Free AIOU Solved Assignment Code 8660 Spring 2021

aiouguru

Free AIOU Solved Assignment Code 8660 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiouguru.

Course: Pakistani Adab (8660)
Semester: Spring, 2021
ASSIGNMENT No. 1

ANS 01

اردو میں ہر شعری اصناف اپنی مخصوص ہیئت کی بنا پر پہچانی جاتی ہے اور چند اپنے مخصوص موضوع کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے ۔موضوع کی بنا پر شناخت رکھنے والی اصناف میں مرثیہ، شہر آشوب ،واسوخت وغیرہ ہےں وہ اصنافِ سخن جن کی شناخت موضوع اور ہیئت دونوں سے ہوتی ہے ان کو ہم موضوع اور ہیٔتی اصناف کا نام دیں گے جن میں مثنوی ،قصیدہ شامل ہیں اور وہ شعری اصناف جو صرف اپنی مخصوص ہیئت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہےں انہیں ہیٔتی اصناف کہتے ہیں جن میں غزل ، رباعی شامل ہیں وہ اصناف جنہیں ہم موضوع کی وجہ سے پہنچانتے ہیں انہیں موضوع اصناف کا نام دیں گے۔ شعری اصناف کی ایک قسم وہ بھی ہے جو نہ موضوع پر منحصر ہے اور نہ ہیئت پر بلکہ وہ مخصوص تہذیبی و تمدنی مزاج کی وجہ سے ایک صنف کا درجہ رکھتی ہے وہ ہے نظم اور گیت ،اس کے علاوہ دو اصناف شعر ایسی بھی ہیں جو منفرد ہونے کے علاوہ دیگر اصناف کے لیے بھی بطور ہیئت استعمال ہوتی رہی ہیں جن میں غزل اور مثنوی آجاتی ہےں بہت سی نظمیں غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں جس کی اچھی مثالیں اقبالؔ کے کلام میں مل جاتی ہیں ۔اور مثنوی کی ہیئت میں بھی نظمیں اور ہجوئویں لکھی گی ہیں ۔ اصنافِ شعر کی دوسری مروج ہیٔتوں میں ترکیب بند، ترجیع بند، مستزاد، قطعہ ،مسمط ہیں مسمط کوئی علیحدہ ہیئت نہیں ہے بلکہ آٹھ مختلف ہیٔتوں کا مجموعہ ہے۔ وہ آٹھ ہیٔتیں ہیں مثلث ،مربع، مخمس ،مسدس، مسبع، مثمن، متسع، معشر

شاعری کی موضوعی ہیٔتی اصناف

مثنوی :

مثنوی لفظ مثنّٰی سے ماخوذ ہے جس کے معنی دو ۔دو کے ہیں ۔ ادبی اصطلاح میں مثنوی ایسی شعری اصناف کو کہتے ہیں جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہو اور ہم وزن ہو اور ہر شعر کا قافیہ پچھلے شعر کے قافیہ سے مختلف ہو ۔یہ صنف اپنے مخصوص موضوعات ،مزاج اور مخصوص ہیئت کی بنا پرپہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسے دوسری اصناف کے لیے بھی اپنایا جاسکتا ہے اس کا حقیقی مزاج داستانی ہے یعنی مثنوی میں عشقیہ داستانوں کا بیان ہوتا ہے۔ اس طرح مثنوی ایک طرح کی منظوم داستان ہوتی ہے۔ وہ داستان جو عشق کے جذبات و واقعات پر مبنی ہو اپنی اسی صفت کی وجہ سے مثنوی بیانیہ شاعری کی معراج تصور کی جاتی ہے اس لحاظ سے اردو زبان میں مثنوی ایک مقبول و معروف صنف سخن کی حیثیت رکھتی ہے اس کی مقبولیت کے پیشِ نظرپچھلے زمانے میں بہت سی عمدہ مثنویاں لکھی گئیں جو اردو شعرو ادب کا مایۂ ناز سرمایہ ہیں ۔ان میں میر حسن دہلوی کی ’’سحرالبیان‘‘ دیا شنکر نسیمؔ کی ’’گلزارِ نسیم‘‘ کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔ مثنوی سحرالبیان سے بطورنمونہ اشعار ملاحظہ کیجئے۔

Check Also: AIOU Solved Assignment Code 8660

مرو تم، پری پر وہ تم پر مرے

بس اب تم زرا مجھ سے بیٹھو پرے

میں اس طرح کا دل لگاتی نہیں

;یہ شرکت توبندی کو بھاتی نہیں

اردو اور فارسی میں مثنوی کی ہیئت کے لیے آٹھ بحورمروج ہیں لیکن موجودہ زمانے میں بعض شعرائ نے دوسری بحورمیں بھی مثنویاں لکھی ہیں جن میں نمایاں نام حفیظ جالندھری کا ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ ہے جو بحر ہزج مثمن سالم میں لکھی گئی ہے اور جوش ملیح آبادی کی طویل نظم ’’جنگل کی شہزادی ‘‘مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔

قصیدہ :

قصیدے کی پہچان بھی اس کے موضوع اور ہیئت سے کی جاتی ہے۔ اگر ان دونوں خصوصیات میں سے ایک کا بھی فقدان ہو تو یہ صنف اپنی پہچان کھو بیٹھتی ہے ۔قصیدے کی اہمیت اس لیے مسلمہ ہے کہ غزل جیسی مقبول و معروف صنف سخن اسی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے اس لیے قصیدے کی ہیئت بڑی حد تک غزل کی ہیئت سے ملتی ہے ۔

قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ’’گاڑھا مغز‘‘ کے ہیں ۔ یہ صنف اپنے اسی معنوی جوہر پر پوری اترتی ہے کیونکہ اس میں نادر و بلند اور پر شکوہ مضامین کا بیان ہوتاہے۔ اس لئے قصیدے کو شعری اصناف میں وہی درجہ حاصل ہے جو انسانی جسم میں مغز کو حاصل ہے ۔قصیدہ لفظ ’’قصد‘‘ سے مشتق ہے شاعر جب کسی کی مدح یا تعریف کرتا ہے تو اس میں ا س کا ارادہ یا قصد شامل ہوتا ہے ۔قصیدے میں نظم کی طرح خیالات و مضامین میں ربط و تسلسل پایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ موضوع کے لحاظ سے قصیدے کا کوئی نہ کوئی عنوان بھی ہوتا ہے ۔ موضوع کے لحاظ سے بھی قصیدے کی تقسیم کی ہے۔اس کے علاوہ قصیدے کو قافےے کے آخری حرف کی مناسبت سے مخصوص نام بھی دے دیا جاتا ہے ۔مثلاً قصیدۂ لامےہ، کافیہ ،میمیہ وغیرہ ۔ مثلا ؎

اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستاں سے عمل

تیغ آردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

یہ قصیدہ لامیہ ہے کیونکہ اس کے قافیہ کا آخری حرف ’لام‘ ہے ۔

موضوع کے لحاظ سے قصیدے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

مدحیہ

ایسا قصیدہ جس میں کسی کی مدح یا تعریف بیان کی گئی ہو ۔

ہجویہ

ایسا قصیدہ جس میں کسی شخص یا مصائب زمانہ کی برائی بیان کی گئی ہو ۔

وعظیہ

جس قصیدے میں پندو نصائح کے مضامین بیان کئے جائیں اسے وعظیہ قصیدہ کہتے ہیں ۔

بیانیہ

جس قصیدے میں مختلف النوع کیفیات کے مضامین پیش کیے جائیں ۔وہ بیانیہ کہلاتا ہے۔

قصیدے کی دو قسمیں ہیں تمہید یہ ،خطابیہ ۔

تمہیدی میں تشبیب ،گریز ،مدح و دعا جیسے عناصر ترکیبی ہوتے ہیں ۔

اور خطابیہ میں تشبیب و گریز کو استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ ممدوح کی تعریف سے قصیدہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔

قصیدے کے اجزائے ترکیبی اس طرح ہیں :

تشبیب، گریز ،مدح ،عرضِ مطلب یا مدعااور دعا۔

شاعری کی ہیٔتی اصناف

غزل

غزل کے لغوی معنی ایسا کلام جس میں عورتوں کے حسن و عشق کا بیان ہو۔ عربی میں غزل کا مطلب عورتوں سے باتیں کرنا ہوتاہے ۔ادبی اصطلاح میں غزل نظم کی وہ صنفِ سخن ہے جس میں عشق ومحبت ،حسن و جمال ،گل و بلبل کے تذکرے، محبوب کے خدوخال کی تعریف اس کے جو روستم ،ہجرو فراق کی تڑپ و کرب و اضطراب اور محبوب کے وصال کی آرزو جنون و عشرت ،خزاں و بہار، یاس و امید ،شادی و غم کا ذکر ہو۔ لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ غزل کے مضامین میں بھی اضافے اور تبدیلیاں رو نما ہوتی رہی ہیں او رہجروصال کی داستان کے ساتھ فلسفہ ،تصوف، سیاست و حیاتِ انسانی مختلف مسائل، دقیق خیالات او رسنجیدہ مضامین بھی غزلوں میں بیان ہونے لگے ہیں ۔

غزل کا ہر شعر دوسرے شعر سے معنی و موضوع کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے یعنی ایک شعر کو دوسرے شعر سے کوئی معنوی مناسبت نہیں ہوتی اگر شاعر غزل میں اپنے موضوع کے بیان اور خیالات کو ظاہر کرنے کے لیے ایک سے زیادہ اشعار کا استعمال کرے تو یہ اشعار قطعہ بند اشعار کہلاتے ہیں ۔ غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ اگر غزل کا دوسرا شعر بھی ہم قافیہ ہو تو اسے حسنِ مطلع یا مطلع ثانی کہا جاتا ہے ۔مثلاً غالبؔ کے کلام سے اشعار ملاحظہ کیجئے ؎

ملتی ہے خوے یار سے نار، التہاب میں

کافر ہوں ، گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

کب سے ہوں ،کیا بتائوں جہانِ خراب میں

شبہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

غزل میں ردیف کا استعمال بھی ہوتا ہے لیکن یہ غزل کی ہیئت کا بنیادی رکن نہیں ہے اس لیے کہ ردیف کے بغیر بھی غزلیں کہی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی بے مطلع غزلیں بھی کہی گئی ہیں مطلع کے بعد اشعار میں پہلا مصرعہ قافیہ کا پابند نہیں ہوتا ۔لیکن سارے مصرعے ثانی ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے ۔اس کے علاوہ غزل کے اشعار میں خیال و موضوع کے ربط و تسلسل کی قید نہیں ہوتی یعنی اگر ایک شعر عشق کے جذبات کی عکاسی کرتاہے تو دوسراشعر سیاسی نکتۂ نظر کو پیش کرسکتا ہے تیسرا فلسفہ پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ یعنی غزل کو ہم موضوع میں قید نہیں کر سکتے ایک ہی غزل میں حسن و عشق کا بیان ۔دنیا کی بے ثباتی، سماجی مسائل ،فلسفیانہ نکات و سیاسی سرگرمیاں غرض ہر قسم کے خیالات کو پیش کرنے کی آزادی ہے ۔غزل ایک شعر کے دو مصرعوں میں ہی ایک مکمل اور بڑے سے بڑے خیال کو پیش کرنے کی قوت رکھتی ہے ۔اس لیے غزل دریا کو کوزہ میں بند کرنے کا عمل قرار دیا گیا ہے جس میں شاعر اپنی بات کو ادا کرنے کے لیے علامتوں ،کنایوں ،استعارات اور تشبیہات صنائع بدائع کا سہارا لیتا ہے ۔

رُباعی

رباعی ایک مختصر سی صنف سخن ہے۔ جس میں عام طور پر فلسفیانہ ،مفکرانہ اخلاقی اور کبھی کبھی عشقیہ مضامین کا بیان ہوتا ہے یہ چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے جو غزل کے دو شعروں سے مشابہ ہوتی ہے ۔

رباعی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چار چار ہیں ۔ اصطلاحاً اس سے وہ شعری ہیئت مراد ہے جو چار مصرعوں پر مبنی ہو اور فکرو خیال کے لحاظ سے مکمل ہو۔ رباعی کے چاروں مصرعوں میں خیال مربوط اور مسلسل ہوتا ہے اور آخری مصرعے میں خیال کی تکمیل ہوتی ہے ۔اس کے پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں تیسرا مصرعہ بے قافیہ ہوتا ہے ۔رباعی کے اوزان مثنوی کی طرح مخصوص ہیں اس کے چوبیس اوزان ہیں ۔ چنانچہ رباعی مقررہ اوزان کی پابند ہونی چاہئے۔

مرثیہ :

مرثیہ عربی کا لفظ ،رثیٰ سے مشتق ہے رثیٰ کے معنی مردے پر رونا اور آہ وزاری کرنا ہے ۔یہ صنف عربی شاعر میں رائج تھی جس میں اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے انتقال پر رنج والم کے جذبات سے پر اشعار کہے جاتے ہیں ،انہیں مرثیہ کہا جاتاتھا۔ مرثیہ اردومیں موضوعاتی لحاظ سے واقعات کر بلا سے مخصوص ہوگیاہے۔ یہ اسی مفہوم میں اردو میں رائج ہے لیکن اردو میں ایسے مرثیوں کی بھی کمی نہیں جو مختلف اشخاص کی اموات پر اظہار غم کے لیے لکھے گئے ہیں ۔ عام طور پر مرثیہ مسدس کی ہیئت میں لکھے جاتے ہیں ۔ مرثیہ نویسی میں مشہور نام میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے ہیں ۔مرثیہ کے اجزائے ترکیبی میں چہرہ ، سراپا، رخصت ،آمد، رجز ،رزم ، شہادت بین مرثیہ کے عناصر ترکیبی ہیں جو میر ضمیرؔ نے قائم کیے تھے ۔لیکن تما م مرثیوں میں ان کی پابندیاں لازماً نہیں ملتی ۔

نوحہ :

نوحہ وہ مرثیہ سلام ہوتا ہے جس میں بین کے اشعار زیادہ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور اس کے بعد ماتم کیا جاتا ہے اس میں بھی زیادہ تر واقعات کر بلا کا بیان ہوتا ہے نوحہ زیادہ تر مستزادکی ہیئت میں لکھے گئے ہیں لیکن اس میں ہیئت کی کوئی قید نہیں ہے۔

سلام :

سلام قصیدے یا غزل کی شکل میں لکھا جاتا ہے ۔سلام کے مطلع میں اکثر لفظ سلام یا سلامی لایا جاتا ہے مثلاً

سلام اس پرکہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

اس میں مرثیہ کی طرح واقعات کر بلا کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور ساتھ میں مختلف اخلاقی مضامین بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔ اور وہ نعتیہ نظم بھی ہوتی ہے جس میں حضورؐ کی تعریف کی جاتی ہے اور لفظ سلام استعمال ہوتا ہے ۔

حمد :

حمد میں خدا تعالیٰ کی تعریف بیان کی جاتی ہے ۔یہ نظم یا قصیدے کی شکل میں بھی ہوسکتے ہیں ۔اکثر مثنویاں حمد کے اشعار سے شروع ہوتی ہےں ۔ اور یہ کسی نظم کا ابتدائی حصہ بھی ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ الگ سے حمد بھی لکھی جاتی ہے ۔

نعت :

نعت میں حضورؐ کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں ایسے اشعار عموماً کسی نظم کے شروع میں لائے جاتے ہیں نعت علیحدہ بھی لکھی جاتی ہے ۔

منقبت:

اس میں صحابہ اکرام حضرت علیؓ یا ائمہ اکرام صوفیا کی تعریف کی جاتی ہے۔یہ بھی کسی نظم کے حصے کے طور پر یا قصیدے کی شکل میں لکھے جاتے ہیں ۔

مناجات :

اس میں شاعر خدا کی صنّاعی بیان کرتا ہے ۔اور دُعا گو ہوتا ہے ۔یہ اشعار نظم کے ایک حصے کے طور پر لائے جاتے ہیں ۔

ساقی نامہ :

یہ نظم مثنوی کی ہیئت میں لکھی جاتی ہے اس میں شاعر ساقی سے خطاب کرکے موسم بہار یا شراب نوشی کی باتیں کرتاہے اور اس سلسلے میں وہ مفکرانہ ،فلسفیانہ اوراخلاق مضامین قلم بند کرتا ہے اقبالؔ کی نظم ساقی نامہ اس کی بہترین مثال ہے ۔

ہجو :

ہجو قصیدے کی ہی ایک قسم ہے جس میں کسی شخص یا مصائب زمانے کی برائی بیان کی جاتی ہے۔ سوداؔ کی مشہور ہجو ’’تضحیک روز گار‘‘ اس کی عمدہ مثال ہے ۔سوداؔ نے اور بہت سی ہجویات لکھی ہیں ۔

واسوخت :

واسوخت میں غزل کی روایتی عاشقی کی خود سپردگی اور نیاز مندی کے بجائے خودداری کا اظہار ہوتا ہے یعنی جس میں عاشق اپنے معشوق کو جلی کٹی سناتا ہے ۔جس میں عاشق معشوق سے بے پروائی ،بے التفاقی اور بےزاری برتتا ہے ۔اس صنف میں ۔جرأت اظہار اور صاف گوئی سے عاشق کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ۔و اسوخت میں عاشق محبوب کو کھلے لفظوں میں یہ بات بتانا چاہتا ہے کہ تمہاری جو قدرو منزلت ہے وہ ہمارے عشق کی بدولت ہی ہے ۔اقبالؔ کا شعر ؎

تو جو ہر جائی ہے اپنا بھی یہی طور سہی

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

واسوخت ابتدا میں آٹھ مصرعے کی ہیئت میں لکھے جاتے تھے۔ ہر بند کے اولین چھ مصرعے ہم قافیہ ہوتے تھے اور ہیئت کا شعر کسی اور قافیہ میں ہوتا تھا ۔لیکن میرؔ نے اس ہیئت سے انحراف کرتے ہوئے و اسوخت کے لیے مسدس (چھ مصرعے) کی ہیئت اختیا رکی۔

شہر آشوب:

اس صنفِ سخن میں کسی شہر، ملک ،خطے کی بربادیوں تباہ کاریوں کا ذکر نہایت درد مندی کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ یہ بربادی اور تباہ کاری کسی عہد معاشرے اور جماعت کی ہوسکتی ہے۔اس کے موضوعات بے بسی، پستی، زوال ،مفلوک الحالی وغیرہ ہیں شہر آشوب کی پہچان اس کے مخصوص موضوع کی بنا پر ہوتی ہے ۔شہر آشوب ،غزلیہ ،مثنوی ،مخمس اور مسدس کی ہیٔتوں میں لکھے گئے ہیں اس سلسلے میں نواب مرزا داغؔ کا مشہور شہر آشوب کا ایک بند ملاحظہ کیجئے۔

فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا

;تمام پردۂ ناموس چاک کر ڈالا

?یکایک ایک جہاں کو ہلاک کر ڈالا

غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے خاک کر ڈالا

جلی ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں

کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

نظم:

غزل کی طرح نظم کی ہیئت مخصوص نہیں ہے ۔غزل کے اشعار میں باہمی تسلسل نہیں ہوتاہے لیکن نظم کے اشعار ایک دوسرے سے پیوست ہوتے ہیں ۔ نظم ایک نہایت بسیط و وسیع اصطلاح ہے ۔غزل کے علاوہ دوسری اصنافِ شعر مثلاً قصیدہ، مرثیہ ، واسوخت ،شہر آشوب ،اور مثنوی نظم ہی کی ایک شکل ہیں ۔ یعنی یہ تمام اصنافِ سخن فکرو خیال کے تسلسل اور ربط پر مبنی ہیں لیکن چونکہ ہم نے ان اصناف کو ان کے ہیٔتی اور موضوعی حیثیت سے الگ الگ اصناف مانا ہے اس لیے یہ نظم کی حدود سے نکل جاتی ہےں ۔ نظم جو کہ نہ موضوعی صنف ہے نہ اس کی کوئی مخصوص ہیئت ہے یہ قدیم زمانے سے مختلف ہیتوں میں پیش کی جاتی رہی ہے۔ یہ صنف اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ سے لے کر عہد جدید کے شعرائ کے یہاں کثرت سے ملتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں اس صنف کی جلوہ گری ہے۔ الطاف حسین حالیؔ اور محمد حسین آزاد نے اسے استحکام بخشا۔ زندگی کا ہر واقعہ ،ہر واردات ،ہر رنگ اس کا موضوع ہوسکتا ہے ۔

جدید نظم نگاروں کے یہاں اس کی دو قسمیں نظم معرا اور آزاد نظم ملتی ہیں ۔چونکہ اس دور میں نظم کی ہیئت میں تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں اور نظمِ آزاد او رنظمِ معریٰ پر طبع آزمائی کی گئی ہے ۔

نظم معریٰ :

اردو میں یہ ہیئت انگریزی سے منتقل ہوئی ہے انگریزی میں اس کا نام بلینک ورس ہے ۔اردو میں ابتدا میں اسے نظمِ غیر مقفیٰ کا نام دیا گیا لیکن بعد میں عبدالحلیم شررؔ نے بابائے اردو عبدالحق کے مشورے پر اس کے لیے نظم معریٰ کی اصطلاح رائج کی جو مقبول ہوئی۔ انگریزی میں نظم کی یہ ہیئت آئمبک پینٹا میٹر بحر کے لیے مخصوص ہے لیکن اردو میں اس بحر کا تتبع ممکن نہیں ہے اس لیے صرف قافیہ کی آزادی کو ہی قبول کیاگیا ۔اس طرح اردو میں معریٰ نظم ایسی شعری ہیئت ہے جس میں ارکان کی تعداد برابر ہوتی ہے یعنی نظم کے تمام مصرعوں کا وزن برابر ہوتا ہے لیکن قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی۔

اردو نظم کی اس ہیئت کے اولین تجربے محمد حسین آزادؔ ،اسماعیلؔ میرٹھی اور عبدالحلیم شررؔ کے یہا ں ملتے ہیں اکثر ناقد عبدالحلیم شررؔ کو اردومیں نظم معریٰ کا موجد قرار دیتے ہیں لیکن حنیف کیفی نے محمد حسین آزادؔ کو اولیت دی ہے ۔محمد حسین آزاد کی نظم’ جغرافیہ طبعی کی پہیلی ‘ اور’ جذب دوری ‘کووہ اردو کی سب سے پہلی معریٰ نظمیں تسلیم کرتے ہیں ،’ جغرافیہ طبعی کی پہیلی ‘کا ایک بند نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔

ہنگامہ ہستی کو

گرغور سے دیکھو تم

ہر خشک و تر عالم

صنعت کے تلاطم میں

جو خاک کا ذرّہ ہے

‘یا پانی کا قطرہ ہے

حکمت کا مرقع ہے

جس پر قلمِ قدرت

انداز سے ہے جاری

اور کرتا ہے گلکاری

ایک رنگ کے آتا ہے

سو رنگ دکھاتا ہے

آزاد نظم :

آزاد نظم میں انگریزی سے اردو میں منتقل ہوئی ہے انگریزی میں اسے ’’فری ورس‘‘ کہا جاتا ہے اس لحاظ سے انگریزی اصطلاح کا لفظی ترجمہ آزاد نظم کے نام سے اردومیں رائج ہے۔ اس شعری ہیئت کو اردو میں بہت مقبولیت حاصل ہے ۔فری ورس ایسی نظم کو کہا جاتا ہے جو مختلف بحروں کے امتزاج یا یکسر وزن سے آزاد ہوتی ہے جن میں قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی اور وزن کی پابندی بھی نہیں ہوتی اس اعتبار سے آزاد نظم ،نظم اور نثر کے بیچ کی چیز ہے ۔

اردو میں آزاد نظم کو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں بڑی تیزی سے فروغ حاصل ہوا ۔اس کے اوّلین علمبرداروں میں تصدق حسین خالدؔ، ن۔ م راشدؔ ،اور میراجیؔ کے نام اہمیت کے حامل ہیں ۔ ن ۔م راشد کی نظم ’’زمانہ خدا ہے‘‘سے چند اشعار نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔

’’زمانہ خدا ہے ،اسے تم برامت کہو ،

مگر تم نہیں دیکھتے ،زمانہ فقط ریسمانِ خیال

سُبک مایہ ،نازک طویل

جدائی کی ارزاں سبیل!

ترکیب بند :

یہ ہیئت کے لحاظ سے غزل سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس میں اولیں چند اشعار غزل ہی کی طرح ہوتے ہیں جن کی تعداد کم سے کم پانچ اورزیادہ سے زیادہ گیارہ ہونی چاہئے ان اشعار کے بعد ایک شعر جو اسی بحر میں ہوتا ہے لیکن اس کا قافیہ اوپر کے شعروں سے مختلف ہوتا ہے ۔ ا س طرح ایک بند تیار ہو جاتا ہے اسی ترتیب سے باقی تمام بند تشکیل پاتے ہیں ۔

ترجیع بند :

ترجیع بند کے لغوی معنی لوٹانا کے ہیں ۔ ترجیع بند، ترکیب بند سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ ترکیب بند کے ہر بند کا ٹیپ کا شعر مختلف ہوتا ہے جبکہ ترجیع بند میں پہلے بند میں جو ٹیپ کا شعر آتا ہے وہی تمام بندوں میں دہرایا جاتا ہے ۔

مستزاد :

مستزاد کے لغوی معنی زیادہ کی گئی چیز کے ہیں اور شعری اصطلاح میں وہ الفاظ جو غزل، رباعی اور نظم وغیرہ کے مصرعوں میں بڑھادئےے جاتے ہیں ۔ مستزاد کے لیے کوئی بحر مقرر نہیں ہے عموماً جس بحر میں غزل یا نظم کہی جاتی ہے اس کے مصرعوں پر اضافہ کرکے مستزاد فقرے لکھ دئےے جاتے ہیں یہ مستزادی فقرے نظم یا غزل کے ہم قافیہ بھی ہوسکتے ہیں یعنی جس غزل یا نظم کا جو قافیہ ہے،اسی قافیہ میں بھی ہوسکتے ہیں ۔ اورنہیں بھی ہوسکتے اس معاملے میں کسی اصول کی پابندی نہیں ہے اگر یہ الفاظ نہیں بھی لکھے جائیں تو بھی معنی کی تکمیل ان کے بغیر ہو جاتی ہے ۔مگر ان الفاظ کے اضافہ سے بات میں وزن اور زور پیدا ہو جاتا ہے ۔مثلاً نمونے کے لیے اقبال کے کلام سے مستزاد ملاحظہ کیجئے۔

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سحاب

مرغانِ سحر تیری فضائوں میں ہیں بے تاب

اے وادیٔ لولاب

اے وادئی لولاب ،یہ مصرعے مستزاد کہلائے گا ،یا ایک اور مستزا داقبالؔ کے کلام سے ملاحظہ کیجئے۔

رومی بدلے شامی بدلے بدلا ہندوستان

تو بھی اے فرزندِکہستاں اپنی خودی پہچان

اپنی خودی پہچان او غافل افغان

اس شعر میں آخری الفاظ ’’اوغافل افغان‘‘ مستزاد کہلائیں گے اگر ان الفاظ کو اس جگہ سے نکال دیا جائے تب بھی معنی کی تکمیل ہو جاتی ہے۔

قطعہ :

قطعہ کے لغوی معنی ہیں کاٹا ہوا۔ غزل میں کبھی کبھی شاعر غزل کے درمیان دو تین اشعار ایسے لاتا ہے جس میں کوئی بات کوئی جذبہ تسلسل سے بیان کیاجاتاہے یعنی ایسے اشعار جو مل کر کوئی مضمون بناتے ہیں ان اشعار کے مجموعہ کو قطعہ کہتے ہیں ۔ گویا وہ باقی غزل سے کٹا ہوا ہوتا ہے ۔موجودہ زمانے میں غزل سے الگ بھی قطعہ لکھے گئے ہیں ۔ دو یا تین مسلسل اشعار کے مجموعے کو قطعہ کہتے ہیں جس غزل میں کوئی قطعہ ہوتا ہے اسے قطعہ بند غزل کیا جاتا ہے مثلاً میرؔ کی غزل کے اشعار نمونے کے طور پر دیکھئے ۔

کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھی کسو کا سر پر غرور تھا

یعنی قطعہ ان اشعار کے مجموعہ کا نام ہے جن میں ایک مسلسل بیان پایاجائے اور ایک شعر کا مطلب دوسرے شعر سے اس طور پر متعلق ہو کہ جب تک دوسرا شعرمعلوم نہ ہو،پہلے شعر کا مطلب واضح نہ ہوسکے۔ قطعہ کے تمام اشعار کادوسرا مصرعہ ہم قافیہ ہوتاہے ۔ قطعہ کے اشعار کی تعداد کم سے کم د و اور زیادہ سے زیادہ ایک سوستر بتائی گئی ہے۔

مسمط

مسمط عربی کا لفظ ہے یہ لفظ تسمیط سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی موتی پرونا، ہیں شعری اصطلاح میں اس نظم کو کہتے ہیں جومختلف بندوں پر مشتمل ہوتی ہے اس میں ہر بند کے سارے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں لیکن آخری مصرعہ ہم قافیہ نہیں ہوتا۔ البتہ تمام بندوں کے آخری مصرعوں کا قافیہ پہلے بند کے آخری مصرعے کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔اس طرح ہر بند کا قافیہ الگ ہوگا شروع کے مصرعیہ صرف آخری مصرعہ ہر بند کا ہم قافیہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ پوری نظم ایک لڑکی میں پروئی ہوئی ہوتی ہے جس سے نظم میں معنوی ربط وآہنگ برقرار رہتا ہے۔

مسمّط کی آٹھ قسمیں ہیں ۔ مثلّث، مربع، مخمّس، مسدّس، مسبع، مثمن، متسع، معشر

مثلّث:

مثلّث میں ہر بند تین مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے پہلے بند کے تینوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور باقی بندوں کے پہلے دو مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اورتیسرا یعنی آخری مصرعہ تمام بندوں کا ایک ہی قافیہ میں ہوتا ہے۔ جو ہر بند کے آخر میں دہرایا جاتا ہے جسے ٹیب کا مصرعہ یا مصرع ترجیع کہتے ہیں ۔ اسی طرح ہر بند اسی ترتیب سے ہوگا البتہ ہر بند کے دو مصرعوں کا قافیہ پہلے بند سے مختلف ہوگا۔

مربع :

مربع میں ہر بند چار مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اس کے بھی پہلے بند کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں گے اور بعد کے بندوں میں شروع کے تین مصرعے ہم قافیہ ہوں گے لیکن چوتھے مصرعے کا قافیہ وہی ہوگا جو پہلے بند کے چوتھے یعنی آخری مصرعے کا قافیہ تھا۔ مربع کی ایک یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ کسی نظم کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں ۔

مسحط کی تمام قسموں میں مخمس اور مسدس اردو میں زیادہ مصروف و مقبول ہے ۔

مخمس :

مخمس کے پانچ مصرعے ہوتے ہیں پہلے بند کے پانچویں مصرعے ہم قافیہ ہوں گے اور باقی بندوں میں بھی ہر بند کے چار مصرعوں کا قافیہ ایک ہوگا اور آخری مصرعہ پہلے بند کے آخری مصرعے کا ہم قافیہ ہوگا۔ البتہ یہ صورت بھی رائج ہے کہ بعدو الے بندوں میں ترجیع اور بیت بھی ہوسکتی ہے ۔

مسدس:

یہ اردو شاعری کی سب سے مقبول ترین شعری ہیئت ہے اس ہیئت میں بڑی تعداد میں مرثیہ اور بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں ۔ اس کے بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس کے پہلے بند میں چھ مصرعے ہم قافیہ ہوسکتے ہیں لیکن عموماً ہر بند میں چار پہلے مصرعے ہی ہم قافیہ ہوتے ہیں اور آخری دو مصرعے مختلف قافےے میں ہوتے ہیں ۔ان آخری دو مصرعوں کو بیت کہتے ہیں ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیت کے دونوں مصرعے ہر بند میں دہرائے جائیں ۔ اس کو ترجیع بند مسدس کہتے ہیں ۔ حالیؔ کی نظم ’’مدو جزر اسلام‘‘ اور اقبال کی نظم ’’شکوہ‘‘ مسدس ہیئت میں لکھی گئی ہے ۔ اقبالؔ کی نظم’’ شکوہ‘‘ سے بند نمونے کے طور پر دیکھئے جس میں چار مصرعے ہم قافیہ ہیں اور بعد کے دو مصرعے الگ قافیہ میں لکھے گئے ہیں ۔دوسرے تمام بندوں میں یہی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے۔

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم

نالہ آتا ہے اگر لب تو معذور ہیں ہم

اے خدا شکوۂ اربابِ و فا بھی سن لے

خوگرِ حمد سے تھوڑاسا گلہ بھی سن لے

اس مضمون کی تیاری میں رفیع الدین ہاشمی کی کتاب “اصناف سخن” اور انٹرنیٹ سے بھی مدد لی گئی ہے…
نثری ادب کی ایک مقبول اور پسندیدہ صنف “انشائیہ” ہے، کچھ لوگ “مضمون” اور “انشائیہ” میں فرق نہیں کرتے، حالانکہ انشائیہ تحریر کی ایک منفرد صورت ہے اور نثری ادب میں اس کا ایک الگ صنفی مقام ہے۔ انشائیہ نگار کے الفاظ گلہائے رنگا رنگ سے سجے ہوتے ہیں، وہ کاغذ کے چمنستان کو مختلف خیالات، تاثرات، مشاہدات، محاورات اور مزاحیہ استعارات کے رنگ برنگے پھول بوٹوں سے بھردیتا ہے، تنقیدی لہجہ انشائیہ نگار کی خوبی ہے، انشائیہ لکھنے والے کی نگاہ کسی ایک واقعے، قصے یا حادثے پر نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ایسا اچھوتا انداز اختیار کرتا ہے جس میں قاری کی دلچسپی کو اپنا مقصد بناتا ہے، اس کی تحریر میں نہ سنجیدہ پن ہوتا ہے اور نہ رنج و غم کا اظہار، انشائیہ میں کہانی پن ادبی جرم ہے۔ خیالات کی بے ترتیبی انشائیہ کا حسن ہے۔
مضمون یا مقالہ:
ادب کی وہ صنف جو سنجیدگی، متانت، علم کی رونق اور صداقت و دیانت کے دائرے میں لکھی جائے۔ مقالہ میں کسی سنجیدہ موضوعر وشنی ڈالی جاتی ہے، اس میں حکمت و فلسفہ اور علم و دانش کے مطابق کسی ایک عنوان پر قلم کار کے مثبت اور عمدہ خیالات ہوتے ہیں، صاحب قلم کو کسی مضمون یا مقالے میں علمی و سائنسی یا عالمانہ وفاضلانہ امور کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
مقالہ ہمیں وقت اور زمانہ، زمانے کی رفتاراور معاشرہ و ماحول سے روشناس کراتا ہے۔ آسمان، خلا، فضا، نظام شمسی، ہوا، بادل، بارش، موسم وغیرہ کے متعلق ہم غور کرتے ہیں، کتنے ہی سوالات ہمارے ذہن کی سطح پر ابھرتے ہیں۔ ایسے موقع پر ایک سائنسی مقالہ ہماری آسودگی کا سبب بن جاتا ہے، کسی بھی موضوع پر ایک تحقیقی اور معلوماتی مقالہ ہمارے ذہنوں کے بنددریچوں کو کھول دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ مقالہ کے لئے زبان و بیان کا واضح اور صاف ستھرا ہونا ضروری ہے، ادبیرنگ اور دلکش اسلوب مقالے کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ ہمیں اخبارات و رسائل میں مختلف موضوعات پر مقالے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ادبی، علمی و فقہی سیمناروں میں کسی خاص موضوع پر مقالے پیش کئے جاتے ہیں۔
داستان:
یہ صنف ناول، افسانہ اور ڈرامے کی اخوات میں شمار ہوتی ہیں۔ لی کن اس کا اسلوب اور انداز قدرے مختلف ہے، داستانوں میں عجیب و غریب خیالی واقعات کو دلچسپ انداز میں بیان کیا جاتا ہے، داستانی تحریریں پڑھنے اور سننے والے کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہیں۔ داستانیں ماضی کی روایت رہی ہیں۔ داستان میں واقعات کا الجھاؤ، پیچیدگی، بیان کی طوالت اور کرداروں کی کثرت ہوتی، لیکن اس کے باوجود اس کا حسن باقی اور اس کی دلکشی برقرار رہتی ہے۔ پڑھنے یا سننے والا داستان کے انجام تک پہنچنے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔
ناول:
ناول انگلش لفظNovel سے ماخوذ ہے، جس کے معنی انوکھے اور عجیب و غریب کے ہیں، ناول اصل میں زندگی کی تصویر کشی اور زمانے کی منظر کشی کا ایک تحریری فن ہے، اس میں انسانی احساسات و جذبات اور حیات کی حقیقتوں کو نرالے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ مناسب الفاظ و تراکیب اس انوکھے پن کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، ناول میں کردار کے ہر پہلو پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری، جزئیات نگاری اور مکالمہ نگاری وغیرہ ناول کے بنیادی عناصر ہیں۔
افسانہ:
مختصر کہانی کو افسانہ کہتے ہیں۔ ناول کی طرح افسانہ کے موضوعات کا دائرہ بھی وسیع ہے۔ افسانوں میں سماجی مسائل اور انسانوں کی ذہنی و جذباتی الجھنوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ افسانہ نگار اپنی تحریر میں زندگی کے پیچ و خم، نا آسودگی، رنج و غم، طبقای کشمکش، عدم رواداری، رنگ و نسل کی تفریق، غربت و افلاس، ظلم و ستم اور نا انصافی جیسے مسائل کا رونا روتا ہے۔ افسانے میں واقعات کو تفصیل کے بجائے اختصار سے پیش کیا جاتا ہے۔ پلاٹ، منظر نگاری، مکالمہ نگاری اور کردار نگاری وغیرہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں، افسانے اور ناول کے تشکیلی عناصر میں کئی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔
سوانح:
اس میں کسی شخصیت کے (پیدائش سے لے کر موت تک) حالات زندگی کو بالتفصیل پیش کیا جاتا ہے، سوانح کے مطالعے سے نہ صرف کسی شخصیت کے احوال زندگی، تعلیم و تربیت اور عادت و اطوار کا علم ہوتا ہے، بلکہ اس عہد کے تاریخی، تہذیبی، سیاسی اور ادبی حالات و رجحانات سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔ سوانح کسی بھی علمی، ادبی، سیاسی یا معروف شخصیت کی زندگی سے متعلق لکھی جا سکتی ہے۔ واقعات کی صداقت اور حالات کی صحیح عکاسی سوانح نگار کے لئے ضروری ہے۔ ہم نے بہت سے عقیدت مند سوانح نگاروں کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اکثر سوانح نگار عقیدت و محبت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ صاحب سوانح کو فرش سے عرش تک پہنچا دیتے ہیں، تعریف میں اس قدر غلو کہ اللہ کی پناہ!! آداب و القاب میں اس قدر اضافہ کہ صاحب سوانح کی روح بھی شرمسار ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ حال عام قلم کاروں سے زیادہ خواص یعنی علماء کی جماعت کا ہے۔
خودنوشت:
خود نوشت بھی کسی شخصیت کی داستان حیات ہوتی ہے، لیکن اس کو کوئی دوسرا نہیں، بلکہ وہ بدست خود لکھتا ہے، اسے “خود نوشت سوانح” بھی کہتے ہیں۔ خود نوشت لکھنے والا اپنے حالات زندگی اور تجربات و مشاہدات کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، کبھی گردش ایام کی ستم کاریوں کا تذکرہ کرتا ہے تو کبھی زندگی کے چمنستان میں فصل بہار کی آمد و رفت کا۔ خود نوشت کو “آپ بیتی” بھی کہتے ہیں، جس میں لکھنے والا اپنی روداد زندگی کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ آپ بیتی ” جگ بیتی” بن جاتی ہے۔ مولانا عبدالماجد دریآبادیؒ اور شیخ زکریا کاندھلویؒ کی آپ بیتیاں پڑھنے لائق ہیں۔
سفرنامہ:
سفر نامے میں چشم دید واقعات اور سیروسیاحت کی داستان قلم بند کی جاتی ہے۔ کسی بھی سفر نامے کو پڑھ کر کسی ملک و قوم کی خوش حالی، ترقی، روایت، تہذیب و ثقافت اور جغرافیائی حدود کا علم ہوتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا واقعات و حادثات کا خود شاہد ہوتا ہے اور دوسروں کے سہارے کے بغیر اپنی داستان سفر رقم کرتا ہے، ہاں ! اگر وہ اس میں کسی دستاویز یا طویل العمر بوڑھوں کے تعاون سے کسی جگہ کی تاریخی جھلکیاں پیش کرنا چاہے تو بات دیگر ہے۔

AIOU Solved Assignment 1 Code 8660 Spring 2021

ANS 02

1

خدیجہ مستور کا ناول ’’آنگن‘‘ ان دنوں ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے کی وجہ سے خاصا مقبولیت پا رہا ہے۔ابھی تک نشر ہونے والی ایک قسط کہانی کو اس کی اصل حالت میں پیش کرتی دکھائی دیتی ہے مگر ہمارے

ہاں کمرشل ازم کے تقاضے عموماََ کم ہی اسے پورا کرتے ہیں۔

خدیجہ مستور ناول نگاری میں ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد نامصائب حالات میں زندگی کا مقابلہ کیا اس ناول کی پیشکش میں وہ ایسے ہی نسوانی کردار کو پیش کرتی ہیں جو حوصلہ بلند رکھے۔ یہ ناول ۱۹۲۶ء میں تحریر ہوا۔

جیسا کہ ناول کے عنوان ’’آنگن‘‘ سے ظاہر ہے کہ ’’ آنگن‘‘ ’’انگیا‘‘ گھر کی کھلی فضا میں بیٹھنے کو آنگن یا انگیا، جو پہلے خاندانوں کی روایت کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ جہاں گھرانے مل بیٹھا کرتے تھے۔ خوش حالی اور نا آسودہ حالات کو مل کر سہا کرتے۔ کہانی تحریک ِ پاکستان کی جدوجہد سے شروع ہو کر پاکستان کی صورت میں ملنے والے انعام پر ختم ہوتی ہے۔

کہانی کی ہیروئن یا مرکزی کردار عالیہ کے ابا انگریزوں کے جبری ملازم اور انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ عالیہ کی بہن تہمینہ اپنے پھوپھی زاد بھائی صفدر سے محبت کرتی ہے مگر ان کی اماں تہمینہ کی شادی محض اس لیے کرنا نہیں چاہتیں کیوں کہ صفدر کی ماں نے خاندان کی مرضی کے خلاف ملازم سے شادی کی ہوتی ہے اور صفدر غریب۔ تہمینہ کی اماں اس سے نفرت کرتی ہیں۔ ابا اور اماں کے درمیاں کشمکش اسی بنا پر رہتی ہے۔ دوسری طرف اماں اپنے بھائی کے بل پر جو انگریز خاتون سے شادی کر کے اور انگریزوں کی حمایت کر کے ننگ مسلمان ہوئے اور اس دور میں وقتی فائدہ اٹھایا۔

تہمینہ نے آنگن میں مہندی کا پودا اگایا ہوتا ہے۔ آرزؤں اور امنگوں کا پودا، جسے صفدر کی محبت سے پروان چڑھاتی رہی مگر اماں کے صفدر کو نکالے جانے کے بعد اس امنگوں کے پودے کو نوچ پھینکتی ہے۔ اماں جب تہمینہ کی شادی تایا زاد بھائی جمیل بھیا سے طے کر دیتی ہیں تو بغاوت نہ کرتے ہوئے خود کو موت سے ہم کنار کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

عالیہ تہمینہ کی موت کے بعد اپنی عمر سے ۱۰ سال بڑی ہو جاتی ہے۔ ادھر تحریک پاکستان اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے اور ابا میاں کے دفتر میں انگریز سرکار کا دورہ ہے۔ ابا میاں انگریز کے خلاف ہونے کے باوجود گھر میں اماں سے اہتمام کروانے پر مجبور۔ اماں اپنے شوہر کو انگریزوں کے حمایتی ہونے کا الزام دیتی ہیں۔ جب انگریز افسر دفتر میں معائنہ کے دوران ابا میاں کو گالی دیتا ہے تو ابا میں برداشت نہ کرتے ہوئے افسر کے سر پر رول مار کر سر پھاڑ دینے پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد ہونے پر گرفتار ہو جاتے ہیں اور یوں عالیہ باپ جس سے بے انتہا محبت کرتی ہے تنہا ہو جاتی ہے اس موقع پر انگریزوں کے وفادار اور نام نہاد بھائی بھی کام نہیں آتے۔ ان حالات میں عالیہ کو اپنی اماں کے ساتھ تایا کے گھر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ نئی صعوبتوں کا سفر۔ صفدر بھائی آخری اطلاع ملنے تک مسلم لیگ میں شامل۔

ابا کے پابند سلاسل ہونے پر اپنا آنگن چھوڑ کر تایا کے گھر روانہ ہو جاتی ہے۔ تایا سے عالیہ کی محبت نا صرف فطری ہے بلکہ تایا جان نے اپنے کتابوں کی الماری کی چابی عالیہ کو تھما رکھی ہے۔ تایا جان کانگریس کے سرگرم کارکن ہیں۔ نہرو اور گاندھی کے حمایتی۔ ایک ہی گھرانے میں دو مختلف جماعت کے افراد۔ ایک علیحدہ وطن کے خواہش مند دوسرے ہندوستان کی آزادی کے متوالے۔ اس گھر میں عالیہ کی ملاقات اپنے منجھلے چچا ساجد کی بیٹی چھمی سے ہوتی ہے۔ چھمی ان پڑھ ہے۔ بد زبان، نہایت تیز طرار اور مسلم لیگ کی حمایتی۔ اپنے تایا سے سیاسی مخالفت پر اکثر بد تمیزی سے پیش آتی ہے۔ ناول نگارہ چھمی کے روپ میں ایک ایسی لڑکی کا کردار سامنے لاتی ہیں جو اپنے باپ کی آئے دن شادیوں کے شوق سے کس طرح متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب جمیل بھیا کا دل پھینک کردار ہے جو عالیہ کے اس گھر میں نہ آنے سے پہلے تک چھمی میں دلچسپی کی نظر رکھتے ہیں مگر عالیہ کے آجانے پر عالیہ کی جانب بڑھتے ہیں۔چھمی کا محلے میں مسلم لیگ کے جلوسوں میں شرکت اور آزادی کے نعرے آج اس نسل میں بھی ان دیکھے مناظر کو پھیر دیتے ہیں جو انھوں نے اپنے بزرگوں کی زبانی سن رکھے ہیں۔

جمیل بھیا کے رویئے سے دل برداشتہ ہو کر چھمی ایک دیہاتی سے شادی کر کے رخصت ہو جاتی ہے اور عالیہ کے ابا کو انگریز کو زخمی کرنے کے جرم میں سزائے موت۔ عالیہ پر یہ خبر کسی موت سے کم نہیں گزرتی۔ وہ رات عالیہ اپنے اس آنگن کو دیکھتی ہے جو کس قدر خوشحال تھا مگر سب آندھیوں نے لوٹ ڈالا۔

اب عالیہ کی زندگی کا محور حصول تعلیم تھا۔ اسے زندگی کے نشیب زدہ حالات میں رومان پروہ زندگی سے نفرت ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ جمیل بھیا کی محبت سے انکار ہی کرتی رہی۔ عالیہ کی پھوپھی نجمہ اس دور کی ان لڑکیوں میں سے ہیں جو انگریزی کی تعلیم حاصل کر کے انگریز سامراج سے وفاداری نبھانے میں مصروف ِ عمل رہیں اور اپنوں کی ہتک میں خوشی محسوس کرنا ان کی تعلیم کی اولین ترجیح۔

کہانی تقسیم ہندوستان کے آخری مراحل میں داخل ہو جاتی ہے۔ عالیہ اپنی والدہ کے ساتھ الاٹمنٹ میں ملنے والی کوٹھی میں رہائش اختیار کرتی ہے اور مہاجرین کے کیمپوں میں تدریس کے عمل میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہاں ایک ڈاکٹر جو مالی طور پر مستحکم ہوتا ہے عالیہ کو شادی کی پیش کش کرتا ہے مگر عالیہ اسے بھی ٹھکرا دیتی ہے۔ وہاں ہندوستاں میں بڑے چچا کسی ہندو کے ہاتھوں شہید ہو جاتے ہیں اور چھمی طلاق لے کر واپس لوٹ آتی ہے جسے جمیل بھیا اس کی بیٹی کے ساتھ اپنا لیتے ہیں۔ ادھر پاکستان میں صفدر بھائی اچانک انجانے میں بری حالت میں جان بچاتے ہوئے عالیہ کی کوٹھی میں پہنچتے ہیں، جو اب تک بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں عالیہ سے شادی کے خواہش مند ہوتے ہیں اس تسلی کے ساتھ کہ وہ اسے ایک آسودہ زندگی کی نوید دیتے ہیں مگر عالیہ اپنی بہن تہمینہ کی صفدر بھائی سے جڑی یادوں کے سبب منع کر دیتی ہے اور اماں پھر سے صفدر بھائی کی مخالف بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ وہ صفدر بھائی کو خدا حافظ کہہ کر لوٹ جاتی ہے۔

ناول کا موضوع آنگن استعارہ ہے بابل کا انگنا، جو عالیہ اور تہمینہ دونوں کے نصیب میں نہ تھا، جسے لڑکیاں اپنے سسرال رخصت ہو کر اس آنگن کی یادیں ساتھ لے جاتی ہیں۔

آنگن گھر کا صحن جو سب خانداں والوں کی اکائی اور وحدت کو ظاہر کرتا ہے۔ عالیہ کو یہ بھی نصیب نہ ہو سکا۔ قیام پاکستان کے بعد اس نے ہجرت کی صورت میں تنہائی کاٹی اور ہجرت کا کرب۔

2

عبداللہ حسین کی ناول ’’ اداس نسلیں‘‘ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’’ برٹش انڈیا ‘‘ سے متعلق ہے دوسرا ہندوستان کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے۔ اس حصہ کی ابتدا میر کے ایک نشتر سے ہوتی ہے

 افسردگیٔ  سوختہ  جانا  ہے  قہر  میرؔ

دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے پیاس

تیسرا حصہ ’’ قرآنِ مجید کی ایک آیت سے شروع ہو تا ہے جس کا ترجمہ ہے۔ ’’ جب ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد مت پھیلاؤ تو وہ کہنے لگے کہ ہم ایمان والوں میں سے ہیں۔ ‘‘  ناول کی اس تقسیم کے بارے میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ در حقیقت یہ تقسیم غیر ضروری اور مصنوعی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مصنف نے اس تقسیم کے ذریعہ ناول کو اور خاص طور پر ناول کے پلاٹ کو قاری کے لئے زیادہ سے زیادہ قابلِ فہم بنانے کی کوشش کی ہے۔ در حقیقت ناول ابتدا سے آ خر تک ایک اکائی ہے گو اس کا اختتام قدرتی نہیں بلکہ ایک قسم کی فنی ضرورت کے طور پر ہوتا ہے۔جب اس کے اختتام پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس ناول کا موضوع ہندوستان ہے۔ ہندوستان جو برطانوی حکومت کے زیرِ نگیں تھا۔ ہندوستان جو آزادی کی جانب قدم بہ قدم رواں تھا اور ہندوستان جو آزادی کی بیش بہا دولت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح سے تاخت و تاراج ہو کر رہ گیا ۔

          بادیٔ النظر میں یوں لگتا ہے کہ مصنف ہندوستان کی تاریخ لکھ رہا ہے لیکن تاریخ کو ناول میں تبدیل کر دینا یا ناول کو تاریخ بنا دینا، مصنف کی صلاحیتوں سے خارج ہے۔ در حقیقت موجودہ دور میں اردو زبان میں جو کچھ بھی ناول کے بہانے لکھا جا رہا ہے قرۃالعین حیدر کی عظیم تخلیق ’’آگ کا دریا‘‘ کے اثرات سے باہر نہیں ہو سکتا۔’’ اداس نسلیں ‘‘ ہو یا ’’ تلاشِ بہاراں‘‘  ’’ آگ کادریا ‘‘کا عکس قریب قریب ہر ناول میں جھلکنے لگتا ہے۔ ایک لحاظ سے ’’ تلاشِ بہاراں ‘‘ کو ہم آگ کا دریا کے اثر سے گریز کرنے کی کامیاب کوشش قرار دے سکتے ہیں۔’’ اداس نسلیں ‘‘ تو کسی بھی صورت میں ’’ آگ کا دریا ‘‘کی فنی خوشہ چینی کے الزام سے بری قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہی اس ناول کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناول کا پلاٹ ’’ آگ کا دریا ‘‘ کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسلوب اور بیان کے اعتبار سے عبداللہ حسین ، قراۃالعین حیدر سے بہت کم متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم اس ناول کے چند ابواب ایسے بھی ہیں جن کو پڑھنے سے مس حیدر کی تحریروں کی یاد تازہ ہونے لگتی ہے۔’’ روشن محل ‘‘ در اصل مس حیدر کے فنی حدود میں واقع معلوم ہوتا ہے۔’’ روشن محل ‘‘ کے درو دیوار اور سارا ماحول یہاں تک کہ اس کے رہنے والے قرۃ العین حیدر کی تصنیف سے قریبی طور پر منسلک معلوم ہوتے ہیں۔ یہ کہنا تو غلط ہو گا کہ مصنف نے اس ناول کی تصنیف میں مختلف النوع فنی تجربات کئے ہیں۔ کیونکہ اس قسم کے تجربات ہر کسی کے بس کی بات نہیں البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مصنف نے انواع و اقسام کے اسالیب فن کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔

          اس ناول کی فنی بو قلمونی در اصل ایک طرح کی خوشہ چینی کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ خوشہ چینی کسی مخصوص غرض سے نہیں کی گئی۔ بلکہ یوں لگتا ہے جیسے مصنف نے فن کے بے شمار لہلہاتے کھیتوں اور طرح طرح کے پھولوں اور پھلوں سے بھرے ہوئے باغوں پر چھاپا مارا ہے۔ یہ ناول ایک آئینہ خانہ ہے جس میں بے شمار عظیم مصنفوں کی تحریروں کا عکس اتر آیا ہے۔ یہاں پریم چند سے لے کر قرہ العین حیدر تک اردو کے گنے چنے مشہور ناول نگار جلوہ فرما نظر آتے ہیں۔ اردو کے علاوہ مشہور انگریزی اور امریکی ادیب بھی کہیں نہ کہیں اپنی جھلک دکھاتے اور پھر چھپ جاتے ہیں، خاص طور پر ’’  ہمینگوے ‘‘  تو بار بار اپنے وجود کا احساس دلاتا جاتا ہے۔ بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں ہمینگوے کی چھاپ واضح طور پر محسوس ہونے لگتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عبداللہ حسین ایجاز و اختصار کے معاملے میں ہمینگوے کی تقلید کو شائد نا ممکن سمجھ کر اس سے گریز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ عبداللہ حسین غیر ضروری تفاصیل اور جزئیات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں کیونکہ اصل احساس اور بنیادی جذبہ کا ابلاغ نہیں ہوتا۔ اس ناول کے عنوان سے لے کر جزئیات تک جگہ جگہ ہمینگوے اور دوسرے گمشدہ نسل کے امریکی ادیبوں کا  اثر صاف طور پر نمایاں معلوم ہوتا ہے۔ اس ناول کو جس جس طرح بعض مقتدر اہلِ قلم نے سراہا ہے وہ کچھ نا قابلِ فہم معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ ناول در حقیقت سوائے طوالت اور غیر ضروری جزئیات نگاری کے کسی اور صفت کی حامل نہیں ہے۔ اس ناول کے بارے میں کہنا درست ہو گا کہ خارو خذف کے ایک عظیم انبار میں کہیں کہیں چند موتی چھپے ہوئے ملتے ہیں اور یہ موتی بھی ایسے موتی ہیں جو مانگے کی آب و تاب سے مزین ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ناول علی پور کا ’ ایلی ‘ کی مانند قطعی ناکام کوشش ہے۔ کیونکہ بہر حال اس کا موضوع ایک بہت بڑا موضوع ہے اور موضوع نے کسی نہ کسی طرح اس ناول کو تھوڑی بہت عظمت ضرور بخشی ہے۔ اردو کے ناولوں میں بہر نوع اس ناول کا ایک مقام ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک الم ناک حقیقت ہے کہ آگ کا دریا کے بعد اس ناول کا شائع ہونا یوں لگتا ہے جیسے ہم آگے کی جانب قدم اٹھانے کے بجائے پیچھے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ خواہ پلاٹ اور کہانی کے اعتبار سے خواہ زبان و بیان اور فن کے لحاظ سے ہم ناول کا موازنہ ’’ آگ کا دریا ‘‘ سے کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے مصنف نے ایک غیر ضروری کام انجام دیا ہو۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ’’ اداس نسلیں‘‘ اپنی تمام تر اداسیوں کے باوجود ایک طرح سے مثبت انداز میں ختم ہوتی ہے یوں لگتا ہے کہ مصنف کو تھوڑا بہت احساس ضرور ہے کہ

   ؎   ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے۔

          چونکہ کسی چیز کا کہیں اختتام نہیں زندگی ایک رواں دواں حقیقت ہے۔ انت کہیں نہ کہیں، اس لئے

 ’’ اداس نسلیں ‘‘ ہمیشہ اداس نہیں رہتیں، بلکہ اپنے اندر کچھ ایسی قوتیں چھپائے رکھتی ہیں جو بالآ خر مثبت اقدار کو آگے بڑھانے میں مدد دینے لگتی ہیں۔

          نعیم احمد خان اس ناول کا مرکزی کردار ہے یہ ایک مخصوص فرد ہے اور انفردیت کا ایسا ہی مالک ہے جیسا کہ خاص آدمی ہوتا ہے۔ اپنی تمام تر انفرادیت کے باوجود وہ ایک نمائندہ کردار بھی ہے ایک سمبل ہے، ایک اشارہ ہے، ایک ایسا انسان ہے جو زندگی میں مرجاتا ہے اور مر کر زندہ ہو جاتا ہے۔ جب تک وہ زندگی میں موت سے ہم کنار رہتا ہے اس کا بھائی علی اس سے منحرف اور برگشتہ رہتا ہے۔ لیکن اس کی موت کے بعد علی، نعیم کی اولاد معنوی کے روپ میں زندہ رہتا ہے اور بٹوارہ کے بعد قافلہ کے ساتھ پاکستان آتے ہوئے وہ نعیم سے وہ سب  کچھ حاصل کر لیتا ہے جو نعیم کی زندگی کے سارے تجربات کا نچوڑ ہے۔ پاکستان میں علی ایک نئی زندگی کی تعمیر شروع کرتا ہے اور اس سلسلہ میں وہ جس عورت کو اپنی رفیقِ حیات منتخب کرتا ہے وہ شیلا ہوتی ہے۔ اس طرح گویا نعیم حیات کی تجدیدی قوتوں کا نشان بن کر علی کے روپ میں منفی اقدار سے مثبت اقدار کی طرف رجعت کرتا ہے۔ نعیم کا کردار ایک ققنس کی مانند زندہ و جاوید کردار ہے۔ ققنس در حقیقت کبھی نہیں مرتا جب وہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو دیپک راگ چھیڑ دیتا ہے اور اس کی منقار سے چنگاریاں برستی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ جل کر ایک مشت خاک میں بدل جاتا ہے، لیکن اس مشت خاک سے دوسرا ققنس جنم لیتا ہے۔ اس طرح حیات کا تسلسل نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ زندہ قوتوں کا نمود ہونے لگتا ہے اور تجدید حیات ہوتی ہے۔ نعیم اور علی کا کردار وںکاتضاد اور مشابہت در حقیقت مصنف کی تخلیقی قوتوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس مقام پر مصنف نے در اصل زبر دست کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ اس ناول کی عظمت کا دارو مدار نعیم اور علی کے کرداروں پر ہے۔ گو  اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ ہمینگوے کی مشہور تخلیق ’’ بوڑھا اور سمندر‘‘ میں سائٹیا گو (Santiago ) اور  Mavalin کا کردار نعیم اور علی سے ایک عجیب مشابہت پیش کرتے ہیں۔ یہ کہنا شاید مناسب نہیں کہ عبداللہ حسین نے یہاں بھی خوشہ چینی کی ہے پھر بھی فکر کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یوں تو اس ناول کے تمام کردار Passive  حقیقت رکھتے ہیں۔ یعنی ان پر طرح طرح کے واقعات گزرتے رہتے ہیں، وقت کا تموج ان کے خدوخال میں نمایاں تغیرات پیدا کرتا ہے۔ نعیم کا کردار بھی اس مفعولیت سے مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ نعیم کے والد کے کردار میں بھی یہی ایک خصوصیت سب سے زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ اگر دیہات کے باشندوں کی خصوصیت پیش کی جاتی کہ وہ زندگی کے مختلف النوع عوامل سے صلح کر لیتے ہیں اور جو کچھ ان پر گزرتی ہے اس کو قبول کر تے ہیں تو کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہوتی، کیونکہ دیہاتیوں کی زندگی ایک طرح سے فطرت کے بالکل قریب تر ہے۔ دیہاتی ابھی تک ماقبل تاریخ کے انسان سے بہت زیادہ مشابہ ہے۔ کیونکہ اس کا واسطہ زمین سے ہے، مٹی جو سونا اگلتی ہے جس کی زرخیزی کا دارو مدار نہ صرف انسان کی مساعی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آسمان کی کر م فرمائی سے بھی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دیہات میں انسان ابھی تک عوامل اور حالات کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔

          ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں انسان غیر شعوری طور پر حقیقت پسندانہ رجحانات پیدا کر لیتا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ شہر کے رہنے والے دیہاتی زندگی کے بارے میں انتہائی رومانی انداز میں سوچتے ہیں جب کہ دیہاتی انسان خالص غیر رومانی اور حقیقت پسندانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس ناول میں دیہاتی کرداروں میں بعض ناگزیر عوامل کو قبول کرنے کا رجحان عام تھا۔اور یہ بات قابلِ اعتراض نہیں لیکن عذرا کے کردار میں اس قسم کے عناصر کا وجود نا قابل فہم ہے۔ در اصل عذرا کے کردار کی تشکیل اور اس کی نمو میں مصنف بری طرح ناکام ہوا ہے، خاص طور پر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ عذرا جو اس ناول کے ابتدا میں روشن محل کے ایک مخصوص پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر قہوہ پیتی ہے، اس عذرا سے مختلف ہوتی ہے جو نعیم کی بیوی کے طور پر ناظرین کے سامنے آتی ہے۔ عذرا کے بارے میں یہ احساس تو ضرور ہوتا ہے کہ وہ نعیم پر کسی نہ کسی طرح قابو حاصل کر لیتی ہے، یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ نعیم کو بربادی کے راستے پر بھی لے جانے کی ذمہ دار ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ عذرا پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ نعیم در حقیقت عذرا کے سامنے ایک عظیم اور تباہ کن احساس کمتری میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نعیم اس جھینپ کو کبھی دور نہ کر پایا جو اس نے اپنی ٹوپی کے پھندنے میں محسوس کی تھی، جو بار بار اس کی پیشانی پر گرجاتا اور جس کے بارے میں عذرا نے ہلکا سا اشارہ کر کے اس کو لال لال کر دیا تھا۔ نعیم روشن محل کے ہجوم ( Crowd ) میں اپنے آپ کو شامل نہیں کر سکا اور یہی اس کی بربادی کا سبب ہے۔ روشن محل کے لڑکے لڑکیوں کا گروپ قرۃالعین حیدر  کی تحریر کی یاد دلاتا ہے لیکن اگر آپ چاہیں تو ہمینگوے کے ناول  The Sun Also Risesکی جانب بھی اشارہ کر سکتے ہیں۔ ناول کے آخری حصے میں یعنی ( بٹوارہ کے بعد) مصنف نے قارئین پر یہ احساس مسلط کرنے کی کوشش کی ہے کہ عذرا ایک عظیم عورت ہے، لیکن یہ بات کم از کم ناول کے واقعات سے ظاہر نہیں ہوتی۔عذرا کے کردار میں ایک طرح کی رومانیت ہے۔ رومانیت کے بارے میں ایک ناقد کا قول ہے کہ رومانیت ایک جھوٹ ہے اور اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اس کا تجزیہ کیا جائے۔ عذرا کا کردار کسی قسم کے تجزیہ کا متحمل نہیں ہو سکتا ، تاہم عذرا کے کردار میں کچھ باتیں ایسی ضرور ہیں جو اس کو دلکش بنا دیتی ہیں۔ اس طرح وہ مخصوص نسوانی فطرت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ لیکن یہ نسوانیت شہری لڑکیوں کی بنیادی رومانیت پسندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جس طرح ہنری جیمس کے مشہور ناول ’’A Potrail of a lady ‘‘  کی ہیروئین اہم موقعوں پر کوئی فیصلہ نہ کر کے قارئین کو جھلاہٹ کا احساس دلاتی ہے۔ اسی طرح عذرا نے اکثر موقعوں پر قوت فیصلہ کی کمی کا ثبوت دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کے پاس قوتِ ارادی کی افراط ہے اور قوت فیصلہ کا فقدان۔ نعیم اور عذراا کی جنسی زندگی غیر فطری ہے۔ کبھی کبھی تو ملکہ وکٹوریہ کے عہد کی انگریزی ناولوں کا انداز جھلکتا ہے۔ شاید نعیم کے احساس کمتری کے علاوہ یہ خصوصیت بھی ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھنے کی ذمہ دار ہے۔عذرا کے مقابلہ میں شیلا کا کردار کسی قسم کی جھوٹی عظمت سے خالی ہونے کے باوجود جیتا جاگتا کردار ہے۔ نعیم ’’ لکڑ بند‘‘ ہونے کے باوجود شیلا کے سامنے کسی قسم کا احساس کمتری نہیں محسوس کرتا گو عذرا کو حاصل کرنے میں( شادی کرنے کے باوجود) تا عمر کامیاب نہیں ہوتا لیکن شیلا کو وہ بغیر شادی بیاہ، پلک جھپکنے میں فتح کر لیتا ہے۔ شیلا کے مقابلہ میں وہ ایک مکمل مرد دکھائی دیتا ہے۔ وہ مرد جو ابھی تک ما قبل تاریخ کے انواع کی خصوصیات کا حامل ہے ۔ اگرچہ ناول میں وہ شیلا سے فراراختیار کر کے عذرا کی رومانیت میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کا جسم، اس کی روح اور اس کے وجود کا رواں رواں شیلا کا طلبگار رہتا ہے۔ عبداللہ حسین نے پلاٹ کی تشکیل میں جس فنکاری سے کام لیا ہے وہ اس سلسلے میں قابلِ تعریف ہے کہ شہلا سے گریز کرنے کے باوجود نعیم ،علی کی شکل میں دوبارہ اس کو حاصل کر لیتا ہے اور علی اور شیلا ایک بار پھر ایک نئے خاندان کی بنیاد ڈالنے کی کوشش شروع کرتے ہیں گویا شیلا جو نعیم کو اپنا سب کچھ لٹانے کے باوجود بھی حاصل نہیں کرتی بالآخر علی کی شکل میں حاصل کر لیتی ہے۔ اس طرح ناول کا پلاٹ حیران کن انداز میں ایک مکمل اکائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

        کرداروں کے ضمن میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نعیم کے والد نیاز بیگ کا کردار بھی حقیقت پسندانہ انداز میں نہایت کامیابی کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے۔ قاری کے ذہن میں نیاز بیگ ایک حقیقی اور زندہ انسان کا روپ دھار لیتا ہے تاہم اس کی دو بیویوں کا مسئلہ غیر ضروری سا لگتا ہے۔ اور اس پر مصنف نے اپنی تخلیقی قوتیں ضائع کر ڈالی ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نیاز بیگ کے کردار میں’’ دو جورو والا‘‘ ہونے کے سبب مزاح کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس کے کردار میں بنیادی طور پر ایک طرح کی عظمت کا احساس ہوتا ہے اس لئے یہ مزاحیہ عنصر کچھ ناگوار سا لگتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عبداللہ حسین، نیاز بیگ میں MOCK HEROIC  عناصر کو پیش کرنا چاہتے ہوں۔ نیاز بیگ کے علاوہ دوسرے چھوٹے بڑے اہم اور غیر اہم کردار اپنی جگہ خاصے اچھے ہیں۔ کہیں کہیں پر بے جان او رکھوکھلے کردار کا وجود ناول کی فنی خامی کے بجائے خوبی کا کردار اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ ایسے کرداروں کے بغیر زندگی کا ابلاغ نا ممکن ہے۔ روشن آغا کی تصویر کشی ناول کی ابتدا میں بہت عمدہ ہے لیکن بعد میں ان کی جھلکیاں بہت مدھم معلوم ہوتی ہیں۔ بٹوارہ کے دوران میں ان کا پیدل سفر قابلِ تعریف ہے۔ کیونکہ اس طرح ان کا کردار جامد ہونے سے بچ جاتا ہے۔ ناول کے آخر میں ان کے بیٹے کا ان سے مصلحت آمیز برتاؤ ایک تلخ حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تلخی کا سبب وہ عظیم تغیر ہے جو تقسیم ہند کے بعد فسادات کے ڈرامہ کا آخری ایکٹ بن کر نمودار ہوتا ہے۔ بیشتر کردار ایسے بھی ہیں جن کی اہمیت کا دارو مدار ناول کے پلاٹ پر ہے یعنی ان کا تعلق کسی اہم یا غیر اہم واقعہ سے ہوتا ہے اور اس واقعہ کے ساتھ ہی ابھرتے اور ڈوب جاتے ہیں۔ یہ بھی فنی خامی نہیں ہے کیونکہ اس سے واقعات کا تسلسل اور بہاؤ کا احساس قوی تر ہو جاتا ہے۔

AIOU Solved Assignment 2 Code 8660 Spring 2021

ANS 03

اکثر اوقات کسی نہ کسی افسانوی مجموعے کی تقریبِ پذیرائی میں ناقدین اس بات پر الجھ پڑتے ہیں کہ یہ کہانی ہے یا افسانہ اور ہر کوئی اپنی رائے تسلیم کروانے پربہ ضد دکھائی دیتا ہے۔ایک طرف توکہانی کا کینوس بہت وسیع ہے ، تو دوسری طرف اِس کا سفر بہت طویل ہے کہ کہانی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ و تہذیب۔یہی وجہ ہے کہ ہر عہد کے ادب کا قاری کہانی مانگتا ہے ۔نذیر و راشد کے پند و نصائح ہوں کہ یلدرم و نیاز کے رومان، عصمت و منٹو کی جنسی حقیقت نگاری ہو یا رضیہ سجاد و رشید جہاں کی ترقی پسندی، بات کہانی کہے بغیر بنتی نہیں۔ کہانی اور افسانے میں فرق برقرار نہ رکھنا اور اِن کو مترادف اصطلاحات کے طورپربرتناایک واضح غلطی ہے۔کہانی دل چسپ واقعات کا سلسلہ ہے ۔ وہ داستان، ناول، افسانہ، قصہ، ڈراما، حکایت، تمثیل، لیجنڈ (قصص المشاہیر)، ایپک، کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے۔یہ سب کہانی کی مختلف شاخیں کہی جا سکتی ہیں، مگر اِن میں سے ہر صنفِ ادب کی الگ خصوصیات ہیں۔افسانہ ایک ایسی مختصر صنفِ ادب ہے جو زندگی کے کسی ایک رخ،ای

ک تاثر، ایک پہلو، ایک واقعے ، ایک موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔یہ وحدتِ تاثر کی حامل تحریر ہے جو نہ تو قصے اور ناول کی طرح ذیلی کرداروں کی حامل ہوتی ہے اور نہ ہی فکریات و موضوعات کے اجتماع سے برتاؤ کرتی ہے۔

مزید براں افسانہ چوں کہ از خود ایک مختصر تحریر ہے لہذا اِس کے ساتھ مختصر کا لفظ نتھی کر دینا بھی مناسب نہیں لگتا۔اِس میں کسی پہلو کو کھول کر بیان بھی نہیں کیا جاتا بلکہ سوچ کی تحریک پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے کہ قاری اُس موضوع پر خود بھی غور و فکر کرے جسے افسانہ نگار نے بیان کیا ہے۔ہنری جیمس نے افسانے کو ایک ایسی اکائی قرار دیاہے جس کا ایک حصہ دوسرےکے لیے ایسے ہی اہم ہوتاہے جیسے جسم کا ایک عضو دوسرے کے لیے۔پھر یہ بحث بھی آج تک جاری ہے کہ کہانی پن افسانے کے لیے کس حد تک ضروری ہے یا پھر ضروری ہے بھی کہ نہیں ۔ افسانے میںواضح کہانی اور مربوط واقعات ہوں یا نہ ہوں اورشاید افسانہ اِس حوالے سے بد نصیب صنفٖ ادب ہےجو سو سالہ تاریخ کے باوجود اپنی ہیئت کا تعین نہیں کر سکا۔ڈاکٹر رشید امجد نے خوب کہی:’’افسانے میں چاہے وہ نیا ہویا پرانا،کہانی پن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔اختلاف دراصل کہانی پن کی تعریف کاہے۔ہمارے پرانے افسانہ نگار واقعات کے تسلسل یا اجتماع کو کہانی کہتے ہیں۔ ہم خیال کی اکائی کو، اگر اُس میں ترتیب قائم ہے، کہانی سمجھتے ہیں۔خیال وقوعے ہی سے جنم لیتا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقوعہ ٹھوس سطح پر رہ جاتا ہے، جب کہ خیال اوپر اٹھ کر ارفع شکل اختیار کر لیتا ہے‘‘ ۔ ہمارے عہد کے ایک اہم افسانہ نگار و نقاد کے اِس بیان سے کئی غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہییں۔

حضرت علامہ نے فرمایا تھا ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ ۔ یہ ایک لا فانی حقیقت ہے کہ انسانی معاشرہ ہمیشہ رو بہ تغیر رہتا ہے۔یہ الگ بات کہ وقت گزرنے کے ساتھ اِس کی تغیر پذیری، سست روی سے برق رفتار ہو گئی ہے۔معاشرہ اور سماج چوں کہ انسانوں سے مل کر تشکیل پاتاہے اور اِس کے رجحانات کا تعین انسان ہی کرتے ہیں، لہذا جدیدرجحانات یا جدیدیت کے رویے زندگی گریز نہیں ہوتے اور جدید رجحانات انسان اور زندگی کے گرد گھومتے ہیں۔یہ الگ بات ہےکہ زندگی کے تیز رو ہونے کی وجہ سے آج تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔خود انسان اِن برق پا لمحوں کا ساتھ نہیں دے پا رہا جس کے نتیجے میں رومانویت کی نسبت جدیدیت میں یاسیت ہی اُس کے دامن گیر ہوئی ہے۔

جدیدرجحانات اکثر ہیئت سے زیادہ موضوع کو اہمیت دیتے ہیں۔اِن کا نیا پن نئی سوچ اور فکر کے نئے زاویوں میں مضمر ہے۔وہ موضوعاتی حوالے سے ادب کو متاثر کرتے ہیں۔ویسے بھی ہمارے ہاں ادب میں ہیئت کے تجربات قدرے کم ہوئے ہیں اور جو ہوئے ہیں ، اُن میں سے اکثر مغربی ادب کے زیرِ اثر ہوئے ۔البتہ ہمارے ادیب نے وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پرانی ادبی سوچ کو بہت حد تک رد کیا ہے۔ایسی سوچ ،جس کا تعلق اُس مکتبِ فکر سے تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ ادب صرف ذہنی انبساط کا ذریعہ ہے اور اِس کے ذریعے معاشرتی و سماجی تبدیلی کا کوئی مثبت کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔جدید رجحانات کا عمل فطری ہوتا ہے،اِس لیے کہ نظر نہیں نظریے، رویے اور معیارات بدلتے ہیں ۔ ہرجدید عہد میں ادبا کی ایک بڑی اکثریت ہوتی ہے جو طرزِ کہن کو چیلنج ضرور کرتی ہے۔

موجودہ عہد میں ہمارے افسانہ نگار بھی اب صرف واقعات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ بہت حد تک اپنے تجربات اور مشاہدات پر اپنے افسانوں کے پلاٹ کی بنیاد رکھتے ہیں۔اِس لیے جو افسانہ تخلیق ہو رہا ہے وہ صرف راوی کا بیانیہ نہیں ہے ، اُس میں تخلیق کے موضوع کی ضرورت کے تحت اسلوبِ بیاں، پلاٹ، مکالمہ نگاری، کردار و سراپا نگاری وغیرہ کا تعین ہوتا ہے۔فی زمانہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افسانہ نذیر احمدو راشد الخیری کی اصلاح پسندی، سجاد حیدریلدرم، نیاز فتح پوری، مجنوں گوکھپوری اور حجاب امتیاز علی کی رومانویت، ’’انگارے‘‘ اور عصمت و منٹو کی جنسی حقیقت نگاری یا پھر انتظار حسین اور انور سجاد کی علامت و تجرید کی پہیلی کے زیرِ اثر ہے۔افسانہ ہر رنگ میں لکھا جا رہا ہے۔اظہار کے انداز مختلف ضرور ہیں، مگر ایک چیزیک ساں ہے، وہ یہ کہ ہمارا ادیب ، ہماری بات کر رہا ہے، خواہ وہ ہمارے اندر کا انتشار ہو یا گرد و پیش میں روز افزوں سر اٹھاتے مسائل اور الجھنیں۔اِس کی پیش کش میں جہاں اُس کے فن کی کرافٹ شامل ہے، وہیںاِس کی بنیاد تخلیق کارکے مشاہدات و تجربات پر ہے ۔آج وہ اظہارِ ذات کے پردے میں بھی اپنے ماحول اور معاشرے ہی کو پیش کررہا ہوتا ہے۔بہ ہر حال افسانے کے ناقدین اِس بات سے بہ خوبی واقف ہیںکہ ہمارے جدیدافسانوی رجحانات میں موضوعات کا تنوّع اہم ترین ہے۔

آج کے افسانہ نگارپرکیچڑ اچھالنے والے حقیقتِ حال سے نا آشنا ہیں۔ہمارا تخلیق کار اب تخلیقی اور غیر مقلّد ہو چکا ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ ہر داستان میں معدی کرب اور لندھور بن سعدان تلاش کیے جائیں۔ہر کہانی میںکوئی عشق ہو اور ہر عشق میں کوئی کہانی ہو۔اِس عہدِ ستم میں محبتیں بھی ضرورت کے تابع ہو گئی ہیں۔اب ہم یلدرم کی خارستان و گلستان اور ، نیاز کی کیوپڈ و سائیکی کی رومانوی حسن کاری سے لذت کے جام نہیں بھر سکتے۔ نئے افسانے کے رجحانات کا اندازہ کرنے کا واحد اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم نئے افسانہ نگاروں کے موضوعات اور اُن موضوعات کی پیش کش کے انداز کا جائزہ لیں۔

مذکورہ بالا ادوار کے بعد بھی ایک طویل فہرست ہے جن کا فسانہ اپنے عہد سے جڑا رہا۔فی زمانہ بھی افسانہ اپنی ڈکشن میں دھنک رنگ سہی ، موضوعاتی اعتبار سے اپنا عہد اُس کے وجود میں سانس لیتا محسوس ہو رہا ہے۔حقیقت نگاری کے بعد ردِ عمل کے طور پر جدیدیت کا جو رجحان 1960میں سامنے آیا تھا، اُس پر عدم ابلاغ کا الزام عاید کر کے اکثر ناقدین، بہ شمول شہزاد منظر ،نے کبھی کوئی کلمۂ خیر ادا نہیں کیا۔اُن کا خیال ہے کہ علامت اور تجرید ایک عہد کی ضرورت تھی اور اُس سے جتنا استفادہ کیاجانا چاہیے تھا وہ ہو چکاہے۔ اِس ڈکشن میں لکھنے والے خال خال ہیں۔ہمارا افسانہ نگار حقیقت کی تلخی کا ذائقہ آشنا ہو چکا ہے ۔اِسے آپ ترقی پسند تحریک کے دور رس اثرات کہہ لیجیے کہ افسانہ رومانویت اور ٹیگوریت کی بے مقصدو معانی اور بے سرو پا حسن کاری کے چنگل سے نکل آیا۔

ناول سے متعلق سلیم احمد نے کہا تھا کہ ناول نگار کو اپنا نقاد خود پیدا کرنا پڑے گا۔تقسیمِ ہند سے 1965کے درمیان ناول کاصرف ایک قابل ذکر تنقید نگارملتا ہے ۔ خوش قسمتی سے افسانے کی تنقید کا معاملہ مختلف ہے۔ اسے ہر عہد میں ناقدین میسر آئے ہیں، لہذا ہمارے ہاں افسانے کا مستقبل بے حد روشن اور امکانات سے بھر پور ہے۔

نذیر،راشداورشررکےناولوںکےتناظرمیںافسانےکے لیے جو راستہ ہم وار ہوا ،اُس کے فکری و اسلوبیاتی مقاصدکچھ اورتھے۔ افسانے کاسفر119سال بنتا ہے ۔ اِس سفر کے تمام نشیب و فراز اور پیچ و خم میں افسانے نے کسی طور وقت کے تقاضوں سے روگردانی نہیں کی ۔ ہماری ملکی تاریخ کی ہر ہر سیاسی، معاشی، سماجی اور معاشرتی کروٹ کو اِس نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ہر تغیر و تبدّل کے رنگوں سے ایوانِ افسانہ کی تزئین و آرائش کی ہے۔ اگرچہ ایک ہی عہد میں دو مختلف تخلیقی رجحانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عہد بہ عہد افسانوں کا انتخاب کیا جائے تو ہم اپنی سیاسی و تہذیبی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔زیادہ تر رجحانات تو تحریک کی صورت اختیار نہیں کر پاتے ۔مذکورہ بالا ادبی رجحانات میںسے اکثر اُس دورکے سیاسی، معاشرتی اور سماجی میلانات کا نتیجہ تھے، جنہوں نے وقتی عروج حاصل کیا اوربعدا زاں زوال پذیر ہوئے ۔ ہمارے آج کے ادیب کا طرزِ احساس بھی ذہنی و فکری انتشار اور اقتصادی و معاشرتی عدم مساوات کے جنم سے تشکیل پا رہا ہے، جس کا اظہار وہ اپنی اپنی ڈکشن میں کر رہا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رومانویت،حقیقت نگاری، پھر تجرید و علامت ۔کئی ادبی دانشوروں کا خیال ہے کہ جب حقیقت نگاری عروج پر پہنچ گئی تو اِس میں اظہار کے مزید امکانات محدود ہو گئے، لہذا جدیدیت کے طور پر تجرید و علامت کا آغاز ہوا۔یوں چالیس سال بیت جانےکےباوجود تجریدوعلامت ہی کو جدیدیت خیال کرتے ہیں اور اُن کی نظر میں جدیدیت انتظار حسین اور انور سجادپردم توڑ چکی ہے۔یہ تعریف نظر ثانی کی متقاضی ہے۔انتظار حسین کو تو ما ضیٰ سے خاصا شغف تھا ۔ انہوں نے اساطیر اور داستانوں پر اپنے اسلوب کی بنیاد رکھی تھی۔ البتہ انور سجاد کو چوں کہ انگریزی ادب سے لگاؤ تھا تو تجرید و علامت کے سلسلے میں تحریک کا سبب انگریزی ادب ہی تھا۔ کیا ایسے میں افسانے کے جدید رجحانات بہتر اور نئی لسانی تشکیلات میں کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں؟دراصل ہر وہ ادیب حقیقت نگارہےجومعروضی انداز سے اپنے گرد و پیش کواپنی تخلیقات میں پیش کررہا ہے۔

آج کےادیب کے مشاہدات، نظر کے زاویوں کی وسعت و گہرائی اپنے پیش روؤں سے کہیںزیادہ ہیں ، لہذاآج کا افسانہ اپنے تازہ تصو را ت ، گو ناگوں مشاہدات و تجربات، تہذیبوں کےملاپ اور انسانی المیوں کے باعث کہیں زیادہ عصری شعور کا حامل ہے۔اِس سے آگے جدیدیت کیا ہو گی؟یوں جدیدیت کو انتظار و سجاد پر ختم کر دینا یا اُن ہی سے منسوب کر دینا مضحکہ خیز ہے۔

اب افسانہ بیانیہ طرز کے اکہرے اظہاریے سے آگے نکل کر حال سے زیادہ ہم آہنگ ہوا ہے اور گردو پیش سے یگانگت محسوس کرتا ہے۔جدیدیت کی طرح حقیقت نگاری کو بھی1955 تک محدود کرنا(علامت اور تجرید سے پہلے کا دور) سراسر خلافِ حقیقت امر ہے کہ ہر عہد میں حقیقت نگاری کے معیارات اور تصورات بدلتے رہے ہیں۔حیران کن طور پر وہ زمانہ بھی تھا جب ما بعد الطبیعیاتی اور ماوائے عقل وشعور باتوں کو بھی حقیقت نگاری سمجھا جاتا تھا۔بعدا زاں عقل و شعور ، مذہب سے دوری اور جنسی رجحانات کے بیان کو حقیقت نگاری سمجھا گیا ۔مختصر یہ کہ حقیقت نگاری کے تصوارت ماحول، حالات و واقعات اور مشاہدات کے تابع ہوتے ہیں۔ہمارے عہد کا نمایاں ترین رجحان یہ ہے کہ افسانہ نگاروں کی بڑی جماعت انسان اور زندگی کو اہم ترین موضوع کے طور پر اپنے اپنے اسلوب میں پیش کر رہی ہےاکثر اوقات کسی نہ کسی افسانوی مجموعے کی تقریبِ پذیرائی میں ناقدین اس بات پر الجھ پڑتے ہیں کہ یہ کہانی ہے یا افسانہ اور ہر کوئی اپنی رائے تسلیم کروانے پربہ ضد دکھائی دیتا ہے۔ایک طرف توکہانی کا کینوس بہت وسیع ہے ، تو دوسری طرف اِس کا سفر بہت طویل ہے کہ کہانی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ و تہذیب۔یہی وجہ ہے کہ ہر عہد کے ادب کا قاری کہانی مانگتا ہے ۔نذیر و راشد کے پند و نصائح ہوں کہ یلدرم و نیاز کے رومان، عصمت و منٹو کی جنسی حقیقت نگاری ہو یا رضیہ سجاد و رشید جہاں کی ترقی پسندی، بات کہانی کہے بغیر بنتی نہیں۔ کہانی اور افسانے میں فرق برقرار نہ رکھنا اور اِن کو مترادف اصطلاحات کے طورپربرتناایک واضح غلطی ہے۔کہانی دل چسپ واقعات کا سلسلہ ہے ۔ وہ داستان، ناول، افسانہ، قصہ، ڈراما، حکایت، تمثیل، لیجنڈ (قصص المشاہیر)، ایپک، کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے۔یہ سب کہانی کی مختلف شاخیں کہی جا سکتی ہیں، مگر اِن میں سے ہر صنفِ ادب کی الگ خصوصیات ہیں۔افسانہ ایک ایسی مختصر صنفِ ادب ہے جو زندگی کے کسی ایک رخ،ایک تاثر، ایک پہلو، ایک واقعے ، ایک موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔یہ وحدتِ تاثر کی حامل تحریر ہے جو نہ تو قصے اور ناول کی طرح ذیلی کرداروں کی حامل ہوتی ہے اور نہ ہی فکریات و موضوعات کے اجتماع سے برتاؤ کرتی ہے۔

مزید براں افسانہ چوں کہ از خود ایک مختصر تحریر ہے لہذا اِس کے ساتھ مختصر کا لفظ نتھی کر دینا بھی مناسب نہیں لگتا۔اِس میں کسی پہلو کو کھول کر بیان بھی نہیں کیا جاتا بلکہ سوچ کی تحریک پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے کہ قاری اُس موضوع پر خود بھی غور و فکر کرے جسے افسانہ نگار نے بیان کیا ہے۔ہنری جیمس نے افسانے کو ایک ایسی اکائی قرار دیاہے جس کا ایک حصہ دوسرےکے لیے ایسے ہی اہم ہوتاہے جیسے جسم کا ایک عضو دوسرے کے لیے۔پھر یہ بحث بھی آج تک جاری ہے کہ کہانی پن افسانے کے لیے کس حد تک ضروری ہے یا پھر ضروری ہے بھی کہ نہیں ۔ افسانے میںواضح کہانی اور مربوط واقعات ہوں یا نہ ہوں اورشاید افسانہ اِس حوالے سے بد نصیب صنفٖ ادب ہےجو سو سالہ تاریخ کے باوجود اپنی ہیئت کا تعین نہیں کر سکا۔ڈاکٹر رشید امجد نے خوب کہی:’’افسانے میں چاہے وہ نیا ہویا پرانا،کہانی پن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔اختلاف دراصل کہانی پن کی تعریف کاہے۔ہمارے پرانے افسانہ نگار واقعات کے تسلسل یا اجتماع کو کہانی کہتے ہیں۔ ہم خیال کی اکائی کو، اگر اُس میں ترتیب قائم ہے، کہانی سمجھتے ہیں۔خیال وقوعے ہی سے جنم لیتا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقوعہ ٹھوس سطح پر رہ جاتا ہے، جب کہ خیال اوپر اٹھ کر ارفع شکل اختیار کر لیتا ہے‘‘ ۔ ہمارے عہد کے ایک اہم افسانہ نگار و نقاد کے اِس بیان سے کئی غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہییں۔

حضرت علامہ نے فرمایا تھا ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ ۔ یہ ایک لا فانی حقیقت ہے کہ انسانی معاشرہ ہمیشہ رو بہ تغیر رہتا ہے۔یہ الگ بات کہ وقت گزرنے کے ساتھ اِس کی تغیر پذیری، سست روی سے برق رفتار ہو گئی ہے۔معاشرہ اور سماج چوں کہ انسانوں سے مل کر تشکیل پاتاہے اور اِس کے رجحانات کا تعین انسان ہی کرتے ہیں، لہذا جدیدرجحانات یا جدیدیت کے رویے زندگی گریز نہیں ہوتے اور جدید رجحانات انسان اور زندگی کے گرد گھومتے ہیں۔یہ الگ بات ہےکہ زندگی کے تیز رو ہونے کی وجہ سے آج تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔خود انسان اِن برق پا لمحوں کا ساتھ نہیں دے پا رہا جس کے نتیجے میں رومانویت کی نسبت جدیدیت میں یاسیت ہی اُس کے دامن گیر ہوئی ہے۔

جدیدرجحانات اکثر ہیئت سے زیادہ موضوع کو اہمیت دیتے ہیں۔اِن کا نیا پن نئی سوچ اور فکر کے نئے زاویوں میں مضمر ہے۔وہ موضوعاتی حوالے سے ادب کو متاثر کرتے ہیں۔ویسے بھی ہمارے ہاں ادب میں ہیئت کے تجربات قدرے کم ہوئے ہیں اور جو ہوئے ہیں ، اُن میں سے اکثر مغربی ادب کے زیرِ اثر ہوئے ۔البتہ ہمارے ادیب نے وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پرانی ادبی سوچ کو بہت حد تک رد کیا ہے۔ایسی سوچ ،جس کا تعلق اُس مکتبِ فکر سے تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ ادب صرف ذہنی انبساط کا ذریعہ ہے اور اِس کے ذریعے معاشرتی و سماجی تبدیلی کا کوئی مثبت کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔جدید رجحانات کا عمل فطری ہوتا ہے،اِس لیے کہ نظر نہیں نظریے، رویے اور معیارات بدلتے ہیں ۔ ہرجدید عہد میں ادبا کی ایک بڑی اکثریت ہوتی ہے جو طرزِ کہن کو چیلنج ضرور کرتی ہے۔

موجودہ عہد میں ہمارے افسانہ نگار بھی اب صرف واقعات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ بہت حد تک اپنے تجربات اور مشاہدات پر اپنے افسانوں کے پلاٹ کی بنیاد رکھتے ہیں۔اِس لیے جو افسانہ تخلیق ہو رہا ہے وہ صرف راوی کا بیانیہ نہیں ہے ، اُس میں تخلیق کے موضوع کی ضرورت کے تحت اسلوبِ بیاں، پلاٹ، مکالمہ نگاری، کردار و سراپا نگاری وغیرہ کا تعین ہوتا ہے۔فی زمانہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ افسانہ نذیر احمدو راشد الخیری کی اصلاح پسندی، سجاد حیدریلدرم، نیاز فتح پوری، مجنوں گوکھپوری اور حجاب امتیاز علی کی رومانویت، ’’انگارے‘‘ اور عصمت و منٹو کی جنسی حقیقت نگاری یا پھر انتظار حسین اور انور سجاد کی علامت و تجرید کی پہیلی کے زیرِ اثر ہے۔افسانہ ہر رنگ میں لکھا جا رہا ہے۔اظہار کے انداز مختلف ضرور ہیں، مگر ایک چیزیک ساں ہے، وہ یہ کہ ہمارا ادیب ، ہماری بات کر رہا ہے، خواہ وہ ہمارے اندر کا انتشار ہو یا گرد و پیش میں روز افزوں سر اٹھاتے مسائل اور الجھنیں۔اِس کی پیش کش میں جہاں اُس کے فن کی کرافٹ شامل ہے، وہیںاِس کی بنیاد تخلیق کارکے مشاہدات و تجربات پر ہے ۔آج وہ اظہارِ ذات کے پردے میں بھی اپنے ماحول اور معاشرے ہی کو پیش کررہا ہوتا ہے۔بہ ہر حال افسانے کے ناقدین اِس بات سے بہ خوبی واقف ہیںکہ ہمارے جدیدافسانوی رجحانات میں موضوعات کا تنوّع اہم ترین ہے۔

آج کے افسانہ نگارپرکیچڑ اچھالنے والے حقیقتِ حال سے نا آشنا ہیں۔ہمارا تخلیق کار اب تخلیقی اور غیر مقلّد ہو چکا ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ ہر داستان میں معدی کرب اور لندھور بن سعدان تلاش کیے جائیں۔ہر کہانی میںکوئی عشق ہو اور ہر عشق میں کوئی کہانی ہو۔اِس عہدِ ستم میں محبتیں بھی ضرورت کے تابع ہو گئی ہیں۔اب ہم یلدرم کی خارستان و گلستان اور ، نیاز کی کیوپڈ و سائیکی کی رومانوی حسن کاری سے لذت کے جام نہیں بھر سکتے۔ نئے افسانے کے رجحانات کا اندازہ کرنے کا واحد اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم نئے افسانہ نگاروں کے موضوعات اور اُن موضوعات کی پیش کش کے انداز کا جائزہ لیں۔

مذکورہ بالا ادوار کے بعد بھی ایک طویل فہرست ہے جن کا فسانہ اپنے عہد سے جڑا رہا۔فی زمانہ بھی افسانہ اپنی ڈکشن میں دھنک رنگ سہی ، موضوعاتی اعتبار سے اپنا عہد اُس کے وجود میں سانس لیتا محسوس ہو رہا ہے۔حقیقت نگاری کے بعد ردِ عمل کے طور پر جدیدیت کا جو رجحان 1960میں سامنے آیا تھا، اُس پر عدم ابلاغ کا الزام عاید کر کے اکثر ناقدین، بہ شمول شہزاد منظر ،نے کبھی کوئی کلمۂ خیر ادا نہیں کیا۔اُن کا خیال ہے کہ علامت اور تجرید ایک عہد کی ضرورت تھی اور اُس سے جتنا استفادہ کیاجانا چاہیے تھا وہ ہو چکاہے۔ اِس ڈکشن میں لکھنے والے خال خال ہیں۔ہمارا افسانہ نگار حقیقت کی تلخی کا ذائقہ آشنا ہو چکا ہے ۔اِسے آپ ترقی پسند تحریک کے دور رس اثرات کہہ لیجیے کہ افسانہ رومانویت اور ٹیگوریت کی بے مقصدو معانی اور بے سرو پا حسن کاری کے چنگل سے نکل آیا۔

ناول سے متعلق سلیم احمد نے کہا تھا کہ ناول نگار کو اپنا نقاد خود پیدا کرنا پڑے گا۔تقسیمِ ہند سے 1965کے درمیان ناول کاصرف ایک قابل ذکر تنقید نگارملتا ہے ۔ خوش قسمتی سے افسانے کی تنقید کا معاملہ مختلف ہے۔ اسے ہر عہد میں ناقدین میسر آئے ہیں، لہذا ہمارے ہاں افسانے کا مستقبل بے حد روشن اور امکانات سے بھر پور ہے۔

نذیر،راشداورشررکےناولوںکےتناظرمیںافسانےکے لیے جو راستہ ہم وار ہوا ،اُس کے فکری و اسلوبیاتی مقاصدکچھ اورتھے۔ افسانے کاسفر119سال بنتا ہے ۔ اِس سفر کے تمام نشیب و فراز اور پیچ و خم میں افسانے نے کسی طور وقت کے تقاضوں سے روگردانی نہیں کی ۔ ہماری ملکی تاریخ کی ہر ہر سیاسی، معاشی، سماجی اور معاشرتی کروٹ کو اِس نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ہر تغیر و تبدّل کے رنگوں سے ایوانِ افسانہ کی تزئین و آرائش کی ہے۔ اگرچہ ایک ہی عہد میں دو مختلف تخلیقی رجحانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عہد بہ عہد افسانوں کا انتخاب کیا جائے تو ہم اپنی سیاسی و تہذیبی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔زیادہ تر رجحانات تو تحریک کی صورت اختیار نہیں کر پاتے ۔مذکورہ بالا ادبی رجحانات میںسے اکثر اُس دورکے سیاسی، معاشرتی اور سماجی میلانات کا نتیجہ تھے، جنہوں نے وقتی عروج حاصل کیا اوربعدا زاں زوال پذیر ہوئے ۔ ہمارے آج کے ادیب کا طرزِ احساس بھی ذہنی و فکری انتشار اور اقتصادی و معاشرتی عدم مساوات کے جنم سے تشکیل پا رہا ہے، جس کا اظہار وہ اپنی اپنی ڈکشن میں کر رہا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رومانویت،حقیقت نگاری، پھر تجرید و علامت ۔کئی ادبی دانشوروں کا خیال ہے کہ جب حقیقت نگاری عروج پر پہنچ گئی تو اِس میں اظہار کے مزید امکانات محدود ہو گئے، لہذا جدیدیت کے طور پر تجرید و علامت کا آغاز ہوا۔یوں چالیس سال بیت جانےکےباوجود تجریدوعلامت ہی کو جدیدیت خیال کرتے ہیں اور اُن کی نظر میں جدیدیت انتظار حسین اور انور سجادپردم توڑ چکی ہے۔یہ تعریف نظر ثانی کی متقاضی ہے۔انتظار حسین کو تو ما ضیٰ سے خاصا شغف تھا ۔ انہوں نے اساطیر اور داستانوں پر اپنے اسلوب کی بنیاد رکھی تھی۔ البتہ انور سجاد کو چوں کہ انگریزی ادب سے لگاؤ تھا تو تجرید و علامت کے سلسلے میں تحریک کا سبب انگریزی ادب ہی تھا۔ کیا ایسے میں افسانے کے جدید رجحانات بہتر اور نئی لسانی تشکیلات میں کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں؟دراصل ہر وہ ادیب حقیقت نگارہےجومعروضی انداز سے اپنے گرد و پیش کواپنی تخلیقات میں پیش کررہا ہے۔

آج کےادیب کے مشاہدات، نظر کے زاویوں کی وسعت و گہرائی اپنے پیش روؤں سے کہیںزیادہ ہیں ، لہذاآج کا افسانہ اپنے تازہ تصو را ت ، گو ناگوں مشاہدات و تجربات، تہذیبوں کےملاپ اور انسانی المیوں کے باعث کہیں زیادہ عصری شعور کا حامل ہے۔اِس سے آگے جدیدیت کیا ہو گی؟یوں جدیدیت کو انتظار و سجاد پر ختم کر دینا یا اُن ہی سے منسوب کر دینا مضحکہ خیز ہے۔

اب افسانہ بیانیہ طرز کے اکہرے اظہاریے سے آگے نکل کر حال سے زیادہ ہم آہنگ ہوا ہے اور گردو پیش سے یگانگت محسوس کرتا ہے۔جدیدیت کی طرح حقیقت نگاری کو بھی1955 تک محدود کرنا(علامت اور تجرید سے پہلے کا دور) سراسر خلافِ حقیقت امر ہے کہ ہر عہد میں حقیقت نگاری کے معیارات اور تصورات بدلتے رہے ہیں۔حیران کن طور پر وہ زمانہ بھی تھا جب ما بعد الطبیعیاتی اور ماوائے عقل وشعور باتوں کو بھی حقیقت نگاری سمجھا جاتا تھا۔بعدا زاں عقل و شعور ، مذہب سے دوری اور جنسی رجحانات کے بیان کو حقیقت نگاری سمجھا گیا ۔مختصر یہ کہ حقیقت نگاری کے تصوارت ماحول، حالات و واقعات اور مشاہدات کے تابع ہوتے ہیں۔ہمارے عہد کا نمایاں ترین رجحان یہ ہے کہ افسانہ نگاروں کی بڑی جماعت انسان اور زندگی کو اہم ترین موضوع کے طور پر اپنے اپنے اسلوب میں پیش کر رہی ہے

AIOU Solved Assignment Code 8660 Spring 2021

ANS 04

ثقافت کسی بھی معاشرے میں موجود ان رسوم و رواج اور اقدار کے مجموعے کو کہاجاتاہے جن پر اس کے تمام افراد مشترکہ طور پر عمل کرتے ہوں۔قوموں کی پہچان ثقافت سے ہوتی ہے۔ہر قوم کی الگ ثقافت ہوتی ہے اور ہر قوم میں اپنی ثقافت کو رائج کرنے اور اسے پروان چڑھانے کا طریقہ مختلف رہا ہے۔ قو م اور معاشرے کی ثقافت اور اقدار کوفروغ دینے کے لیے فلم کو ایک اہم ذریعہ قرار دیاجاتا ہے۔ اسی لیے گذشتہ دو تین دہائیوں سے تیزی کے ساتھ مغربی تہذیب اور ثقافت کے ساتھ ساتھ انڈین کلچر کو فلموں اور ڈراموں کے ذریعے پاکستانیوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب غیر مسلم اپنا کوئی کلچر یا فیشن مردو خواتین میں رائج کرنا چاہتے ہیں تو بآسانی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے منتقل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ چاہے وہ اخلاقیات کے دائرے میں آتا ہویا نہ آتا ہو۔ اگر ایک قوم اپنے افکارو نظریات اور اعتقادات کو بھلا بیٹھے تو دوسروں کے افکار و نظریات اس قوم پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ پاکستانیوں نے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر جدیدیت کے نام پر یورپی ثقافت اور ان کے رہن سہن اور طور طریقوں کو گلے لگایا اور اپنی پہچان کو بھلادیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم ذہنی طور پر یورپ کی مکمل غلام بن چکی ہے۔ پاکستانی قوم کو جدیدیت کے نام پر ذہنی مرتد بنایا جارہا ہے۔ ہماری قوم ذہنی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ہم اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ ہم دوسروں کے اشاروں پر چلنے والے ہوگئے ہیں۔ ہماری فکرو تدبر کی صلاحیت چھین لی گئی ہے۔ ہمارے اندر قیادت کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ ہماری سوچوں پرمغربیت کا غلبہ ہے۔ یہ سب اسلامی اقدار اور ثقافت کو خیرباد کہنے کا نتیجہ ہے۔ جب تک مسلمانوں نے اپنی پہچان قائم رکھی ، اپنے اسلامی افکار و نظریات پر ڈٹے رہے اور اسلامی ثقافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا تو پوری دنیا پر ان کی حکومت رہی اور دنیا کے کونے کونے میں ان کی علمیت کا ڈنکا بجتا رہا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب یورپ کو قلم و قرطاس کی معرفت بھی نہیں تھی۔ مسلمان علم کے ہر شعبے میں تصنیف وتالیف، تحقیق و تنقید میں مصروف تھے۔ آج بھی یورپ کی لائبریریوں میں مسلمانوں کا علمی سرمایہ موجود ہے جس سے استفادہ کرنے کے لیے باقاعدہ خصوصی ٹیمیں بنائی گئی ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ یہ سب کچھ ہماراتھالیکن ہم نے اس کی قدر نہیں کی اور اسلاف کی علمی میراث کو پلیٹ میں رکھ کر یورپ کے حوالے کردیا۔ آج یورپ اسی سے استفادہ کرکے پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے اور ہمیں اپنی ثقافت اور روایات میں ڈھالنے کی پر زور کوششیں کررہا ہے۔ پاکستانی ثقافت تقریباً دفن ہوچکی ہے۔ فلموں کے ذریعے بے حیائی اور ڈراموں کے ذریعے روشن خیالی اور بداخلاقی کا سبق دیا جارہا ہے۔ ڈراموں میں ماں بیٹی کی آپس میں نفرتیں، بیوی کا شوہر سے بدتمیزی کا

انداز اور شوہر کا بیوی کو مارنے کی کیفیت ، ساس بہو کے جھگڑے اور دشنام طرازی، ماں باپ کی بے توقیری ، قریبی رشتہ داروں سے غیر مناسب رویے ، باپ بیٹے کی لڑائی اور اس طرح کی دیگر بداخلاقیاں خصوصی طور پر دکھائی جاتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب دکھانے کا جواز یہ پیش کیاجاتا ہے کہ ڈراموں میں کوئی نئی چیز نہیں بلکہ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ کتنے ہی گھر صرف ان ڈراموں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں جن میں میاں بیوی اور ساس بہو کے جھگڑے دکھائے جاتے ہیں۔ اگر واقعتاً چند گھروں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوں بھی تو ان کو ڈرامائی انداز میں پیش کرکے پوری قوم کو دکھانے کی کیا ضرورت پڑی ہے؟ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر چند گھر وں میں ایسے مسائل ہوں تو ڈرامائی انداز میں ان مسائل کا حل پیش کیاجائے تاکہ لوگ اس سے متاثر ہوکر اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بناسکیںاور سکون کی زندگی بسر کرسکیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ڈرامے میں خوشگوار ماحول میں صرف گرل اور بوائے فرینڈ کو دکھایاجاتا ہے۔ ان کی منظرکشی ،بات چیت کا ڈھنگ ، پارکوں میں گھومنا، چھپ چھپ کر ملنا وغیرہ یہ سب کچھ بڑے خوشگوار اندازمیں دکھایا جاتا ہے۔ جب ان کی آپس میں شادی ہوجاتی ہے تو پھر وہی لڑائی جھگڑے کے مناظر سامنے آنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ ڈراموں کے ذریعے شادی کے بجائے فرینڈشپ کلچر عام کرنے کا سبق دیاجارہا ہے اور اسی کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔ اگر انہی ڈراموں کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان ہونے والی معمولی معمولی باتوں کونظر انداز کرنا سکھادیا جائے تو یقینی طور پر کتنے ہی اجڑتے گھر دوبارہ بسائے جاسکتے ہیں۔ اگر دورِ حاضر میں ثقافت اور اقدارکے فروغ کا مؤثر ترین ذریعہ فلمیں اور ڈرامے ہی ہیں توان کا مثبت استعمال کیاجائے تاکہ پاکستانی قوم سکون و عافیت کی زندگی گزار سکے ۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی مسلمان ہندوؤں کی ثقافت میں ڈھلے جارہے تھے اور ان کے طور طریقے کے مطابق زندگی گزار رہے تھے ۔ اسی لیے قیام پاکستان کے مقاصد میں یہ مقصد بھی شامل تھا کہ اسلامی اقدار و روایات کو فروغ دیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد صرف ایک خواب ہی رہا اور شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ پاکستانی ثقافت دراصل اسلامی ثقافت کی عکاسی ہے۔ پاکستانی ثقافت کا اپنا خصوصی مزاج ہے جو اسے دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستانی ثقافت کی اپنی انفرادی شناخت اور پہچان ہے۔پاکستانی ثقافت کا فروغ یقینی طور پر انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی ثقافت کا دوبارہ احیاء فلموں اور ڈراموں کے ذریعے نہیں بلکہ گھریلو تربیت سے ہوگا۔ جب تک والدین گھروں میں اپنے بچوں کو اخلاقیات اور شرم و حیا کا درس نہیں دیں گے اور انہیں برائیوں سے دور رہنے کی تلقین نہیں کریں گے تو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکیں گے

Free AIOU Solved Assignment Code 8660 Autumn 2021

ANS 05

اردو ادب کی  اصطلاح ’شخصیت‘  انگریزی لفظ Sketch کا متبادل ہے۔تنقیدی اصطلاحات کے مطابق ’ادب کی جس صنف کے لئے انگریزی میں Sketch  یا پن پورٹریٹ(Pen Portrait ) کا لفظ استعمال ہوتا ہے اردو میں اسے شخصیت کہتے ہیں۔اسے زیادہ واضح انداز میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ Sketch  مختلف خطوط کی مدد سے کسی شخصیت کے خط و خال ابھارنے کو کہاجاتا ہے جبکہ Portrait  سے مراد کسی واضح شبیہ کی عکاسی ہے۔ شخصیت کو شخصی مرقع یا شخصیہ بھی کہتے ہیں اور شخصیت نویسی کو شخصیت نگاری کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ایک  اچھے خاکے میں ہم کسی شخص کے بنیادی مزاج ،اس کی افتاد طبع،انداز فکر و عمل اور اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہوتے ہیں۔شخصیت نگاری کسی شخصیت کا معروضی مطالعہ ہوتی ہے  جس کے لئے شخصیت نگار کا قوت مشاہدہ،فہم و ادراک اور غیر جانبداری کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اور پر اثر انداز بیان کا حامل ہونا ضروری ہے۔شخصیت کسی فرد یا شخص کی مکمل زندگی کا عکاس نہیں ہوتا بلکہ اس کی نمایاں خصوصیات کا اظہار لئے ہوتا ہے۔شخصیت نگار عموماً شخصیت کی زندگی کے ان گوشوں کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے جو نظروں سے اوجھل رہتے ہیںاور بسا اوقات کوئی شخصیت انھیں خود بھی چھپا کر رکھتی ہے۔لیکن ایک اچھے خاکے کی  یہی خصوصیت ہے کہ وہ شخصیت کے محاسن و معائب کو ناقدانہ رویے کے بجائے ہمدردانہ رویے کے طفیل ہر طرح سے سامنے لے آئے۔کیونکہ شخصیت میں بنائی جانے والی تصویر کی اصل شخصیت سے مطابقت ضروری ہوتی ہے۔اگر تصویر اصل شخصیت سے ذرا سی بھی مختلف ہوگی تو شخصیت ناقص قرار پائے گا۔شخصیت صرف اسی شخصیت کا لکھا جاسکتا ہے جس کی شخصیت سے شخصیت نگار کو کسی طرح کی بھی دلچسپی ہو مثلاً اگر کوئی شخصیت نگار کسی شخص کی محض شاعری یا نثر سے دلچسپی رکھتا ہے تو وہ ایک تنقیدی یا توصیفی مضمون تو لکھ سکتا ہے جس میں اس شخص کی شخصیت کے کچھ پہلو بھی اظہار پا سکتے ہیںمگر اس پر شخصیت نہیں لکھا جا سکتا۔لیکن اگر شخصیت نگار کو اس شخصیت سے کوئی دلچسپی ہے تو ممکن ہے اس کا تخلیقی کام شخصیت نگار کے لئے قابل اعتنا نہ رہے۔اچھے خاکے کی ایک خوبی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اس میں شخصیت کے روشن و تاریک دونوں پہلوؤں کی جھلک دکھائی جائے ورنہ پیش کردہ قلمی تصویر یک رخی قرار پائے گی۔کیونکہ انسان نہ اچھائیوں کا مرقع ہے نہ برائیوں کا۔۔۔۔شخصیت نگار کے لئے ضروری ہے کہ وہ شخصیت کو اس کی ساری خوبیوںاور خامیوں کے ساتھ پیش کرے۔

زندگی حادثات و واقعات کا مجموعہ ہے ۔انھیں واقعات میں سے چند واقعات چن کر جب کوئی کردار تراشا جاتا ہے تو اسے شخصیت کہا جاتا ہے۔یہ واقعات کسی کردار یا شخص کی ایک امیج بناتے ہیں۔ضروری نہیں کہ یہ امیج اس شخصیت یا شے کا مکمل احاطہ ہو ،اس کی زندگی کا ایک رخ یا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شخصیت کسی کی زندگی کا بیانیہ نہیں بلکہ اس کی زندگی کا ایک پہلو ہوتا ہے ،کسی تصویر کا ایک رخ۔زندگی کا یہ بیانیہ اس کردار کا اپنا بیان کیا ہوا نہیں ہوتا بلکہ راوی کا فکری تجزیہ ،مشاہدہ اور جس طرح سے راوی اس کردار کی زندگی میں شریک رہا ہے ان تجربات کا بیانیہ ہوتا ہے ۔گویا شخصیت راوی کا صرف تخلیقی بیانیہ نہیں بلکہ حقیقی بیانیہ ہوتا ہے ۔جس کو وہ اپنے مخصوص بیانیہ کی تشکیل میں تخیل کی سطح پر لے جاکر دلچسپ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔بعض اوقات اس کے لئے وہ اس شخصیت سے منسلک ایسے واقعات کا ذکر بھی کرتا ہے جو لطیفے کا سا لطف دیتے ہیں ۔گویا شخصیت کسی فرد کا وہ رخ یا پہلو ہے جو شخصیت نگار نے دیکھا،محسوس کیا  اور قلمبند کیا۔

شخصیت نگاری ایک ایسا عمل ہے جس میں تخلیق کار کسی شخصیت کی لفظی تصویر کشی کرتا ہے ۔شخصیت نگاری کو اشاروں کا فن بھی کہا جاتا ہے اس لئے شخصیت نگار اشاروں میں کسی شخصیت کے وہی رنگ ابھارتا ہے جو اس شخصیت کی شناخت ہو ۔شخصیت قید و بند سے آزاد ہوتا ہے ۔اس میں جذبہ صادق ،قلبی تاثرات اور بے غرض جذبات شامل رہتے ہیں۔یہ دریا کو کوزہ میں بند کرنے کا ایک عمل ہے۔شخصیت نگاری کے لئے غیر وابستگی لازم اور صاف گوئی مقدم ہے۔بقول ڈاکٹر سید محمد حسنین’’شخصیت صفحہ قرطاس پر نوک قلم سے بنائی ہوئی شبیہہ ہے۔یہ شبیہہ ساکت جامد اور غیر واضح نہیں بلکہ متحرک ،دل پذیر،پر کیف اور ہشت پہل ہوتی ہے۔‘‘  ادبی اصطلاح میں یہ لفظوں کے ذریعہ کسی شخصیت کی اتاری ہوئی  تصویر کا نام ہے۔خاکے کا مقصد متوازن عکاسی ،تہذیبی و ثقافتی حقائق کا انکشاف اور شخصی تاثر کا فنکارانہ پیش کش رہاہے۔شخصیت نگاری کے لئے اختصار و طوالت کی کوئی قید نہیں۔حقیقی شخصیت کے علاوہ خیالی شخصیت بھی شخصیت کا موضوع ہو سکتا ہے لیکن دونوں کے محرکات و اسباب مختلف ہوتے ہیں۔شخصیت نگاری کے لئے ذاتی تعلقات ،سماجی روابط، خطوط، تصنیفات، دیگر مواد،محاضرات وغیرہ بنیادی و اہم ماحذ ہیں۔اس کے علاوہ شخصیت کے تعلق سے فضا میں گردش کر رہی اور نشستوں میں بیاں کی جا رہی اطلاعات ،سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہی داستان ،سیرت و صورت ،کردار و گفتار اور عادت و اطوار شخصیت نگاری کے ثانوی ماخذ ہیں ۔یہ شخصیت نگار پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کن ماخذ کو قابل اعتنا سمجھ کر مرقع کشی کرتا ہے ۔شخصیت نگاری مشکل ترین فن ہے ۔یہ آگ کا دریا ہے اور گوہر مقصود کے لئے دریا عبور کرنے والا ہی اس عمل میں سر خرو اور سر فراز ہوتا ہے ۔یہ فن بیک وقت زبان دانی ،انشائی پختگی،شاعرانہ مزاج ،افسانوی اسلوب اور طنز نگاری کے بے ساختہ پن کا طالب ہے۔

شخصیت نگاری کی صحیح تعریف کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔بقول محمد حسین آزاد :

’’ شخصیت ایک ایسی تصویر ہے جو کسی بت تراش یا مصور یا فوٹو گرافر کا عمل نہیں اس تصویر کا خالق قلم کار ہوتاہے۔شخصیت کسی فرد واحد کی گم سم تصویر نہیں ۔یہ ہنستی بولتی تصویر ہے جو ہمارے احساسات کو بر انگیختہ کرنے کی قوت رکھتی ہے۔‘‘  (بحوالہ۔صابرہ سعید، اردو میں شخصیت نگاری صفحہ۔۳۶)

اردو میں شخصیت نگاری کی تاریخ بہت قدیم نہیں ہے ۔صحیح معنوں میں اس کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جس طرح ناول اور افسانے نے مختصر افسانے کا روپ اختیار کر لیا اسی طرح طویل سوانح نگاری نے شخصیت نگاری کا لبادہ پہن لیا ۔ اردو میں شخصیت نگاری کا سرمایہ اپنی کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے قابل لحاظ ہے۔صنف شخصیت نگاری ادب کی جدید صنفوں میں شمار کی جاتی ہے ۔اردو میں شخصیت نگاری کے ابتدائی نقوش محمد حسین آزاد کی شاہکار تصنیف ’’آب حیات‘‘  میں ملتے ہیں۔آب حیات کے شخصی خاکوں کے تعلق سے صابرہ سعید  رقمطراز ہیں :

’’ شخصی شخصیت کے لحاظ سے آب حیات کو دیکھیں تواس میں میرؔ،انشاؔ،مصحفیؔ،ذوقؔاور غالبؔ کے کرداروں میںجا بجا خاکے کی جھلکیاں ملتی ہیں ۔‘‘

نثار احمد فاروقی بھی اس خیال کے موید نظر آتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں ۔’’ خاکوں کی باضابطہ ابتدا در اصل محمد حسین آزاد سے ہوتی ہے اور شعراء کے بہترین قلمی عکس سب سے پہلے ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’’آب حیات‘‘  ہی میں ملتے ہیں ۔( دید و دریافت۔نثار احمد فاروقی،صفحہ۔۵۲)

’’ آب حیات‘‘ میں آزاد نے شخصیت لکھنے کی پہلی بار شعوری کوشش کی ہے ۔کتاب کے دیب

Free AIOU Solved Assignment Code 8660 Spring 2021

اچے میں اس بات کا اظہار یوں کیا ہے۔’’ خیالات مذکورہ بالا نے مجھ پر واجب کیا کہ جو حالات ان بزرگوں کے معلوم ہیں یا مختلف تذکروں میں متفرق مذکورہ ہیں انھیں جمع کرکے ایک جگہ لکھوں اور جہاں تک ممکن ہو اس طرح لکھوں کہ ان کی زندگی کی بولتی چالتی،چلتی پھرتی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں‘‘(اردو نثر کا فنی ارتقاء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری صفحہ۳۹۳)

شخصیت نگاری میں شخصیتوں کی تصویریں اس طرح براہ راست کھینچی جاتی ہیں کہ ان کے ظاہر و باطن دونوں قاری کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پڑھنے والے نے نہ صرف قلمی چہرہ دیکھا بلکہ خود شخصیت کو دیکھا بھالا اور سمجھا بوجھا ہو۔اسی لئے قلمی تصویر یا مرقع سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔شخصیت نگار کو موضوع کے حالات ،واقعات ،صورت،سیرت اور لباس وغیرہ کے متعلق معلومات من و عن بیان کرنے پڑتے ہیں ،کسی شخصیت کے متعلق جب تک کہ وہ ذاتی معلومات نہیں رکھتا ،ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔شخصیت نگاری کا موضوع عموماً ایسی مثالی یا حقیقی ہستیاں ہوتی ہیں جو کرشمۂ کردار کی حامل ہوں ،ایسا کرشمہ جو دامن دل کو اپنی طرف کھینچ لے۔شخصیت کی بھر پور عکاسی شخصیت نگاری کے لئے ضروری ہے۔اس بھر پور عکاسی میں کردار اور افکار دونوں کی جھلک ہونی چاہئے یعنی جس کا شخصیت لکھا جا رہا ہو اس کی صورت ،سیرت،مزاج ،ذہن کی افتاد ،زاویہ فکر ،خوبیاں اور خامیاں سبھی کچھ نظروں کے سامنے آجائیں۔آدمی خواہ کیسا ہی نیک کیوں نہ ہو فرشتہ بہر حال نہیں ہو سکتا ۔شخصیت نگار کا کمال یہ ہے کہ اس کی نظر اوصاف کے ساتھ کمزوریوں پر بھی ہو۔وہ خواہ کسی شخص کی اچھائی کرے یا برائی  خوبیاں گنائے یا خامیاں ،اس کا رویہ ہمدردانہ ہونا چاہئے۔یہ بھی ضروری ہے کہ شخصیت نگار کا لب و لہجہ شخصیت کے مطابق ہو ،اگر کسی سنجیدہ اور متین شخصیت کا شخصیت لکھنا ہو تو لب و لہجے میں سنجیدگی اور متانت ہو ۔اگر کسی مزاحیہ کردار کا شخصیت ہے تو اس قسم کی زبان کا استعمال ضرور ہوگا ۔شخصیت نگار کو شخصیت کے بیان میں غیر جانبدار رہنا چاہئے اور جہاں تک ہو سکے وہ اس شخصی تحریر کو معروضی بنانے کی کوشش کرے۔

خاکے کا موضوع عظیم ہستیاں بھی ہوسکتی ہیں اور عام اوسط درجے کے افراد بھی۔اردو شخصیت نگاروں نے صرف مخصوص یا ایک ہی طرح کے افراد کو موضوع نہیں بنایا ۔ان کے خاکوں میں رہنما،علما،مدبر،وزیر،مفسر،سیاست داں ،صحافی،مقرر،محقق،فلسفی،ناقد ،شاعر،ادیب،مترجم،طنزنگار،

مزاح نویس،ذاتی دوست اور واقف کار،معمولی و عظیم ہستیاں سب ہی قسم کے لوگ ملتے ہیں۔جس طرح عظیم ہستیوں کی سیرت کی بے نقابی انسانی مشاہدات و تجربات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے ۔اسی طرح معمولی سے معمولی انسان کی سیرت کی عکاسی اور حالات بھی دلچسپی اور معلومات فراہم کرنے کا باعث ہوسکتے ہیں۔اردو میں ادب کی دنیا سے ہٹ کر زندگی کے اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے عظیم اور شہرت کے حامل افراد کے خاکے نسبتاً کم تعداد میں لکھے گئے ہیں ۔

اگر کوئی شخصیت نگاری کے وقت مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے تو پھر وہ شخصیت کے دائرے سے باہر ہوجاتاہے۔شخصیت نگاری کے وقت اس مخصوص شخص سے بلا واسطہ رابطہ یا ملاقات ہونا بھی ضروری ہے کیوں کہ شخصیت نگاری کے وقت اس شخص کا ناک نقشہ،عادت و اطوار کا نقشہ نہایت ہی خوبصورتی سے کھینچنا ہوتا ہے ۔دراصل شخصیت نگاری کی صنف اتنی سخت جان ہے کہ ذرا سی لغزش اس خاکے کو سوانح نگاری میں تبدیل کر سکتی ہے ۔

اردو میں شخصیت نگاری کے ابتدائی نقوش ہمیں تذکروں میں ملتے ہیں لیکن اس کا باضابطہ آغاز فرحت اللہ بیگ کے مضمون ’ نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی اور کچھ میری زبانی‘ سے ہوتا ہے ۔فرحت اللہ بیگ کے بعد اس فن میں جنھوں نے گراں قدر اضافہ کیا ہے ان میں اشرف صبوحی،رشیداحمد صدیقی،شوکت تھانوی،سعادت حسن منٹو،محمد طفیل،ممتاز مفتی،اسلم فرخی،غلام رضوی گردش،جاوید صدیقی،غضنفر قابل ذکر ہیں۔

آزادی کے بعد بھی اس صنف میں شخصیت نگاروں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہوئی جن کی تخلیقات نے اردو ادب کو ایک گراں قدر تحفہ دیا۔کرشن چند،سردار جعفری،عصمت چغتا ئی اور ساحر لدھیانوی  وغیرہ نے بھی شخصیت لکھ کر اردو ادب میں بیش بہا اضافہ کیا۔

محمد حسین آزاد نے شخصیت کی عکاسی کرتے وقت فقروں کے ایجاز واختصار ،دلکش اسلوب بیان ،موزوں اور بر محل الفاظ سے ایک سماں باندھ دیا ہے۔انھوں نے سوانحی رجحان اپنایا ہے لیکن اس کے باوجود ’آب حیات‘ کو اردو شخصیت نگاری میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔ ۱۹۲۷؁ء میں مرزا فرحت اللہ بیگ کی تصنیف’ نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘ منظر عام پر آئی۔فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد کے حالات و واقعات کو یکجا کیا اور اس دوران انھوں نے جو انداپنایا وہ خاکے کا تھا۔

مرزا فرحت اللہ بیگ  کے بعد اردو شخصیت نگاری کے فن کو آگے بڑھانے والوں میں رشید احمد صدیقی،مولوی عبد الحق،خواجہ حسن نظامی،آغا حیدر حسن،شاہد احمد دہلوی،اشرف صبوحی،سردار دیوان سنگھ مفتون،جوش ملیح آبادی،خواجہ محمد شفیع،مرزا محمد بیگ،مالک رام،سعادت حسن منٹو،عصمت چغتائی،شوکت تھانوی،محمد طفیل،سید اعجاز حسین،کنھیالال کپور،شورش کاشمیری،فرحت کاکوروی،فکر تونسوی،بیگم انیس قدوائی،قرت العین حیدر،انتظار حسین،مجتبیٰ حسین،سید ضمیر حسن،چراغ حسن حسرت،خواجہ غلام السیدین،سیدصباح الدین،بیگم صالحہ عابد حسین،مجید لاہوری،علی جواد زیدی،راجیندرسنگھ بیدی،کرشن چند،ظ۔انصاری،بلونت سنگھ وغیرہ اہم ہیں۔

شخصیت نگاری کا یہ سفر اتنا ہی نہیں کہ تھمتا ہوا نظر آئے اور اس کی ر فتار میںکسی  قدر کمی ہوجائے بلکہ ستر کی دہائی میں جب جدیدیت کو لے کر اردو ادب میں بحث چھڑی ہوئی تھی ان دنوں بھی اچھے خاکے لکھے گئے۔ان میں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی،جگن ناتھ آزاد، اقبال متین،یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین وغیرہ ایسے نام ہیں جن کی شخصیت نگاری نے اردو ادب کی آبرو میں ایک بیش بہا خزانہ عطا کیا اور یہ سلسلہ اسی طرح دراز ہوتا رہا اور پھر ابراہیم جلیس،شوکت تھانوی،عبدالماجد دریا بادی،عبد السلام خورشید،فکر تونسوی،مشفق خواجہ وغیرہ شخصیت نگاروں نے شخصیت نگاری کی صنف کو بلندیوں تک پہنچایا اوریہ سفر اب بھی رواں دواں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *