Free AIOU Solved Assignment Code 8662 Spring 2021

aiouguru

Free AIOU Solved Assignment Code 8662 Spring 2021

Download Aiou solved assignment 2021 free autumn/spring, aiou updates solved assignments. Get free AIOU All Level Assignment from aiouguru.

aiou solved assignment code 8662
aiou solved assignment code 8662

ANS 01

دبستان لکھنؤ کی تہذیب و معاشرت دبستان دہلی سے بالکل الگ ہے۔دلی کی معاشی اور اقتصادی حالت بہت خراب تھی۔جب سے اردو پروان چڑھی دہلی ہر قسم کی آفتوں کا نشانہ بنتی رہی یہی وجہ ہے کہ جعفرزٹلی سے لیکر غالب اور داغ تک تمام ممتاز شعراء شہر آشوب لکھتے رہے۔بہادر شاہ ظفر کے درد بھرے نالے اسکے گواہ ہیں۔ایسے حالات میں جب کہ بادشاہ سے لے کر فقیر تک معاشی بدحالی میں گرفتار ہوں، روز روز انقلابات ہو رہے ہوں۔ایسے مقام کے باشندوں پر مایوسی اور ناکامی کا ہونا لازمی ہے۔اس کے برخلاف لکھنؤ میں تمام طرح کی سہولتیں فراہم کی جارہی تھیں، عیش و عشرت کا بازار گرم تھا۔اس لیے وہاں کے لوگوں میں سرمستی اور رنگین مزاجی کا ہونا لازمی تھا۔ان کا نظریہ زندگی کے متعلق مثبت تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہلی میں تباہی تھی تو لکھنؤ میں تعمیر و ترقی۔اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہلی کی شاعری آہ و غم کی شاعری ہے اور لکھنو کی شاعری واہ اور خوش مزاجی کی شاعری ہے۔

دبستان دہلی کی شاعری میں روحانی یا دلی جذبات کی کارفرمائی ہے اور لکھنؤ میں ظاہری حسن اور سراپا کا ذکر ہے۔دہلی کی شاعری کے لئے دلگداز ہونا ضروری ہے جبکہ لکھنؤ میں صرف طبیعت کا موضوع ہونا۔دلی کے شعراء نے حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ ان کی شاعری داخلی ہے اسی لئے ان کے یہاں روحانی اور تصوفانہ مضامین زیادہ نظر آتے ہیں۔اس کے برعکس لکھنؤ کی شاعری میں سراپانگاری اور معاملہ بندی تک شعراء محدود نظر آتے ہیں۔

لکھنؤ کو مشرقی تمدن کا آخری نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔دراصل لکھنویت دہلویت کے مقابلے شعر و شاعری کا ایک دوسرا رخ ہے۔دہلی کے وہ شعراء جو لکھنؤ آ گئے تھے وہاں کی خوشحالی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔1765ء میں شجاع الدولہ نے فیض آباد کو دارالحکومت بنایا تو اس کی تعمیر میں لاکھوں روپے صرف کیے۔آصف الدولہ نے 1775ء میں لکھنؤ کو اپنا دارالحکومت بنایا تو وہ تمام شان شوکت لکھنؤ میں منتقل ہوگئی۔آصف الدولہ سے لے کر واجد علی شاہ تک کے زمانے کا لکھنؤ ایک رنگین خواب تھا اس لیے یہاں کے لوگوں میں رنگین مزاجی اور رنگین خیالی رچ بس گئی تھی۔اس ماحول نے وہاں کے شعراء کے خیالات کو بھی آلودہ کردیا اور آہستہ آہستہ فحاشی ایک مستقل صنف بن گئی اور فحش گوئی اور نسوانیت سے ملکر ‘ریختی’ کی بنیاد پڑی۔ریختی میں عورتوں کے احساسات و جذبات کو ان ہی کی زبان اور محاورے میں پیش کیا جاتا ہے۔

دبستان لکھنؤ کے شعراء نے اپنی تمام تر توجہ ظاہری خوبصورتی پر صرف کی،اندرونی احساسات و جذبات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔تکلف تصنع کو لکھنوی تہذیب و معاشرت میں زیادہ فوقیت دی گئی۔ناسخ کو لکھنوی شعراء میں استاد مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اصلاح زبان کی تحریک شروع کی اس کے پیش نظر انہوں نے ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کو خارج کرکے فارسی اور عربی کے الفاظ کو جگہ دی۔دبستان دہلی کے شعراء نے ہندی اور دوسری زبانوں سے بھی استفادہ کیا لیکن لکھنوی شاعری نے اصلاح زبان کے نام پر عربی اور فارسی کو اولیت دی۔لکھنوی شعراء کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے لغت پر زیادہ توجہ دی اور اسی کے مطابق زبان کی ادائیگی پر زور دیا۔جبکہ دہلی کے شعراء نے مروجہ زبان پر زیادہ توجہ دی۔

دبستان لکھنو میں مرثیہ کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔انیس اور دبیر نے اس صنف کو ترقی دی اور مرثیے کو رونے اور رولانے سے نکال کر نئی شکل عطا کی۔مدرسہ لکھنوی مزاج نے موسیقی اور رقص کو خاص طور سے اپنایا جس کی وجہ سے ڈرامائی نظم کی بنیاد ڈالی گئی۔دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ میں خاص فرق زبان کا ہے۔دلی میں بعض الفاظ جو مونث بولے جاتے تھے لکھنؤ میں مزکر کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دبستان دلی کے شاعری داخلی شاعری ہے اور دبستان لکھنؤ کی شاعری میں محبوب کی ظاہری صورت یا سراپا کو بیان کیا گیا ہے۔اپنا اصلی اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں دبستانوں کی اپنی اپنی شناخت ہے جس کی وجہ سے دونوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔

رات کو چوری چھپے پہنچا جو میں

غل مچایا اس نے دوڑو چور ہے

کچھ اشارہ جوکیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگا دن ہے ابھی رات کے وقت

AIOU Solved Assignment 1 Code 8662 Spring 2021

ANS 02

اردو نثر کی باقاعدہ شروعات دکن سے ہوئی۔یہ البتہ درست ہے کہ بول چال کی زبان وہاں شمالی ہند سے ہی پہنچی۔علاؤالدین خلجی پہلامسلمان بادشاہ تھا جس کی فوجیں دکن پہنچیں اور وہاں کے بہت بڑے علاقہ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔یہ بات تیرھویں صدی عیسوی کی ہے۔ ان فوجیوں کے ساتھ ہر طرح کے لوگ تھے ان میں صوفی بھی تھے اور مختلف پیشہ ور بھی۔یہ سب اپنے ساتھ بول چال کی ایک کھچڑی زبان لے گئے تھے۔ ان میں بہت سے صوفی، درویش، تاجر، پیشہ ور بس گئے اور یہی ملی جلی زبان بولتے تھے جسے آج اردو کہا جاتا ہے۔ اس زبان پر پنجابی، ہریانی اور کھڑی بولی کا اثر تھا اور اس میں عربی و فارسی کے بہت سے لفظ بھی شامل تھے۔یہ زبان ہندی، ہندوستانی، دکنی اور مختلف ناموں سے پکاری جاتی رہی۔

چودہویں صدی عیسوی میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا جب محمد تغلق نے دیوگری کو دولت آباد نام دے کر اپنا دارالسلطنت بنایا۔دہلی کے زیادہ تر باشندوں کو اس کے ساتھ دکن جانا پڑا کچھ عرصہ بعد دار السلطنت پھر شمالی ہند میں منتقل ہوگیا لیکن صوفیاءکرام، فقراء اور دوسرے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنہوں نے وہیں بس جانے کا فیصلہ کیا۔اس طرح شمالی ہند کی ملی جلی بولی کو، جسے آگے چل کر ہندی، ہندوستانی، دکنی کہا گیا دوسری بار دکن میں قدم جمانے کا موقع ملا۔

چودہویں صدی عیسوی کے آخر میں دکن میں بہمنی سلطنت قائم ہوگی۔بول چال کی اس زبان کو جو آج اردو کہلاتی ہے، بہمنی سلطنت کے زیر سایہ پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔ تاریخ فرشتہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں سرکاری کاموں کے لئے یہی زبان استعمال ہوتی تھی۔ وہاں اسے مقبول بنانے میں صوفیائے کرام کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔

ان صوفیوں میں پہلا نام خواجہ بندہ نواز گیسودراز کا ہے۔شمالی ہند میں ان کے مرید ہر طرف موجود تھے۔ اپنے پیام محبت کو عام کرنے کے لئے انہوں نے دور دور کا سفر طے کیا۔ 1339ء میں دلی سے گلبرگہ پہنچے یہاں ان کے عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہوگیا جن کی رہنمائی کے لیے وہ وعظ فرمایا کرتے تھے۔ اس وعظ کی زبان بول چال کی عام زبان ہوتی تھی جو اس وقت ہندی یا دکنی کہلاتی تھی اور آج اردو کہی جاتی ہے۔ ان کے اقوال اور نصائح نے تحریر کی شکل بھی اختیار کی اس طرح متعدد کتابیں وجود میں آئیں مگر زمانہ کے ہاتھوں برباد ہوگئیں۔ ایک کتاب”معراج العاشقین” موجود ہے جو ان کے نام سے منسوب ہے اسی طرح”شکارنامہ” اور “تلاوت الوجود” وغیرہ اور بھی کئی کتابیں ان سے منسوب ہیں مگر اہل نظر کا خیال ہے کہ یہ بعد کو کسی زمانے میں لکھی گئیں اور غلط طور پر خواجہ بندہ نواز سے منسوب کر دی گئیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے اکبر حسینی نے بھی تصوف کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں ہے۔

یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ بیجاپور کو ایک بزرگ میراں جی شمس العشاق نے اپنے تبلیغی کام کا مرکز بنایا۔اپنے مرشد کمال بیابانی کی ہدایت پر انہوں نے اپنے تبلیغی افکار کو عام بول چال کی زبان یعنی اردو میں قلمبند کیا۔کئی مختصر کتابیں ان سے منسوب ہیں ان میں سب سے اہم”مرغوب القلوب” ہے۔میراں جی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے ان کے بیٹے برہان الدین جانم نے جاری رکھا۔”کلمتہ الحقائق” “ہشت ۔سائل” اور “ذکر جلی” ان کی نثری تصانیف ہیں۔وہ اپنی زبان کو کہیں گوجری اور کہیں ہندی کہتے ہیں۔ان کے بیٹے خلیفہ امین الدین اعلی نے تبلیغ کے اپنے خاندانی انداز کو جاری رکھا۔اس خاندان سے عقیدت رکھنے والوں نے ان سے بھرپور تعاون کیا۔ جنوبی ہند میں مختلف مقامات پر خانقاہیں قائم ہو گئیں تھیں۔صوفیائے کرام کا پیام محبت دور دور تک پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی اردو کی ابتدائ شکل نے دکن میں خوب فروغ پایا۔”گنج مخفی”ان کی مشہور تصنیف ہے۔ امین الدین اعلی کے بعد انکے شاگردوں نے قابل قدر خدمت انجام دی۔

Check Also: aiou solved assignment code 8662

اردو نثر کے فروغ میں سترھویں صدی کو سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس صدی کے وسط کے ایک نامور شاعر و نثرنگار وجہی نے اپنی تخلیقات کے انمول سرمائے سے اردو ادب کو مالا مال کر دیا۔انھوں نے 1635ء میں اپنی نثری تصنیف “سب رس” مکمل کی۔سچ تو یہ ہے کہ اسے تصنیف نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ایک فارسی کتاب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔یہ ایک تمثیل ہے۔ مطلب یہ کہ چند چیزوں کو جسم عطا کرکے انہیں قصے کہانی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ حسن اور عشق، عقل اور دل، قلب اور نظر وغیرہ کو مجسم مان کر ایک ایسی داستان پیش کی گئی ہے جس سے اخلاقی تعلیم ملتی ہے۔سب رس کا اسلوب مقفی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں غیر معمولی سادگی اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ وجہ نے درست ہی لکھا ہے کہ “آج لگن کوئی اس جہاں میں، ہندوستان میں، ہندی زبان میں، اس لطافت،اس چھنداں سوں، نظم ہور نثر ملا کر، گلا کر یوں نیں بولیا، اس نبات کو یوں کوئی آب حیات میں نیں گولیا،یوں غیب کا علم نیں کھولیا،” غرض مواد اور اسلوب دونوں اعتبار سے ملا وجہی کی “سب رس” قدیم اردو نثر کا شہکار ہے۔

دکن میں سب رس کے بعد بھی نثری تصانیف کا سلسلہ جاری رہا۔مذہب و تصوف کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھی گئیں پنج تنتر اور ہتوپدیش کی کہانیوں کو”طوطی نامہ” کے نام سے پیش کیا گیا۔ یہ ترجمے براہ راست نہیں بلکہ فارسی سے کیے گئے لیکن ان کتابوں کو کوئی خاص ادبی مرتبہ حاصل نہیں ہوا۔

ادھر شمالی ہند میں اردو کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔بول چال کی زبان کے طور پر تو اس نے ایسا مقام حاصل کرلیا کہ کوئی اور زبان اس کے مدمقابل نہ رہی لیکن اہل قلم فارسی زبان میں لکھنے کو ہی باعث افتخار سمجھتے رہے۔اورنگزیب اور بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں میر جعفر زٹلی نے فارسی اور اردو کی ملی جلی زبان میں جو مزاحیہ انداز کے شعر کہے یا یوں بول چال کی نثر میں جو چھوٹے چھوٹے فقرے اور جملے کہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نئی زبان اپنی مقبولیت و توانائی کا ثبوت دینے لگی تھی۔

فضل علی فضلی کی “کربل کتھا” شمالی ہند کی پہلی نثری کتاب ہے جو 1731ء میں مکمل ہوئی۔17سال بعد فضلی نے اس پر نظرثانی کی۔اس وقت دستور تھا کہ محرم کی مجلسوں میں ملا حسین واعظ کاشفی کی فارسی کتاب”روضۃ الشہداء” پڑھی جاتی تھی جسے عام لوگ نہیں سمجھ پاتے تھے۔فضلی نے اسے عوام کی زبان میں منتقل کردیا۔اس میں کربلا کے واقعات اور شہادت کا پر ورد بیان ہے۔مصنف کا مقصد کوئی ادبی شاہکار پیش کرنا نہیں ہے۔اصل مدعا حصول ثواب ہے لیکن غیر ارادی طور پر انہوں نے ایک ایسی کتاب پیش کردی جسے اردو نثر کے ارتقاء میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

کربل کتھا میں فارسی عربی کے بہت سے لفظوں کا استعمال ہوا ہے۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ کسی مذہبی کتاب میں فارسی عربی کے الفاظ سے بچنا ممکن ہی نہ تھا۔دوسری بات یہ کہ اس زمانے میں شمالی ہند کی بول چال میں کثرت سے ان دونوں زبانوں کے لفظ استعمال ہوتے تھے۔کربل کتھا میں دکنی اردو کے کچھ لفظ اور محاورے بھی پائے جاتے ہیں۔اس سے بعض لوگوں نے یہ اندازہ لگایا کہ فضلی دکن کے رہنے والے تھے لیکن یہ خیال بے بنیاد ہے۔

قدیم اردو نثر کا ایک اہم نمونہ سودا کا دیباچہ ہے جو انہوں نے اپنے مجموعہ مراثی پر لکھا ہے۔اس پر فارسی نثر کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔زبان مقفی ہے اور فارسی عربی الفاظ کی کثرت ہے۔اس دیباچے نے بھی اردو نثر کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔سودا نے میر تقی میر کی مثنوی “شعلہ عشق” کو بھی اردو نثر میں منتقل کیا تھا جو اب دستیاب نہیں اس لیے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔

قدیم اردو نثر کے ارتقاء میں کلام پاک کے دو تراجم کا بھی ذکر ضروری ہے۔شاہ ولی اللہ دہلی کے ایک لائق احترام بزرگ تھے۔کلام پاک کے یہ دونوں ترجمے ان کے دو بیٹوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے قلم سے1784ء اور 1790ء میں وجود میں آئے۔مقصد یہ تھا کہ عربی سے واقفیت نہ رکھنے والے قرآن شریف کے مطالب سے واقف ہوسکیں۔اس طرح ان تراجم کی وجہ سے بھی اردو نثر کو کافی تقویت ملی۔ اردو نثر کی ترقی میں صوبہ بہار نے بھی قابل ذکر خدمات انجام دی زمانہ قدیم سے لیکر عہدحاضر تک اردو زبان اس خطہ ہند کے احسان سے گراں بار ہے کہ یہاں تسلسل کے ساتھ اردو شعر و ادب کی خدمت کی جاتی رہی ہے۔سترہویں صدی عیسوی سے ہی یہاں اردو نثر اور نظم کے نمونے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔ابتدائی تخلیقات زیادہ تر مذہبی نوعیت کی ہیں۔ ان میں شاہ عماد پھلواروی کا نثری رسالہ ‘سیدھا رستہ’ ظہور کا رسالہ ‘نماز’ اور محمد اسحاق کا رسالہ’معیتہ’ خاص طور پر اہم ہیں۔

اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخر میں اردو نثر کی جو سب سے اہم کتاب وجود میں آئی وہ میر حسین عطا تحسین کی “نوطرزمرصع” ہے۔یہ ایک فارسی داستان قصہ چہار درویش کا ترجمہ ہے۔تحسین کا وطن اٹاوہ تھا لیکن ملازمت کے سلسلے میں کافی عرصہ کلکتہ میں قیام رہا۔وہ ایک انگریز فوجی افسر کے میر منشی تھے۔اس افسر کے ولایت واپس جانے کے بعد تحسین نے فیض آباد کا رخ کیا۔فارسی زبان و ادب کا اچھا علم رہتے تھے اسی کی بدولت نواب شجاع الدولہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ تحسین کئی فارسی کتابوں کے مصنف ہیں مگر جس کارنامے نے انہیں زندہ جاوید بنادیا وہ “نو طرز مرصع” ہے۔اس کا اسلوب رنگین اور مقفی ہے۔ عربی فارسی الفاظ کی بھرمار نے اسے مشکل اور عام لوگوں کے لیے ناقابل فہم بنا دیا ہے۔تاہم اردو نثر کی تاریخ میں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ ہے اٹھارہویں صدی عیسوی تک اردو نثر کے ارتقاء کی مختصر کہانی۔اس کے بعد فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج نے اردو نثر کے ارتقاء میں بےحد خدمات انجام دیں اور اسے بام عروج پر پہنچایا

AIOU Solved Assignment 2 Code 8662 Spring 2021

ANS 03

مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی بدیسی طاقتوں نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے ریشہ دوانیاں شروع کر دی تھیں ۔انگریز، فرانسیسی اور پرتگیزی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔بالآخر ۱۸۵۷ء کی جنگ پلاسی نے ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا اور شمالی ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار قائم ہو گیا۔

یورپی اقوام نے بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا کہ ہندوستان زیادہ  دیر تک مغلوں کے زیر نگیں نہ رہ سکے گا اور کوئی یورپی قوم ہی اس پر حکمران ہوگی۔ اس حقیقت سے بھی سب واقف تھے کہ حاکم قوم کو آخرکار ہندوستانی زبانوں سے واقفیت ضروری ہوگی۔ اس وقت فارسی حکومت کی سرکاری زبان تھی۔ایک طبقے کی زبان سنسکرت بھی تھی لیکن ایک بول چال کی زبان تھی جسے سارے ملک میں بولا اور سمجھا جاتا تھا یہ ‘اردوز’ زبان تھی جسے ہندی اور ہندوستانی زبان بھی کہا جاتا تھا۔چنانچہ بعض بدیسیوں نے اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ نیز اپنے ہم وطنوں کو اسے سکھانا چاہا۔سب سے پہلے ایک ڈچ کیٹلر نے ۱۷۱۵ء میں ہندوستانی زبان کی قواعد سے متعلق چھوٹی سی کتاب لاطینی زبان میں لکھی۔

ایک پادری پنجمن شلر نے ۱۷۴۴ء میں ایک قواعد لکھی اور ۱۷۴۸ء میں انجیل کا اردو میں ترجمہ کیا۔گلسٹن، ہڑلے اور فرگوسن کے نام بھی قابل ذکر ہیں لیکن سب سے اہم کام ڈاکٹر جان گلکرسٹ کا ہے،جو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھے اور ۱۷۸۳ء میں ہندوستان آے۔ہندوستانی قواعد اور لغت کے سلسلے میں انہوں نے نہایت بیش قیمت کام کیا۔

ان سب کاموں نے ہندوستانی زبانوں کو سیکھنے کے لیے راستہ ہموار کردیا تھا لیکن انگریز تاجروں نے سمجھ لیا تھا کہ ان چھوٹی چھوٹی کتابوں سے کام نہیں چلے گا۔اب ہندوستانی کتابوں کو سیکھنے کا باقاعدہ بندوبست کرنا ہوگا۔چنانچہ جنوری ۱۷۹۹ء میں کلکتہ میں اورینٹل سمندری کا قیام عمل میں آیا۔اس میں انگلستان سے آنے والے انگریز افسروں کو اتنی ہندوستانی سکھائی جاتی تھی کہ وہ منشی سے فارسی پڑھ سکیں۔ آخر اس کو بھی ناکافی سمجھا گیا۔

ہندوستانکے مغل شہنشاہ شاہ عالم نے بنگال اور بہار کی مالگزاری وصول کرنے کا کام ایسٹ انڈیا کمپنی کو سونپ دیا تھا۔اس لیے نووارد انگریز افسروں کے لیے ہندوستانی زبانوں کی واقفیت زیادہ ضروری ہوگئی تھی۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گورنر جنرل نے کلکتہ میں ایک کالج قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

لارڈ ویلزلی کا یہ منصوبہ۱۰ جولائی ۱۸۰۰ء کو منظور ہوا۔لیکن اس پر ۴ مئی ۱۸۰۰ء کی تاریخ ڈالی گئی ۔کیونکہ ٤ مئی کو سرنگا پٹنم کی جنگ میں سلطان ٹیپو کو شکست ہوئی تھی اور ویزلی اس تاریخ کو انگریزی ہندوستان کی تاریخ میں امر کر دینا چاہتا تھا ۔کیونکہ اسی دن یہ فیصلہ ہوا تھا کہ آئندہ ملک کے حکمران انگریز ہونگے۔اور اسی دن یہ بات سمجھ لی گئی تھی کہ ملک پر راج کرنے کے لیے ملک میں بولی جانے والی زبانوں کو سمجھنا ضروری ہوگا۔۴مئی ۱۸۰۰ء اس کی پہلی سالگرہ تھی ۔

یہ کالج فورٹ ولیم نام کے قلعے میں قائم ہوا اس لئے فورٹ ولیم کالج کہلایا۔ لارڈ ویزلی نے کالج کے معاملات میں بہت دلچسپی لی۔انہوں نے کالج میں بہت سے شعبے قائم کیے اور لائق اساتذہ کا انتخاب کیا۔کالج کے پہلے پرنسپل ڈیوڈ براؤن مقرر ہوئے۔ڈاکٹرجان گلکرسٹ ہندوستانی زبان کے شعبہ کے صدر منتخب ہوئے۔ہندوستانی زبان سے اس وقت اردو زبان مراد لی جاتی تھی۔گلکرسٹ بہت ذہین اور محنتی انسان تھے انھوں نے بڑی محنت سے علم حاصل کیا تھا بہت شوق کے ساتھ اردو زبان سیکھی تھی اور کئی کتابیں لکھی تھیں۔ بعد کو وہ ایک کتاب میں لکھتے ہیں۔

“جس گاؤں میں اور جس شہر میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا وہاں میں نے زبان اردو کو مقبول پایا”۔

گلگرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں رہ کر اردو زبان کی زبردست خدمت کی۔انہی کی کوششوں سے کالج کے ساتھ ساتھ ایک بڑا کتب خانہ اور پریس بھی قائم کیا گیا جس میں نستعلیق ٹایپ سے کتابیں چھاپی جاتی تھیں ۔ جب کالج شروع ہوا اور اُردو پڑھانے کا وقت آیا تو ایک اور دشواری سامنے آئی۔معلوم ہوا کہ اردو میں ایسی کتابیں موجود نہیں جو کالج میں پڑھائی جا سکیں ۔اب ان اہل قلم کی تلاش شروع ہوئی جو کتابیں لکھنے کا کام انجام دے سکیں ۔مصنیفین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہار جاری کیا گے۔اس طرح گلگرسٹ کی کوشش سے کلکتہ میں سارے ملک کے ایسے اہل قلم جمع ہوگئے جو کتابیں لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ان میں میر امن، میر شیر علی افسوس، مرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی،میر حیدر بخش حیدری،کاظم علی جوان، نہال چند لاہوری،اور بینی نارائن جہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

کتابیں تیار ہونے لگیں تو انہیں چھاپنے کے لیے کتب خانے اور پریس قایم کیے گئے۔گلکرسٹ کی سفارش پر کالج میں قصہ خواں ملازم رکھے گےجو نووارد انگریزوں کو آسان زبان میں قصے سنا کر اردو کا ذوق بھی پیدا کرتے تھے ۔اور انھیں لفظوں کے درست تلفظ کی تربیت بھی دیتے تھے۔غرض اردو کے اس محسن نے اردو زبان کے فروغ کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ان کے بارے میں درست فرمایا ہے کہ:

“جو احسان ولی نے اردو شاعری پر کیا تھا وہی احسان گلگرسٹ نے اُردو نثر پر کیا ہے”.

گلکرسٹ کی خواہش تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کالج کی طرف زیادہ توجہ کرے اور اس کے اخراجات کے لیے زیادہ روپیہ منظور کرے۔ مگر کمپنی کی نظر تجارت پر تھی وہ روپیہ خرچ کرنا نہیں بلکہ کمانا چاہتی تھی۔آخر کار بد دل ہوکر ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے کالج سے استعفیٰ دے دیا اور جلد ہی وہ دن بھی آگیا جب کالج ہی بند ہوگیا کیونکہ کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز کالج کے اخراجات سے عاجز تھا ۔

 فوٹ ولیم کالج انگریزوں کو ہندوستانی زبان سکھانے کے لیے قائم ہوا تھا ۔اس لیے کالج میں جتنی کتابیں لکھی گئیں وہ عام ،فہم، آسان اور بول چال کی زبان میں لکھی گئیں ۔میر امن نے اس پر فخر کیا ہے کہ انہوں نے باغ و بہار بولی ٹھولی کی زبان میں لکھی ہے ۔

یہ درست ہے کہ کالج میں اعلی درجے کی کتابیں نہیں لکھی گئیں ۔قصے کہانیوں کی کتابوں پر زیادہ زور رہا اور ان میں بھی بیشتر تراجم ہیں۔دراصل کالج کا مقصد محدود اور ضرورت واضح تھی۔انہی کو پیش نظر رکھا گیا۔یہ بھی درست ہے کہ کالج میں جو کتابیں لکھی گئیں کالج سے باہر اس وقت ان کا چرچا نہیں ہوسکا لیکن ان کے اثرات دیرپا اور دور رس ثابت ہوئے۔ کالج کی کتابوں میں میر امن کی باغ و بہار،حیدر بخش حیدری کی آرائش محفل،مرزا علی لطف کا تذکرہ گلشن ہند،میر شیر علی افسوس کی باغ اردو،مرزا کاظم علی جوان کے ڈرامہ شکنتلا اور للو لال جی کی سنگھاسن بتیسی کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

فوٹ ولیم کالج میں سنسکرت کی طرف بھی توجہ دی گئی۔یہاں سنسکرت کے قصے بول چال کی زبان میں سنائے جاتے تھے تاکہ اردو کے مصنف ان کو اپنی زبان میں لکھ لیں اور للو لال جی جو سنسکرت کے ماہر تھے اس کام میں مدد کرتے تھے۔ فوٹ ولیم کالج لارڈ ولزلی کا لگایا ہوا پودا تھا۔ان کی خواہش تھی کہ یہ برقرار رہے اور دن دونی رات چوگنی ترقی کرے۔انہوں نے ایک بار یہاں تک لکھا تھا کہ:

“اگر یہ کالج ختم ہوگیا تو انگریزی عملداری ہندوستان سے اُٹھ جائے گی”

مگر ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی۔اور ۱۸۵۴ءمیں اس کالج کو فضول شے سمجھ کر بند کردیا گیا۔اس کالج کی خدمات نے اردو نثر کے دامن کو وسیع کیا اور جو نثری سرمایہ یہاں وجود میں آیا وہ ہمارے ادب کا انمول ذخیرہ ہے اور اس پر ہمیشہ فخر رہے گا۔

Free AIOU Solved Assignment Code 8662 spring 2021

ANS 04

چودہویں صدی عیسوی میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا جب محمد تغلق نے دیوگری کو دولت آباد نام دے کر اپنا دارالسلطنت بنایا۔دہلی کے زیادہ تر باشندوں کو اس کے ساتھ دکن جانا پڑا کچھ عرصہ بعد دار السلطنت پھر شمالی ہند میں منتقل ہوگیا لیکن صوفیاءکرام، فقراء اور دوسرے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جنہوں نے وہیں بس جانے کا فیصلہ کیا۔اس طرح شمالی ہند کی ملی جلی بولی کو، جسے آگے چل کر ہندی، ہندوستانی، دکنی کہا گیا دوسری بار دکن میں قدم جمانے کا موقع ملا۔

چودہویں صدی عیسوی کے آخر میں دکن میں بہمنی سلطنت قائم ہوگی۔بول چال کی اس زبان کو جو آج اردو کہلاتی ہے، بہمنی سلطنت کے زیر سایہ پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔ تاریخ فرشتہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں سرکاری کاموں کے لئے یہی زبان استعمال ہوتی تھی۔ وہاں اسے مقبول بنانے میں صوفیائے کرام کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔

ان صوفیوں میں پہلا نام خواجہ بندہ نواز گیسودراز کا ہے۔شمالی ہند میں ان کے مرید ہر طرف موجود تھے۔ اپنے پیام محبت کو عام کرنے کے لئے انہوں نے دور دور کا سفر طے کیا۔ 1339ء میں دلی سے گلبرگہ پہنچے یہاں ان کے عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہوگیا جن کی رہنمائی کے لیے وہ وعظ فرمایا کرتے تھے۔ اس وعظ کی زبان بول چال کی عام زبان ہوتی تھی جو اس وقت ہندی یا دکنی کہلاتی تھی اور آج اردو کہی جاتی ہے۔ ان کے اقوال اور نصائح نے تحریر کی شکل بھی اختیار کی اس طرح متعدد کتابیں وجود میں آئیں مگر زمانہ کے ہاتھوں برباد ہوگئیں۔ ایک کتاب”معراج العاشقین” موجود ہے جو ان کے نام سے منسوب ہے اسی طرح”شکارنامہ” اور “تلاوت الوجود” وغیرہ اور بھی کئی کتابیں ان سے منسوب ہیں مگر اہل نظر کا خیال ہے کہ یہ بعد کو کسی زمانے میں لکھی گئیں اور غلط طور پر خواجہ بندہ نواز سے منسوب کر دی گئیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے بیٹے اکبر حسینی نے بھی تصوف کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں ہے۔

یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ بیجاپور کو ایک بزرگ میراں جی شمس العشاق نے اپنے تبلیغی کام کا مرکز بنایا۔اپنے مرشد کمال بیابانی کی ہدایت پر انہوں نے اپنے تبلیغی افکار کو عام بول چال کی زبان یعنی اردو میں قلمبند کیا۔کئی مختصر کتابیں ان سے منسوب ہیں ان میں سب سے اہم”مرغوب القلوب” ہے۔میراں جی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے ان کے بیٹے برہان الدین جانم نے جاری رکھا۔”کلمتہ الحقائق” “ہشت ۔سائل” اور “ذکر جلی” ان کی نثری تصانیف ہیں۔وہ اپنی زبان کو کہیں گوجری اور کہیں ہندی کہتے ہیں۔ان کے بیٹے خلیفہ امین الدین اعلی نے تبلیغ کے اپنے خاندانی انداز کو جاری رکھا۔اس خاندان سے عقیدت رکھنے والوں نے ان سے بھرپور تعاون کیا۔ جنوبی ہند میں مختلف مقامات پر خانقاہیں قائم ہو گئیں تھیں۔صوفیائے کرام کا پیام محبت دور دور تک پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی اردو کی ابتدائ شکل نے دکن میں خوب فروغ پایا۔”گنج مخفی”ان کی مشہور تصنیف ہے۔ امین الدین اعلی کے بعد انکے شاگردوں نے قابل قدر خدمت انجام دی۔

اردو نثر کے فروغ میں سترھویں صدی کو سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس صدی کے وسط کے ایک نامور شاعر و نثرنگار وجہی نے اپنی تخلیقات کے انمول سرمائے سے اردو ادب کو مالا مال کر دیا۔انھوں نے 1635ء میں اپنی نثری تصنیف “سب رس” مکمل کی۔سچ تو یہ ہے کہ اسے تصنیف نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ ایک فارسی کتاب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔یہ ایک تمثیل ہے۔ مطلب یہ کہ چند چیزوں کو جسم عطا کرکے انہیں قصے کہانی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ حسن اور عشق، عقل اور دل، قلب اور نظر وغیرہ کو مجسم مان کر ایک ایسی داستان پیش کی گئی ہے جس سے اخلاقی تعلیم ملتی ہے۔سب رس کا اسلوب مقفی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں غیر معمولی سادگی اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ وجہ نے درست ہی لکھا ہے کہ “آج لگن کوئی اس جہاں میں، ہندوستان میں، ہندی زبان میں، اس لطافت،اس چھنداں سوں، نظم ہور نثر ملا کر، گلا کر یوں نیں بولیا، اس نبات کو یوں کوئی آب حیات میں نیں گولیا،یوں غیب کا علم نیں کھولیا،” غرض مواد اور اسلوب دونوں اعتبار سے ملا وجہی کی “سب رس” قدیم اردو نثر کا شہکار ہے۔

دکن میں سب رس کے بعد بھی نثری تصانیف کا سلسلہ جاری رہا۔مذہب و تصوف کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھی گئیں پنج تنتر اور ہتوپدیش کی کہانیوں کو”طوطی نامہ” کے نام سے پیش کیا گیا۔ یہ ترجمے براہ راست نہیں بلکہ فارسی سے کیے گئے لیکن ان کتابوں کو کوئی خاص ادبی مرتبہ حاصل نہیں ہوا۔

ادھر شمالی ہند میں اردو کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔بول چال کی زبان کے طور پر تو اس نے ایسا مقام حاصل کرلیا کہ کوئی اور زبان اس کے مدمقابل نہ رہی لیکن اہل قلم فارسی زبان میں لکھنے کو ہی باعث افتخار سمجھتے رہے۔اورنگزیب اور بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں میر جعفر زٹلی نے فارسی اور اردو کی ملی جلی زبان میں جو مزاحیہ انداز کے شعر کہے یا یوں بول چال کی نثر میں جو چھوٹے چھوٹے فقرے اور جملے کہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نئی زبان اپنی مقبولیت و توانائی کا ثبوت دینے لگی تھی۔

فضل علی فضلی کی “کربل کتھا” شمالی ہند کی پہلی نثری کتاب ہے جو 1731ء میں مکمل ہوئی۔17سال بعد فضلی نے اس پر نظرثانی کی۔اس وقت دستور تھا کہ محرم کی مجلسوں میں ملا حسین واعظ کاشفی کی فارسی کتاب”روضۃ الشہداء” پڑھی جاتی تھی جسے عام لوگ نہیں سمجھ پاتے تھے۔فضلی نے اسے عوام کی زبان میں منتقل کردیا۔اس میں کربلا کے واقعات اور شہادت کا پر ورد بیان ہے۔مصنف کا مقصد کوئی ادبی شاہکار پیش کرنا نہیں ہے۔اصل مدعا حصول ثواب ہے لیکن غیر ارادی طور پر انہوں نے ایک ایسی کتاب پیش کردی جسے اردو نثر کے ارتقاء میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

کربل کتھا میں فارسی عربی کے بہت سے لفظوں کا استعمال ہوا ہے۔اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ کسی مذہبی کتاب میں فارسی عربی کے الفاظ سے بچنا ممکن ہی نہ تھا۔دوسری بات یہ کہ اس زمانے میں شمالی ہند کی بول چال میں کثرت سے ان دونوں زبانوں کے لفظ استعمال ہوتے تھے۔کربل کتھا میں دکنی اردو کے کچھ لفظ اور محاورے بھی پائے جاتے ہیں۔اس سے بعض لوگوں نے یہ اندازہ لگایا کہ فضلی دکن کے رہنے والے تھے لیکن یہ خیال بے بنیاد ہے۔

قدیم اردو نثر کا ایک اہم نمونہ سودا کا دیباچہ ہے جو انہوں نے اپنے مجموعہ مراثی پر لکھا ہے۔اس پر فارسی نثر کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔زبان مقفی ہے اور فارسی عربی الفاظ کی کثرت ہے۔اس دیباچے نے بھی اردو نثر کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔سودا نے میر تقی میر کی مثنوی “شعلہ عشق” کو بھی اردو نثر میں منتقل کیا تھا جو اب دستیاب نہیں اس لیے اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔

قدیم اردو نثر کے ارتقاء میں کلام پاک کے دو تراجم کا بھی ذکر ضروری ہے۔شاہ ولی اللہ دہلی کے ایک لائق احترام بزرگ تھے۔کلام پاک کے یہ دونوں ترجمے ان کے دو بیٹوں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر کے قلم سے1784ء اور 1790ء میں وجود میں آئے۔مقصد یہ تھا کہ عربی سے واقفیت نہ رکھنے والے قرآن شریف کے مطالب سے واقف ہوسکیں۔اس طرح ان تراجم کی وجہ سے بھی اردو نثر کو کافی تقویت ملی۔ اردو نثر کی ترقی میں صوبہ بہار نے بھی قابل ذکر خدمات انجام دی زمانہ قدیم سے لیکر عہدحاضر تک اردو زبان اس خطہ ہند کے احسان سے گراں بار ہے کہ یہاں تسلسل کے ساتھ اردو شعر و ادب کی خدمت کی جاتی رہی ہے۔سترہویں صدی عیسوی سے ہی یہاں اردو نثر اور نظم کے نمونے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔ابتدائی تخلیقات زیادہ تر مذہبی نوعیت کی ہیں۔ ان میں شاہ عماد پھلواروی کا نثری رسالہ ‘سیدھا رستہ’ ظہور کا رسالہ ‘نماز’ اور محمد اسحاق کا رسالہ’معیتہ’ خاص طور پر اہم ہیں۔

اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخر میں اردو نثر کی جو سب سے اہم کتاب وجود میں آئی وہ میر حسین عطا تحسین کی “نوطرزمرصع” ہے۔یہ ایک فارسی داستان قصہ چہار درویش کا ترجمہ ہے۔تحسین کا وطن اٹاوہ تھا لیکن ملازمت کے سلسلے میں کافی عرصہ کلکتہ میں قیام رہا۔وہ ایک انگریز فوجی افسر کے میر منشی تھے۔اس افسر کے ولایت واپس جانے کے بعد تحسین نے فیض آباد کا رخ کیا۔فارسی زبان و ادب کا اچھا علم رہتے تھے اسی کی بدولت نواب شجاع الدولہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ تحسین کئی فارسی کتابوں کے مصنف ہیں مگر جس کارنامے نے انہیں زندہ جاوید بنادیا وہ “نو طرز مرصع” ہے۔اس کا اسلوب رنگین اور مقفی ہے۔ عربی فارسی الفاظ کی بھرمار نے اسے مشکل اور عام لوگوں کے لیے ناقابل فہم بنا دیا ہے۔تاہم اردو نثر کی تاریخ میں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ ہے اٹھارہویں صدی عیسوی تک اردو نثر کے ارتقاء کی مختصر کہانی۔اس کے بعد فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج نے اردو نثر کے ارتقاء میں بےحد خدمات انجام دیں اور اسے بام عروج پر پہنچایا

AIOU Solved Assignment Code 8662 Spring 2021

ANS 05

ہندوستان میں تقسیم کے فوراً بعد جدید مرثیے نگاروں میں صرف ایک وہی نام آتا تھا، جو تقسیم سے پہلے بھی موجود تھا، یعنی جمیلؔ مظہری۔ ایک عام تصور اب تک یہ قائم کیا گیا کہ ہندوستان میں تقسیم کے بعد جدید مرثیے کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔ جولائی، 1980ء میں، میں نے جدید مرثیے سے متعلق اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے پہلوئوں کی تکمیل کے سلسلے میں ہندوستان کے بعض مقامات خصوصاً لکھنو، دہلی، امروہہ اور مراد آباد وغیرہ کا سفر کیاتھا، اس سفر میں ہندوستان کے بعض نقادوں سے ان پہلوئوں پر خاص گفتگو ہوئی، جو تقسیم کے بعد وہاں کی جدید مرثیہ نگاری کے فروغ نہ پانے کا سبب ہوسکتے تھے۔ مرزا دبیرؔ کے پڑ پوتے مرزا صادق، مہذبؔ لکھنوی، ڈاکٹر نیئرؔ مسعود، علی جواد زیدی، سید محمد رشید، مہدیؔ نظمی، عظیمؔ امروہوی اور ذہینؔ نقوی سے اس موضوع پر ادب کی عام رفتار کو پیش نظر رکھتے ہوئے گفتگو ہوئی، جس کی تفصیل میں نے امروہہ کے جدید مرثیہ گوعظیمؔ امروہوی کے مرثیے ’’مرثیہ ِعظیم‘‘ کے مقدمے میں لکھی ہے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں جدید مرثیے کے ارتقا میں جو رکاوٹ پیش آئی اس سلسلے میں ہندوستان کے مندرجہ بالا نقادوں نے جو وجوہات بیان کیں، اُن میں تین مشترک تھیں۔ نئی نسل میں اردو کے بجائے ہندی کا فروغ۔ مرثیے کی مجالس کے بجائے، عام طور پر ذاکری کا فروغ اور جدید مرثیے کے بڑے شعرا جو پاکستان میں ہیں ان کے فن سے ہندوستانی مرثیہ نگاروں کی عدم واقفیت۔

ہندوستان میں تقسیم کے بعد جو مرثیہ سامنے آرہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات اب تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان میں مرثیے کو 1947ء کے بعد زوال سے دوچار ہونا پڑا ہے، بلکہ وہاں بھی جدید مرثیے نے قدم جمائے ہیں، ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں اس وقت جدید مرثیہ گو شعرا کی کمی نہیں اور ان کا فن بھی کچھ کم حیثیت نہیں رکھتا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں گزشتہ 45برس میں جدید مرثیہ نگاری کے سلسلے میں چھوٹے بڑے بہت سے نام سامنے آئے اس وقت جو نام مجھے یاد آتے جارہے ہیں وہ یہ ہیں۔

ڈاکٹر وحید اخترؔ، باقرؔ امانت خانی، مہدیؔ نظمی، عظیم امروہوی، قائمؔ شبیر، شہیدؔ صفی پوری، سید افسرؔ نواب، وفاؔ ملک پوری، قیصر امروہوی، سید احمدؔ مہدی (راجہ پیر پور) سید بادشاہ حسین رمزؔ (راجہ پیر پور) پیامؔ اعظمی، غلامؔ امام، معجزؔ سنبھلی، صریرؔ سنبھلی جرارؔ چھولسی، تابشؔ دہلوی، ریاضت علی شائقؔ، شہیدؔ لکھنوی، قیصرؔ جونپوری، علیؔ مہدی بلرام پوری،شائق حسین کلیم،محسن حسان جونپوری،حسین مہدی رضوی، مہدیؔ جوراسی، ڈاکٹر نتھی لال وحشیؔ، مضطرؔ جونپوری، محمد حیدرؔ، گوہرؔ لکھنوی، کالی داس گپتا رضاؔ، سکندر حسین فہیمؔ، خنداںؔ لکھنوی، زاہدؔ جلال پوری، شجاع علی شجیعؔ، میر ہاشم حسین حزیںؔ، علامہ اخترؔ زیدی، اعظم رضوی، باقرؔ منظور، گوپی ناتھ امنؔ، اثرؔ جائسی، زارؔ عظیم آبادی، حمیدؔ الیاس، ریاضؔ جرولی، اختر حسین سروشؔ، منتقم سنبھلی، احسنؔ طباطبائی، ثمرؔ ہلوری، فردوسیؔ عظیم آبادی، ہوشؔ عظیم آبادی، اقبالؔ غازی پوری، فاضلؔ امروہوی، ناشرؔ نقوی، سید مرتضیٰ رضوی اظہرؔ، ساغرؔ لکھنوی، احسنؔ صفی پوری، شمیمؔ فیض آبادی، گرچرن داس شہیدؔ، اثرؔ جونپوری، رضاؔ امروہوی، علی اکبر کاظمیؔ، راجہ قاسم علی خاں شمیمؔ (راجہ پنڈراول) عارفؔ کشٹوائی، افسر علی بقاؔ، مسز مستحسنؔ زبیری، بدرؔ عظیم آبادی، مہدی حسین ہمدردؔ، حکیم عسکری حسن رضوی، انور نواب انورؔ، ریحانؔ امروہوی اور بعض دوسرے شعرا۔

لکھنو میں اس وقت تعشقؔ کی یادگار حضرت مہذبؔ لکھنوی ہیں۔ مجھے ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ہے مہذبؔ صاحب کی ذات اب بھی سرمایہء علم و فن ہے، لکھنو کے ایک مرثیہ گو شاعر محمد عسکری جدیدؔ نے مرثیے کے ایک مصرعے میں بالکل صحیح فرمایا ہے کہ ؎

لکھنواب بھی مہذب کی بنا ہے جاگیر

لیکن مرثیے کے میدان میں لکھنو کی جس ادبی جاگیر کے وہ محافظ ہیں اس کا تعلق قدیم طرزِ مرثیہ گوئی سے ہے۔ ان کے مرثیوں میں جدید طرزِ احساس کی بہت مدھم سی روشنی نظر آتی ہے۔

تقسیم کے بعد ہندوستان میں اگر کسی نے جدید مرثیے کو سہارا دیا ہے تو وہ عظیمؔ امروہوی ہیں۔ عظیم صرف مرثیہ نگار ہی نہیں، مرثیے کے ایک باصلاحیت محقق اور نقاد بھی ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوستان میں رہتے ہیں لیکن پاکستان میں مرثیے کے شائقین ان کے مرثیے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔

گزشتہ ادوار میں پاکستان میں جدید مرثیے کی تاریخ میں کئی ناموں کا اضافہ ہوا۔ کراچی کے مرثیہ گویوں میں رئیس امروہوی، شوکتؔ تھانوی، امیر امام حُرؔ، مصطفےٰ زیدی، کرارؔ نوری، بنیادؔ تیموری، شاہدؔ نقوی، راغبؔ مراد آبادی، کرارؔ جونپوری، سردارؔ نقوی، عزمؔ جونپوری، ظریفؔ جبل پوری، ظفر جونپوری شاداںؔ دہلوی، حسینؔ اعظمی، تابشؔ دہلوی، امیدؔ فاضلی، اطہرؔ جعفری، رعناؔ اکبر آبادی، فیضؔ بھرت پوری، بدر الہ آبادی، یاورؔ اعظمی، رحمنؔ کیانی، حکیم محمد اشرفؔ، سالکؔ لکھنوی، عباسؔ مشہدی، ساحرؔ لکھنوی، علامہ طالبؔ جوہری، فضلؔ فتح پوری، کوثرؔ الہ آبادی، نظرؔ جعفری، تاثیرؔ نقوی، نصیرؔ بنارسی، وقارؔ سبز واری، حکیم ندیمؔ، سید شاکرؔ علی جعفری، بیدارؔ نجفی، میر رضی میرؔ، سبطینؔ نقوی، خمارؔ فاروقی، قسیمؔ ابن نسیم، ذہینؔ جعفری، نعیمؔ تقوی کے نام سامنے آتے ہیں۔ لاہور کو جدید مرثیے کی فضا سے روشناس کرانے میں قیصرؔ باہروی سرفہرست ہیں۔ لاہور کے دوسرے مرثیہ گو شعرا میں قابل ذکر نام یہ ہیں ڈاکٹر صفدر حسین صفدرؔ، وحید الحسن ہاشمیؔ سہیلؔ بنارسی، ڈاکٹر مسعود رضا خاکیؔ، ضیاء اللہ ضیاءؔ، سیفؔ زلفی، ظفرؔ شارب، اثرؔ ترابی، ظہورؔ جارچوی اور قائم علی فانی۔ پاکستان کے دوسرے شہروں کے وہ مرثیہ گو جن کا کلام میری نظروں سے گزرا ہے ،ان میں بہاول پور کے آغا سکندر مہدیؔ، بھکر کے خلش پیرا صحابی، کوئٹہ کے اثرؔ جلیلی ، سرگودھا کے تاجَ دار دہلوی، جھنگ کے ظہیر الدین حیدرؔ، خیرپور کے سید حسن احمد زبیری حسن،ؔ لاڑکانہ کے جوہر نظامی اور راول پنڈی کے پروفیسر فیضی، صفی حیدر دانش اور نشاطؔ مقبول قابل ذکر ہیں۔

اردو مرثیہ جس نے ذکر کی منزل سے اپنا سفر شروع کیا تھا وہ فکر کی منزل میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوگیا، جسے دوسری اصنافِ سخن کے درمیان با آسانی پہچانا جاسکے گا، جدید مرثیہ نگار نے عصرِ حاضر کے معاشرتی، معاشی اقتصادی، عمرانی اور سیاسی معاملات سمجھ کر مرثیہ لکھا ہے آج کے مرثیے پر Stagnation کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ آج کے مرثیے میں زندگی کا وہ تمام شعور نظر آتا ہے، جس سے ہم گزر رہے ہیں، آج کے مرثیے میں عزم و عمل پر جس قدر زور دیا گیا، وہ اس سے پہلے نظر نہیں آتا۔ قدیم مرثیہ نگار نے یزید اور اس کے خامیوں کی بدکرداری اور بداعمالی سے نقاب اٹھائی، لیکن جدید مرثیہ نگار نے ہمیں یہ حوصلہ دیا ہے کہ ہم خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ سکیں تاکہ اسلام، رسولؐ اور حسینؓ کے ماننے والوں کو اپنی خامیوں کا بھی اندازہ ہو۔

مرثیہ نگاری کی تاریخ کاایک اہم واقعہ فیض احمد فیض کا میدان ِمرثیہ گوئی میں قدم رکھنا ہے۔فیضؔ کا مرثیہ اتنا ہی اہم نہیں، جتنا کہ خود فیضؔ کا مرثیہ گوئی کے میدان میں آنے کا واقعہ اہم ہے، ان کے مرثیے میں کلاسکیت کا رچائو خوب خوب ملتا ہے اور ان کے مخصوص لہجے کی آواز صاف سنائی دیتی ہے ؎

اک گوشے میں اُن سوختہ سامانوں کے سالار

ان خاک بسر، خانماں ویرانوں کے سردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار

اس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار

مسند تھی ،نہ خلعت تھی، نہ خدام کھڑے تھے

ہاں تن پہ جدھر دیکھئے، سوزخم سجے تھے

جدید مرثیہ نگار شعرا کے کاں کربلا کے تاریخی پس منظر پر بہت زور دیا گیا۔ واقعہ کربلا کے ظہور پذیر ہونے کے اسباب پر استدلال، فکری اور سیاسی جائزہ لے کر جدید مرثیہ گو نے ہمیں فکر کے ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہم اقدام حسینؓ کے برحق ہونے کے عمل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کربلا کے اس پس منظر کے متعلق راقم الحروف کے مختصر جدید مرثیے ’’قندیل‘‘ کاایک بندملاحظہ فرمایئے ،جس میں عصرِ نو کا چہرہ بھی جھانکتا ہوا نظر آتا ہے۔

راہ تاریک ہوئی ،موت نے پائوں چومے

درِ امراض پہ شل ہو کے ،گرے سر گھومے

فکر، تہذیب کو کھانے لگی دیمک کی طرح

ظلمتِ جہل کے سرطان زدہ جرثومے

دے کے پیغامِ قضا ،موجِ لہو آنے لگی

دہنِ وقت سے، بارود کی بو آنے لگی

اس منزل پر ہندوستان و پاکستان کے بعض جدید مرثیہ گو شعراء کے بندوں کے حوالے بھی دیئے جاتے ہیں، اس سے اندازہ ہوسکے گا کہ آج کا مرثیہ گو ،کربلا فہمی، حسین ؓشناسی، انقلاب دوستی، صبر پسندی کی جدید شعوری رو کو کس طرح اپنے مرثیے کے رگ و پے میں دوڑا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *