Free AIOU Solved Assignment Code 8661 Spring 2021

aiouguru

Free AIOU Solved Assignment Code 8661 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiouguru.

aiou solved assignment code 8661
aiou solved assignment code 8661

ANS 01

بہمنی دور کے بعد قطب شاہی دور میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا سلسلہ جاری رہا۔ جنوبی ہند میں اردو زبان و ادب کو مضبوط و مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے میں اس عہد کے تخلیق کاروں نے بڑی محنت اور جگر کاوی کا ثبوت دیا۔ اس عہد کے ادیبوں نے تاریخی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے قارئین ادب کو اخلاص و مروت کا پیغام دیا۔ گولکنڈہ کے قدیم ادیبوں کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ اس عہد کے اہم تخلیق کاروں کی تخلیقی فعالیت کا اجمالی جائزہ درج ذیل ہے :

1۔ ملا خیالی :یہ با کمال تخلیق کار جس نے 1569تک تخلیق ادب کی شمع فروزاں رکھی وفات کے بعد گوشہ ء گم نامی میں چلا گیا۔ سیل زماں کے تھپیڑوں نے اس کی حیات اور خدمات کو ریگ ساحل پر لکھی تحریر کے مانند مٹا دیا۔ اس عہد کے ممتاز ادیب جن میں نشاطی اور ملا وجہی جیسے صاحب کمال شامل ہیں وہ بھی اس کے ادبی کمالات کے معترف تھے۔ اپنی تصنیف ’’پھول بن‘‘ میں ابن نشاطی نے اس عظیم تخلیق کار کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے :

اچھے تو دیکھتا ملا خیالی

یو میں برتیا ہوں صاحب کمالی

2۔ سید محمود : سید محمود کا کلام قدیم اردو کا نمونہ ہے اسے سمجھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اسے اپنے عہد میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ملا وجہی نے اسے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے :

کہ فیروز و محمود اچتے جو آج

تو اس شعر کوں بھوت ہوتا رواج

ابن نشاطی نے بھی سید محمود کے اسلوب کوسراہتے ہوئے س کی حق گوئی اور بے باکی کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ اس کا خیال تھا کہ سید محمود نے کبھی مصلحت کی پروا نہ کی اور جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ اس کا تجزیاتی انداز لائق تقلید تھا۔ اب نشاطی نے سید محمود کے بارے اپنے خیالات میں اس کی انصاف پسندی کو اس کی شخصیت کا اہم وصف قرار دیا ہے :

Check Also: aiou solved assignmnet code 8661

رہے صد حیف جو نہیں سید محمود

کتے پانی کوں پانی دود کوں دود

سلطان محمد قلی قطب شاہ نے بھی سید محمود کے اسلوب کو پسند کیا اور اسے اپنے عہد کا ایک اہم شاعر قرار دیا۔ سید محمود نے مقامی لہجے کو اپنایا اور دکھنی اردو میں اپنا ما فی الضمیر بیان کیا۔ قلی قطب شاہ نے اس کے بارے میں جو رائے دی ہے وہ اس تخلیق کار کے منصب کو سمجھنے میں مد دیتی ہے :

اگر محمود ہور فیروز بے ہوش ہویں عجب کیا

ہوئے تج وصف نا کر سک ظہیر ہور انوری بے ہوش

3۔ فیروز : مشہور شاعر فیروز نے گولکنڈہ میں رہتے ہوئے اردو شاعری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ فیروز کی مثنوی ’’توصیف نامہ ‘‘جو 1565ء سے قبل کی تصنیف ہے، اس عہد کے ادب کی مجموعی صورت حال کے بارے میں اہم معلومات سے لبریز ہے۔ مثنوی ’’توصیف نامہ ‘‘ میں فیروز نے اپنے مرشد مخدوم جی (متوفی :1564ء ) کے حضور اپنی عقیدت کے جذبات پیش کیے ہیں۔

مرا پیر مخدوم جی جگ منگنے

منگوں نعمتاں میں سدا اس کنے

پیا جیو تھے تو ہمیں پیاس ہے

تو ہم جیو کے پھول کا باس ہے

وہی پھول جس پھول کی باس توں

وہی جیو جس جیو کی آس توں

کریماں کی مجلس کرامات تجے

امیناں کی صف میں امامت تجے

جسے پیر مخدوم جی پیاک ہے

اسے دین و دنیا میں کیا باک ہے

4۔ ملا وجہی :دکن کے اس نامور ادیب نے ابراہیم قطب شاہ سے لے کر عبداللہ قطب شاہ تک کے عہد حکومت (1550-1625)چار بادشاہوں کی حکومت کے دوران علم و ادب کی شمع فروزاں رکھی۔ اس کی زندگی کے مکمل حالات دستیا ب نہیں۔ اس کا انتقال 1656اور 1671کے درمیانی عرصے میں ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ نے اسے شاہی دربار میں عزت و تکریم سے نوازا اور اسے ملک الشعرا کا منصب عطا کیا۔ سلطان محمد قطب شاہ کے دور میں ملا وجہی کو نظر انداز کیا گیا اور اس نے کسمپرسی کے عالم میں وقت گزارا۔ ابتلا اور آزمائش کا یہ دور اس خود دار شاعر پر بہت بھاری رہا۔ اس نے ہلاکت خیزیوں کے اس دور میں بھی صبر و استقامت سے کام لیتے ہوئے تخلیق فن پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ اس کی مستحکم شخصیت کا نمایاں وصف یہ تھا کہ اس نے اپنی الگ پہچان بر قرار رکھی اور اپنے رنج و غم کا بر ملا اظہار کر کے تزکیہ نفس کی صورت تلاش کر لی۔ اس کے حالات زندگی کی ادبی اہمیت مسلمہ ہے۔ اس نے لکھا ہے :

پادشاہ جہاں مفلسم

خاک ہم نیست در دخترانہ ء ما

اس کے بعد عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر ملا وجہی نے 1635میں ’’سب رس ‘‘لکھی۔ اس معرکہ آرا تصنیف میں ملا وجہی نے دکن کی ادبی روایات کی اساس پر اپنی نثری تخلیق کی عظیم عمارت تعمیر کی۔ ملا وجہی سے قبل دکن میں نثری ادب کے جو ابتدائی نقوش ملتے ہیں انھیں ملا وجہی نے نکھارا اور انھیں دکن کے نثری ادب کی لائق صد رشک روایت کی شکل عطا کر دی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ملا وجہی نے دکن کی قدیم اردو نثر میں اظہار و ابلاغ کے لیے جو طرز فغاں اپنائی وہ اس قدر جامع، پر کشش اور عام فہم تھی کہ اسے بے حد پذیرائی ملی اور وہی اپنی اس مکمل صورت میں بعد میں آنے والوں کے لیے طرز ادا ٹھہری۔ اسی لیے ملا وجہی کے اسلوب نثر کو دبستان دکن کی نثری روایت کا نقطۂ تکمیل قرار دیا جاتا ہے۔ (3) اردو نثر کی ایک اور تصنیف ’’تاج الحقائق ‘‘بھی ملا وجہی کی تصنیف خیال کی جاتی ہے لیکن اس بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ ملا وجہی کی تصنیف ہے بھی یا نہیں۔ (4)ملا وجہی کی ایک اور تصنیف ’’قطب مشتری ‘‘ ہے۔ یہ مثنوی معیار اور وقار کی اس رفعت کی امین ہے کہ اسے دکن میں صنف مثنوی کی بلند و بالا عمارت کی خشت اول سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اپنی اس تصنیف پر ملا وجہی کو بہت ناز تھا۔ اس نے لکھا ہے :

قطب مشتری میں جو بو لیا کتاب

سو ہوئی جگ میں روشن کہ جیوں آفتاب

اپنی قدامت کے اعتبار سے ’’قطب مشتری ‘‘کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسے اس عہد کے اذہان کی مقیاس یا ذہنی قطب نما قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ (5)اپنی شاعری میں ملا وجہی نے اپنے تجربات، مشاہدات اور حالات و واقعات کی لفظی مرقع نگاری میں اپنے کمال فن کا ثبوت دیا ہے۔ دکن کی محبت اس کے ریشے ریشے میں سما گئی ہے جس کا وہ بر ملا اظہار کرتا ہے :

دکن سا نہیں ٹھار سنسار میں

پنچ فاضلاں کا ہے اس ٹھار میں

دکھن ہے نگینہ انگوٹھی ہے جگ

انگوٹھی کوں حرمت نگینا ہے لگ

دکھن ملک کوں دھن عجب ساج ہے

کہ سب ملک سر ہور دکھن تاج ہے

دکھن ملک بھوتیج خاصا اہے

تلنگانہ اس کا خلاصہ اہے

قطب مشتری میں ملا وجہی کا اسلوب اس زمانے کے ادبی معیار کو دیکھتے ہوئے بلا شبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس زمانے میں اس قدر موثر کلام عنقا تھا۔ ڈاکٹر گراہم بیلی نے اپنی کتاب تاریخ ادب اردو (A History Of Urdu Literature ) میں ملا وجہی کی تصنیف قطب مشتری کو اس عہد کے پورے ہندوستان کے ادبیات کی ایک اہم تصنیف قرار دیا ہے۔ سب رس نے اردو کے نثری ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور قطب مشتری کو اردو شاعری کے ارتقا میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ قطب مشتری میں ملا وجہی حالات و واقعات کی لفظی مرقع نگاری کرتے وقت جس فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے وہ قابل توجہ ہے:

شہنشاہ مجالس کے ایک رات

وزیروں کے فرزند تھے سب سنگات

ہر یک خوب صورت ہرا یک خوش لقا

سو ہر ایک دل کش ہر ایک دل ربا

مہابت کے کامن میں جم جم ہے جیون

شجاعت کے کاماں میں رستم ہے جیون

ندیم ہور مطرب سگھڑ فہم دار

اتھے شہ سوں مل کر یو سب ایک ٹھار

صراحی، پیالے لے ہاتاں منے

ندیماں تھے مشغول باتاں منے

لگے مطرباں گانے یوں ساز سو

کہ دھرتی ہے ست آواز سوں

ندیماں لطافت میں جو چکر آئیں

تو روتیاں کو خوش کر گھڑی میں ہنسائیں

مر کے زہد و تقو لشن کے مشور 5۔ سلطان محمد قطب شاہ : (عرصہ ء اقتدار : 1611-1625)یہ گولکنڈہ کا چھٹا بادشاہ تھا۔ اس نے بھی اردو میں شاعری کی لیکن اس کا کلام دستیاب نہیں۔ اس کی شاعرانہ استعداد اس منظوم دیباچے میں ملتی ہے جو اس نے قلی قطب شاہ کے دیوان کے لیے لکھا تھا۔

6۔ ملا غواصی :ملا غواصی ایک قادر الکلام شاعر تھا۔ یہ محمد قلی قطب شاہ اور ملا وجہی کا ہم عصر تھا۔ زبان و بیان پر اس کی کامل دسترس، قدرت کلام اور فنی مہارت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1618ء (1025ہجری) میں اس نے دو ہزار سے زائد اشعار پر مشتمل مثنوی ’’سیف الملوک و بدیع الجمال ‘‘ صرف تیس دن میں مکمل کی :

برس یک ہزار ہور پنج بیس میں

کیا ختم یو نظم دن تیس میں

7۔ سلطان عبداللہ قطب شاہ :(پیدائش :1614ء وفات :1672ء ) اس کا عرصۂ اقتدار 1626-1672ہے۔ اس نے دکن کی مقامی تہذیب و ثقافت، سماج اور معاشرت کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اس کی شاعری میں دکن کی معاشرتی زندگی کی دلکش تصویر کشی کی گئی ہے۔ حسن و جمال اور سراپا نگاری پر اسے عبور حاصل ہے۔

جن تج کو ایسا روپ دے اپروپ کر نجائیا

تج گال کا لٹ شام میں کیا خوب دیوا لائیا

روشن ہے جگ تج بھان تھے نازک ہتھیلیاں پان تھے

تج سار تن کسی کھان تھے اجنوں نکل نہیں آیا

دو پھند نا لکھ چھند کا بے مثل بے مانند کا

تج دھن کے بازو بند کا خوش منج رجھا لبدائیا

مختلف ادوار میں گولکنڈہ کے جن شعرا نے اپنی تخلیقی فعالیت سے اردو ادب کی ثروت میں اضافہ کیا ان میں قطبی، شاہ سلطان، جنیدی، ابن نشاطی، میراں جی، میراں یعقوب، بلاقی، طبعی، محب، کبیر، اولیا، غلام علی، سیوک، فائز، لطیف، شاہ راجو، فتاحی، افضل اور شاہی کے نام قابل ذکر ہیں۔

مغلوں نے 1685میں بیجا پور اور 1658میں گولکنڈہ کو فتح کر لیا تو جغرافیائی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تہذیبی، ثقافتی، لسانی، معاشرتی اور سماجی تبدیلیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے سلطنت میں ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کیا۔ مغلیہ عہد میں دکن میں جو ادب تخلیق ہوا وہ اردو زبان کے ارتقا کا مظہر ہے۔ اس عرصے میں جو مثنویاں لکھی گئیں ان میں شعرا نے با لعموم تصوف، اخلاقیات، حسن و رومان اور رزم اور بزم کی شان دل ربائی قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر سراج اور نگ آبادی کی مثنوی ’’بوستان خیال‘‘ موضوع اور اسلوب کی دل کشی کے لحاظ سے شمالی ہند میں تخلیق ہونے والی مثنویوں سے کسی طرح کم نہیں۔

AIOU Solved Assignment 1 Code 8661 Spring 2021

ANS 02

اردو، جنوبی ایشیا کی ایک اہم اور بڑی زبان ہے۔ بر صغیر ہند کی آزادی کے بعد سے اس زبان کی مقبولیب میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ یہ ہندوستان کی اٹھارہ (18) قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ حالانکہ اس زبان پر عربی وفارسی کے اثرات ہیں لیکن عربی وفارسی کے برعکس یہ ہندی کی طرح ایک ہند آریائی زبان ہے جو برصغیر ہند میں پید اہوئی اور یہیں اس کی ترقی ہوئی ۔ اردو اور ہندی دونوں جدید ہند آریائی زبانیں ہیں اور دونوں کی اساس یکساں ہیں، صوتی اور قواعدی سطح پر دونوں زبانیں اتنی قریب ہیں کہ ایک زبان معلوم ہونے لگتی ہیں لیکن لغوی سطح پر دونوں نے مختلف ذرائع سے اتنا زیادہ مستعار لیا ہے (اردو نے عربی اور فارسی سے، ہندی نے سنسکرت سے) کہ رواج اور طریقۂ استعمال کی سطح پر حقیقتاً دونوں کی شناخت علاحدہ اور خود مختار زبانوں کے طور پر ہوتی ہے۔ یہ فرق رسم الخط کی سطح پر کافی نمایاں ہے۔ ہندی کا رسم الخط دیونا گری ہے، جب کہ اردو کا رسم الخط فارسی وعربی ہے جس میں ہند آریائی زبان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مقامی طورپر ترمیم واضافہ کیا گیا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق اردو اور ہندی کے بولنے والوں کو ملا کر دیکھیں تو یہ دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولے جانے والی لسانی آبادی ہے۔

اردو، پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ سرکاری اسکولوں، ضلع انتظامیہ اور عوامی ذرائع ابلاغ میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں 1981 کی مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں اردو بولنے

والے کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ خاص کر کراچی اور پنجاب میں اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ40 لاکھ (ہندوستان کی مردم شماری، 1991) ہے۔ سب سے زیادہ اردو بولنے والے اُتر پردیش میں ہیں۔ اس کے بعد بہار، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور کرناٹک کا نمبر آتا ہے۔ مشترکہ طورپر ان ریاستوں میں پورے ملک میں اردو بولنے والوں کی 85، فیصدی آبادی رہتی ہے۔ شہر ِدہلی ابھی بھی اردو ادب او ر طباعت کا بڑا مرکز ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے متصل ملکوں مثلاً افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی اردو بولی جاتی ہے۔ برصغیر ہندوپاک سے باہر خاص طور سے خلیجی ممالک، مشرق وسطی، مغربی یوروپ، اسکینڈنیوائی ممالک (ڈنمارک، ناروے، سوئڈین)، امریکہ اور کناڈا میں اردو، جنوبی ایشیا کے مہجری مسلمانوں کی تہذیبی زبان اور لنگوا فرینکا بن چکی ہے

تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے بعد مسلمانوں کی آمد سے ہوتی ہے۔ یہ زبان شمال مغربی ہندوستان کی علاقائی اپ بھرنشوں سے رابطے کی زبان کے طورپر اُبھری۔ اس کے پہلے بڑے عوامی شاعر عظیم فارسی داں امیر خسرو (1325-1253) ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اس نئی زبان میں دوہے، پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں کہیں۔ اس وقت اس زبان کو ہندوی کہا جاتا تھا۔ عہد وسطی میں اس مخلوط زبان کو مختلف ناموں سے جانا گیا۔ مثلاً ہندوی، زبان ہند، ہندی، زبانِ دہلی، ریختہ، گجری، دکنی، زبانِ اردوئے معلّٰی، زبان اردو، اردو۔ اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ گیارہویں صدی کے اواخر میں ‘ہندوستانی’ نام مروج تھا جو بعد میں ارد کا مترادف بن گیا۔ لغوی اعتبار سے اردو (اصل میں ترکی زبان کا لفظ ہے) کے معنی چھاؤنی یا شاہی پڑاؤ کے ہیں۔ یہ لفظ دہلی شہر کے لیے بھی مستعمل تھا جو صدیوں مغلوں کی راجدھانی رہی۔ ان سب باتوں کے باوجود اردو کے بڑے قلم کار انیسویں صدی کے آغاز تک اپنی زبان اوربولی کو ہندی یا ہندوی کہتے ہیں

ردو اور ہندی میں تفریق نوآبادیاتی اثرات کے تحت رونما ہوئی جب سیاسی جدید کاری کے عمل کے تحت تہذیبی شعور میں اضافہ ہونے لگا۔ درحقیقت اس کی شروعات فورٹ ولیم کالج (قیام 1800)، کلکتہ میں جان گلکرسٹ (1841-1789) کی سر براہی میں ہوگئی تھی۔ اس بات کے واضح اور وافر ثبوت ملتے ہیں کہ برطانوی حکمرانوں نے پہلے تو ‘ہندی’ کی اقسام کے سوال کو تہذیبی ورثے اور سماجی درجات سے منسلک کردیا اور بعد میں اسے مذہب اور سیاسی رسہ کسی سے جوڑ دیا۔ لہٰذا، یہ فورٹ ولیم کالج ہی تھا جہاں ادبی نثر نگاری کے دو منفرد رجحانات سامنے آئے۔ ایک طرف تو اردو نثر کے طورپر میرامن کی ‘‘باغ وبہار ’’ (1802-1800) اور حیدر بخش حیدری کی ‘‘آرائش محفل’’ (1804-1802) سامنے آئی تو دوسری جانب للّو لال کا ‘‘پریم ساگر’’ اور سادل مشرا کا ‘‘ناسکیٹو پکھیان’’ ہندی نثر کے نمونے ٹھہرے۔ بعد میں ہندوستان کی تحریک آزادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ مہاتما گاندھی نے زبان کے مسئلے کی فرقہ واریت اور انگروزوں کے ذریعے اس سیاسی رنگ دیے جانے کو محسوس کیا۔لہٰذا انھوں نے دونوں رسم الخط میں لکھی جانے والی‘‘ہندوستانی’’ کےمشترکہ تصور کو ملک کی قومی زبان بنائے جانے کی حمایت کی۔ یہاں پر اس امر کا بیان دلچسپی کا حامل ہوگا کہ مہاتما گاندھی کی تجویز کہ ہندوستانی، مشترکہ تہذیب کی زبان ہے، سےکا فی پہلے راجا شیوپرساد نے 1857 میں قواعد کی اپنی کتاب میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ ہندی اور اردو میں ملکی سطح پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ‘‘اس نامعقولیت کی شروعات ڈاکٹر گلکرسٹ کے عہد کے مولویوں اور پنڈتوں سے ہوئی۔ انھیں بالائی ہندوستان کی مشترکہ بولی کے قواعد بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن انھوں نے دو قواعد لکھ ڈالے۔۔۔۔ اس کے مضر اثرات یہ رونما ہوئے کہ ملکی زبان کے ایک قواعد کے بجائےــــــ قواعد کی دو مختلف اور متضاد درسی کتابیں تیار ہوگئیں، ایک مسلمان اور کایستھ لڑکوں کے لیے اور دوسری برہمن اور بنیوں کے لیے’’ (سریواستو، ص:30) ۔ تفریق کی بیج بودی گئی تھی، تہذیبی نشاۃ ثانیہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے لسانی تفریق کی جڑیں مضبوط ہونے لگیں۔ تقسیم کے بعد ہندوستانی کے تصور کی کوئی سرکاری پذیرائی نہیں ہوئی لیکن یہ مشترکہ بنیادی زبان عوام الناس کے دلوں پر راج کرتی رہی۔ حقیقت میں یہ زبان عوامی تہذیب کی سطح پر ترسیل کا ذریعہ ہے اور فلموں اور تمام طرح کے تفریحی پروگرام میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔

اردو میں قواعد اور لغت سازی کی روایت تقریباً تین سو سال پرانی ہے۔ ابتدا میں یوروپی مستشرقین نے اس پر توجہ دی جس کا سلسلہ 17 ویں صدی میں ولندیزی اسکالر کیٹیار (Keteiaar) شروع ہو کر شولز (;Schultze;1744) ، فرگوسن(Ferguson;1773)، گلکرائسٹ (;Gilchirst;1800)، شیکسپیر (Shakespeare,1817)، فوربس (Forbes;1848)، فیلن (Fallon;1879)، پلاٹس (Platts;1884)، وغیرہ سے ہوتا ہوا بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں گریرسن (Grierson) تک جاری رہا۔ پلاٹس کا کام (لغت) کلاسک کادرجہ حاصل کرچکا ہے اور اسے متعدد بار شائع کیا جاچکا ہے۔ گریرسن کے ‘‘لنگوئسٹک سروے آف انڈیا’’ کا کوئی متبادل نہیں ، لیکن دوسروں کے کام کی حیثیت تاریخی ہوکر رہ گئی ہے۔ مقامی سطح پر دیکھیں تو سید احمد دہلوی کی فرہنگِ آصفیہ (1908-1895)، نور الحسن نیّر کا کوروی کی نوراللغات (31-1924)، فیروز الدین کی جامع اللغات (1934) اور بابائے اردو عبد الحق کی اسٹینڈرڈ انگلش اردو ڈکشنری (1937) اہم ہیں۔
بعد میں جدید لسانیات کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں اور اردو کو قومی زبان کا نیا درجہ ملنے اور جنوبی ایشیا ئی مہجری آبادی کے تہذیبی رابطے کے آلے کے

طورپر اردو میں نئی تحقیق کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہوتا رجارہا ہے۔ جدید اسکالر مثلاً ایم۔ اے۔ آر۔ بارکر (M.A.R. Barkar)، آر۔ ایس میک گریگر (R.S.Mc Gregor)، رالف رسل (Ralph Russel)، کرسٹو فرشیکل (Christopher Shackle)، آر۔ این۔ سریواستو (R.N. Srivastava)، اشوک کیلکر (Ashok Kelkar)، یوگین گلاس مین (Eugene Glass Man)، ڈونالڈ بیکر (Donald Bicker)، بروس پرے (Bruce Pray)، سی ۔ ایم ۔ نعیم (C.M. Naim)، تیج بھاٹیا (Tej Bhatiya)، ہیلمٹ نیسپیٹل (Helmut Nespital)، وغیرہ کے کام اہمیت کے حامل ہیں۔ روتھ لیلیٰ شمٹ (Ruth Laila Schmidt) نے گوپی چند نارنگ کے تعاون سے اردو: این ایسنشیئل گرامر (1999) شائع کی جو اردو کی پہلی جامع اور حوالہ جاتی قواعد ہے۔

اردو ادب کا آغاز دہلی سے دور دکن میں پندرہویں ، سولھویں اور سترہویں صدی میں ہوا۔ شمال کے مغل حکمران عام طور سے فارسی کی سرپرستی کرتے تھے، جنوبی ہند (گولکنڈہ (موجودہ حیدر آباد ) اور بیجاپور) میں نئی زبان (اردو) کو دربار کی سرپرستی حاصل ہوئی جس کا پہلے پہل ادبی استعمال صوفیائے کرام اور عوامی شاعروں نے کیا۔اس وجہ سے اس کا نام دکنی پڑا۔ نظامی (1434-1421)کی مثنوی کدم راؤ پدم راؤ دکن میں شعری بیانیہ کا اولین نمونہ ہے۔ وجہی (وفات:1635) کی تصنیف سب رس ایک تمثیلی داستان ہے۔ اسے اردو میں ادبی نثر کا پہلا نمونہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ دکن کے اہم اور مشہور شعرا میں محمد قلی قطب شاہ (وفات:1626) ، غواصی ؔ(وفات:1631)، نصرتیؔ (وفات:1674)، ابن نشاطی (وفات:1655) اور ولی اورنگ آبادی (وفات:1707) وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ ولیؔ کے کلام سے متاثر ہوکر دہلی کے شعرا نے اردو میں شاعری کی شروعات کی اور اس زبان کو شاعری کے لیے اتنا ہی موزوں ماننے لگے جتنا فارسی کو مانتے تھے۔ اس نے اردو کی ترقی کے لیے راہ ہموار کردی۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی کو اردو کلاسیکی شاعری کا سنہرا دور کہا جاتا ہے جب زبان کی لطافت اور چاشنی اپنے عروج پر تھی۔ اس وقت کے قادر الکلام شعرا میں میرتقی میرؔ (وفات:1810)، سوداؔ (وفات:1718) ، خواجہ میر دردؔ (وفات:1784) انشا (وفات:1817)، مصحفیؔ (وفات: 1852)، ناسخ (وفات: 1838) آتشؔ (وفات:1847)، مومنؔ وفات:1852)، ذوق (وفات: 1854) اور غالبؔ (وفات:1869) کے نام اہم ہیں۔ یہ سبھی بنیادی طور سے غزل کے شعرا ہیں۔ مثنوی نگاری پر نظر ڈالیں تو میر حسن (وفات: 1786)، دیا شنکر نسیمؔ (وفات:1844) اور نواب مرزا شوق (وفات:1871) اعلیٰ مقام کے حامل ہیں۔ آگرہ میں بود وباش اختیار کرنے والے نظیر اکبر آبادی کو اردو کا عظیم عوامی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مرثیے کے میدان میں لکھنؤ کے انیس (وفات:1874) اور دبیر (وفات:1875) پر آج تک کوئی سبقت نہیں لے جاسکا ۔ غالبؔ جو کہ آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کے ہم عصر تھے، اُن کو کلاسیکی شعر ا کی کڑی کا آخری اور جدید شعرا کی کڑی کا پہلا شاعر تصور کیا جاتا ہے۔

ارد میں نثر کی شروعات اٹھارویں صدی میں ہوئی۔ غالبؔ کے خطوط نے جدید نثر کو معیار عطاکیے۔ بعد میں سر سید احمد خاں (وفات:1898)، محمد حسین آزاد (وفات: 1910)، حالیؔ (وفات:1914) اور شبلی (وفات: 1914) نے نثر نگاری کے میدان میں نمایاں رول ادا کیا۔ انیسویں صدی میں مختصر داستانوں مثلاً باغ وبہار (1802) اور رجب علی بیگ سرور کی داستان ‘فسانۂ عجائب’ (1831) نے ہزاروں صفحات اور متعدد جلدوں پر مشتمل طول طویل اور ضخیم داستانوں مثلاً طلسم ہوش ربا اور داستانِ امیر حمزہ (1917-1881) کی جگہ لے لی۔ نذیر احمد (وفات: 1912)، رتن ناتھ سرشار (وفات: 1902) اور محمد ہادی رسوا (وفات: 1931) نے اردو میں ناول نگاری کی ابتدا کی۔ بیسویں صدی میں اردو ناول کو فروغ ملا۔ پریم چند (وفات: 1936) کے ناول ‘‘گودان’’ کو اردو میں کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ جدید کلاسیکی سرمایے میں سعادت حسن منٹو (وفات:1955) کے افسانے، قرۃ العین حیدر کا ناول ‘‘آگ کاد ریا’’ (1960) ، عبداللہ حسین کا ‘‘اُداس نسلیں’’ (1963)، راجندر سنگھ بیدی کا ‘‘ایک چادر میلی سی’’ (1962) اور انتظار حسین کا ناول ‘‘بستی’’ (1979) نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔

علامہ اقبال (وفات: 1938) کو بیسویں صدی کا سب سے عظیم شاعر ماناجاتا ہے۔ ن۔م۔ راشد (وفات: 1975) میراجی (وفات: 1949)، جوشؔ ملیح آبادی (وفات:1982)، فراق ؔ گورکھ پوری (وفات:1982)، فیض احمد فیضؔ (وفات:1984)، مخدوم محیؔ الدین، (وفات:1969) اور اختر الایمان (وفات: 1996) وغیرہ اس دور کے اہم شعرا ہیں۔ اگر مضمون نگاروں، غیر افسانوی نثر نگاروں، ادبی ناقدین اور محققین پر نظر ڈالیں تو بابائے اردو مولوی عبد الحق (وفات:1961) ابوالکلام آزاد (وفات: 1958)، پطرس بخاری (وفات: 1958) محمود شیرانی (وفات: 1946)، شیخ محمد اکرام (وفات:1973)، سید محمد عبد اللہ (وفات:1986)، مسعود حسین رضوی ادیب (وفات:1975)، عابد حسین (وفات: 1978)، کلیم الدین احمد (وفات: 1983)، احتشام حسین (وفات: 1972)، محمد حسن عسکری (وفات: 1978)، امیتاز علی خان عرشی (وفات: 1981)، قاضی عبد الودد (وفات: 1984)، مالک رام (وفات: 1993)، کنہیا لال کپور (وفات: 1980) اور رشید احمد صدیقی (وفات: 1977) وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔

AIOU Solved Assignment 2 Code 8661 Spring 2021

ANS 03

1

بعض اہل علم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اردو دکن میں پیدا ہوئی۔ کیوں کہ مسلمان اولا سندھ کے علاوہ مالا بار اور کارومنڈل کے ساحلوں پر بھی نمودار ہوئے تھے ان عربوں اور مقامی باشندوں کے درمیان میل ملاپ اور رسم و روابط کے نتیجے میں اردو کا آغاز و ارتقا ہوا۔

نصیر الدین ہاشمی نے “دکن میں اردو” (1923ء) لکھی جس میں انھوں نے ذکر کیا ہے

“اب یہ امر خاص طور سے غور طلب ہے کہ جب مسلمانوں نے مدتوں دکن میں بود باش کی تو ظاہر ہے کہ ایک خاص زبان کا پیدا ہونا ضروری تھا جو دونوں غیر قوموں کے لیے تبادلہ خیالات کا ذریعہ ہوتی۔ اس لحاظ سے جو دعوی اردو کے دکن سے پیدا ہونے کا کیا جاتا ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح ہو سکتا ہے۔”

نصیر الدین ہاشمی کے علاوہ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے بھی اپنے کتابچے “دکنی کی ابتدا” میں اردو کی ابتدا و نشو و نما کو سر زمین دکن میں بتایا ہے۔ لیکن اردو کے دکن میں پیدا ہونے کا نظریہ بھی کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ بحری راستوں سے جو عرب مسلمان دکن میں آئے تھے ان کا زیادہ تر سابقہ دراویڑی خاندان کی زبانوں مثلا ملیالم ،تامل اور کنڑ یا ان کی قدیم شکلوں سے پڑا۔ دراویڑی زبانوں اور عربی زبانوں کے میل سے (جو الگ الگ لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں) ایک تیسرے لسانی خاندان یعنی ہند آریائی سے تعلق رکھنے والی زبان اردو کے معرض وجود میں آنے کی بات کہنا محض قیاس آرائی ہی ہو سکتا ہے

پنجاب میں پیدا ہونے کا نظریہ

دسویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں دوسری بار مسلمان غزنی کے بادشاہ امیر سبکتگین کی زیر قیادت پنجاب میں داخل ہوئے۔ ہندستان میں دہلی سے لیکر کابل تک راجا جے پال کی حکومت تھی جس کا دار الخلافہ لاہور تھا۔ سبکتگین نے راجا جے پال کی فوجوں کو شکست دے کر پشاور اور پنجاب کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ 997ء میں امیر سبکتگین کا انتقال ہوا اس وقت تک حال میں موجودہ پورا افغانستان اور تقریبا پورا ہی پنجاب اس کے زیر نگیں تھا۔ سبکتگین کے بعد 1001ء سے 1027ء تک اس کے فرزند و جانشین محمود غزنوی کے پنجاب اور ہندستان کے دوسرے علاقوں پر لگاتار حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔اور لاہور وغیرہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرکے وہاں ایک ترکی حاکم کو مقرر کرنے کے بعد سلطان محمود غزنوی 1027ء میں غزنہ واپس چلا گیا جہاں 1030ء میں اس کا انتقال ہوجاتا ہے۔ غزنوی سلطنت کے قیام کے بعد رفتہ رفتہ مسلمان سارے پنجاب میں پھیل گئے۔ یہ سندھ میں وارد ہونے والے عرب مسلمانوں کے بر خلاف فارسی بولتے ہوئے آئے تھے ان میں سے کچھ کی مادری زبان ترکی تھی۔

مسلمانوں نے تقریبا دو سو سال تک یہاں قیام کیا۔ اس دوران مسلمانوں اور اہل پنجاب کے درمیان مضبوط میل جول اور رابطے رہے

اسی بنیاد پر حافظ محمود خاں شیرانی اپنی تحقیقی تصنیف “پنجاب میں اردو” (1928ء) میں لکھتے ہیں:

“اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے۔ اور چوں کہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے اپنے ساتھ کوئی زبان لے کر گئے ہوں گے”

اس بیان کے ثبوت میں پنجابی اور اردو بالخصوص قدیم دکنی اردو کی لسانی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

“ان کی تذکیر و تانیث اور جمع اور افعال کی تصریف کا اتحاد اسی ایک نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اردو اور پنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے، دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے اور جب سیانی ہوگئ ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے”

لیکن محمود شیرانی صاحب کے اس نظریے کو پروفیسر مسعود حسین صاحب نے اپنی تصنیف “مقدمہ تاریخ زبان اردو” میں یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ قدیم اردو اور دکنی کی جو خصوصیات شیرانی صاحب پنجابی سے منسوب کرتے ہیں وہ دہلی اور نواح دہلی کی بولیوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بہرکیف اردو کے پنجاب سے منسوب ہونے کے نظریے کو محمود شیرانی سے پہلے شیر علی خاں سر خوش نے بھی اپنے تذکرے “اعجاز سخن” (1923ء) بھی پیش کیا ہے۔ نیز اسی نظریے کو سید محی الدین قادری زور اپنی تصنیف “ہندوستانی لسانیات” (1932ء) میں اس طرح ذکر کرتے ہیں:

“اردو کا سنگ بنیاد در اصل مسلمانوں کی فتح دہلی سے بہت پہلے ہی رکھا جا چکا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے اس وقت تک ایک مستقل زبان کی حیثیت نہیں حاصل کی تھی جب تک کہ مسلمانوں نے اس شہر کو اپنا پایہ تخت نہ بنا لیا۔ اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہے کہ اردو اس زبان پر مبنی ہے جو پنجاب میں بارھویں صدی عیسوی میں بولی جاتی تھی۔”

پنجابی زبان کے مستند عالم ٹی۔ گراہم بیلی محمود شیرانی کے خیال سے اتفاق کرتے ہوئے رائل ایشیا ٹک سوسائٹی کے مجلے میں لکھتے ہیں “اردو 1027ء کے لگ بھگ لاہور میں پیدا ہوئی۔ قدیم پنجابی اس کی ماں ہے اور قدیم کھڑی بولی سوتیلی ماں۔ برج سے براہ راست اس کا کوئی رشتہ نہیں۔ مسلمان سپاہیوں نے پنجابی کے اس روپ کو جو ان دنوں دہلی کی قدیم کھڑی بولی سے زیادہ مختلف نہ تھا اختیار کیا اور اس میں فارسی الفاظ اور فقرے شامل کر دیے۔”

گراہم بیلی نے اس نقطہ نظر کو اپنی تصنیف ” اے ہسٹری آف دی اردو ٹریچر” میں بھی پیش کیا ہے

دہلی و نواح دہلی میں پیدا ہونے کا نظریہ

شہر دہلی چار بولیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ بولیاں ہریانوی، کھڑی بولی، برج بھاشا اور پنجابی ہیں۔ مسعود حسین خاں کے مطابق اردو کے ارتقا میں ان تمام بولیوں کے اثرات پڑتے رہے ہیں۔ ہریانوی نے قدیم اردو کی تشکیل میں حصہ لیا، کھڑی بولی نے جدید اردو کا ڈول تیار کیا، برج بھاشا نے اردو کا معیاری لب و لہجہ متعین کرنے میں مدد دی اور میواتی نے قدیم اردو پر اپنے بعض اثرات مرتسم کیے۔ ما حصل یہ کہ لسانیاتی تجزیے سے پروفیسر مسعود خان نے اپنے جس بنیادی نظریے کی تشکیل کی ہے وہ یہ ہے:

“نواح دہلی کی بولیاں اردو کا اصل منبع اور سر چشمہ ہیں اور حضرت دہلی اس کا صحیح مولد و منشا۔”

“مقدمہ تاریخ زبان اردو” (1948ء)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کے آغاز کے سلسلے میں دہلی و نواح دہلی کی تمام بولیوں میں ہریانوی کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور قدیم اردو کو براہ راست ہریانوی سے تشکیل پذیر بتایا ہے جس پر رفتہ رفتہ کھڑی بولی کے اثرات پڑتے ہیں۔لیکن پروفیسر مسعود حسین کے یہ خیالات 1987ء سے پہلے کے ہیں۔انھوں نے 1987ء کے بعد جب “مقدمہ تاریخ زبان اردو” کا جدید ایڈیشن (ساتواں ایڈیشن) تیار کیا تو اپنے نظریے میں بھی ترمیم کرلی جس کی رو سے اردو کے آغاز کے سلسلے میں ہریانوی کے بجائے کھڑی بولی کو اولیت حاصل ہو گئ

2

711ء میں محمد بن قاسم کی قیادت میں بری و بحری راستوں سے سب سے پہلے مسلمان سندھ میں داخل ہوئے۔ سندھ کا حکم راں راجا داہر تھا۔ عرب مسلمانوں نے سندھ کو فتح کیا اور اسے اسلامی حکومت کا صوبہ بنا دیا۔ تقریبا تین سو سال تک مسلمان وادی سندھ میں مقیم رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران مسلمان اور مقامی باشندے ایک دوسرے سے میل جول اور سماجی روابط رکھتے تھے۔ اسی لئے سلیمان ندوی اردو کی جائے پیدائش وادی سندھ کو قرار دیتے ہوئے “نقوش سلیمانی” (1939ء) میں لکھتے ہیں:

“مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچتے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں اس کا ہیولی اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا”

لیکن علمی اور لسانیاتی نقطہ نظر سے اس بیان میں صداقت نہیں۔ عربوں نے وادی سندھ میں اپنے قیام کے دوران کسی نئ زبان کو جنم نہیں دیا تھا بلکہ اس خطے میں بولی جانے والی زبان کو متاثر کیا تھا

وہ اسی زبان کی قدیم شکل تھی جسے آج سندھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ سندھی زبان میں عربی زبان کے الفاظ بکثرت پائے جاتے ہیں

AIOU Solved Assignment Code 8661 Spring 2021

ANS 04

1

حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ ۴ رجب ۷۲۱ھ ؁ کے مطابق ۱۳۲۱ء ؁ میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام سید محمد حسینی تھا۔ آپ کے القاب سید گیسودراز، بندہ نواز، شہباز، بلند پرواز ، محرم راز و نیاز تھے۔ جب محمد بن تغلق نے اپنا دارالخلافہ دولت آباد منتقل کیا تو خواجہ بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے والدین کے ساتھ دولت آباد تشریف لائے ۱۳۵۶ھ ؁ میں حضرت پیر نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت لی اور ۱۴۰۰ء ؁ میں فیروز شاہ بہمنی کی دعوت پر گلبرگہ تشریف لے آئے۔ آپ نے شہر گلبرگہ میں درس و تدریس، تصنیف و تالیف کی خدمات میں ۲۲ سال گزار دیئے اور ۱۶ ذیقعدہ ۸۲۵ کے مطابق یکم نومبر ۱۴۲۲ء ؁میں وصال فرمایا۔ سلطان احمد بہمنی نے حضرت خواجہ کے مزار مبارک پر ایک شاندار اور بلند گنبد تعمیر کروایا، اس قدر بلند گنبد ہندوستان کے کسی بزرگ کی مزار پر تعمیر نہ ہوا۔ گنبد کی یہ شاندار تعمیر حضرت خواجہ سے سلطان احمد کی انتہائی عقیدت اور محبت کا ثبوت ہے۔ گنبد اور دیواروں کے اندرونی حصوں کو طلائی نقش و نگار سے آراستہ کیا گیا ہے اور دیواروں پر طلائی حصوں میں قرآن پاک کی آیتیں اور اسمائے حسنیٰ تحریر کروائے گئے ہیں۔
حضرت خواجہ بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کا عرس ۶۰۰ برس سے منایا جارہا ہے۔ قرآن خوانی، فاتحہ خوانی، مواعظ کا سلسلہ ، مجالس سماع ، رسمِ صندل مالی ، فاتحہ بائیس خواجگان ، علمی مذاکرہ (سمینار) وغیرہ اس عرس شریف کے نظام العمل میں شامل ہیں۔ عرس شریف کے دوران زائرین بلالحاظ مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں عقیدت و احترام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور بارگاہِ بندہ نواز کے فیضان سے مستفید ہوکر لوٹتے ہیں۔ عرس حضرت خواجہ بندہ نواز سے منسلک ایک کل ہند صنعتی نمائش کا روایتی رواج بھی ہے۔
آپ نہ صرف باکمال صوفی تھے، بلکہ جید عالم بھی تھے۔ علومِ قرآن و حدیث و وفقہ اور کلامِ تصوف میں دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو عربی، فارسی، ہندی اور سنسکرت کے علاوہ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ آپ کی تعلیمات میں پیر و مرید کی بہت اہمیت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’مرید اپنے پیر کے دل میں خدا کا نظارہ کرتا ہے اور پیر اپنے مرید کے دل میں خود کو دیکھتا ہے۔‘‘ خواجگانِ چشت کا طریقہ رہا کہ محبتِ الٰہی کو ماسوا پر غالب کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مسلک تھا۔ حضرت خواجہ صاحب نے اسماء الاسرار میں انسان کے عالمِ وجود میں آنے کا اصل مقصد خدا کی محبت و معرفت کے صلہ کا حصول قرار دیا۔ خواجگانِ چشت کے اہل حصول محبت کے ترین طریقے رہے ہیں: (۱) ذکر (۲) مراقبہ (۳) رابطہ یا محبت۔ شیخ حضرت بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان ہی طریقوں سے سالکین کی تربیت کی ہے۔ آپ نے بے شمار کتابیں تصنیف کیں۔ روایتوں کے مطابق آپ کی تصانیف کی تعداد ۱۰۵ تا ۱۲۵ بتائی گئی ہے۔ آپ نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے راگ اور راگنیوں کے علاوہ لوریاں اور چکی ناموں کی صورت میں بھی عشق حقیقی اور عرفان کے مسائل پیش کیے ہیں۔ یہ لوریاں اور چکی نامے ہمارا قیمتی تہذیبی اثاثہ ہیں، جو آج بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہورہا ہے۔ یوں تو حضرت بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کی سبھی کتابیں اہمیت کی حامل ہیں، لیکن ’’آداب المریدین‘‘ جس کا اردو ترجمہ ’’خاتمہ‘‘ کے نام سے کیا گیا ہے، اس کتاب کا شمار تصوف کی انتہائی مقبول اور مفید کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ کتاب سالکین کے لیے ایک دستورِ عمل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کتاب میں تقویٰ و طہارت ، فرائض و نوافل ، صوم و صلوٰۃ اور آدابِ زندگی کے تمام امور پر ہدایات کی گئی ہیں۔

2

آپ کا مولد مکہ مکرمہ اور مدفن بیجاپور ہے۔ شمس العشاق سے سن وفات ۹۰۲ ھ نکلتا ہے۔ دکن کے اکابر علما و صوفیہ میں شمار ہوتا ہے۔ آپ کے خاندان کی نسبت بابائے اُردو مولوی عبدالحق اپنی تصنیف ’’اُردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ یہ اسی خاندان کا اثر تھا کہ بیجا پور میں زبان کو اس قدر فروغ ہوا اور وہاں سے ایسے ایسے خوش بیان اور بلند خیال شاعر پیدا ہوئے، جن کی نظیر اُردو شاعری میں بہت کم ملتی ہے۔ ‘‘(۲۵) مریدوں کا حلقہ وسیع تھا۔ دکنی اُردو میں متعدد رسائل لکھے۔ نثر میں ’’شرح مرغوب القلوب‘‘، ‘‘جلترنگ‘‘ اور ’’گل باس‘‘ جب کہ نظم میں ’’خوش نامہ‘‘ اور ’’خوش نغز‘‘ قابل ذکر ہیں۔ (۲۶) ڈاکٹر جمیل جالبی نے ان کی تصانیف میں ’’مغز مرغوب‘‘ اور ’’شہادت التحقیق‘‘ بھی درج کی ہیں۔
بنیادی طور پرشمس العشاق صوفی تھے۔ انھوں نے اپنے مریدین ومتوسلین کی تالیفِ قلب کے لیے لکھا۔ اپنے کلام کو انھوں نے ’دوہا‘ کا نام ہی دیا ہے اور یہ فضا اور بحر کے اعتبار سے بھی دوہے کے قریب ہے۔ اپنی تصنیف ’خوش نامہ‘ کا تعارف یوں کرواتے ہیں :
اس خوش نامہ دھریا نام، دوہا ایک سو ستر
دسّا زیادہ پڑھے سوئے، تولھے خوشی کا چھتر(۲۷)
اس دوہے کے مطابق ’خوش نامہ‘ ایک سو ستر دوہوں پر مشتمل ہے۔ ’خوش‘ نامی لڑکی کے گرد یہ نظم گھومتی ہے۔ بھولی بھالی، خوش گلو، خوش شکل اور من موہنی یہ لڑکی چغتائی خاندان کا نور عین ہے اور صرف سترہ سال ایک ماہ نو دن کی عمر میں پیوندِ خاک ہو جاتی ہے۔ ’خوش نامہ‘ کی تخلیق کا سبب یہی دُکھ ہے۔ میراں جی اس صاف دل اور فطین لڑکی کی زبان سے یوں کہلواتے ہیں :
اب نا چھپوں، اب نا ڈروں، ڈروں تو کہاں لگ ڈروں !
ہمیں غریب نپائیے، تیرے آستھی، آسا دھروں
ماتا جی بالک تھی، رو سے جانا انھیں کدھر
آپ جس مارگ لاسے، میراں میں تو جاؤں تدھر(۲۸)
خالق و مالک کائنات کی موجودگی کا احساس اُس شریف النفس کومایوس نہیں ہونے دیتا اور وہ اللہ سے ہی لو لگا لیتی ہے۔ اُسی سے امیدیں رکھتی ہے۔ اس نظم کا خاتمہ ان دعائیہ دوہوں پر ہوتا ہے :
خوش خوش حالوں، خوش خوشیاں، خوشی رہے بھر پور
یہ خوش خوشیاں اللہ کیرا، نورا اعلیٰ نور
کھنڈ خوش، خوش نامہ تمت ہوا تمام
خوش سب کوئی دائم قائم، جیتا خواص و عوام(۲۹)
’خوش نغز‘ ایک مکالماتی انداز کی نظم ہے۔ اس میں خوش سوال کرتی ہے اور میراں جی جواب دیتے ہیں۔ ہر باب ’خوش پوچھی‘ یعنی خوش نے پوچھا اور ’خوش کہی‘ یعنی خوش نے کہا سے شروع ہوتا ہے۔ اس نظم میں علم و عرفاں سے لے کر حسن و عشق اور ان کے مصادر و منابع پر گفتگو ہوتی ہے۔ اس نظم میں عرفانِ روح، عرفانِ عالم، عرفان مراقبہ، عرفانِ ذوقِ نور، موتِ عارفاں، بحثِ عقل و عشق، بیانِ کرامات اور موحّد اور ملحد جیسے عنوانات پر بحث کی گئی ہے۔ یہ نظم بہتر دوہوں اور نو ابواب پر مشتمل ہے۔ باب ہفتم کا یہ حصہ دیکھیے :
خوش کہی مج کہو میراں جی ! عشق بڑا یا بودہ
پیر کہیں میں آکھوں، بیاں اسمے دھرنا سودہ

من کے کان دے کر سن ری بچن ٹیک ائیک
چنگی عشق بودہ کب سیتیں کیوں سلگائیں دیکھ

بودہ پردھان کہے سن راجے تج کوں عشق خطاب
جے تو کہیا نہ سنسی، میرا کیسو رہی حساب

عشق کہے سن عقل پریشاں اگنت اچھے راج
عاروس کیرا ناز بکاوے، باندی کیرا کاج

عقل کہے بن کریں سنگار زیے گیسو ناز
عشق کہے بن پرم پیا جی کی تو چھے ساز

بودہ کہے تو پرم پیا کا جے تو چھے سار
عشق کہے تو پرم پیا اُپسیر کھینچے ہار

بودہ کہے کچھ کھیلیا، لوڑی باچھیں ایسی بات
عشق کہے یہ کھیل کھلانا، سبھی اُس کے ہات

بودہ کہے یوں تسلیم ہونا تو کج پرت رہے
عشق کہے جؤ دینا بہتر، دوکھ یہ کون سہے

عشق بودہ کے بول بیان، کہیا خوش کے پاس
یہ گھن کمال گیسو بوجھے ہوئے خاص الخاص(۳۰)
ان دوہوں میں عشق اور عقل کی گرہیں کھولی گئی ہیں اورطرزسوال جواب والی رکھی گئی ہے۔ ہمارے یہاں صوفیہ کی روایت رہی ہے کہ وہ خود سوال پیدا کرتے ہیں اور پھر خود اُس کا جواب دیتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت واضح ہے۔ ان دوہوں سے مستقبل میں اُردو دوہے کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ شمس العشاق کی روش ایک طرح سے آنے والوں کے لیے نشانِ راہ ہے اور یہ کلام خمیر کی صورت میں حرفِ آیندہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ موضوعات کے ساتھ تکنیک اور ہیئت کے اعتبار سے ان کا کلام آنے والوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ یہ تنوع اور بوقلمونی بعد میں آنے والوں کے یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

Free AIOU Solved Assignment Code 8661 Autumn 2021

ANS 05

اردو کے آغاز و ارتقا کا سلسلہ عام طور پر ہندستان میں مسلمانوں کی آمد اور یہاں قیام کرنے سے جوڑا جاتا ہے جو بڑی حد تک درست ہے۔ اردو کے آغاز کا مسئلہ علمائے محققین و ماہرین لسانیات کے نزدیک مختلف فیہ رہا ہے۔ لیکن جدید تحقیق اور لسانیاتی نقطہ نظر نے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ اردو کب، کہاں اور کیسے پیدا ہوئی۔ مندرجہ ذیل سطور میں ہم اس مسئلے پر مختصر روشنی ڈالیں گے

ملواں زبان ہونے کا نظریہ

اردو کے آغاز کے بارے میں سب سے پہلے میر امن نے باغ و بہار (1803ء) کے دیباچے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ در اصل جو لوگ لسانیات سے کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے، ہند آریائی زبانوں کے تاریخی ارتقا نیز ان کے صرفی و نحوی اصولوں اور صوتی تبدیلیوں پر نظر نہیں رکھتے وہ جب بھی اردو زبان کے آغاز و ارتقا پر غور کرتے ہیں تو محض قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں اور بالعموم یہ غلطی کر جاتے ہیں کہ اردو کو ایک کھچڑی یا ملواں زبان قرار دیتے ہیں۔ یعنی ایسی زبان جو مختلف زبانوں کے لفظوں سے اختلاط پاکر ایک تیسری زبان کی شکل میں ظہور پذیر  ہوئی ہو۔ میر امن نے بھی باغ و بہار (1803ء) کے دیباچے میں کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ “جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم قدر دانی اور فیض رسانی اس خاندان لاثانی کی سن کر حضور میں آکر جمع ہوئے۔ لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدی جدی تھی۔ اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین، سودا سلف،سوال جواب کرتے، ایک زبان اردو کے مقرر ہوئی”

امام بخش صہبائی نے بھی اردو کی پیدائش کے سلسلے میں فارسی اور ہندی الفاظ کے خلا ملا کی بات کہی ہے۔

لیکن یہ نظریہ غلط تھا کیوں کہ لسانیات کا مسلمہ اصول ہے کہ زبان اپنی اصل، اپنی ساخت اور بنیاد نیز اپنے اصول و قواعد سے پہچانی جاتی ہے نہ کہ سرمایہ الفاظ سے۔

برج بھاشا سے پیدا ہونے کا نظریہ

اس کے بعد مولانا محمد حسین آزاد نے (1880ء) میں آب حیات لکھی اس میں میر امن سے ہٹ کر اپنا الگ نظریہ پیش کیا۔ محمد حسین آزاد اپنی کتاب “آب حیات” (1880ء) میں لکھتے ہیں کہ “اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا خاص ہندستانی زبان ہے۔”

یہ نظریہ سب سے پہلے ہند آریائی لسانیات کے بڑے ماہر شخص روڈولف ہیور نلے نے پیش کیا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ سید شمس اللہ قادری نے رسالہ “تاج اردو” کے قدیم نمبر میں ذکر کیا ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی کئ مصنفین نے یہی نظریہ پیش کیا ہے۔ لیکن اس نظریے کی تردید پروفیسر مسعود حسین خان نے “مقدمہ تاریخ زبان اردو” میں اور شوکت سبزواری نے “داستان زبان اردو” میں کھل کر کی ہے اور دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ برج بھاشا اور اردو کے درمیان بہنوں کا رشتہ ہے نہ کہ ماں بیٹی کا۔ مسعود حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ آزاد نے محض روایتی طور پر برج کو اردو کا ماخذ بتایا ہے کیوں کہ وہ ماہر السنہ نہ تھے اور نہ ہی نواح دہلی کی بولیوں کے نازک اختلافات سے واقف تھے۔ اسی لیے انھوں نے اپنے دعوے کے ثبوت میں نہ کوئی دلیل پیش کی نہ لسانی حقائق و شواہد سے بحث کی

وادی سندھ میں پیدا ہونے کا نظریہ

711ء میں محمد بن قاسم کی قیادت میں بری و بحری راستوں سے سب سے پہلے مسلمان سندھ میں داخل ہوئے۔ سندھ کا حکم راں راجا داہر تھا۔ عرب مسلمانوں نے سندھ کو فتح کیا اور اسے اسلامی حکومت کا صوبہ بنا دیا۔ تقریبا تین سو سال تک مسلمان وادی سندھ میں مقیم رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران مسلمان اور مقامی باشندے ایک دوسرے سے میل جول اور سماجی روابط رکھتے تھے۔ اسی لئے سلیمان ندوی اردو کی جائے پیدائش وادی سندھ کو قرار دیتے ہوئے “نقوش سلیمانی” (1939ء) میں لکھتے ہیں:

“مسلمان سب سے پہلے سندھ میں پہنچتے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں اس کا ہیولی اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا”

لیکن علمی اور لسانیاتی نقطہ نظر سے اس بیان میں صداقت نہیں۔ عربوں نے وادی سندھ میں اپنے قیام کے دوران کسی نئ زبان کو جنم نہیں دیا تھا بلکہ اس خطے میں بولی جانے والی زبان کو متاثر کیا تھا

وہ اسی زبان کی قدیم شکل تھی جسے آج سندھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ سندھی زبان میں عربی زبان کے الفاظ بکثرت پائے جاتے ہیں

دکن میں پیدا ہونے کا نظریہ

بعض اہل علم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اردو دکن میں پیدا ہوئی۔ کیوں کہ مسلمان اولا سندھ کے علاوہ مالا بار اور کارومنڈل کے ساحلوں پر بھی نمودار ہوئے تھے ان عربوں اور مقامی باشندوں کے درمیان میل ملاپ اور رسم و روابط کے نتیجے میں اردو کا آغاز و ارتقا ہوا۔

نصیر الدین ہاشمی نے “دکن میں اردو” (1923ء) لکھی جس میں انھوں نے ذکر کیا ہے

“اب یہ امر خاص طور سے غور طلب ہے کہ جب مسلمانوں نے مدتوں دکن میں بود باش کی تو ظاہر ہے کہ ایک خاص زبان کا پیدا ہونا ضروری تھا جو دونوں غیر قوموں کے لیے تبادلہ خیالات کا ذریعہ ہوتی۔ اس لحاظ سے جو دعوی اردو کے دکن سے پیدا ہونے کا کیا جاتا ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح ہو سکتا ہے۔”

نصیر الدین ہاشمی کے علاوہ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے بھی اپنے کتابچے “دکنی کی ابتدا” میں اردو کی ابتدا و نشو و نما کو سر زمین دکن میں بتایا ہے۔ لیکن اردو کے دکن میں پیدا ہونے کا نظریہ بھی کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ بحری راستوں سے جو عرب مسلمان دکن میں آئے تھے ان کا زیادہ تر سابقہ دراویڑی خاندان کی زبانوں مثلا ملیالم ،تامل اور کنڑ یا ان کی قدیم شکلوں سے پڑا۔ دراویڑی زبانوں اور عربی زبانوں کے میل سے (جو الگ الگ لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں) ایک تیسرے لسانی خاندان یعنی ہند آریائی سے تعلق رکھنے والی زبان اردو کے معرض وجود میں آنے کی بات کہنا محض قیاس آرائی ہی ہو سکتا ہے

پنجاب میں پیدا ہونے کا نظریہ

دسویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں دوسری بار مسلمان غزنی کے بادشاہ امیر سبکتگین کی زیر قیادت پنجاب میں داخل ہوئے۔ ہندستان میں دہلی سے لیکر کابل تک راجا جے پال کی حکومت تھی جس کا دار الخلافہ لاہور تھا۔ سبکتگین نے راجا جے پال کی فوجوں کو شکست دے کر پشاور اور پنجاب کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ 997ء میں امیر سبکتگین کا انتقال ہوا اس وقت تک حال میں موجودہ پورا افغانستان اور تقریبا پورا ہی پنجاب اس کے زیر نگیں تھا۔ سبکتگین کے بعد 1001ء سے 1027ء تک اس کے فرزند و جانشین محمود غزنوی کے پنجاب اور ہندستان کے دوسرے علاقوں پر لگاتار حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔اور لاہور وغیرہ کو اپنی سلطنت میں شامل کرکے وہاں ایک ترکی حاکم کو مقرر کرنے کے بعد سلطان محمود غزنوی 1027ء میں غزنہ واپس چلا گیا جہاں 1030ء میں اس کا انتقال ہوجاتا ہے۔ غزنوی سلطنت کے قیام کے بعد رفتہ رفتہ مسلمان سارے پنجاب میں پھیل گئے۔ یہ سندھ میں وارد ہونے والے عرب مسلمانوں کے بر خلاف فارسی بولتے ہوئے آئے تھے ان میں سے کچھ کی مادری زبان ترکی تھی۔

مسلمانوں نے تقریبا دو سو سال تک یہاں قیام کیا۔ اس دوران مسلمانوں اور اہل پنجاب کے درمیان مضبوط میل جول اور رابطے رہے

اسی بنیاد پر حافظ محمود خاں شیرانی اپنی تحقیقی تصنیف “پنجاب میں اردو” (1928ء) میں لکھتے ہیں:

“اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے۔ اور چوں کہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے اپنے ساتھ کوئی زبان لے کر گئے ہوں گے”

اس بیان کے ثبوت میں پنجابی اور اردو بالخصوص قدیم دکنی اردو کی لسانی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

“ان کی تذکیر و تانیث اور جمع اور افعال کی تصریف کا اتحاد اسی ایک نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اردو اور پنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے، دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے اور جب سیانی ہوگئ ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے”

لیکن محمود شیرانی صاحب کے اس نظریے کو پروفیسر مسعود حسین صاحب نے اپنی تصنیف “مقدمہ تاریخ زبان اردو” میں یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ قدیم اردو اور دکنی کی جو خصوصیات شیرانی صاحب پنجابی سے منسوب کرتے ہیں وہ دہلی اور نواح دہلی کی بولیوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بہرکیف اردو کے پنجاب سے منسوب ہونے کے نظریے کو محمود شیرانی سے پہلے شیر علی خاں سر خوش نے بھی اپنے تذکرے “اعجاز سخن” (1923ء) بھی پیش کیا ہے۔ نیز اسی نظریے کو سید محی الدین قادری زور اپنی تصنیف “ہندوستانی لسانیات” (1932ء) میں اس طرح ذکر کرتے ہیں:

“اردو کا سنگ بنیاد در اصل مسلمانوں کی فتح دہلی سے بہت پہلے ہی رکھا جا چکا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے اس وقت تک ایک مستقل زبان کی حیثیت نہیں حاصل کی تھی جب تک کہ مسلمانوں نے اس شہر کو اپنا پایہ تخت نہ بنا لیا۔ اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہے کہ اردو اس زبان پر مبنی ہے جو پنجاب میں بارھویں صدی عیسوی میں بولی جاتی تھی۔”

پنجابی زبان کے مستند عالم ٹی۔ گراہم بیلی محمود شیرانی کے خیال سے اتفاق کرتے ہوئے رائل ایشیا ٹک سوسائٹی کے مجلے میں لکھتے ہیں “اردو 1027ء کے لگ بھگ لاہور میں پیدا ہوئی۔ قدیم پنجابی اس کی ماں ہے اور قدیم کھڑی بولی سوتیلی ماں۔ برج سے براہ راست اس کا کوئی رشتہ نہیں۔ مسلمان سپاہیوں نے پنجابی کے اس روپ کو جو ان دنوں دہلی کی قدیم کھڑی بولی سے زیادہ مختلف نہ تھا اختیار کیا اور اس میں فارسی الفاظ اور فقرے شامل کر دیے۔”

گراہم بیلی نے اس نقطہ نظر کو اپنی تصنیف ” اے ہسٹری آف دی اردو ٹریچر” میں بھی پیش کیا ہے

دہلی و نواح دہلی میں پیدا ہونے کا نظریہ

شہر دہلی چار بولیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ بولیاں ہریانوی، کھڑی بولی، برج بھاشا اور پنجابی ہیں۔ مسعود حسین خاں کے مطابق اردو کے ارتقا میں ان تمام بولیوں کے اثرات پڑتے رہے ہیں۔ ہریانوی نے قدیم اردو کی تشکیل میں حصہ لیا، کھڑی بولی نے جدید اردو کا ڈول تیار کیا، برج بھاشا نے اردو کا معیاری لب و لہجہ متعین کرنے میں مدد دی اور میواتی نے قدیم اردو پر اپنے بعض اثرات مرتسم کیے۔ ما حصل یہ کہ لسانیاتی تجزیے سے پروفیسر مسعود خان نے اپنے جس بنیادی نظریے کی تشکیل کی ہے وہ یہ ہے:

“نواح دہلی کی بولیاں اردو کا اصل منبع اور سر چشمہ ہیں اور حضرت دہلی اس کا صحیح مولد و منشا۔”

“مقدمہ تاریخ زبان اردو” (1948ء)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کے آغاز کے سلسلے میں دہلی و نواح دہلی کی تمام بولیوں میں ہریانوی کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور قدیم اردو کو براہ راست ہریانوی سے تشکیل پذیر بتایا ہے جس پر رفتہ رفتہ کھڑی بولی کے اثرات پڑتے ہیں۔لیکن پروفیسر مسعود حسین کے یہ خیالات 1987ء سے پہلے کے ہیں۔انھوں نے 1987ء کے بعد جب “مقدمہ تاریخ زبان اردو” کا جدید ایڈیشن (ساتواں ایڈیشن) تیار کیا تو اپنے نظریے میں بھی ترمیم کرلی جس کی رو سے اردو کے آغاز کے سلسلے میں ہریانوی کے بجائے کھڑی بولی کو اولیت حاصل ہو گئ

کھڑی بولی سے پیدا ہونے کا نظریہ

اردو کے آغاز سے متعلق اب تک کا سب سے اہم نظریہ پروفیسر مسعود حسین خان کی تحقیقی روشنی کے مطابق یہ ہے کہ اردو بارھویں صدی کے آخر میں 1193ء کے بعد دہلی و نواح دہلی میں کھڑی بولی سے تشکیل پذیر ہوئی جس پر ابتدا میں ہریانوی کے اثرات پڑے۔ مسعود حسین خان کا یہی نظریہ اب تک کا سب سے ٹھوس اور قابل قبول نظریہ ہے جسے لسانیاتی بنیادوں پر چیلینج نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس کے علاوہ سارے نظریے لسانیاتی بنیادوں پر رد کیے جا چکے ہیں۔ ہمارے عہد کے بیشتر عالموں، دانشوروں اور لسانیات دانوں نے بھی کھڑی بولی کو ہی اردو کی اصل قرار دیا ہے۔ مثلا گیان چند جین اپنے مضمون “اردو کے آغاز کے نظریے” میں لکھتے ہیں:

“اردو کی اصل کھڑی بولی صرف کھڑی بولی ہے۔ کھڑی بولی دہلی اور مغربی یو پی کی بولی ہے۔”

شوکت سبزواری نے اپنی تصنیف “داستان زبان اردو” (1961ء) میں اردو کے آغاز سے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق اردو ہندستانی یا کھڑی بولی سے ترقی پاکر بنی ہے۔ وہ کھڑی بولی اور ہندستانی کو ایک ہی زبان تصور کرتے ہیں اور اردو کو اس کی ادبی شکل مانتے ہیں۔ سہیل بخاری کا قدیم نظریہ بھی تقریبا وہی تھا جو شوکت سبزواری کا ہے۔ سہیل بخاری لکھتے ہیں کہ “در اصل اردو اور ہندی ایک ہی زبان کے دو روپ ہیں جسے ماہرین زبان نے کھڑی بولی کا نام دیا ہے”۔

جارج ابراہم گریرسن نے بھی اردو کا ارتقا کھڑی بولی سے بتایا ہے۔ ان کے علاوہ بھی دیگر بہت سے محققین و مصنفین نے اردو کی ابتدا و ارتقا کو کھڑی بولی سے بتایا ہے۔

در حقیقت اپ بھرنش کے آخری دور کے نمونوں میں کھڑی بولی کے ابتدائی نقوش کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ نمونے مشہور جین عالم ہیم چندر (1088ء تا 1172ء) کی قواعد “ہیم چندر شبد انوشاسن” (1155ء) میں نقل شدہ دوہوں پر مشتمل ہیں جن میں سے ایک دوہا یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

                  بھلا  ہو  آ ج ماریا بہنی  مہارا کنت                                  لجے جام ت وسیاہ جئ بھگا گھر انت

یعنی

“بھلا ہوا بہن جو میرا پیارا، سوامی، شوہر مارا گیا جو بھاگا گھر آتا تو ہم عمر سہیلیوں میں مجھے شرم آتی”

اس دوہے کا پورا کینڈا قدیم کھڑی بولی کا ہے جس کی قواعد کی کئ شکلیں اس میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اپ بھرنش کے آخری دور کے کچھ نمونے اس دور کی طویل رزمیہ نظموں میں بھی ملتے ہیں جنھیں راسو کہتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور “پرتھوی راج راسو” ہے۔ نیز کچھ ادبی نمونے بدھ سدھوں اور گورکھ پنتھی جوگیوں سے بھی منسوب ہیں۔ اپ بھرنش کے ان نمونوں کا جب ہم لسانیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ کس طرح مدھیہ دیشہ میں رائج اپ بھرنش اپنے ارتقا کے آخری دور میں بعض سیاسی،سماجی اور تہذیبی تبدیلیوں کے زیر سایہ بدلتی ہے اور کس طرح یہ لسانیاتی عمل دہلی و نواح دہلی کی بولیوں، کھڑی بولی اور ہریانوی بولی کے ارتقا کی راہیں ہموار کرتا ہے جو اردو کے آغاز کا سبب بنتی ہیں۔ اسی لیے مسعود حسین خان کے نزدیک اردو کا بنیادی ڈھانچا کھڑی بولی پر قائم ہے وہ لکھتے ہیں:

“اردو کے ڈانڈے آج بھی غزل تا گیت پھیلے ہوئے ہیں لیکن کھڑی بولی پر اس کی اساس کا ہونا شرط ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *