے لیے نصاب کو نہایت ذہانت اور فن کارانہ حس تناسب کے استعمال سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح وضع کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی نصابی کتب مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کی پابند ہو جائیں یعنی اس میں مقاصد اور طریق کار کے متعلق واضح ہدایات درج ہوں۔ مثلاً یہ کہ پڑھ کر عبارت کی درست تفہیم کے لیے جو تحریری ٹکڑے منتخب کیے جاتے ہیں ان میں بچوں کی عمر، ذوق، استعداد اور دلچسپی کو تو مد نظر رکھا ہی جاتا ہے لیکن زبان کی چاشنی اور اثر انگیزی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور تفہیم کے ساتھ ساتھ تحسین کے عمل کو جزو ِ نصاب بنایا جائے۔غیر ضروری طوالت اور پھسپھسی، بے جان عبارتوں سے گریز کر کے، اردو کے نئے پرانے عظیم اور معتبر انشا پردازوں کی تحریروں کے ٹکڑے پیش کیے جائیں جن کے معنوی اور فنی پہلوؤں کی تفہیم و تحسین اساتذہ کے ذریعے کروائی جائے اور اس مقصد کے لیے خود اساتذہ کو بھی نہایت واضح ہدایات دی جائیں۔ نیز اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ بچے عبارت کو پڑھ کر اس کے مرکزی نکتے یا نکات کو سمجھ لیں اور پھر اسے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر سکیں۔ ابتدا میں طویل عبارتوں کے بجائے مختصر اقتباسات کے ذریعے مشق کروانا اہم ہوتا ہے جس میں بیک وقت بہت سی باتوں کے بجائے ایک ہی مرکزی خیال تک پہنچناکافی ہو۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے مشق کا آغاز خوش خطی اور پھر املا سے ہونا چاہیے۔ پہلے حروف کی درست نشست اور ان کے جوڑ واضح کرنا ضروری ہیں۔ اس مشق کے لیے خاطر خواہ وقت مخصوص کرنا ضروری ہے۔ بار بار کی جانے والی مشق سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تختیوں اور قلم دوات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ تختیاں بار بار دھو کر استعمال کی جا سکتی تھیں، ماں باپ پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا اور بچے تختی دھونے اور سکھانے کے عمل کے دوران نہ صرف ایک جسمانی ورزش کر لیتے تھے بلکہ چھوٹے موٹے گیت گا کر کھیل اور تفریح کا ذریعہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔

لکھنے کی مہارت کی تربیت کے لیے جدید تدریسی مہارتوں کو پیش نظر رکھ کر نصاب سازی کی جائے تو زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی تحریر کی مشق کروائی جائے یعنی تصویر کو دیکھ کر عنوان لکھنا، تصویری کہانیاں لکھنا، نامکمل جملوں کو مکمل کرنا اور پھر بتدریج خاکے کی مدد سے کہانی یا مضمون لکھنا وغیرہ۔ یہ تو محض چند اشارے ہیں۔ اس نوع کی درجنوں سرگرمیاں ہیں جو تخیل کو مہمیز کر سکتی ہیں اور افکار و خیالات کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی تربیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ صرف کی جائے۔

ان چاروں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ زبان کے قواعدی نکات سے آشنائی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے رائج استخراجی طریقے کے بجائے استقرائی طریقے پر عمل مفید رہتا ہے۔ اگرچہ نصابات میں استقرائی طریقہ استعمال کرنے کی سفارش تو کی جاتی ہے مگر عملی طور پر وہی پرانا طریقہ رائج ہے جس کے تحت پہلے تعریفیں یاد کروا دی جاتی ہیں اور پھر ان کی مثالیں بتائی جاتی ہیں۔ بہتر ہے کہ تدریسی اسباق میں سے مختلف قواعدی نکات کی شناخت کروانے کے بعد ان کے قواعدی نام یا تعریف سے آگاہ کیا جائے۔ اس طریقے کی مدد سے بچوں میں تجسس اور دلچسپی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ تعریفیں رٹنے کے عمل سے اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔

مختصر یہ ہے کہ زبان کی تدریس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ بنانا ضروری ہے۔ دلچسپی صرف لطیفوں یا مزاحیہ باتوں سے نہیں پیدا ہوتی۔ دلچسپی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچہ اپنے درس میں خود پوری طرح شریک ہوتا ہے اور چھوٹی چھوٹی مشکلات کو حل کر کے، سوالات کے جواب تلاش کر کے اور کسی نئے نکتے کی دریافت کر کے مسرت بھری کامیابی کو محسوس کرتا ہے۔اس منزل تک پہنچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تدریس کا عمل دو طرفہ اور عملی نوعیت کا ہو۔ یہ استاد سے بچوں کی طرف معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کا نام نہ بن جائے، جیسا کہ عملی طور پر ہمارے ہاں رائج ہے

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *