Free AIOU Solved Assignment Code 8659 Spring 2021

aiouguru

Free AIOU Solved Assignment Code 8659 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiouguru.

Course: Pakistani Adab (8659)
Semester: Spring, 2021
ASSIGNMENT No. 1

ANS 01

اکبرؔ الٰہ آبادی بنیادی طور پر ایک شاعر تھے مگر وہ ایک اچھے نثرنگار بھی ہیں۔ انھوں نے ترجمے بھی کیے ہیں گو ان کی نثر میں کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے مگر ان کے خطوط اور چھوٹے بڑے مزاحیہ اور سنجیدہ مضامین اودھ پنچ میں شائع ہوئے ہیں۔ ان کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ جو انھوں نے اردو ادب کے مشاہیر کے نام لکھے ہیں۔ اکبرؔ کے زمانے میں اردو ہندی جھگڑا شروع ہو چکاتھا۔ یہ تنازعہ انگریزوں نے ہندو مسلمان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لئے کیا تھا۔ اس موضوع پر اکبرؔ نے ایک مفصل مضمون لکھا جو کسی فرضی نام سے شائع ہوا تھا کیوں کہ اکبرؔ سرکاری نوکر تھے۔ اس رسالے کا ذکر انھوں نے عبدالماجد دریابادی کے نام خطوط میں کیا ہے۔’’ میں نے بھی ایک بڑا مضمون لکھا تھا وہ ’ایک واقف کار مسلمان‘ کی رائے میں چھپا تھا۔ کیوں کہ میں اس وقت مرزا پور میں سیشن جج تھا اور سر ابیٹی میکڈانل کی گورنمنٹ حامی ہندی تھی اس سبب سے میرا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔‘‘ اگرچہ شروع کے زمانے کے زیادہ تر خطوط تلف ہو گئے۔ اکبرؔ اس بات سے بہت گھبراتے تھے اور جو ذاتی باتیں اپنے دوستوں کو لکھی ہیں سیاسی معاملات میں بے تکلفی سے جس طرح اظہار خیال کیا ہے وہ برسرعام آئیں۔ اسی لئے جب لوگ ان سے یہ خیال ظاہر کرتے تو اکبرؔ ان کو مختلف وجوہات سے منع کر دیتے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’ سوشل مصلحت، پولیٹیکل نزاکت، لٹریری صحت ان باتوں کا خیال نہیں رہتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خطوط چھپنے سے کیا فائدہ۔ میں اہل زبان تو ہوں نہیں اور وقت زبان خود معرض تغیر ہیں ہے۔‘‘

Check Also: aiou solved assignment code 8659

AIOU Solved Assignment 1 Code 8659 Spring 2021

ANS 02

AIOU Solved Assignment 2 Code 8659 Spring 2021

ANS 03

آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا

چہرۂ شاہد مقصود عیاں ہے کہ جو تھا

راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوں

وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا

AIOU Solved Assignment Code 8659 Autumn 2021

 

AIOU Solved Assignment Code 8659 Spring 2021

ANS 05

جب ہم اردو ناول کے ارتقائی سفر کا جائزہ اور ابتداء کے متعلق غور کر تے ہیں تو سب سے پہلی نظر نذیر احمد کے ناولوں پر پڑتی ہے ۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں بچوں اور عورتوں کی تعلیم کے ذریعہ مسلم سماج کی اصلاح کی طرف توجہ دلا ئی ہے ۔ جنہیں کچھ نقادوں نے جدید ناول کے مطالبات کو پورا نہیں کرنے کی وجہ سے ناول کہنے سے گریز کیا ہے ۔مثلاً ان نقادوں کا کہنا ہے کہ نذیر احمد کے ناولوں کا پلاٹ موضوع اور اس کے مختلف فنی اجزاء ایسے نہیں ہیں جس میں عام انسانی زندگی کا فلسفہ موجود ہو ۔ان کے ناول محض تبلیغی اور پند و نصائع کا رنگ لئے ہوئے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی لڑکیوں کی اصلاح کے لیے ناول لکھے تھے مگر سچ یہ ہے کہ ان کے ناولوں کے کردار میں عام انسانی زندگی کی ٹھوس حقیقتیں نمایاں ہیں ۔ ان کے ناولوں کے کردار عام انسانی زندگی سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں اس طرح انھوں نے اپنے ناول نگاری کے ذریعہ نئے اسلوب اور فن کی ایک نئی روش قائم کی ہے یہ اور بات ہے کہ مغرب کے مفہوم کے مطابق ان کے ناول، ناول کے فن پر کھرے نہیں اترتے مگر یہ حقیقت ہے کہ ناول کی داغ بیل انھوں نے ’’ مرات العروس‘‘ ’’بنات النعش‘‘ ’’ ’ توبتہ النصوح‘‘ ’’ ابن الوقت‘‘ ’’ فسانہ مبتلا‘‘ وغیرہ ناول لکھ کر ڈالی ہے جو ناول کا خشت اول ہے ۔

نذیر احمد نے سب سے پہلے 1869ء میں اپنا ناول ’’ مرات العروس‘‘ لکھا اس کے بعد انھوں نے ناول او ر اصلاح معاشرت میں چو لی دامن کا رشتہ قائم کیا ۔ اس میں ان کی منطقی فکر اور اصلاحی اور تبلیغی مزاج کو خاصہ دخل ہے ۔ دھیرے دھیرے زندگی اور فن کا رشتہ وسیع ہوتا رہا اوراسی درمیان مقصد اور فنی احساس کے ما بین توازن بھی قائم ہو ا جس نے نذیر احمد کے ’’ فسانہ مبتلا‘‘ تک پہنچتے پہنچتے ایسی شکل اختیار کرلی جہاں واعظ اور فنکار یکساں نظر آنے لگے۔

نذیر احمد کے ہم عصر سر شار اردو کے دوسرے ناول نگار ہیں ۔ ان کے ناولوں میں اس عہد کے لکھنؤکے معاشرت کی تصویر کشی کثرت سے ملتی ہے ۔جنہوں نے انسانی زندگی کے پھیلاو اور ان کی گہرائیوں پر روشنی ڈالی اور اردو ناول کو اس ابتدائی دور میں ایک ایسی روایت سے آشنا کرایا جو فنی لوازمات سے پر ہے۔ انہوں نے لکھنوی معاشرت کو اپنا موضوع بنا کر وہاں کے لوگوں کی اجتماعی زندگی کی اس طرح عکاسی کی کہ سب کو اپنی اصلی شکل نظر آنے لگی۔ سرشار نے پوری طرح لکھنؤ کا مشاہدہ کیا تھا ۔یہی وجہ ہےکہ ان کے ناول

روایت کو ایسی تقویت بخشی جو آج بھی ہمارے ادب میں نمایاں ہے ۔سرشار اپنے ناولوں کے کرداروں اور قاری کے با ہمی رشتے کی نزاکتوں کو پوری طر ح محسوس کرتے ہیں جبکہ نذیر احمد اپنے ناولوں میں قاری کی ذہانت پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ بہر حال اس طرح سر شار نے صنف ناول نگاری کو حد درجہ فروغ دیا جس کی داغ بیل نذیر احمد نے ڈالی تھی۔ اس اعتبار سے ’’ فسانہ آزاد‘‘ ’’سیر کہسار‘‘ ’’ جام سرشار‘‘ وغیرہ شہرت یافتہ ناول تخلیق کر کے انہوں نے اردو ناول نگاری کے فن کو وسعت دی ۔

اس کے بعد شرر نے اردو میں تاریخی ناول تخلیق کر کے ایک نئی روش کا آغاز کیا اور اپنے ناولوں میں اسلام کے شاندار ماضی کا کثرت سے ذکر کیا اور اس روش کو انھوں نے اپنا نصب العین سمجھا جس طرح نذیر احمد نے اپنے ناولوں کے ذریعہ مسلمانوں کے متوسط طبقے کی معاشرتی اخلاقی، معاشی مذہبی اصلاح اور مستقبل کو سنوازنے کی کوشش کی اس طر ح شرر نے ماضی کی عظمت کو دہرا کر مسلمانوں کو راہ مستقیم پر چلانے کی کوشش کی اور قومی اتحاد بھائی چارگی اورانسان دوستی کا سبق سکھایا تاکہ مسلمانوں کا مستقبل روشن ہو۔ شرر کے دل میں قوم کا درد تھا انھوں نے اپنے ناولوں کے ذریعہ ذریعہ پورے قوم کی اصلاح کی کوشش کی ہے ۔ انھوں نے ناول کو اپنے خیالات اور تصورات یعنی اپنی اصلاحی مقصد کو قوم تک پہونچانے کا ذریعہ بنا یا اور ناول کے فن کو اردو میں بر تنا شروع کیا جس میں شرر کو اولیت حاصل ہے ۔ اس کی مثال ان کا ناول ’’ فردوس بریں‘‘ ہے ۔ ناول کی وہ خوبیاں جو نذیر احمد اور سرشار کے یہاں نہیں ملتی شرر نے ان کی طرف توجہ دی ہے ۔

شرر نے اردو میں ناول نگاری کو ایک مسئلہ فن کی طرح برتا اور اپنے ناولوں میں پر تکلف منظر نگاری کی چاشنی اور چٹخارے اور ایک خاص قسم کی انشا پردازی کو اس طرح جگہ دی کہ یہ بھی فن کے اہم جز ہوگئے ۔ انھوں نے مغربی فن کے مبادیات اور مشرقی مزاج کی شوخی ورنگینی کے حسین امتزج کو فروغ دیا جس کی تقلید ان کے بعد آنے والے ناول نگاروں نے بھی کی ۔

اردو ناول نگاری میں فنی روایت کی بنیاد نذیر احمدسرشار اور شرر نے ڈالی ان لوگوں نے قصہ گوئی کی دنیا میں ایک نیا راستہ نکا لا اور اپنے فنی عمل کے ساتھ اس راستہ کو ہموار کیا جس سے آنے والوں کے لئے انتہائی آسانی ہوگئی۔ ’’ مراۃ العروس‘‘ ’’بنات النعش‘‘ ’’ توبتہ النصوح‘‘ ’’ ابن الوقت‘‘ ’’ فسانہ مبتلا‘‘ ’’ فسانہ آزاد‘‘ اور فردوسجیسی شاہکار تخلیقات اس کی روشن دلیل ہیں جس سے ہر شخص کو ناول نگاری کی روایت اور اس کے آغاز کے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔

اس کے بعد ناول نگاری کا ایک ایسا دور آیا جو ابتدائی فنی روایت کی پیروی کا دور کہلاتا ہے جہاں نذیر احمد، سرشار اور شرر کی اولیت کو فوقیت ملی اس دور کے روح رواں راشد الخیری منشی سجاد حسین اور محمد علی طبیب ہیں ۔

راشد الخیری نے نذیر احمد کے فن پر مبنی ناول نگاری کی ہے ان کی ناولوں کا پیش خیمہ نذیر کی طرح مسلم معاشرہ کے مسائل کے دل کا منشور ہے ۔دونوں کے ناولوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ نذیر احمد نے عورت کی اصلاح کے لئے ناول لکھا اور راشد الخیری نے اس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کی معاشرتی حیثیت بلند کر نے کی بھی کوشش کی ہے اس طرح راشد الخیری کے ناول نذیر احمد کے مخصوص انداز میں ہیں۔ ان کی ناول نگاری عورت کی مظلومیت کے داستان ہے ۔

راشد الخیری اپنے ناولوں کے ذریہ وہی کام انجام دیتے ہیں جو اکبر الہ آبادی اپنی شاعری کے ذریعہ دیتے ہیں ان کے تمام ناولوں میں گھریلوزندگی محور اور مرکز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے تعلقات کے تذکرے سے ہمشہ پر ہیز کیا ۔ جنس و جنسیات ان کے نزدیک ایک عفریت ہے ۔اس کے محض ذکر سے بھی انہیں خوف آتا ہے ان کے ناولوں میں شروع سے آخرتک تصنغ کی چھوٹ ہے ۔ راشد الخیری کی ناول نگاری کاسب سے بڑا نقص یہ ہے کہ وہ تبلیغی انداز اختیار کر لیتے ہیں ۔ انہوں نے ناول نگاری کے میدان میں اپنے قلم کے جو ہر دکھلائے اور اپنے ناولوں کی بدولت مصور غم کہلائے ۔ ان کے ناولوں کا انجام اکثر و بیشتر حالات میں المناک ہوتا ہے ۔ مگران کی جزیات نگاری کھوکھلی جذباتیت کا شکار ہے ۔مجموعی اعتبار سے انہوں نے ناول کے فن کو ترفی دینے میں نمایا ں حصہ نہیں لیا مگر زبان و بیان کے لحاظ سے ان کے ناول زندہ و جاوید رہیں گے۔ منشی سجاد حسین نے سرشار کے فن پر مبنی ناول نگاری کی جیسا کہ ان کے ناول ’’ حاجی بغلول‘‘ اور ’’طرحدار‘‘ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فسانہ آزاد کی روشنی میں اپنے یہ دونوں ناول تخلیق کئے ہیں ۔ ان کے ناول مذہبی اور سیاسی تعصبات اور ذہنی حد بندیوں سے آزاد ہیں ۔ اس طر ح ناول نگاری کے اس تقلید ی دور میں راشدالخیری اور منشی سجاد حسین نے ایک خاص روش سے متاثر ہو کر اپنا مخصوص رنگ قائم کیا ۔ جس کی وجہ سے انہیں ناول کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔

اس کے بعد محمد علی طبیب نے شرر سے حد درجہ متاثر ہو کر ناول لکھے ہیں ان کے ناولوں میں شرر کے فن اور اثرات نمایاں نظر آتے ہیں جس طرح شرر نے مسلمانوں کے کارہائے نمایاں کو یاد دلا کر عہد حاضر کے زوال کے اسباب پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی اس طرح محمد علی طیب نے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے پند و نصائح اور لمبی تقریروں پر مشتمل ناول لکھے جس نے ان کے فن کو نقصان بھی پہنچایا ہے ۔ محمد علی طبیب کے بعد ان دنوں جن لوگوں نے ناول نگاری کے ذریعہ قوم و ملت کی اصلاح کی ہے ان میں سجاد حسین کسمنڈوی آغا شاعر، ریاض خیر آبادی، شاد عظیم آبادی، احمد علی شوق اور قاری سرفراز حسین کے نام قابل ذکر ہیں ۔

مجموعی طور پر ان لوگوں کی ناول نگاری نصف بیسویں صدی ہی محیط ہے ان لوگوں نے اپنے ناولوں میں خاص معاشرے کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکا سی کر کے ناول نگاری کو اوج ثر یاپر پہنچاد یا ہے ۔ ان لوگوں نے مختلف قسم کے ادبی اور شاعر انہ وسیلوں سے کا م لے کر اجتماعی زندگی کے مختلف مسئلوں کے موضوع پر ناول لکھ کر قوم و ملت ہے اصلاح کی خدمت انجام دی ۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نذیر احمد، سرشار، راشدالخیری، محمد علی طبیب،منشی سجاد حسین، آغا شاعر، ، ریاض خیر آبادی اور قاری سر فراز حسین کے ناولوں میں زندگی کا تنوع پھیلاو اور گہرائی و گیرائی کا عنصر گا ہے گاہے ملتا ہے ۔ ان کے ناول رسوا کی طرح اخلاقی زوال کی فضا میں گہری معنوی تعبیر و تفہیم کے حامل ہیں ۔ ا س کی وجہ یہ رہی ہے کہ ان لوگوں کے ناولوں میں فنی نزاکتوں کی کمی نہیں تو بہتات بھی نہیں ہے مگر ایک بات ضرور ہے کہ ان لوگوں کی تحریریں فنی شعور کی روح رواں ضرور ہیں ۔ اس کی مثال ہمارے سامنے ’’ امراؤ جان ادا‘‘ ’’ خواب ہستی‘‘ ’’ہیرے کی کنی‘‘ ’’ نقلی تاجدار‘‘ ’’ ناہید‘‘ اور ’’ ارمان ہے جس کی وجہ سے اردو ناول نگاری میں نفسیاتی اور تجزیاتی ناول کی ابتداء اور شاعرانہ تخیل کا فروغ ہوا ۔

آغا شاعر نے اپنے ’’ارمان‘‘ ’’ ہیر ے کی کنی‘‘ اور ’’ نقلی تاجدار‘‘ جیسے اہم ناولوں میں بیسویں صدی کے ناول کے شعور کا گہرا ثبوت دیا ہے ۔یہ ان کے طبع زاد ناول ہیں انہوں نے اپنے ناولوں میں بیسویں صدی کے مسلم گھرانوں کے معاشرت کی بھر پور عکا سی کر کے اس عہد کے رسم و رواج اور روایت کو بروئے کار لائے ۔انہوں نے اپنے ناولوں میں عوام الناس کے نفسیاتی مسائل کو بڑی فنکاری اور چابکدستی سے پیش کر نے کی مساعی جمیلہ کیا ہے ۔ پریم چند اس عہد کے ناول نگاروں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ سدرشن، محمد مہدی تسکین،قاضی عبد الغفار ، مجنو ں گورکھپوری ، نیاز فتحپوری، کشن پرشاد کول، ل احمد وغیرہ نے بھی اپنے ناولوں میں اس عہد کے مسائل کو حالات اور نزاکت کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔عزیز احمد نے ناداری اور شہر میں رہنے والو ں کی جنسی رشتوں کو قلم بند کیا ہے ۔ان کی ناول نگاری کے متعلق تنقیدی گفتگو اگلے باب میں ہوگی۔قاضی عبدالغفار نے ایک ممتاز نثر نگار اور اعلیٰ پائے کے اہل قلم کی حیثیت سے پوری ادبی دنیا سے اوپنالوہا منوایا’’ لیلی کے خطوط‘‘ مجنوں کی ڈائری’’ عجیب‘‘ تین بیسے کی چھوکری‘‘ جیسی داستانوی اور افسانوی کتابوں میں رومانی انداز کی نثر کا لطف تو ملتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ ان کتابوں میں طنز کا تیرو نشتر بھی چلایا گیا ہے ۔ انہوں نے رومانوی انداز کی ہی نثر نہیں لکھی ہے بلکہ ان کا قلم سنجیدہ عنوانات پر بھی پوری روانی کے ساتھ چلتاہے ۔

فسانہ آزادی کی طرح امراو جان ادا کا پس منظربھی لکھنو کا زوال آمادہ معاشرہ ہے انہوں نے اپنے عہد کے لکھنؤ معاشرے کی تصویر کشی کی ہے ۔ مرزا ہادی حسن رسوا علم ریاضی کے ماہر اور انسانی جذبات کے نیّاض تھے ۔ ان کے ناولوں پر ان کے طبعی رجحان کا عکس صاف نظر آتا ہے ۔ ان کے ناولوں میں جنسیات سے لے کر سیاست تک کے سارے رجحانات فنی بصیرت سے لبریز نظر آتے ہیں انہوں نے کا ناول امراو جان ادا لکھ کر انسان کو یہ بتایا کہ انسانی زندگی کے پیچھے تہذیب معاشرت، سیاست،معشیت، اخلاق اور تاریخ کے حقائق پوشیدہ ہوتے ہیں جس کا مطالعہ کر نے سے ہم ماضی سے آشنا ہوتے ہیں اور اس کی روشنی میں ہم اپنے مستقبل کو سنوارتے ہیں اس کے بعد ناول نگاری میں مر زا سعید وغیرہ کا نا م آتا ہے ۔

مذکورہ بالا بنیادوں پر ہی اردو کے مایہ ناز ناول نگار پریم چند نے ناول نگاری کا تاج محل تعمیر کیا اور اس کی آبیاری کرکے ناول نگاری کے کارواں کو آگے بڑھایا ۔ پریم چند نے اس دور میں ناول لکھنا شروع کیا جب کہ ’’ خواب ہستی‘‘ اور ’’ امراو جان ادا‘‘ منظر عام پر آچکا تھا ۔ابتداء میں انہوں نے ہندو معاشرت اور اس کی پیچیدگی پر مبنی اصلاحی ناول لکھے، ان ناولوں کا پس منظرانہوں نے ایسے معاشرے کو بنایا جس کا ان کو خود مشاہدہ تھا۔ اس طرح ان کے تمام ناول حقیقت اور صداقت کے غماز ہیں جہاں ان کے شدید جذبات اور غیر منطقی جانب داری کو خاص دخل ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ابتدا ئی ناولوں کو فنی طور پر کامیاب نہ بنا سکے جس درجہ کے ان کے ناول ’’ بازار حسن‘‘ ’’ گوشہ عافیت‘‘ میدان عمل‘‘ اور ’’ گؤ دان ہیں ۔ پریم چند کے ناول خاص طور سے ’’ گؤدان‘‘ اور ’’ میدان عمل‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہو تا ہے کہ ناول نگاری کے فن کی جس روایت کو نذیر احمد ، سرشار شرر، رسوا اور مرزا سعید نے قائم کیا تھا اسے پریم چند نے فنی اعتبار سے مذید وسعت اور گہرائی بخشی۔

سرشار عمیق مطالعہ رکھنے کے باوجود نہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا محاصرہ کر سکے اور نہ ہی لازمی ، غیر لازمی اہم اور غیر اہم میں فرق قائم کر سکے ۔ پریم چند کے ناول معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی گوشوں کا اس طرح محاصرہ کر تے ہیں کہ ان کے ناول ان تمام چیزوں کے ساتھ ہی ایک خاص قوم کے مزاج کے مفسر اور مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں قومی زندگی کے خارجی پہلو کے ساتھ ساتھ ان کے داخلی کیفیتوں کی اس طرح عکاسی کی ہے کہ اس قوم کے جسم اور روح دونوں کے فرق عیاں ہو گئے ہیں اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ناول ہندستان کے شہروں دیہاتوں کے نچلے اور متوسط طبقوں کی تہذیبی اور قومی الجھنوں اور کی تہذیبی اور قومی الجھنوں اور کشیدگی کے آئینے ہیں ۔ پریم چند کے ناول اردو ناول کی تاریخ میں زندگی اور فن کی عظمت اور بلندی کے بہترین مظہر ہیں ۔ ان میں سب سے پہلے کے ناول نگاروں نے فن کی جو روایت قائم کی تھی ۔ اسے انہوں نے وسعت ہی نہیں دی بلکہ اپنی فنی بصیرت سے ایک نیا مفہوم دیا۔ پریم چند کے ناولوں میں جہاں مارکن اور ٹالسٹائی کے نقطۂ نظر کو دخل ہے وہیں قدامت پسند ی یا مشرق پسندی بھی غالب ہے ۔

اس طرح پریم چند کے بعد جن لوگوں نے فن اور فلسفہ حیات پر مبنی ناول نگاری کی اور اردو ناول کو فنی اعتبار سے آگے بڑھایا ان میں سجاد ظہیر، عصمت چغتائی، عزیز احمد،کرشن چند اور قرتہ العین حیدر کے نام اہمیت کے حامل ہیں ۔

ترقی پسند تحریک کے ادیبوں نے مارکسزم اور موجودہ سائنس اور سماجی علوم کی روشنی میں اپنا اظہار خیال کیا ۔ ان لوگوں کا مقصد سماجی اصلاح تھا اور اس کام کو ان لوگوں نے ایک جذبہ امید اور پروگرام کے تحت بخوبی انجام دیا ۔ اس کا پرچار ان لوگوں نے اردو ادب میں افسانہ لکھ کر کیا یہی وجہ ہے کہ شروع ہی سے ترقی پسند تحریک کا رویہ زندگی کے بارے میں صداقت پر مبنی تھا ۔سجاد ظہیر، کرشن چندر، عصمت چغتائیعزیز احمد اس زمانہ کے ناول نگار تھے۔ ان بزرگو ں میں سوچنے سمجھنے اور اظہار خیال کا انداز جداگانہ تھا ۔یہ لوگ درمیانی طبقہ کے لوگ تھے قدا مت پرستی رسم رواج اور اخلاقی بندھنوں کی چہار دیواری میں قید تھا جس کا مستقبل تاریک ہی تاریک نظر آرہا تھا جس کا احساس ان لوگوں کو شدت سے تھا کہ یہ طبقہ برباد ہونے جارہا ہے ۔ یہ طبقہ اپنے قدیم رواج کی ڈوری میں جکڑا ہوا شاید ہمیشہ رہ جائے اور اس کا پھر بہت برا ہو جائے آخر کار انہوں نے اس طبقہ کے لوگوں کو تعلیم کی دعوت دی انسانیت اور جدیدقدیم کے موضوع پر نہایت ہی خلوص و محبت کے ساتھ بتلیغ کی ۔ یہ تبلیغ ان لوگوں نے تحریری اور تقریری دونوں طرح سے کی ۔ ان لوگوں نے جدید سائنس کی روشنی میں اچھے مواد اورفن کی کسوٹی پر ناول نگاری کر کے متوسط طبقہ کے لوگوں کو بیدا ر کیا جیسا کہ سجاد ظہیر نئے ناول ’’ لندن کی ایک رات‘‘ میں اپنا دانشورانہ جذبات و احساسات اور داخلی اظہار خیال کی تکنیک سے تخلیقی حسن کو پیرا ہن بخشا یہ ناول سجاد ظہیر کی وہ نثری کاوش ہے جو 1938ء سے اب تک مسلسل شائع ہو تی رہی ہے ناولٹ کے متن اور مواد کی اہمیت کی پیش نظز تنقیدی ایڈیشن بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔ یہ ناول اردو میں فنی نقطۂ نظر سے جدید ناول کی خشت اول ہے ۔ لندن کی ایک رات ترقی پسند ادب کا ابتدائی نمونہ ہے ۔یہ ایک ایسا ناول ہے جو 1965ء سے پہلے لکھے جانے کے با وجود آج کے نئے زمانے سے بھی نہ صرف جڑا ہو ا ہے بلکہ عکاس اور آئینہ دار بھی ہے کیونکہ آج بھی مغربی دنیا میں تعلیم حاصل کر نے والے طالب علموں کے مسائل زیادہ بدلے نہیں ہیں ۔ تو عصمت چغتائی تحلیل نفسی کے ذریعہ ثمن کے کردار کو اجاگر کیا اور گاوں گھروں میں استعمال ہونے والی روز مرہ کی بول چال کو اردو ادب میں ادبی مقام بخشا۔ کرشن چند نے خلقت کی ابدی حسن کے گود میں سماج کے مختلف طبقہ میں ہو نے والے ظلم و ستم انسان کی پریشانی اور بے بسی کے پردہ کو فاش کیا تو عزیز احمد نے تعلق دارا نہ مشنری اورمتوسط طبقہ کے سماج میں عام لوگو ں کی تنگد ستی اور دیگربد حال کو اپنا موضوع بنایا۔ ان لوگو ں کی ناول نگاری سماجی مسائل پر مبنی اعلی شاہ کار ہے جس کے ذریعہ عام لوگوں کی زندگی کو پیش کیا گیاہے ۔ خواہ غریبی ہو یا باہمی کشیدگی یاایک دوسرے پر ظلم و ستم کے واردات ۔ ہر مسائل اور مسائل کے حل کو اپنے ناولوں میں قلم بند کیا مگر پریم چند کے ناول ’’ گؤدان‘‘ کی طرح نشاتہ حیات کا ہمہ جہتی رزمیہ نہیں ۔ بہر حال ان لوگوں کا ناول فن اور اسلوب کے لحاظ سے بہت دلکش اور دلچسپ ہے جس کا نذیر احمد یا پریم چند کی ناول نگاری میں سراغ نہیں۔ ان ترقی پسند ادیبوں کے دل میں قوم کا درد تھا جو کچھ دیکھا اس کومحسوس کیا اور ناول کے سانچے میں ڈھال دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کی ناول میں صداقت پر مبنی کردار ملتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ناول میں صرف اقربا پروری قدیم عقائد اور زمانے سے چلی آنے والی رسم و رواج کی کشمکش اور پیچیدگی ہی نہیں بلکہ آزادی، انصاف اور انسان دوستی کے نئے ادارے ،ئنی دنیا کی تلاش اور نئے خوابوں کی تعبیر بھی نظر آتی ہے ۔ اعظم راو نعیم، شمسا، سب کسی تعبیر کے خلاف روا ں دواں نظر آرہے ہیں عصمت چغتائی نے اس عہد کے افسانوی ادب کے کرداروں کو یوں پیش کیا ہے ۔

’’ نئی دنیا کا نیا بیٹا ضدی۔ بد مزاج اور اکھڑ ہے وہ موجودہ نظام کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اپنے نئے نظام کے لیے بیکل ہے ۔ وہہیں ۔ یہ ناول اردو میں فنی نقطۂ نظر سے جدید ناول کی خشت اول ہے ۔ لندن کی ایک رات ترقی پسند ادب کا ابتدائی نمونہ ہے ۔یہ ایک ایسا ناول ہے جو 1965ء سے پہلے لکھے جانے کے با وجود آج کے نئے زمانے سے بھی نہ صرف جڑا ہو ا ہے بلکہ عکاس اور آئینہ دار بھی ہے کیونکہ آج بھی مغربی دنیا میں تعلیم حاصل کر نے والے طالب علموں کے مسائل زیادہ بدلے نہیں ہیں ۔ تو عصمت چغتائی تحلیل نفسی کے ذریعہ ثمن کے کردار کو اجاگر کیا اور گاوں گھروں میں استعمال ہونے والی روز مرہ کی بول چال کو اردو ادب میں ادبی مقام بخشا۔ کرشن چند نے خلقت کی ابدی حسن کے گود میں سماج کے مختلف طبقہ میں ہو نے والے ظلم و ستم انسان کی پریشانی اور بے بسی کے پردہ کو فاش کیا تو عزیز احمد نے تعلق دارا نہ مشنری اورمتوسط طبقہ کے سماج میں عام لوگو ں کی تنگد ستی اور دیگربد حال کو اپنا موضوع بنایا۔ ان لوگو ں کی ناول نگاری سماجی مسائل پر مبنی اعلی شاہ کار ہے جس کے ذریعہ عام لوگوں کی زندگی کو پیش کیا گیاہے ۔ خواہ غریبی ہو یا باہمی کشیدگی یاایک دوسرے پر ظلم و ستم کے واردات ۔ ہر مسائل اور مسائل کے حل کو اپنے ناولوں میں قلم بند کیا مگر پریم چند کے ناول ’’ گؤدان‘‘ کی طرح نشاتہ حیات کا ہمہ جہتی رزمیہ نہیں ۔ بہر حال ان لوگوں کا ناول فن اور اسلوب کے لحاظ سے بہت دلکش اور دلچسپ ہے جس کا نذیر احمد یا پریم چند کی ناول نگاری میں سراغ نہیں۔ ان ترقی پسند ادیبوں کے دل میں قوم کا درد تھا جو کچھ دیکھا اس کومحسوس کیا اور ناول کے سانچے میں ڈھال دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کی ناول میں صداقت پر مبنی کردار ملتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ناول میں صرف اقربا پروری قدیم عقائد اور زمانے سے چلی آنے والی رسم و رواج کی کشمکش اور پیچیدگی ہی نہیں بلکہ آزادی، انصاف اور انسان دوستی کے نئے ادارے ،ئنی دنیا کی تلاش اور نئے خوابوں کی تعبیر بھی نظر آتی ہے ۔ اعظم راو نعیم، شمسا، سب کسی تعبیر کے خلاف روا ں دواں نظر آرہے ہیں عصمت چغتائی نے اس عہد کے افسانوی ادب کے کرداروں کو یوں پیش کیا ہے ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *