AIOU Solved Assignments code 608 Spring 2020 Assignment 1& 2 Course: Tadreeb ul mulameen (608)   Spring 2020. AIOU past papers
ASSIGNMENT No:Â 1& 2
Tadreeb ul mulameen (608)
Spring, 2020
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 01
صاب Ú©Û’ بنیادی عناصر میں سے ایک اÛ�Ù… عنصرطریقÛ� Û�ائے تدریس بھی Û�Û’ ۔اساتذÛ�Ø¡Ù� کرام Ú©Û’ لئے لازمی Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� روایتی طریقوں Ú©Û’ ساتھ ساتھ جدیدترین طریقÛ� Û�ائے تدریس کوبھی اپنائیں اورموقع Ú©ÛŒ مناسبت سے اپنی تدریسی ØÚ©Ù…ت عملی کوبروئے کارلائیں۔
مختلÙ� مواقع پردرست طریقÛ�Ø¡Ù� تدریس کا انتخاب اÙ�ستادکی صوابدیدپر Û�Û’Û” کسی ایک موضوع Ú©Û’ لئے ایک طریقÛ� کارآمدثابت Û�Ùˆ سکتاÛ�Û’ تو دوسرے موضوع کیلئے دوسرا طریقÛ� موزوں Û�وسکتاÛ�Û’Û” ضروری Ù†Û�یں Ú©Û� سب کوایک Û�ÛŒ لاٹھی سے Û�انکا جائے۔چھوٹے اوربڑے بچوں Ú©Û’ لئے مختلÙ� اوقات میں مختلÙ� تدریسی ØÚ©Ù…تÙ� عملیاں اختیار Ú©ÛŒ جاسکتی Û�یں۔
Û�مارے اساتذÛ� جدیدطریقÛ� Û�ائے تدریس کواپناکراپنی تدریس میں بÛ�تری لاسکتے Û�یں۔اسی سلسلے میں آج Û�Ù… THINK-PAIR-SAHRE Ú©Û’ بارے میں ÙˆØ¶Ø§ØØª کریں گے۔اساتذÛ�Ø¡Ù� کرام تھوڑی سی توجÛ� Ú©Û’ ساتھ اس تیکنیک Ú©Ùˆ سمجھنے Ú©ÛŒ کوشش کریں Ú¯Û’ تو ان شاء اﷲ بÛ�ت آسانی سے اس تیکنیک Ú©Ùˆ تدریس Ú©Û’ عمل میں اپنانے Ú©Û’ قابل Û�وجائیں Ú¯Û’Û”
آج Ú©Ù„ جدیدترین تدریسی تیکنیکس میں THINK-PAIR-SAHREکاÙ�ÛŒ مشÛ�ورÛ�Û’Û”THINK-PAIR-SAHREانگریزی زبان Ú©Û’ تین الÙ�اظ کامجموعÛ� Û�Û’Û” THINK کامطلب Û�Û’ سوچنا ØŒPAIR کا مطلب جوڑا اورSHAREکامطلب بتانا اورگÙ�تگوکرناÛ�Û’ Û” THINK-PAIR-SAHRE اشتراکی تدریسی تیکنکس(COLLABORATIVE/COOPERATIVE) میں سے ایک Û�Û’ جوطلبÛ� Ú©ÛŒ تدریسی عمل میں شرکت کوبڑھاتی Û�Û’ اور ÛŒÛ� تدریسی ØÚ©Ù…ت عملی Û�رعمر Ú©Û’ بچوں اورÛ�رجماعت Ú©Û’ لئے Ù…Ù�ید Û�Û’Û”
THINK-PAIR-SAHRE ایک سرگرمی �ے جوطلب� کی سیکھنے کے عمل میں مددگارثابت �وتی �ے۔اس تیکنیک کی بنیادا�س نظریئے پر �ے ک� تدریس کے عمل میں طلب� کوسرگرمی کے ساتھ شامل کیاجائے تاک� موئثر تدریس سرانجام پاسکے۔ جب طلب� کو اپنے �م جماعت ا�رادکے گروپ میں کام کرنے کاموقع ملتا�ے تو ا�س وقت و� زیاد� ان�ماک کے ساتھ تدریسی عمل میں شامل �وتے �یں ۔
روایتی انداز میں اساتذÛ� کوطلبÛ� Ú©ÛŒ تعلیمی پیش رÙ�ت کاجائزÛ� لینے Ú©Û’ لئے بڑی Ù…ØÙ†Øª ومشقت سے کام لیناپڑتاÛ�Û’Û” عام طورپر اس کام Ú©Û’ لئے ØªØØ±ÛŒØ±ÛŒ ٹیسٹ وغیرÛ� کااÛ�تمام کیاجاتاÛ�Û’ Û” ٹیسٹ Ú©ÛŒ جانچ پڑتال Ú©Û’ لئے اساتذÛ� Ú©Ùˆ بÛ�ت زیادÛ� وقت بھی صرÙ� کرناپڑتاÛ�Û’Û” THINK-PAIR-SAHREتیکنیک Ù†Û’ اساتذÛ� Ú©ÛŒ اس مشکل کوآسان کردیاÛ�ے۔اب اساتذÛ� کرام اس تیکنیک Ú©Û’ ذریعے طلبÛ� Ú©ÛŒ تعلیمی پیش رÙ�ت کابآسانی اوربروقت جائزÛ� Ù„Û’ سکتے Û�یں۔
ی� تیکنیک نئے موضوعات کے لئے بھی کارآمدثابت �وسکتی �ے لیکن خاص طورپر ی� تیکنیک سابق� پڑھائے گئے اسباق کا جائز� لینے کیلئے ب�ت �ی م�ید �ے بشرطیک� ا�ستاد م�ارت کے ساتھ ا�سے پای� ء� تکمیل تک پ�نچائے۔
Û²
ذیل میں اس تیکنک Ú©Û’ مراØÙ„ بیان کئے جاتے Û�یں تاکÛ� اساتذÛ� کرام آسانی سے اÙ�سے اپناسکیں Û”
۱۔گروپ بندی:
سب سے Ù¾Û�لاقدم طلبÛ� Ú©Ùˆ مختلÙ� گروپوں میں تقسیم کرنا Û�Û’Û” استاد اس Ø·Ø±Ø Ú©Ø§Ú¯Ø±ÙˆÙ¾ بنائے جس میں طلبÛ�/طالبات Ú©ÛŒ تعدادجÙ�Ù�ت Û�ÙˆÛ”(گروپ چاریاچھ یاآٹھ طلبÛ� پرمشتمل Û�Ùˆ) اÙ�ستاد اپنے اپنے گروپ میں دودوطلبÛ� پرمشتمل جوڑے بھی بنادے۔طلبÛ�/طالبات Ú©Ùˆ اپنے ساتھی اور اپنے گروپ سے متعلق کوئی ابÛ�ام Ù†Û� رÛ�Û’Û”
۲۔ ت�ویض� کار:
اب استاد طلب� کو�دایات دیتے �وئے ک�ے گا : کل جو سبق �م نے اس جماعت میں پڑھاتھا ا�س کے بارے میں اپنے اپنے ذ�ن میں سوچیں۔ اس دوران کوئی طالب علم کسی دوسرے ساتھی سے کوئی بات ن� کرے۔ اس موضو ع کے بارے میں سوچنے کیلئے وقت ایک منٹ �ے۔
مقرر� وقت کے بعد استاد ک�ے گا : جوکچھ آپ نے اپنے ذ�ن میں سوچاتھاا�س کے بارے میں اپنے اپنے ساتھی سے تبادل� ء� خیال کریں ۔ اس کام کے لئے آپ کے پاس پانچ منٹ �یں۔
مقرر� وقت کے اختتام کے بعد استاد تمام طلب� کوخاموش کرواکرنئی �دایات دیتے �وئے ک�ے: اب تمام طلب� اپنے ساتھی سے تبادل� کی گئی باتوں کو اپنے گروپ کے باقی ممبران کوبتائیں۔ �ر طالب� علم کے لئے ضروری �ے ک� و� اپنے گروپ میں اپنی معلومات SHAREکرے۔ گروپ میں SHARINGکے لئے آپ کے پاس پندر� منٹ �یں۔
۳۔ جائز�:
آخر میں طلبÛ� Ú©ÛŒ کارکردگی کاجائزÛ� لینے Ú©Û’ لئے اÙ�ستاد سوال جواب یا کسی دوسرے طریقے کواپنائے گا۔اس عمل Ú©Û’ لئے Ù¾Ù�ریڈکا بقیÛ� وقت صرÙ� کیاجاسکتا Û�Û’Û” جس گروپ Ú©Û’ تمام ممبران Ù†Û’ سرگرمی سے ØØµÛ� لیاÛ�وگااÙ�Ù† Ú©ÛŒ کارکردگی دوسروں سے نمایاں Û�وگی۔
اس تیکنیک کو THINK-PAIR-SAHREکے نام سے اس لئے جاناجاتا�ے ک� اس میں طلب� سب سے پ�لے اکیلے THINKکرتے �یں ،اس کے بعد اپنے PAIRسے گ�تگوکرتے �یں اورآخر میں اپنے گروپ سےSAHREکرتے �یں۔ اس تیکنیک کاشمارCOLLABORATIVE/COOPERATIVE تدریسی تینیکس میں �وتا�ے کیونک� اس میں اپنے ساتھی اورگروپ کے ساتھ تبادل�ء خیالات بھی کیاجاتا�ے۔
ا�ستاد کاکردار:
اس سارے عمل Ú©ÛŒ نگرانی ورÛ�نمائی کاذمÛ� داراÙ�ستاد Û�وگا۔ اÙ�ستاد ایک سÛ�ولت کنندÛ� Ú©Û’ طورپرکرداراداکرے گا۔ اگرکسی مرØÙ„Û� پر اÙ�ستاد Ù†Û’ غÙ�لت یاکوتاÛ�ÛŒ سے کام لیاتوسارامعاملÛ� تلپٹ Û�وکررَÛ� جائے گا۔اÙ�ستاد کسی بھی مرØÙ„Û� Ú©Û’ لئے دئیے گئے وقت میں ØØ³Ø¨ ضرورت Ú©Ù…ÛŒ بیشی کرنے کااختیاررکھتاÛ�Û’Û” اس سارے عمل میں سب سے اÛ�Ù… کام طلبÛ� Ú©ÙˆÛ�دایات جاری کرنا، Û�رسرگرمی Ú©Û’ لئے مقرر کردÛ� وقت کوملØÙˆØ¸Ù� خاطررکھنا،طلبÛ� /طالبات کواپنے مقصدپرقائم رکھنے Ú©Û’ لئے چوکنا رÛ�نا اور آخر پر جدیدطریقے استعمال میں لاتے Û�وئے طلبÛ� Ú©ÛŒ کارکردگی کاجائزÛ� لینا Û�Û’Û” بظاÛ�ریÛ� طریقÛ� تدریس مشکل نظرآتاÛ�Û’ لیکن Û�Û’ Ù†Û�ایت Û�ÛŒ دلچسپ اورآسان۔میں Ù†Û’ جب بھی اÙ�س جدیدطریق Ú©Ùˆ جماعت میں اپنایاتو مجھے اÙ�س Ú©Û’ اچھے نتائج ØØ§ØµÙ„ Û�وئے۔ میری تمام اساتذÛ� کرام سے Ú¯Ù�زارش Û�Û’ Ú©Û� جدیددور Ú©Û’ تقاضوں Ú©Û’ مطابق اپنے طریقÛ� Û�ائے تدریس میں بÛ�تری لائیں اور روایتی طریقوں Ú©Û’ ساتھ ساتھ جدیدطریقوں Ú©Ùˆ بھی اپنائیں اوراپنے کرداراورعمل سے ثابت کردکھائیں Ú©Û� آج کااÙ�ستادپÛ�Ù„Û’ سے زیادÛ� اچھے طریقے سے ملک وقوم Ú©ÛŒ تعمیر وترقی Ú©Û’ عمل میں نمایاں کرداراداکررÛ�اÛ�Û’Û” اگرایساکرلیاجائے تویقین مانیں آج بھی اÙ�ستاد کووÛ�ÛŒ عزت ÙˆØ§ØØªØ±Ø§Ù… ØØ§ØµÙ„ Û�وسکتا Û�Û’ جو Û�مارے اسلاÙ� کونصیب تھا۔ Û�مارے اساتذÛ� کرام آج بھی اقبالؒ Ú©Û’ اÙ�س قول Ú©ÛŒ عملی تصویر پیش کرسکتے Û�یں:
شیخ� مکتب �ے ا�ک عمارت گر
جس Ú©ÛŒ صنعت Û�Û’ روØÙ� انسانی
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 02
دین اسلام انسانی زندگی Ú©Û’ تمام تقاضے Ø¨ØØ³Ù† وخوبی پورا کرتا Û�Û’ بلکÛ� زندگی Ú©Û’ تمام امور کےلئےپاکیزÛ� اصول اور Ù�طری نظام پیش کرتا Û�Û’ Û” اللÛ� تعالی ØÙ‚ بات Ú©Û�Ù†Û’ سے Ù†Û�یں شرماتا، اس Ù†Û’ Û�میں اپنے پیغمبر Ú©Û’ ذریعÛ� زندگی Ú©ÛŒ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی Û” Ù†Ú©Ø§Ø Ø§ÙˆØ± بیوی سےجماع شرمگاÛ� Ú©ÛŒ ØÙ�اظت Ú©Û’ ساتھ اÙ�زائش نسل کا سبب Û�Û’ پھر اللÛ� اتنی بڑی بات کیسے Ù†Û�یں بتلاتا، ÛŒÛ� بھی Û�میں بتلادیا۔آج Û�Ù… جس دور سے گزر رÛ�Û’ Û�یں اس میں برائی Ù�یشن اوربے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ عام سی بات Û�وگئی Û�Û’ ۔اللÛ� Ù†Û’ Û�میں Ú©Ù�ر وضلالت سے نجات دے کر ایمان ÙˆÛ�دایت Ú©ÛŒ توÙ�یق بخشی Û�Û’ØŒ Û�میں Û�میشÛ� اپنا قدم بڑھانے سے Ù¾Û�Ù„Û’ سوچنا Û�Û’Ú©Û� Ú©Û�یں کوئی غلطی تو Ù†Û�یں Û�ورÛ�ÛŒ Û�Û’ ØŒ Û�رÛ�رقدم پھونک پھونک کر اٹھانا Û�Û’Û”
پیدائش Ú©Û’ بعد جب کوئی جوانی Ú©ÛŒ دÛ�لیز Ù¾Û� قدم رکھتا Û�Û’ تو اسے Ù�طری سکون ØØ§ØµÙ„ کرنے Ú©Û’ لئے شریک ØÛŒØ§Øª Ú©ÛŒ ضرورت پیش آتی Û�Û’ØŒ اسلام Ù†Û’ شریک ØÛŒØ§Øª بنانے کےلئے Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø§ پاکیزÛ� نظام پیش کیا Û�Û’ Û” Ù†Ú©Ø§Ø Ø³Û’ انÙ�رادی اور سماجی دونوں Ø³Ø·Ø Ù¾Û� Ù�ساد وبگاڑ کا عنصر ختم Û�وجاتا Û�Û’ اور گھر سے لیکر سماج تک ایک ØµØ§Ù„Ø Ù…Ø¹Ø§Ø´Ø±Û� Ú©ÛŒ تعمیر Û�وتی Û�Û’ Û”
Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø±Ú©Û’ دو اجنبی آپسی پیار ÙˆÙ…ØØ¨Øª میں اس قدر ڈوب جاتے Û�یں جÛ�اں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتÛ� نظر آتا Û�ے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےÛ�یں ØŒ پاکیزÛ� تعلق یعنی عقد Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Û’ بعد آپس Ú©ÛŒ ساری اجنبیت اور سارا پردÛ� اٹھ جاتا Û�Û’ گویا دونوں ایک جاں دو قالب Û�وجاتے Û�یں Û” ÛŒÛ� اللÛ� کا بندوں پر بڑا Ø§ØØ³Ø§Ù† Û�Û’ Û” میاں بیوی Ú©Û’ جنسی ملاپ Ú©Ùˆ عربی میں جماع اور اردو میں Û�مبستری سے تعبیر کرتے Û�یں Û” جس Ø·Ø±Ø Ø§Ø³Ù„Ø§Ù… Ù†Û’ Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø§Ù¾Ø§Ú©ÛŒØ²Û� نظام دیا Û�Û’ اسی Ø·Ø±Ø Ø¬Ù…Ø§Ø¹ کےبھی صاÙ� ستھرےرÛ�نما اصول دئے Û�یں ØŒ ان اصولوں Ú©ÛŒ جانکاری Û�ر مسلم مردوخاتون پر ضروری Û�Û’ ۔سطور ذیل میں جماع کا طریقÛ� اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررÛ�اÛ�ÙˆÚºÛ”
ÛŒÛ�ودیوں کا خیال تھا Ú©Û� بیوی Ú©ÛŒ اگلی شرمگاÛ� میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا Û�وگا ØŒ اللÛ� Ù†Û’ اس خیال Ú©ÛŒ تردید کرتے Û�وئے Ù�رمایا: Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ ØÙŽØ±Ù’ثٌ لَّكÙ�مْ Ù�َأْتÙ�وا ØÙŽØ±Ù’ثَكÙ�مْ أَنَّىٰ Ø´Ù�ئْتÙ�مْ ۖ (البقرة:223)
ترجم�: تم�اری بیویاں تم�اری کھیتیاں �یں، ل�ذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چا�و آؤ۔
اس آیت کا مطلب ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� بیوی Ú©ÛŒ اگلی شرمگاÛ� میں جس Ø·Ø±Ø Ø³Û’ چاÛ�یں جماع کرسکتے Û�یں ØŒ شوÛ�ر Ú©Û’ لئے بیوی Ú©ÛŒ اگلی شرمگاÛ� Û�ÛŒ ØÙ„ال Û�Û’ اور Ù¾Ú†Ú¾Ù„ÛŒ شرمگاÛ� میں وطی کرنا ØØ±Ø§Ù… Û�Û’ چنانچÛ� اس بات Ú©Ùˆ اللÛ� Ù†Û’ اس آیت سے Ù¾Û�Ù„Û’ بیان کیا Û�Û’ Û” اللÛ� کا Ù�رمان Û�Û’:
وَيَسْأَلÙ�ونَكَ عَنÙ� الْمَØÙ�يضÙ� ۖ قÙ�لْ Ù‡Ù�ÙˆÙŽ أَذًى Ù�َاعْتَزÙ�Ù„Ù�وا النّÙ�سَاءَ Ù�Ù�ÙŠ الْمَØÙ�يضÙ� ۖ وَلَا تَقْرَبÙ�وهÙ�نَّ ØÙŽØªÙ‘َىٰ يَطْهÙ�رْنَ ۖ Ù�ÙŽØ¥Ù�ذَا تَطَهَّرْنَ Ù�َأْتÙ�وهÙ�نَّ Ù…Ù�نْ ØÙŽÙŠÙ’Ø«Ù� أَمَرَكÙ�Ù…Ù� اللَّهÙ� ۚ إÙ�نَّ اللَّهَ ÙŠÙ�ØÙ�بّÙ� التَّوَّابÙ�ينَ ÙˆÙŽÙŠÙ�ØÙ�بّÙ� الْمÙ�تَطَهّÙ�رÙ�ينَ (البقرة:222)
ترجمÛ�:آپ سے ØÛŒØ¶ Ú©Û’ بارے میں سوال کرتے Û�یں Ú©Û�Û� دیجئے Ú©Û� ÙˆÛ� گندگی Û�Û’ ØØ§Ù„ت ØÛŒØ¶ میں عورتوں سے الگ رÛ�Ùˆ اور جب تک ÙˆÛ� پاک Ù†Û� Û�Ùˆ جائیں ان Ú©Û’ قریب Ù†Û� جاؤ ØŒ Û�اں جب ÙˆÛ� پاک Û�وجائیں تو ان Ú©Û’ پاس جاؤ جÛ�اں سے اللÛ� Ù†Û’ تمÛ�یں اجازت دی Û�Û’ اللÛ� توبÛ� کرنے والوں Ú©Ùˆ اور پاک رÛ�Ù†Û’ والوں Ú©Ùˆ پسند Ù�رماتا Û�Û’ Û”
ÛŒÛ�اں پر اللÛ� ØÚ©Ù… دے رÛ�ا Û�Û’ Ú©Û� ØÛŒØ¶ Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں بیوی سے جماع Ù†Û� کرو اور جب ØÛŒØ¶ سے پاک Û�وکر غسل کرلے تواس Ú©Û’ ساتھ اس جگÛ� سے جماع کرو جس جگÛ� جماع کرنے Ú©ÛŒ اجازت دی Û�Û’ Û” ØÛŒØ¶ اگلی شرمگاÛ� سے آتا Û�Û’ØŒ ØÛŒØ¶ کا خون آنے تک جماع ممنوع Û�ےا ور جب ØÛŒØ¶ بند Û�وجائے تو اسی جگÛ� جماع کرنا Û�ےجÛ�اں سے خون آرÛ�ا تھا۔
” Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ ØÙŽØ±Ù’ثٌ لَّكÙ�مْ” Ú©ÛŒ تÙ�سیر صØÛŒØ Ø§ØØ§Ø¯ÛŒØ« سے بھی Ù…Ù„Ø§ØØ¸Û� Ù�رمالیں تاکÛ� بات مزید ÙˆØ§Ø¶Ø Û�وجائے۔راوی ØØ¯ÛŒØ« ابن عباس رضی اللÛ� عنÛ�ما بیان کرتے Û�یں جب ÛŒÛ� آیت نازل Û�وئی :(Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ ØÙŽØ±Ù’ثٌ Ù„ÙŽÙƒÙ�مْ Ù�َأْتÙ�وا ØÙŽØ±Ù’ثَكÙ�مْ أنَّى Ø´Ù�ئْتÙ�مْ)أي Ù…Ù�قبÙ�لاتÙ� ومÙ�دبÙ�راتÙ� ومÙ�ستَلقÙ�ياتÙ� يعني بذلÙ�ÙƒÙŽ مَوضعَ الولَدÙ�(صØÙŠØ أبي داود:2164)
ترجم�: تم�اری بیویاں تم�اری کھیتی �یں ل�ذا تم جس طریقے سے چا�و ان سے جماع کرو یعنی خوا� آگے سے خوا� پیچھے سے خوا� لٹا کر یعنی اولاد والی جگ� سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس Û�ÛŒ سے مروی Û�Û’ Û” Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ ØÙŽØ±Ù’ثٌ Ù„ÙŽÙƒÙ�مْ Ù�َأْتÙ�وا ØÙŽØ±Ù’ثَكÙ�مْ أَنَّى Ø´Ù�ئْتÙ�مْ أقبÙ�لْ وأدبÙ�رْ، واتَّقÙ� الدّÙ�برَ والØÙŽÙŠØ¶Ø©ÙŽ(صØÙŠØ الترمذي:2980)
ترجمÛ�:تمÛ�اری بیویاں تمÛ�اری کھیتی Û�یں Ù„Û�ذا تم جس طریقے سے چاÛ�Ùˆ ان سے جماع کرو خواÛ� بیوی سے آگے سے ØµØØ¨Øª کرو چاÛ�Û’ پیچھے Ú©ÛŒ طرÙ� سے کرومگر Ù¾Ú†Ú¾Ù„ÛŒ شرمگاÛ� سے بچو اور ØÛŒØ¶ Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج Ú©Û’ پرÙ�تن دور میں میاں بیوی Ú©Ùˆ اسلام Ú©ÛŒ ÛŒÛ� بات جاننی چاÛ�ئے اور اسے Û�ÛŒ عملی زندگی میں ناÙ�ذ کرنا چاÛ�ئے ØŒ جولوگ Ù�ØØ´ ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے Û�یں اس Ú©ÛŒ زندگی سے ØÛŒØ§ Ù†Ú©Ù„ جاتی Û�Û’ ،لمØÛ� بÛ� لمØÛ� بے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ Ú©ÛŒ راÛ� چلنے لگتا Û�ے۔یاد رکھیں ØŒ بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب Û�Û’ Û” نبی ï·º کا Ù�رمان Û�Û’ :
ÙˆÙ�ÙŠ بÙ�ضْعÙ� Ø£ÙŽØÙŽØ¯Ù�ÙƒÙ�مْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهÙ�ØŒ أَيَأتي Ø£ÙŽØÙŽØ¯Ù�نَا شَهْوَتَهÙ� وَيَكونÙ� له Ù�Ù�يهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتÙ�مْ لو وَضَعَهَا Ù�ÙŠ ØÙŽØ±ÙŽØ§Ù…Ù� أَكانَ عليه Ù�Ù�يهَا ÙˆÙ�زْرٌ؟ Ù�َكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا Ù�ÙŠ الØÙŽÙ„َالÙ� كانَ له أَجْرٌ.(صØÙŠØ مسلم:1006)
ترجمÛ�: اور(بیوی سے جماع کرتے Û�وئے) تمÛ�ارے عضو میں صدقÛ� Û�Û’Û”ØµØØ§Ø¨Û� کرام ï·º Ù†Û’ پوچھا:اے اللÛ� Ú©Û’ رسول ï·º !Û�Ù… میں سے کوئی اپنی خواÛ�Ø´ پوری کرتا Û�Û’ تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا Û�ے؟آپ ï·º Ù†Û’ Ù�رمایا:بتاؤاگر ÙˆÛ� ÛŒÛ�(خواÛ�Ø´) ØØ±Ø§Ù… جگÛ� پوری کرتا تو کیا اسے اس گناÛ� Û�وتا؟اسی Ø·Ø±Ø Ø¬Ø¨ ÙˆÛ� اسے ØÙ„ال جگÛ� پوری کرتا Û�Û’ تو اس Ú©Û’ لئے اجر Û�Û’Û”
اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل ذکر کئے جاتے �یں ۔
(1) بیوی سے جماع عÙ�ت وعصمت Ú©ÛŒ ØÙ�اظت ØŒ اÙ�زائش نسل اور ØØ±Ø§Ù… کام سے بچنے Ú©ÛŒ نیت سے Û�و، ایسی صورت میں اللÛ� Ù†Û� صرÙ� جماع Ù¾Û� اجر دےگا بلکÛ� نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔
(2) جماع Ø´Û�وت رانی Ù†Û�یں Û�Û’ بلکÛ� زوجین Ú©Û’ لئے سکون قلب اور Ø±Ø§ØØª جاں Û�Û’ ،اس لئے قبل از جماع شوÛ�ر بیوی سے خوش طبعی Ú©ÛŒ بات کرے اور جماع Ú©Û’ لئے ذÛ�Ù†ÛŒ طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے Û”
(3) جماع سے قبل ÛŒÛ� دعا پڑھنا مسنون Û�Û’ : بسْمÙ� اللَّهÙ�ØŒ اللَّهÙ�مَّ جَنّÙ�بْنَا الشَّيْطَانَ وجَنّÙ�بÙ� الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صØÙŠØ البخاري:3271)
ترجمÛ�:اے اللÛ�!Û�میں شیطان سے Ø¹Ù„ÛŒØØ¯Û� رکھ اور تو جو اولاد Û�میں عنایت Ù�رمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ “پھر اگر انھیں بچÛ� دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان Ù†Û�یں Ù¾Û�نچاسکے گا۔
(4) جماع Ú©ÛŒ جگÛ� آواز سننے والا اور دیکھنے والا کوئی Ù†Û� Û�Ùˆ یعنی ÚˆÚ¾Ú©ÛŒ Ú†Ú¾Ù¾ÛŒ جگÛ� Û�واور جماع Ú©ÛŒ ØØ¯ تک شرمگاÛ� کھولنا کاÙ�ÛŒ Û�Û’ تاÛ�Ù… ایک دوسرے Ú©Ùˆ دیکھنا اور مکمل برÛ�Ù†Û� Û�ونا آپس میں جائز Û�Û’ ØŒ جس ØØ¯ÛŒØ« میں مذکور Û�Û’ Ú©Û� جماع Ú©Û’ وقت بیوی Ú©ÛŒ شرمگاÛ� دیکھنے سے اندھے پن Ú©ÛŒ بیماری لاØÙ‚ Û�وتی Û�Û’ اسے شیخ البانی نےموضوع ØØ¯ÛŒØ« قراردیاÛ�Û’Û” اوراسی Ø·Ø±Ø ÙˆÛ� ساری Ø§ØØ§Ø¯ÛŒØ« بھی ضعیÙ� Û�یں جن میں مذکور Û�Û’ Ú©Û� سیدÛ� عائشÛ� رضی اللÛ� عنÛ�ا اور رسول اللÛ� ï·º Ù†Û’ کبھی ایک دوسرے Ú©ÛŒ شرمگاÛ� Ù†Û�یں دیکھیں۔
(5) Ø¨ØØ§Ù„ت Ø§ØØ±Ø§Ù… اور Ø¨ØØ§Ù„ت روزÛ� جماع ممنوع Û�Û’ ،باقی دن ورات Ú©Û’ کسی ØØµÛ’ میں جماع کرسکتے Û�یں Û”ØØ§Ù„ت ØÛŒØ¶ اور ØØ§Ù„ت Ù†Ù�اس میں صرÙ� جماع کرنا منع Û�ےمگر جماع Ú©Û’ علاوÛ� بیوی سے لذت اندوز Û�ونا جائز Û�Û’Û” اگر کسی Ù†Û’ ØÛŒØ¶ Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصÙ� دینا صدقÛ� کرنا Û�وگا ساتھ Û�ÛŒ اللÛ� سے سچی توبÛ� کرے تاکÛ� آئندÛ� اللÛ� کا ØÚ©Ù… توڑ کر معصیت کا ارتکاب Ù†Û� کرے Û”ÛŒÛ�ÛŒ ØÚ©Ù… Ù†Ù�اس Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں جماع کا Û�Û’ البتÛ� صØÛŒØ قول Ú©ÛŒ روشنی میں Ù…Ø³ØªØØ§Ø¶Û� سے جماع کرنا جائز Û�Û’Û”
(6)دوران ØÙ…Ù„ بیوی سے جماع کرنا جائز Û�Û’ تاÛ�Ù… شوÛ�ر Ú©Ùˆ اس کنڈیشن میں Û�میشÛ� بیوی Ú©ÛŒ Ù†Ù�سیات ØŒ ØµØØª اور آرام کا خیال رکھنا چاÛ�ئے Û” ØÙ…Ù„ Ú©ÛŒ مشقت بÛ�ت سخت Û�Û’ ØŒ قرآن Ù†Û’ اسے دکھ پر دکھ Ú©Û�ا Û�Û’ ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شوÛ�ر کومنع کرتے Û�یں Ù„Û�ذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا ØÙ…Ù„ Ú©Û’ آخری ایام کاÙ�ÛŒ دشوار گزار Û�وتے Û�یں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت Û�وسکتا Û�Û’ Û”
(7)مطلق� رجعی� کی عدت میں جماع کرنا رجعت �ے ک� ن�یں اس پ� ا�ل علم میں مختل� اقوال �یں ، ان میں قول مختار ی� �ے ک� اگر شو�ر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا �ے تو رجوع ثابت �وگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع ن�یں �وگا مثلا ش�وت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع Ú©Û’ دوران Ø´Û�وت Ú©ÛŒ باتیں کرنے سے متعلق سوال کرتے Û�یں تو اس میں کوئی ØØ±Ø¬ Ù†Û�یں Û�Û’ ØŒ Ù†Û� Û�ÛŒ عیب Ú©ÛŒ بات Û�Û’ ØŒ Û�اں Ù�ØØ´ اور بے Û�ودÛ� باتیں جس Ø·Ø±Ø Ø¹Ø§Ù… ØØ§Ù„ات میں ممنوع Û�یں اسی Ø·Ø±Ø Ø¯ÙˆØ±Ø§Ù† جماع بھی ممنوع Û�ÙˆÚº Ú¯ÛŒ Û”
(9)جماع سے قبل ش�وت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان د� �ے ل�ذا اس چیز سے اجتناب کریں ،�اں کسی آدمی میں جنسی کمزوری �و تو ما�ر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائق� ن�یں �ے ۔
(10) بیوی Ú©ÛŒ اگلی شرمگاÛ� میں جماع کرنا ØÛŒØ¶ ونÙ�اس سے پاکی Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں جائز Û�Û’ اورجماع کرنے Ú©Û’ لئے بیوی سے بوس وکنار Û�ونا، خوش طبعی کرنا، جماع Ú©Û’ لئے تیار کرنے Ú©Û’ واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاÛ� چھونا یا دیکھنا جائز ÙˆØÙ„ال Û�Û’ Û” پھر اگلی شرمگاÛ� میں جماع Ú©Û’ لئے جو Ú©ÛŒÙ�یت ÙˆÛ�یئت اختیار Ú©ÛŒ جائے تمام Ú©ÛŒÙ�یات جائز Û�یں Û” یاد رÛ�Û’ جماع Ú©ÛŒ خواÛ�Ø´ بیدار Û�ونے اور اس کا مطالبÛ� کرنے پر Ù†Û� شوÛ�ربیوی سے انکار کرے اور Ù†Û� Û�ÛŒ بیوی شوÛ�ر سے انکار کرے Û”
(11) شوÛ�ر Ú©Û’ لئے بیوی Ú©ÛŒ شرمگاÛ� چھونے اور دیکھنے میں کوئی ØØ±Ø¬ Ù†Û�یں Û�Û’ لیکن اسے چومنا بے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ Û�Û’Û” اسی Ø·Ø±Ø Ø¨ÛŒÙˆÛŒ Ú©Û’ لئے مرد Ú©ÛŒ شرمگاÛ� چھونے اور دیکھنے میں کوئی ØØ±Ø¬ Ù†Û�یں Û�Û’ مگر اسے چومنا اور منÛ� میں داخل کرنا بے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ Û�Û’ Û” ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصÛ� ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� عورت Ú©ÛŒ شرمگاÛ� چومنا اور منÛ� سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ Û�Û’ اور اسلام Ú©ÛŒ پاکیزÛ� تعلیمات Ú©Û’ خلاÙ� Û�Û’ Û”
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرÙ�طری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات Ú©Û’ ساتھ بے ØÛŒØ§ لوگوں کا راستÛ� اختیار کرنا Û�Û’ ØŒ مومن Û�ر کام میں ØÛŒØ§ کا Ù¾Û�لو مدنظر رکھتا Û�Û’ Û” عموما شوÛ�ر اپنی بیوی Ú©Ùˆ غیرÙ�طری طریقÛ� مباشرت اپنانے اور بے ØÛŒØ§Ø¦ÛŒ کا اسلوب اختیار کرنے Ú©ÛŒ دعوت دیتا Û�Û’ ایسی عورت Ú©Û’ سامنے عÛ�د رسول Ú©ÛŒ اس انصاری عورت کا واقعÛ� Û�ونا چاÛ�ئے جس Ú©Û’ قریشی یعنی Ù…Û�اجرشوÛ�ر Ù†Û’ اس سے اپنے ÛŒÛ�اں Ú©Û’ طریقÛ� سے مباشرت کرنا چاÛ�اجوانصاری Ú©Û’ ÛŒÛ�اں معروÙ� Ù†Û� تھا تو اسکی بیوی Ù†Û’ اس بات سے انکار کیا اور Ú©Û�ا Û�Ù… صرÙ� ایک Û�ÛŒ انداز سے جماع Ú©Û’ قائل Û�یں Ù„Û�ذا ÙˆÛ�ÛŒ طریقÛ� اپناؤ یا مجھ سے دور رÛ�Ùˆ Û”ÛŒÛ�اں تک Ú©Û� بات رسول اللÛ� ï·º تک Ù¾Û�Ù†Ú† گئی اور اس وقت قرآن Ú©ÛŒ آیت (Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ ØÙŽØ±Ù’ثٌ Ù„ÙŽÙƒÙ�مْ Ù�َأْتÙ�وا ØÙŽØ±Ù’ثَكÙ�مْ أنَّى Ø´Ù�ئْتÙ�مْ) نازل Û�وئی جس Ú©ÛŒ تÙ�سیر اوپر گزرچکی Û�Û’Û” واقعÛ� Ú©ÛŒ تÙ�صیل دیکھیں: (صØÙŠØ أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا Ù�رمان Û�Û’ Ú©Û� جو شخص اپنی بیوی Ú©ÛŒ دبر میں آتاÛ�ے،وÛ� ملعون Û�Û’(صØÛŒØ ابی داؤد:2162)Û”Ù„Û�ذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقÛ�ر الÛ�ÛŒ کا سزاوار Ù†Û� بنائے Û” کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد Û�وگیا Û�Ùˆ تو ÙˆÛ� Ù�ورا رب Ú©ÛŒ طرÙ� التÙ�ات کرے اور اللÛ� سے توبÛ� کرکے گناÛ� معاÙ� کرالے۔جÛ�اں تک لوگوں کا ÛŒÛ� خیال کرنا Ú©Û� بیوی Ú©ÛŒ Ù¾Ú†Ú¾Ù„ÛŒ شرمگاÛ� میں جماع کرنے سے Ù†Ú©Ø§Ø Ø¨Ø§Ø·Ù„ Û�وجاتا Û�Û’ سو ایسی بات Ú©ÛŒ کوئی ØÙ‚یقت Ù†Û�یں Û�Û’ Û”
(14) ایک �ی رات میں دوبار� جماع کرنے سے پ�لے اگر میسر �و تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبار� جماع کرسکتے �یں کیونک� رسول الل� ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت �رماتے تھے ۔
(15) مرد Ú©ÛŒ شرمگاÛ� عورت Ú©ÛŒ شرمگاÛ� میں داخل Û�ونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب Û�وجاتا Û�Û’ چاÛ�Û’ منی کا انزال Û�Ùˆ یا Ù†Û� Û�ÙˆÛ” ØØ§Ù„ت جنابت میں سویا جاسکتا Û�Û’ تاÛ�Ù… Ù�جر سے Ù¾Û�لےیا جو وقت Û�واس نماز Ú©Û’ واسطے غسل کر لےتاکÛ� بلاتاخیر وقت Ù¾Û� نماز Ù¾Ú‘Ú¾ سکے Û” ØØ§Ù„ت جنابت میں قرآن Ú©ÛŒ تلاوت Ù†Û�یں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ØŒ بات چیت،کھاناپینا سب جائز Û�یں ØØªÛŒ Ú©Û� Ø³ØØ±ÛŒ بھی کھاسکتے Û�یں۔
(16)جب جماع Ú©ÛŒ ØØ§Ù„ت میں اذان Û�ونے Ù„Ú¯Û’ یا اقامت Ú©ÛŒ آواز سنائی دے تو اس عمل Ú©Ùˆ جاری رکھنے میں کوئی ØØ±Ø¬ Ù†Û�یں تاÛ�Ù… اس سے جلد Ù�راغت ØØ§ØµÙ„ کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رÛ�Û’ اذان سننے Ú©Û’ بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رÛ�نا ØØªÛŒ Ú©Û� اقامت Û�ونے Ù„Ú¯Û’ تب جماع کرنا Û�ماری کوتاÛ�ÛŒ اور نماز سے غÙ�لت Û�ے۔جÛ�اں تک اذان Ú©Û’ جواب کا مسئلÛ� Û�Û’ تو ÛŒÛ� سب پر واجب Ù†Û�یں بلکÛ� Ù�رض Ú©Ù�ایÛ� اوربڑے اجر وثواب کا ØØ§Ù…Ù„ Û�Û’ اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار Ú©Û’ دوران جواب دینا چاÛ�یں تو دینے میں کوئی ØØ±Ø¬ Ù†Û�یں Û�Û’ لیکن جماع Ú©Û’ وقت اذان کا جواب دینے سے علماء Ù†Û’ منع کیا Û�Û’ ،جب اس عمل سے Ù�ارغ Û�وجائیں تو بقیÛ� کلمات کا جواب دے سکتے Û�یں Û”
(17) اولاد Ú©Û’ درمیان ضرورت Ú©Û’ ØªØØª وقÙ�Û� کرنے Ú©ÛŒ نیت سے جماع کرتے Û�وئے منی شرمگاÛ� Ú©Û’ باÛ�ر خارج کرنا جائز Û�Û’ ØŒ شوقیÛ� ایسا کرنے سے بÛ�رصورت بچنا چاÛ�ئے کیونکÛ� Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø§ اÛ�Ù… مقصد اÙ�زائش نسل Û�Û’Û”
(18) میاں بیوی Ú©ÛŒ خلوت اور جماع Ú©ÛŒ باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے ØÛŒØ§ ئی Ú©ÛŒ علامت Û�Û’ØŒ رسول اللÛ� ï·º Ù†Û’ اس عمل سے امت Ú©Ùˆ منع Ù�رمایا Û�Û’ Û” اس بات سے ان بے ØÛŒØ§Ø¤Úº Ú©Ùˆ Ù†ØµÛŒØØª لینا چاÛ�ئے جو جماع Ú©ÛŒ تصویر یا ویڈیو بناتے Û�یں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے Û�یں Û” نعوذباللÛ� کتنے ملعون Û�یں Ù�ØØ´ ویڈیوز بنانے ØŒ پھیلانےاوردیکھنے والے Û” نبی ï·º کا Ù�رمان Û�Û’ :
كلّÙ� أمَّتي Ù…Ù�عاÙ�ًى إلَّا المÙ�جاهÙ�رينَ ØŒ وإنَّ منَ المÙ�جاهرةÙ� أن يعمَلَ الرَّجلÙ� باللَّيلÙ� عملًا ØŒ Ø«Ù�مَّ يصبÙ�ØÙŽ ÙˆÙ‚Ø¯ سترَه اللَّهÙ� ØŒ Ù�يقولَ : يا Ù�لانÙ� ØŒ عمÙ�لتÙ� Ø§Ù„Ø¨Ø§Ø±ØØ©ÙŽ ÙƒØ°Ø§ وَكذا ØŒ وقد باتَ يسترÙ�Ù‡ ربّÙ�Ù‡Ù� ØŒ ويصبÙ�ØÙ� يَكشÙ�Ù�Ù� سترَ اللَّهÙ� عنهÙ�( صØÙŠØ البخاري:6069)
ترجمÛ�:میری تمام امت Ùˆ معاÙ� کردیا جائے گا مگر جو اعلانیÛ� گناÛ� کرتے Û�یں۔ علانیÛ� گناÛ� کرنے کا مطلب ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� ایک شخص رات Ú©Û’ وقت گناÛ� کرتا Û�Û’ باوجودیکÛ� اللÛ� تعالیٰ Ù†Û’ اس Ú©Û’ گناÛ� پر پردÛ� ڈالا Û�وتا Û�Û’ لیکن ØµØ¨Ø Û�وتے Û�ÛŒ ÙˆÛ� Ú©Û�Ù†Û’ لگتا Û�Û’: اے Ù�لاں! میں Ù†Û’ رات Ù�لاں Ù�لاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس Ú©Û’ رب Ù†Û’ اس کا گناÛ� چھپا رکھا تھا جب ØµØ¨Ø Û�وئی تو ÙˆÛ� خود پر دیےگئے اللÛ� Ú©Û’ پردے Ú©Ú¾Ùˆ لنے لگا۔
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 03
النَّبْرÙ� Ù�ي تجويد القرآن أو علم الصوتيات ظاهرة صوتية دقيقة تهدÙ� إلى إبراز الصوت على مقطع من الكلمة وهو أشيع Ù�ÙŠ اللغات الغربية منه Ù�ÙŠ العربية، بØÙŠØ« يمكن أن يتغير معنى الكلمة Ù�ÙŠ تلك اللغات بتغير موقع النبر، بينما Ù�ÙŠ العربية لا يغير النبر المعنى لكنه قد يساعد السامع على الÙ�هم.
نبر الجـ�مَل أو السياق
وهو أن يميّز المتكلم – أثناء كلامه – كلمة (برمّتها) ØŒ Ù�يزيد من نبرها، للإشارة إلى غرض خاص؛ Ù�مثلا: (هل ساÙ�ر أخوك؟) Ù�ØÙŠÙ† نَنْبر Ù�ÙŠ كلمة (ساÙ�ر) Ù�ÙŠ هذه الجملة؛ ربما يكون المعنى أنّ المتكلم يشك Ù�ÙŠ ØØ¯ÙˆØ« السÙ�ر من أخي السامع، أما إذا ضغطنا على كلمة (أخوك) Ù�Ù�ـهم من الجملة أننا لا نشكّ Ù�ÙŠ السÙ�ر، إنما الذي نشك Ù�يه هو المساÙ�ر Ù†Ù�سه، Ù�ربما كان أباه أو عمَّه أو غيرهما – لا أخاه. وأما إذا ضغطنا Ù�ÙŠ كلمة (أمس) Ù�Ù�هم من الجملة أن الشك Ù�ÙŠ تاريخ السÙ�ر.
موقع النبر �ي الكلمات والجمل
لا تكاد تخلو من النبر جميع اللغات، ولكن ينبغي أن نعلم أنّ هناك اختلاÙ�ات Ù�ÙŠ مواقع النبر Ù�ÙŠ مقاطع كلمات هذه اللغات، Ù�بعضها يخضع نبر كلماتها لقواعدَ معيّنة كاللغة العربية مثلا، وبعضها يقع النبر Ù�ÙŠ المقطع الأخير من كلماتها دائما؛ كاللغة الÙ�رنسية، كما يقع Ù�ÙŠ المقطع الأول لكلمات بعضها كاللغة التشيكية، ومنها ما لا يخضع النبر Ù�يها لأية قاعدة، بل ÙŠÙ�ØÙ�ظ الموقع لكل كلمة على ØØ¯Ø©Ø› كما Ù�ÙŠ اللغة الإنكليزية.
Ù�معرÙ�Ø© مواقع النبر – إذن – له أهمية كبيرة، وخاصة Ù�ÙŠ اللغات الضاغطة كاللغة الإنكليزية، ØÙŠØ« يمكن اضطراب المعنى Ù�ÙŠ هذه اللغة بمجرد تغيير موقع النبر Ù�ÙŠ مقطع من مقاطع الكلمة؛ Ù�إذا نبرت Ù�ÙŠ أولها دلّت على شيء، وإذا نبرت Ù�ÙŠ مكان آخر دلّت على معنى آخر؛ Ù�مثلا الكلمات: Torment, AgumentØŒ لا Ù�رق بينهما إلا Ù�ÙŠ اختلاÙ� موضع النبر. وأما بخصوص لغات غير ضاغطة كالعربية الÙ�صØÙ‰ مثلا، Ù�قد يرى Ù…ØÙ…د الأنطاكي أنّ النبر Ù�ÙŠ مقاطع كلماتها لا يغيّر معناها، اللهم إلا Ù�ÙŠ نبر الجمل، Ù�إنه كثيرا ما يدل على الرغبة Ù�ÙŠ التأكيد أو الإشارة إلى غرض خاص، كما مثلنا سابقا.
درجات النَّبر
ÙˆÙ�Ù�قا للبروز ÙˆØ§Ù„ÙˆØ¶ÙˆØ Ø§Ù„Ø³Ù…Ø¹ÙŠ Ù�إن للنبر درجتين، وهما:
- النّبر الرئيسي، أو الأولي: وهو يقع على المقطع الأخير Ù�ÙŠ الكلمة، مثل: انطلاق، استقال؛ أو ما قبل الأخير Ù�ÙŠ الكلمة، مثل: ØØ²Ø¨ØŒ علم. وهناك الذي يسبق ما قبل الأخير، إذا كان واقعا مع ما قبله Ù�ÙŠ مثل: علَّمَكْ.
- النّبر الثانوي: Ù�هو يوجد Ù�ÙŠ الكلمات المتكونة من مقطعين Ù�أكثر، Ù�هو يقع على المقطع الذي يسبق المنبور نبرا أوليا، إذا كان الصوت المنبور نبرا ثانويا طويلا، Ù†ØÙˆ (ولا الضالين)Ø› والمقطع السابق للمقطع المنبور، ويليه مقطع منبور نبرا أوليا، Ù†ØÙˆ: (علّمناه)Ø› والمقطع المنبور نبرا أوليا، تكون نسقا أصواتيا، Ù†ØÙˆ: (ما عرÙ�ناهم).
النبر Ù�ÙŠ العربية الÙ�صØÙ‰
يظهر الÙ�رق بين هذه اللغات هو استعمال النبر Ù…ÙŽÙ„Ù…ØØ§ تمييزيا أو Ù…Ù„Ù…ØØ§ غير تمييزي. وقد أثبت معظم العلماء وجود النبر Ù�ÙŠ الكلمات العربية القديمة، إلا أنّ معرÙ�Ø© ØØ§Ù„ته Ù�ÙŠ ذلك الوقت، أو معرÙ�Ø© أماكنه Ø§Ù„Ù…ØØ¯ÙŽÙ‘دة Ù�ÙŠ مقاطع الكلمات هو المعدوم؛ وسبب ذلك – كما ذكر إبراهيم أنيس ومØÙ…د الأنطاكي – هو عدم تعرض Ø£ØØ¯ من المؤلÙ�ين القدماء لهذا الموضوع، وهذا الإغÙ�ال ناشئ عن عدم شعورهم بأي أثر للنّبر Ù�ÙŠ ØªØØ¯ÙŠØ¯ معاني الكلمات العربية. وذهب العلماء إلى أنّ نبر الكلمة Ù�ÙŠ العربية الÙ�صØÙ‰ ليس له أثر Ù�ÙŠ ØªØØ¯ÙŠØ¯ المعنى. وهناك أمثلة كثيرة طرØÙ‡Ø§ Ø£ØÙ…د المختار عمر، للمناقشة ÙˆØ§Ù„Ø¨ØØ« Ù�ÙŠ ذات الموضوع والتي نلتمس- من خلالها– كيÙ� يؤثر النبر Ù�ÙŠ ØªØØ¯ÙŠØ¯ معاني كلمات العربية الÙ�صØÙ‰ØŒ ومن هذه الأمثلة، قولهم: (كريم الخلق) – (كريموا الخلق) Ù�التمييز بين المÙ�رد والجمع– هنا- كان بوضع النبر (مع المÙ�رد) على المقطع الأول، Ùˆ(مع الجمع على المقطع الثالث).
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 04
مختلÙ� زبانوں Ú©Û’ الÙ�اظ آپس میں ایک دوسری زبان میں منتقل Û�وتے رÛ�تے Û�یں۔ اردو زبان بھی کئی زبانوں Ú©Û’ الÙ�اظ کا ایک خوش نما مرقع Û�Û’Û” اس Ú©Û’ الگ تشخص اور Ù¾Û�چان Ú©ÛŒ وجÛ� اس کا الگ رسم الخط Û�Û’ØŒ جو اگرچÛ� عربی اور Ù�ارسی سے لیا گیا Û�Û’ لیکن ان دو زبانوں میں برصغیر پاک Ùˆ Û�ند Ú©ÛŒ مقامی بولیوں Ú©Û’ ØØ±ÙˆÙ� کا اضاÙ�Û� کر Ú©Û’ ایک الگ رسم الخط وجود میں آیا Û�Û’ØŒ جس سے اردو Ú©ÛŒ انÙ�رادیت قائم Û�وئی Û�Û’Û” ورنÛ� Ú©Û�ا جاسکتا Û�Û’ Ú©Û� وسط ایشیا Ú©ÛŒ مسلمان قوموں اور پاک Ùˆ Û�ند Ú©ÛŒ اقوام Ù†Û’ اپنی سیاسی اور کاروباری سÛ�ولتوں Ú©Û’ لیے ایک دوسرے Ú©Û’ الÙ�اظ Ú©Ùˆ اپنا لیا اور Ú©Û�یں Ú©Û�یں اپنے اصلی لب Ùˆ Ù„Û�جÛ� میں Ú©Ú†Ú¾ تبدیلیاں کر لیں تو قدیم زبان سے الگ تھلگ ایک بولی وجود میں آگئی۔ ان عربی، Ù�ارسی، Û�ندی اور انگریزی الÙ�اظ Ú©Ùˆ ان میں سے کسی بھی قدیم زبان Ú©Û’ ØØ±ÙˆÙ� میں لکھنا ممکن Ù†Û�یں تھا۔
موجودÛ� دور میں دیونا گری رسم الخط میں Ù„Ú©Ú¾ÛŒ جانے والی زبان Ú©Ùˆ Û�ندی اور Ù�ارسی رسم الخط والی زبان Ú©Ùˆ اردو Ú©Û�ا جاتا Û�Û’Û” Ú©Ù… Ùˆ بیش پچاسی Ù�ÛŒ صد الÙ�اظ Ú©Û’ اشتراک Ú©Û’ باوجود دو مختلÙ� رسم الخط Û�ونے Ú©ÛŒ وجÛ� سے ÛŒÛ� دو زبانیں قرار پائی Û�یں۔ اب Ù†Û� جانے ایک Û�ÛŒ زبان (اردو) Ú©Ùˆ بیک وقت اردو اور انگریزی ØØ±ÙˆÙ� میں Ù„Ú©Ú¾ کر اسے کس قسم Ú©ÛŒ ترقی Ú©ÛŒ راÛ� پر ڈالا جا رÛ�ا Û�Û’Û” Û�اتھ سے کتابت کرنے والے اکثر خود بھی ØØ±Ù� شناس Û�وا کرتے تھے اور پھر مسلسل مشق اور تجربے Ú©ÛŒ وجÛ� سے ان Ú©Û’ Û�اں Û�جوں اور املا Ú©ÛŒ غلطی کا امکان بÛ�ت Ú©Ù… Û�وتا تھا۔ اب کمپیوٹر Ú©Û’ تختÛ�Ù” ØØ±ÙˆÙ� (Key board) پر انگلیاں چلانے والے جب دھڑا دھڑ اردو الÙ�اظ Ú©Û’ غلط Û�جے Ù„Ú©Ú¾ رÛ�Û’ Û�یں تو ان سے انگریزی Ú©Û’ صØÛŒØ Û�جوں Ú©ÛŒ توقع بالکل عبَث Û�Û’Û” بعض اوقات ÛŒÛ� بھی Û�وتا Û�Û’ Ú©Û� اگر کوئی انگریزی Ù„Ù�ظ ایک صÙ�ØÛ� پر تین بار لکھا گیا Û�Ùˆ تو ÙˆÛ� تین مختلÙ� Û�جوں میں Û�Ùˆ گا۔
برصغیر پاک Ùˆ Û�ند میں بÛ�ت سی علاقائی زبانیں بھی Û�یں جن Ú©Û’ الÙ�اظ اردو میں مستعمل Û�یں یا Û�Ùˆ سکتے Û�یں۔ ان زبانوں کا اپنا اپنا رسم الخط بھی Û�Û’Û” اگر کوئی Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ والا کسی مخصوص زبان Ú©Û’ علاقے Ú©ÛŒ تاریخ Ùˆ تÛ�ذیب یا ÙˆÛ�اں Ú©ÛŒ سیر Ùˆ Ø³ÛŒØ§ØØª Ú©Û’ بارے میں اردو زبان میں Ú©Ú†Ú¾ Ù„Ú©Ú¾Û’ تو Ù�طری امر Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� ØØ³Ø¨Ù� ضرورت Ú©Ú†Ú¾ علاقائی الÙ�اظ یا اصطلاØÛŒÚº بھی استعمال کرے گا۔ اس Ø·Ø±Ø Ø§Ú¯Ø± Û�ر خطÛ� یا زبان Ú©Û’ الÙ�اظ Ú©Ùˆ اردو میں لکھتے وقت انھیں اپنے علاقائی رسم الخط میں لکھا جائے تو پھر اردو Ú©Û’ پاس اپنا کیا رÛ� جائے گا؟ اگر جاپانی اور چینی مصنوعات Ú©Û’ نام اردو ØØ±ÙˆÙ� میں Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ بجائے اردو جملÛ� میں بھی ان Ú©Û’ اصل (جاپانی یا چینی) ØØ±ÙˆÙ� میں Ù„Ú©Ú¾ دیے جائیں، روس Ú©ÛŒ Ø³ÛŒØ§ØØª Ú©Û’ بعد کوئی ØµØ§ØØ¨ ÙˆÛ�اں Ú©Û’ Ø´Û�روں یا لوگوں Ú©Û’ نام روسی ØØ±ÙˆÙ� میں Ù„Ú©Ú¾ کر اردو زبان میں ایک اور سÙ�رنامے کا اضاÙ�Û� کرنے کا شوق پورا کر لیں تو کیا ÛŒÛ� اردو قارئین پر ظلم Ù†Û�یں Û�Ùˆ گا۔ ایسی صورت میں ÙˆÛ� کون علامÛ� Û�Ùˆ گا جو زبان دانی کا دعویٰ کر سکے گا۔
اردو میں ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کا استعمال
اردو میں ’’Û�‘‘ Û�ائے Û�وز اور ’’ھ‘‘ Û�ائے دو چشمی Ú©Ùˆ لکھتے وقت اکثر Ú¯Úˆ Ù…Úˆ کر دیا جاتا Û�Û’Û” اردو Ú©ÛŒ پرانی ØªØØ±ÛŒØ±ÙˆÚº میں ’’ھ‘‘ کا استعمال Ú©Ù… تھا اور Û�ندی الاصل الÙ�اظ ’’بھول، پھول، تھال، کھانا، دکھ، سکھ، سنگھ‘‘ وغیرÛ� Ú©Ùˆ عموماً ’’Û�‘‘ سے لکھا جاتا تھا اور ان Ú©ÛŒ صورت ’’بÛ�ول، Ù¾Û�ول، تÛ�ال، Ú©Û�انا، دکÛ�Û�ØŒ سکÛ�Û�ØŒ سنگÛ�Û�‘‘ Û�وتی تھی۔ اب صورت ØØ§Ù„ بÛ�ت بÛ�تر Û�Ùˆ گئی Û�Û’Û” غالباً انیسویں صدی Ú©Û’ آخری چند عشروں میں اردو اخبارات Ú©Û’ عام چلن Ú©ÛŒ وجÛ� سے ’’Û�‘‘ Ú©ÛŒ بجائے ’’ھ‘‘ کا استعمال عام Û�Ùˆ گیا۔ اب املا کا ÛŒÛ� ابÛ�ام کاÙ�ÛŒ ØØ¯ تک ختم Û�Ùˆ گیا Û�Û’ اور الÙ�اظ Ú©Ùˆ زیادÛ� تر درست لکھا جاتا Û�Û’Û” اس لیے ’’بÛ�اری‘‘ اور ’’بھاری‘‘، ’’پÛ�اڑ‘‘، اور ’’پھاڑ‘‘، ’’دÛ�را‘‘ اور ’’دھرا‘‘ اور ’’دÛ�ن‘‘ اور ’’دھن‘‘ لکھتے اور پڑھتے وقت اÙ�Ù† میں امتیاز کیا جا سکتا Û�Û’Û” لیکن ابھی تک بÛ�ت سے الÙ�اظ مثلاً ’’انھوں، انھیں، تمھارا، تمھیں، چولھا، دولھا، دلھن‘‘ وغیرÛ� Ú©Ùˆ Û�ائے Û�وز سے Û�ÛŒ یعنی ’’انÛ�وں، انÛ�یں، تمÛ�ارا، تمÛ�یں، چولÛ�ا، دولÛ�ا، دلÛ�ن‘‘ لکھا جاتا Û�Û’ اور اسے عام طور پر غلط سمجھا بھی Ù†Û�یں جاتا۔
دراصل ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ Ú©Ùˆ ایک Û�ÛŒ نام دینے Ú©ÛŒ وجÛ� سے ایک بÛ�ت بڑا مغالطÛ� در آیا Û�Û’ Ú©Û� شاید ÛŒÛ� ایک Û�ÛŒ ØØ±Ù� Û�Û’ یا دونوں ایک دوسرے Ú©Û’ مترادÙ� Ùˆ متبادل Û�یں۔ اس غلط Ù�Û�Ù…ÛŒ Ú©ÛŒ وجÛ� قدیم ماÛ�رینÙ� لسانیات کا ÛŒÛ� تصور Û�Û’ Ú©Û� اردو میں بھاری یا سخت آوازوں والے ØØ±ÙˆÙ� ’’بھ، پھ، تھ، کھ‘‘ وغیرÛ� مرکب ØØ±ÙˆÙ� Û�یں۔ یعنی ب+Û�= بھ، Ù¾+Û�= پھ، ت+Û�= تھ، Ú©+Û�= Ú©Ú¾Û” اسی لیے آج تک بچے Ú©Ùˆ جب اردو ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی کا ابتدائی تعارÙ� کرایا جاتا Û�Û’ تو مروجÛ� قاعدوں میں تمام دو چشمی ØØ±ÙˆÙ� Ú©Ùˆ ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی کا ØØµÛ� ظاÛ�ر Ù†Û�یں کیا جاتا۔ Ù�ارسی ØØ±ÙˆÙ� میں صرÙ� ’’ٹ‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ Ú©ÛŒ تین آوازوں کا اضاÙ�Û� کر Ú©Û’ اردو ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©Ùˆ مکمل تصور کر لیا جاتا Û�Û’Û” بچÛ� بھی ÛŒÛ� سمجھتا Û�Û’ Ú©Û� اس Ù†Û’ سب ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ شکلیں اور آوازیں ذÛ�Ù† نشین کر Ù„ÛŒ Û�یں۔ اگلے مرØÙ„Û’ میں بچے Ú©Ùˆ ØØ±ÙˆÙ� جوڑ کر مختلÙ� آوازوں Ú©Ùˆ ملانے اور لکھتے وقت انھیں جوڑنے اور توڑنے Ú©Û’ قواعد سکھائے جاتے Û�یں۔ اب بچÛ� ÛŒÛ� سمجھتا Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ سب Ù…Ù�رد اور مرکب شکلوں سے آگاÛ� Û�Ùˆ گیا Û�Û’ØŒ Ù„Û�ٰذا اس Ú©Û’ منÛ� سے نکلنے والی Û�ر آواز اب ØØ±ÙˆÙ� جوڑ کر الÙ�اظ Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ میں Ù„Ú©Ú¾ÛŒ جا سکتی Û�Û’Û” لیکن اس مرØÙ„Û’ Ú©Û’ بعد ÙˆÛ� ایک نئی الجھن کا شکار Û�وتا Û�Û’ اور اسے ÛŒÛ� سکھایا جاتا Û�Û’ Ú©Û� Û�ماری زبان میں ایک اور ’’Û�‘‘ بھی موجود Û�Û’ اور اس Ú©ÛŒ دو آنکھیں Û�یں۔ جب اس Ú©ÛŒ آنکھیں ب، پ، ت، ٹ، ج، چ، د، ڈ، ر، Ú‘ØŒ Ú©ØŒ گ، Ù„ØŒ Ù… اور Ù† سے ملتی Û�یں یا لڑتی Û�یں تو بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، Ù†Ú¾ وجود میں آتے Û�یں۔ اس Ø·Ø±Ø Ø¨Ú†Û� ان ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ شکلوں اور آوازوں سے تو شاید واقÙ� اور مانوس Û�Ùˆ جاتا Û�Û’ لیکن اسے ÛŒÛ� علم عمر بھر Ù†Û�یں Û�وتا Ú©Û� ÙˆÛ� Û�ائے دو چشمی والے ØØ±ÙˆÙ� Ú©Ùˆ ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی کا ØØµÛ� تصور کرے یا Ù†Û�یں۔ اگر انھیں ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©Û�ا جائے تو Ù¾Û�Ù„Û’ تعارÙ� میں انھیں شامل کیوں Ù†Û�یں کیا جاتا اور اگر ÙˆÛ� ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی کا ØØµÛ� Ù†Û�یں تو انھیں کیا نام دیا جائے؟ جب Ú©Û� ان Ú©Û’ استعمال Ú©Û’ بغیر اردو میں شاید ایک جملÛ� لکھنا بھی ممکن Ù†Û� Û�ÙˆÛ”
باون ØØ±ÙˆÙ� Ú©Û’ خاندان میں اگر پندرÛ� Ú©Ùˆ خاندان کا ØØµÛ� Û�ÛŒ Ù†Û� مانا جائے تو خاندان کا نظام کیسے Ú†Ù„Û’ گا۔ اس الجھن کا شکار معمولی Ù¾Ú‘Ú¾Û’ Ù„Ú©Ú¾Û’ اÙ�راد سے Ù„Û’ کر اعلیٰ تعلیم یاÙ�تÛ� بلکÛ� لسانیات Ú©Û’ ماÛ�رین اور لغات Ú©Û’ مرتبین بھی Û�یں۔ لغت Ú©ÛŒ بعض کتابوں میں بھی ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں کوئی Ù�رق Ù†Û�یں سمجھا گیا اور ان Ú©Ùˆ اس Ø·Ø±Ø Ù…Ø®Ù„ÙˆØ· Ùˆ مجÛ�ول کر دیا گیا Ú©Û� ایک عام Ù�رد Ù„Ù�ظ Ú©Û’ تلÙ�ظ، املا یا معنی سمجھنے Ú©Û’ بجائے مزید الجھاؤ کا شکار Û�Ùˆ جاتا Û�Û’Û” ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز Ù†Û� کرنے Ú©ÛŒ وجÛ� سے ’’منÛ�‘‘، ’’منھ‘‘، ’’مونÛ�Û�‘‘ اور ’’مونھ‘‘ ایک Û�ÛŒ Ù„Ù�ظ چار مختلÙ� شکلوں میں لکھا جاتا Û�Û’ بلکÛ� عین ممکن Û�Û’ Ú©Û� اسے کسی اور املا سے بھی لکھا جاتا Û�Ùˆ جو راقم Ú©Ùˆ معلوم Ù†Û� Û�ÙˆÛ” لطÙ� Ú©ÛŒ بات ÛŒÛ� Ú©Û� ان املا Ú©Ùˆ لغت Ú©ÛŒ کتابوں میں بھی کسی ØªØµØ±ÛŒØ Ú©Û’ بغیر کبھی ایک Ø·Ø±Ø Ø³Û’ اور کبھی دوسری Ø·Ø±Ø Ø³Û’ لکھا جاتا Û�Û’Û”
ØÙ‚یقت ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� جس Ø·Ø±Ø â€™â€™Ù¹â€˜â€˜ØŒ ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ مرکب اور مخلوط ØØ±ÙˆÙ� Ù†Û�یں یعنی ÙˆÛ� کسی دوسرے ØØ±Ù� Ú©Ùˆ ’’ط‘‘ سے ملا کر Ù†Û�یں بنائے گئے، اÙ�سی Ø·Ø±Ø Ø§Ø±Ø¯Ùˆ میں Û�ائے دو چشمی گروÛ� Ú©Û’ سارے ØØ±ÙˆÙ� اپنی اپنی ØÛŒØ«ÛŒØª میں مستقل اور Ù…Ù�رد ØØ±ÙˆÙ� Û�یں۔
’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز Ù†Û� کرنے Ú©ÛŒ وجÛ� سے اردو Ú©Û’ قدیم شعرا اپنے شعری دیوان مرتب کرتے وقت ’’ھ‘‘ Ú©ÛŒ ردیÙ�ÙˆÚº مثلاً ’’آنکھ، ساتھ، Û�اتھ‘‘ وغیرÛ� Ú©Ùˆ ردیÙ� ’’Û�‘‘ Ú©ÛŒ ذیل میں Û�ÛŒ لکھا کرتے تھے۔ اس Ø·Ø±Ø â€™â€™Û�‘‘ Ú©ÛŒ ردیÙ� میں ’’یÛ�ØŒ ÙˆÛ�ØŒ نقشÛ�ØŒ جگÛ�‘‘ Ú©Û’ ساتھ Û�ÛŒ ’’آنکھ، بیٹھ، ساتھ، Û�اتھ‘‘ وغیرÛ� بھی موجود Û�وتے تھے۔ اس Ú©ÛŒ وجÛ� غالباً ÛŒÛ� تھی Ú©Û� ÙˆÛ� ردیÙ�ÙˆÚº Ú©Û’ نام صرÙ� Ù�ارسی ØØ±ÙˆÙ� پر رکھتے تھے اور ’’بھ، ٹھ، چھ، کھ‘‘ وغیرÛ� Ú©Û’ استعمال Ú©Ùˆ جائز Ù†Û�یں سمجھتے تھے۔
Ù�Ù† ابجد اور علم الاعداد تقریباً اÙ�تنے Û�ÛŒ پرانے Ù�نون Û�یں، جتنا پرانا Ù�Ù†Ù� کتابت Û�Û’Û” Û�مارے Û�اں رائج Ù�Ù†Ù� ابجد عربی Ú©Û’ اٹھائیس ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی پر مبنی Û�Û’Û” اس Ù�Ù† Ú©Û’ ØªØØª Û�ر ØØ±Ù� Ú©ÛŒ ایک عددی قیمت متعین کر دی گئی Û�Û’ØŒ مثلاً الÙ�=ا، ب=۲، ج=Û³ اور د=Û´Û” اور اسی Ø·Ø±Ø ØªÛŒÙ† تین اور چار چار ØØ±ÙˆÙ� Ú©Û’ مختلÙ� ترتیب سے سیٹ بنا کر ان Ú©ÛŒ اکائی، دÛ�ائی اور سیکڑا میں قیمتیں Ù�رض کر Ù„ÛŒ گئی Û�یں۔ عربی سے ÛŒÛ� Ù�Ù† Ù�ارسی اور اردو میں بھی Ù¾Û�نچا لیکن ان زبانوں Ú©Û’ زائد ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ کوئی قیمت مقرر Ù†Û�یں Ú©ÛŒ گئی بلکÛ� ان Ú©ÛŒ قیمتیں قریب ترین ØØ±Ù� Ú©ÛŒ قیمت Ú©Û’ برابر Ù�رض کر Ù„ÛŒ گئیں۔ مثلاً Ù¾=ب=۲، Ú†=ج=Û³ اور Ú¯=Ú©=Û²Û°Û” اردو میں مستعمل Û�ندی ØØ±ÙˆÙ� ٹ، ڈ، Ú‘ وغیرÛ� بھی قریب ترین ØØ±Ù� Ú©Û’ عدد Ú©Û’ برابر شمار کیے گئے لیکن ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ Ú©Ùˆ ایک Û�ÛŒ ØØ±Ù� Ù�رض کر Ú©Û’ ان Ú©ÛŒ قیمت ایک Û�ÛŒ رکھی گئی۔ ÛŒÛ�اں اس Ú©ÛŒ مکتوبÛ� Ø´Ú©Ù„ سے دھوکا کھا کر اسے ب+Ú¾= Û²+Ûµ= Û· تصور Ú©ÛŒ گئی Û�Û’Û”
آواز اور اس Ú©ÛŒ مقررÛ� علامت یعنی ØØ±Ù� Ú©Û’ باÛ�Ù…ÛŒ تعلق Ú©Ùˆ جانچنے اور پرکھنے Ú©Û’ لیے علمÙ� عروض ایک بÛ�ت اچھا ذریعÛ� Û�Û’Û” عروض میں مصرع Ú©ÛŒ تقطیع Ú©Û’ قواعد Ú©ÛŒ رو سے ’’ھ‘‘ خاندان Ú©Û’ تمام ØØ±ÙˆÙ� Ù…Ù�رد Û�ÛŒ شمار Û�وتے Û�یں۔ ان Ú©ÛŒ مکتوبÛ� Ø´Ú©Ù„ سے دھوکا کھا کر انھیں مخلوط یا مرکب ØØ±ÙˆÙ� Ù†Û�یں سمجھا جاتا۔ ÛŒÛ� الگ بات Û�Û’ Ú©Û� قدیم عروض دان انھیں ÙˆØ§Ø¶Ø Ø·ÙˆØ± پر ایک ØØ±Ù� ماننے Ú©Û’ بجائے یوں لکھا کرتے تھے Ú©Û� ’’تقطیع میں ’ھ‘ ساقط Û�Ùˆ جاتی Û�ے۔‘‘ ØØ§Ù„ آں Ú©Û� اس سقوط سے مراد ÛŒÛ�ÛŒ Û�Û’ Ú©Û� ’’ھ‘‘ Ú©ÛŒ اپنی کوئی الگ آواز Ù†Û�یں Û�Û’ اور ÛŒÛ� مخلوط ØØ±Ù� Ù†Û�یں۔ سات، ساتھ، کاٹ، کاٹھ، کھاٹ اور گول، گھول وغیرÛ� الÙ�اظ Û�Ù… وزن Û�یں جب Ú©Û� ’’بھاؤ اور بÛ�اؤ‘‘، ’’دھن اور دÛ�ن‘‘، ’’پھن اور Ù¾Û�ن‘‘ اور ’’پھل اور Ù¾Û�ل‘‘ Û�Ù… وزن Ù†Û�یں Û�یں، جو اس بات کا ÙˆØ§Ø¶Ø Ø«Ø¨ÙˆØª Û�Û’ Ú©Û� ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ Ú©Ùˆ ایک Û�ÛŒ ØØ±Ù� یا ایک دوسرے کا متبادل Ùˆ مترادÙ� سمجھنا بÛ�ت بڑا علمی مغالطÛ� Û�Û’Û”
ØÙ‚یقت میں ’’ھ‘‘ اردو ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©ÛŒ ÙˆÛ� مکتوبÛ� Ø´Ú©Ù„ یا علامت Û�Û’ جو پندرÛ� ØØ±ÙˆÙ� میں مشترکÛ� طور پر استعمال Û�وتی Û�Û’Û” ÛŒÛ� الگ سے کوئی ØØ±Ù� Ù†Û�یں اور Ù†Û� Û�ÛŒ اس سے کوئی Ù„Ù�ظ شروع Û�وتا Û�Û’Û” اگر ØØ±ÙˆÙ� Û�جا Ú©ÛŒ اشکال Ú©Û’ Ù„ØØ§Ø¸ سے گروÛ� بندی Ú©ÛŒ جائے تو ’’ب، پ، ت، ٹ، ث‘‘، ’’ج، چ، ØØŒ خ‘‘ اور ’’ر، Ú‘ØŒ ز، ڑ‘‘ وغیرÛ� چند گروÛ� وجود میں آتے Û�یں جنھیں تÛ�جی ترتیب میں ایک ساتھ لکھا جاتا Û�Û’Û” ’’بھ، پھ، تھ۔۔۔ لھ، مھ، نھ‘‘ وغیرÛ� بھی Û�Ù… Ø´Ú©Ù„ ØØ±ÙˆÙ� کا ایک گروÛ� Û�Û’ جس Ú©Û’ ارکان Ú©ÛŒ تعداد سب سے زیادÛ� یعنی پندرÛ� Û�Û’ لیکن انھیں جب ایک گروÛ� Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ میں لکھا جائے تو بنیادی ØØ±ÙˆÙ� تسلیم Û�ÛŒ Ù†Û�یں کیا جاتا اور اگر بنیادی ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ ترتیب میں یعنی ’’ب‘‘ Ú©Û’ بعد ’’بھ‘‘ لکھا جائے تو پھر بھی ترتیب نمبر سے Ù…ØØ±ÙˆÙ… رکھا جاتا Û�Û’ اور انھیں اس Ø·Ø±Ø Ù…Ù†ØªØ´Ø± کر دیا جاتا Û�Û’ Ú©Û� ان Ú©ÛŒ اÛ�میت اجاگر Ù†Û�یں Û�Ùˆ پاتی۔
عربی زبان Ú©Û’ بعض خطوط میں Û�ائے مختÙ�ÛŒ (Û�) Ú©Ùˆ Û�ائے دو چشمی (Ú¾) Ú©ÛŒ Ø·Ø±Ø Ø¨Ú¾ÛŒ لکھا جاتا Û�Û’ اور ÛŒÛ�ÛŒ رواج اردو میں بھی موجود Û�Û’Û” کیونکÛ� عربی میں Û�ائے دو چشمی کا کوئی الگ وجود Ù†Û�یں Û�Û’ØŒ اس لیے اسے دونوں شکلوں میں لکھنا جائز Û�Û’ لیکن اردو میں ایسی ’’ھ‘‘ پر مشتمل ØØ±ÙˆÙ� کا ایک پندرÛ� رکنی خاندان موجود Û�Û’ جن کا Û�ائے مختÙ�ÛŒ سے کوئی تعلق Ù†Û�یں۔ اس لیے ÛŒÛ� ضروری Û�Û’ Ú©Û� ’’Û�‘‘ اور ’’ھ‘‘ Ú©Ùˆ ایک دوسرے کا مترادÙ� یا متبادل تصور Ù†Û� کیا جائے اور املا میں بھی ان Ú©Û’ Ù�رق Ú©Ùˆ ملØÙˆØ¸ رکھ کر ایک بÛ�ت بڑے مغالطے کا اÙ�زالÛ� کیا جائے۔
اردو میں ’’ڑ‘‘ سے کوئی Ù„Ù�ظ شروع Ù†Û�یں Û�وتا اور اسی Ø·Ø±Ø â€™â€™Ú˜â€˜â€˜ (زائے Ù�ارسی) کا اردو میں استعمال بھی Ù†Û� Û�ونے Ú©Û’ برابر Û�Û’ لیکن ÙˆÛ� ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی میں برابر Ú©Û’ ارکان Û�یں تو Û�ندی الاصل بھاری آوازوں والے ØØ±ÙˆÙ� جو Û�ائے دو چشمی سے Ù„Ú©Ú¾Û’ جاتے Û�یں، انھیں بھی ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©ÛŒ Ù�Û�رست میں شامل کر Ú©Û’ بچے Ú©Ùˆ ØØ±ÙˆÙ� Ú©Û’ Ù¾Û�Ù„Û’ تعارÙ� میں Û�ÛŒ ان سے روشناس کرایا جانا چاÛ�یے تاکÛ� ایک بÛ�ت بڑے لسانی سقم Ú©Ùˆ دور کیا جا سکے اور املا Ú©Û’ مغالطے سے نجات ØØ§ØµÙ„ Ú©ÛŒ جا سکے۔
لغت Ú©ÛŒ کتابوںمیں ان ØØ±ÙˆÙ� Ú©Ùˆ شامل کیا جاتا Û�Û’ اور ان Ú©ÛŒ آوازوں پر مشتمل الÙ�اظ Ú©Û’ معانی Ùˆ مطالب اور زبان Ú©Û’ قواعد Ú©ÛŒ دوسری ضروری ØªØµØ±ÛŒØØ§Øª Ú©ÛŒ جاتی Û�یں لیکن انھیں ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©ÛŒ Ù�Û�رست میں کوئی ترتیب نمبر Ù†Û�یں دیا جاتا۔ مثلاً ’’ب‘‘ Ú©Ùˆ اردو ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی کا دوسرا ØØ±Ù� لکھا جاتا Û�Û’ اور ’’بھ‘‘ Ú©Ùˆ ایک مستقل ØØ±Ù� قرار دے کر اس سے شروع Û�ونے والے الÙ�اظ Ú©ÛŒ الگ Ù�Û�رست Ù„Ú©Ú¾ÛŒ جاتی Û�Û’ لیکن اسے تیسرا ØØ±Ù� Ù†Û�یں سمجھا جاتا بلکÛ� آگے Ú†Ù„ کر ’’پ‘‘ Ú©Ùˆ تیسرا ØØ±Ù� شمار کیا جاتا Û�Û’Û” لغت Ú©Û’ بعض مرتبین Ù†Û’ ’’بھ‘‘، ’’پھ‘‘ وغیرÛ� Ú©Ùˆ الگ ØØ±Ù� شمار Û�ÛŒ Ù†Û�یں کیا اور ’’ب-و‘‘ Ú©Û’ بعد ’’ب-Û� اور ب-ھ‘‘ Ú©ÛŒ ذیل میں لکھا Û�Û’ اس Ø·Ø±Ø â€™â€™Ø¨Û�را‘‘ اور ’’بھرا‘‘، ’’بÛ�اؤ‘‘ اور ’’بھاؤ‘‘ Ú©Ùˆ ایک ساتھ Ù„Ú©Ú¾ کر ان Ú©Û’ تلÙ�ظ Ú©ÛŒ الگ الگ ØªØµØ±ÛŒØ Ø¨Ú¾ÛŒ Ù†Û�یں Ú©ÛŒ اور یوں مسئلے Ú©Ùˆ الجھا دیا Û�Û’Û”
اگر انگریزی ØØ±ÙˆÙ� Û�جا Ú©ÛŒ تعداد چھبیس اور عربی Ú©Û’ ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ تعداد اٹھائیس Û�Û’ اور ان زبانوں Ú©ÛŒ تمام ØªØØ±ÛŒØ±ÙˆÚº میں ایسی کوئی Ø´Ú©Ù„ یا علامت Ù†Û�یں پائی جاتی جو اÙ�Ù† چھبیس یا اٹھائیس ØØ±ÙˆÙ� Ú©Û’ علاوÛ� Û�Ùˆ تو اردو میں ایسا کیوں Û�Û’ Ú©Û� اس Ú©Û’ سینتیس ØØ±ÙˆÙ� تÛ�جی Ú©Û’ علاوÛ� پندرÛ� مزید ایسی اشکال بھی Û�یں جو بنیادی ØØ±ÙˆÙ� تو Ù†Û�یں لیکن ان Ú©Û’ بغیر زبان مکمل بھی Ù†Û�یں Û�Ùˆ سکتی۔
زبانیں ایک دوسری Ú©Û’ میل جول اور اشتراک Ùˆ ادغام سے بنتی Û�یں۔ کسی بھی Ù„Ù�ظ Ú©Û’ تلÙ�ظ یا املا Ú©ÛŒ سب سے بڑی سَنَد اس Ú©ÛŒ ابتدائی زبان Û�وتی Û�Û’ جس سے ÙˆÛ� کسی دوسری زبان میں منتقل Û�وا Û�ÙˆÛ” دو چشمی ØØ±ÙˆÙ� چونکÛ� Û�ندی الاصل Û�یں اور دیونا گری رسم الخط میں انھیں آزاد اور مستقل ØØ±Ù� Ú©ÛŒ ØÛŒØ«ÛŒØª ØØ§ØµÙ„ Û�Û’ØŒ ان Ú©ÛŒ املائی اشکال بھی کسی دوسرے قریب المخرج ØØ±Ù� سے ملتی جلتی Ù†Û�یں Û�یں، اس لیے اردو میں بھی انھیں الگ ØØ±Ù� Ú©ÛŒ ØÛŒØ«ÛŒØª ملنی چاÛ�یے اور ØØ±ÙˆÙ�Ù� تÛ�جی Ú©ÛŒ Ù�Û�رست میں انھیں خاص ترتیب نمبر دیا جانا چاÛ�یے۔
پاکستان میں اردو لغت بورڈ Ù†Û’ اردو Ú©ÛŒ جدید لغت اردو زبان Ùˆ ادب Ú©Û’ بÛ�ت بڑے ماÛ�رین Ú©ÛŒ Ú©Ù… Ùˆ بیش نصÙ� صدی Ú©ÛŒ Ù…ØÙ†Øª سے مکمل Ú©ÛŒ Û�Û’Û” اس لغت میں ØØ±ÙˆÙ� Ú©ÛŒ ترتیب ا، ب، بھ، پ، Ù¾Ú¾ Û�ÛŒ رکھی گئی Û�Û’Û” Û³Û² جلدوں پر مشتمل Û�زاروں صÙ�ØØ§Øª Ú©ÛŒ ÛŒÛ� لغت چونکÛ� عام آدمی Ú©ÛŒ رسائی سے باÛ�ر Û�Û’ØŒ اس لیے معلوم Ù†Û�یں Û�Ùˆ سکا Ú©Û� اس میں دو چشمی ’’ھ‘‘ والے ØØ±ÙˆÙ� Ú©Ùˆ ایک مستقل ØØ±Ù� تسلیم کیا گیا Û�Û’ یا Ù†Û�یں اور اسے تÛ�جی ترتیب نمبر بھی دیا گیا Û�Û’ یا Ù†Û�یں۔
ANS 05
(Ø£) همزة وصل :Â
وهي همزة تنطق Ù�ÙŠ ابتداء الكلام ولا تنطق عند وصله بما قبلها ØŒ ولا يرسم عليها أو ØªØØªÙ‡Ø§ همزة وتكتب هكذا (ا).
 مواضع همزة الوصل :
(1) �ي الأ�عال :
Â
|  أمر الثلاثي المبدوء بهمزة |  مثل : اضربْ، اجلسْ , العبْ |
|  ماضي وأمر ومصدر الخماسي |  مثل : انطلقَ، انطلقْ، انطلاق |
|  ماضي وأمر ومصدر السداسي |  مثل : استقبلَ ، استقبلْ ، استقبال |
Â
(2) �ي الأسماء:
Â
” ابن ، ابنة ، ابنم ØŒ ابنان ØŒ ابنتان ، اثنان ، اثنتان ، امرؤ ، امرأة ، اسم ، است ØŒ امرآن ØŒ امرأتان ØŒ اسمان ØŒ ايمن  ” .
Â
(3) Ù�ÙŠ Ø§Ù„ØØ±ÙˆÙ� :
Â
ال التعري� ، مثل :  القاضي ، المدرسة .
Â
% هام جداً :
مواضع ØØ°Ù� همزة الوصل :
 إذا سبقت بهمزة است�هام : أنطلق الجواد ؟ ، أستسلم العدو ؟
 إذا سبقت بلام الابتداء [ لَل�تى] ، أو لام الاستغاثة [يا لَلّه] ، أو لام الجر   [ل�لرجل ]
ï‚¶Â ØªØØ°Ù� من البسملة التامة : بسم الله الرØÙ…Ù† الرØÙŠÙ… .
Â ØªØØ°Ù� همزة (ابن) Ù�ÙŠ ثلاثة مواضع :
  إذا وقعت بين علمين الثاني والد الأول ولم تقع (ابن) Ù�ÙŠ بداية السطر : Ù…ØÙ…د بن عبدالله
  إذا Ø³Ø¨Ù‚ØªÂ Ø¨ØØ±Ù� نداء : يا بن  عبد الله
 إذا سبقت بهمزة الاستÙ�هام : أبنك Ù…ØÙ…د ØŸ
Â
Â Â ØªØØ°Ù� همزة (امرؤ ØŒ امرأة) إذا سبقت بـ (أل) : Ù�تصيران (المرء ØŒ المرأة) .
Â
 ملØÙˆØ¸Ø©Â :
 إذا دخلت همزة الاست�هام على المعر� بـ (أل) ق�لبت همزة الاست�هام وهمزة الوصل مدة  ، مثل: آلكتاب لك ؟
 (ب)همزة القطع : Â
ÙˆÙ‡ÙŠÂ Ù‡Ù…Ø²Ø©Â Ù…ØªØØ±ÙƒØ© تقع Ù�ÙŠ أول الكلمة ØŒ وينطق بها Ù�ي ابتداء الكلام ÙˆÙ�ÙŠ وسطه ، وتكتب هكذا: (Ø£ÙŽÙ�) إذا جاءت Ù…Ù�ØªÙˆØØ©Ù‹ أو مضمومة ØŒ و  (Ø¥Ù�) إذا كانت مكسورة.
 مواضع همزة القطع :
Â
(1) �ي الأ�عال :
Â
|  ماضي الثلاثي ومصدره |  مثل : أكل ، أكلا- أخذ ، أخذا |
|  ماضي الرباعي وأمره مصدره |  مثل : أضربَ ، أضر�بْ ، إضراب |
|  كل مضارع مبدوء بهمزة |  مثل : أكتب� , أشرب� ، أستعمل� |
Â
(2) �ي الأسماء:
�ي جميع الأسماء عدا شواذ الأسماء  المذكورة �ي همزة الوصل .
(3) Ù�ÙŠ Ø§Ù„ØØ±ÙˆÙ�:
جميعها عدا [ال] التعريÙ� ØŒ مثل : إلى – أو – أم – إن – أن
Â
 قاعدة مهمة للت�رقة بين همزة القطع وهمزة الوصل :
للتÙ�ريق بين هاتين الهمزتين Ù�ÙŠ بداية الكلمة هناك طريقة سهلة وهي :أن تضع قبل Ø§Ù„ÙƒÙ„Ù…Ø©Â ØØ±Ù� الواو أو الÙ�اء ثم تنطقها Ù�إن نطقت الهمزة Ù�هي همزة قطع ، وإن لم تنطق الهمزة Ù�هي همزة وصل .
مثال : أخذ (وأخذ ØŒ Ù�أخذ) Ù„Ø§ØØ¸ أنك تنطق الهمزة إجبارا ، ÙˆÙ„Ø§ØØ¸ أن الهمزة قطعت عليك النطق بين ØØ±Ù� الواو أو الÙ�اء ÙˆØØ±Ù� الخاء
مثال : استعمل (واستعمل ØŒ Ù�استعمل) Ù„Ø§ØØ¸ أنك لم تنطق الهمزة  ، وإنما اتصل ØØ±Ù� الواو بالسين واتصل ØØ±Ù� الÙ�اء بالسين  ولذلك سميت همزة وصل  .
“ â€�ال القمرية  المظهرة ، و â€�ال الشمسية“
Â
” â€�ال القمرية  المظهرة ” :
هي التي تكتب �ي أول الأسماء وتظهر عند النطق ، وهي لام ساكنة ، وتسمى (أل) المظهرة  ؛ لأنها تظهر عند النطق بها .
Â
مثال : الْعلم – الْقلم – الْكلام – المثال .
Â
ويأتي Ø¨Ø¹Ø¯Ù‡Ø§Â ØØ±Ù� من Ø§Ù„ØØ±ÙˆÙ� الآتية:
Â
“ أ – ب – ج – ØÂ – خ – ع – غ – Ù� – ق – ك – م – ه –  – و – ي “
Â
Ùˆ ØØ±ÙˆÙ� (أل) القمرية جمعت Ù�ÙŠ هذه الجملة :Â
”  ابغ ØØ¬Ùƒ وخÙ� عقيمه “
Â
” ال الشمسية المدغمة ” :
هي التي تكتب ولا تنطق (لأنها تدغم Ø¨Ø§Ù„ØØ±Ù� الذي بعدها ØŒ Ù�يكتب Ø§Ù„ØØ±Ù� الذي بعدها مشددًا) Â
.
مثال : التّÙ�Ù�Ø§Ø – الذَّهب – الصّÙ�دق – الطَّعام .
Â
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 01
ØØ±ÙˆÙ�Ù� جارۃ ایسے ØØ±ÙˆÙ� Ú©Ùˆ Ú©Û�تے Û�یں جو اپنے بعد آنے والے اسموں Ú©Ùˆ مجرور کر دیں۔ ØØ±ÙˆÙ�Ù� جارÛ� Ú©Û’ بعد آنے والے اسم Ú©Û’ آخری ØØ±Ù� پر زیر Ø¢ جائے گی۔ لیکن چند اسم ایسے Û�یں Ú©Û� جو کبھی مجرور Ù†Û�یں Û�وتے۔ مثلاً: ابراÛ�یم، عائشÛ� وغیرÛ�Û”
ØØ±ÙˆÙ�Ù� جارÛ� Ú©ÛŒ Ú©Ù„ تعداد Û±Û· بتائی جاتی Û�Û’Û” ØØ±ÙˆÙ�Ù� جارÛ� مندرجÛ� ذیل شعر میں جمع کر دیئے گئے Û�یں:
با و تا و کا� و لام و واؤ‘ منذ و مذ‘ خلا
رÙ�بّ‘ ØØ§Ø´Ø§ØŒ Ù…Ù�ن‘ عدا‘ Ù�ي‘ عَن‘ علیٰ‘ ØØªÛŒÙ°ØŒ اÙ�لیٰ
مثالیں:
- ب� + اسم = ب�سم� الله�۔ ب کی وج� سے اسم مجرور �وا جبک� الل� کا ل�ظ اسم کا مضا� الی� �ونے کی وج� سے مجرور �وا۔
- تالله�
- هو رجلٌ قوي كالأسد�
- لله�
- والعصر�
- كان يقرأ القران منذ صباØÙ�
- كان يقرأ القران مذ صباØÙ�
- رأيت البيت خلا غر�ة� النوم�
- رÙ�بَّ شيءÙ� Ù�ÙŠ ملكÙ� اØÙ…د
- ØØ§Ø´Ø§! هذا شيءÙ� عجيب
- من الكلية�
- هو اشترى لباسه عدا جوربين
- �ي المدرسة�
- عن البيت�
- على الارض�
- ساÙ�رت ØØªÙ‰ المساء
- إلى المدرسة�
     جو ØÙ�روÙ� اسْم پر داخل Û�وکراÙ�سے جرّ دیتے Û�یں اÙ�Ù†Û�یں ØÙ�روÙ�Ù�  جارّÛ�Â ÛŒØ§ØØ±ÙˆÙ�Ù� جر کÛ�تے Û�یں ØŒ ÛŒÛ� سترÛ� ØØ±ÙˆÙ� Û�یں :
                                                بَا وتَا وکَا� ولَام ووَاو م�نْذ� وم�ذْ خَلَا
             رÙ�بَّ ØÙŽØ§Ø´ÙŽØ§ Ù…Ù�نْ عَدَا Ù�Ù�يْ عَنْ عَلٰی ØÙŽØªÙ‘Ù°ÛŒ اÙ�لٰی  (در:Û±Û³)
اÙ�Ù† Ú©ÛŒ تÙ�صیل ØØ³Ø¨ ذیل Û�Û’:
          مÙ�نْ(سے): اَلْعَجْوَۃÙ� Ù…Ù�Ù†ÙŽ الْجَنَّۃÙ�۔  ØÙŽØªÙ‘Ù°ÛŒ(تک): ØÙŽØªÙ‘Ù°ÛŒ مَطْلَعÙ� الْÙ�َجْرÙ�۔ اÙ�لٰی(تک، طرÙ�): تÙ�وْبÙ�وْااÙ�لٰی اللÛ�Ù�۔  عَلٰی(پر): اَلسَلَامÙ� عَلَیْکÙ�مْ۔    Ù�Ù�يْ(میں ) : عÙ�ثْمَانÙ� Ù�Ù�ÙŠ الْجَنَّۃÙ�۔   عَنْ(سے): نَÛ�Ù°ÛŒ عَنÙ� الدَوَائÙ� الْخَبÙ�یْثÙ�۔   بÙ�(سے): بÙ�سْمÙ� اللÛ�Ù�۔    کَ(طرØ) : لَیْسَ الْخَبَرÙ� کَالْمÙ�عَایَنَۃÙ�۔    لَÙ�(لیے):  الْمَالÙ� Ù„Ù�زَیْدÙ�ØŒ اَلْقَلَمÙ� Ù„ÙŽÛ�ٗ۔   خَلَا، عَدَا، ØÙŽØ§Ø´ÙŽØ§(علاوÛ�) : نَامَ الْقَوْمÙ� ØÙŽØ§Ø´ÙŽØ§ زَیْدÙ�۔   مÙ�ذْ، مÙ�نْذÙ�(سے) : مَارَأَیْتÙ�Û�Ù— Ù…Ù�ذْ سَنَۃÙ�۔   رÙ�بَّ(کئی، Ú©Ú†Ú¾): رÙ�بَّ عَابÙ�دÙ� جَاÛ�Ù�لٌ۔  وَ، تَ (قسم Ú©Û’ لیے):  وَالْعَصْرÙ�،  تَاللÛ�Ù�Û”(شما:۶تا ۲۹)
تنبیÛ�:   .1ØØ±Ù�Ù� جر اور اÙ�س Ú©Û’ بعد والے اسم کو جار مجرور کÛ�تے Û�یں ،جارمجرور Û�میشÛ� Ù�عل یا شبÛ�Ù� Ù�عل( اسمÙ� Ù�اعل، اسمÙ� Ù…Ù�عول ØŒ صÙ�َتÙ� مشبÛ�Û� ØŒ اسم تÙ�ضیل، مصدر) کے مÙ�تعلÙ�ّق Û�وتے Û�یں اور جس Ú©Û’ متعلÙ�ّق Û�وتے Û�یں اÙ�سے مÙ�تعلَّقکÛ�تے Û�یں۔
          .2جار مجرور کا متعلَّق Ù„Ù�ظًا موجودÛ�Ùˆ تو اÙ�Ù† کو ظرÙ�Ù� لَغْوکÛ�تے Û�یں : ØÙ�Ù�َّتÙ� الْجَنَّۃÙ�
بÙ�الْمَکَارÙ�Û�Ù�۔اور Ù…ØØ°ÙˆÙ� Û�Ùˆ تو اÙ�Ù† کو  ظرÙ�Ù� Ù…Ù�ستقَرّکÛ�تے Û�یں : اَلْØÙŽØ¬ÙŽØ±Ù� الْأَسْوَدÙ� Ù…Ù�Ù†ÙŽ الْجَنَّۃÙ�Û”
ÙÙÙÙÙÙÙÙ
تمرین (1)
(ال�) اعراب لگایئے نیز جار مجروراور ان کا متعلَّق پ�چانئے۔
            ۱۔النجاۃ Ù�ÙŠ الصدق۔   ۲۔الØÙ…د للÛ�۔   ۳۔الأعمال بالنیات۔   ۴۔الصدقات للÙ�قرائ۔  ۵۔الأمواج کالجبال۔   ۶۔الدال علی الخیر Ú©Ù�اعلÛ�۔  ۷۔نÛ�ÛŒ عن الاختصار Ù�ÙŠ الصلاۃ۔  ۸۔لا خیر Ù�ÙŠ الاسراÙ�۔   ۹۔الرجل Ù�ÙŠ الدار۔   ۱۰۔لکل امریٔ ما نوی۔   ۱۱۔أÙ�ضل الکسب عمل الرجل بیدÛ�۔   ۱۲۔ما نقصت صدقۃ من مال۔   ۱۳۔السخي قریب من اللÛ� قریب من الجنۃ قریب من الناس بعید من النار۔  ۱۴۔البخیل بعید من اللÛ� بعید من الجنۃ بعید من الناس قریب من النار۔ ۱۵۔الآمر بالمعروÙ� Ú©Ù�اعلÛ�۔   ۱۶۔الأنبیاء أØÛŒØ§Ø¡ Ù�ÙŠ قبورÛ�Ù…Û”
Â
{…جمع مکسر کے اوزان…}
       ۱۔أَÙ�ْعÙ�Ù„ÙŒ: أَÙ�ْلÙ�سٌ، أَنْÙ�Ù�سٌ۔  ۲۔أَÙ�ْعَالٌ: أَÙ�ْرَاسٌ، أَقْوَالٌ۔  ۳۔أَÙ�ْعÙ�Ù„ÙŽÛƒÙŒ: أَرْغÙ�Ù�َۃٌ، أَطْعÙ�مَۃٌ۔  ۴۔Ù�Ù�عْلَۃٌ: غÙ�لْمَۃٌ، صÙ�بْیَۃٌ۔  ۵۔Ù�َعَلَۃٌ: بَرَرَۃٌ، Ú©ÙŽÙ�َرَۃٌ۔   ۶۔أَÙ�ْعÙ�لَائÙ�: أَنْبÙ�یَاءÙ�ØŒ أَوْلÙ�یَائÙ�۔  ۷۔Ù�Ù�عْلٌ: ØÙ�مْرٌ، Ù�Ù�لْکٌ۔  ۸۔Ù�Ù�عَالٌ: رÙ�جَالٌ، Û�Ù�جَانٌ۔  ۹۔Ù�Ù�عÙ�وْلٌ: Ù‚Ù�رÙ�وْئٌ، Ù‚Ù�رÙ�وْنٌ۔  ۱۰۔Ù�Ù�عَلٌ: Ù�Ù�رَقٌ، Ú©Ù�سَرٌ۔  ۱۱۔Ù�َعْلٰی: مَرْضٰی، قَتْلٰی۔  ۱۲۔Ù�Ù�عَلَاءÙ�: عÙ�لَمَاءÙ�ØŒ Ú©Ù�رَمَاءÙ�۔  ۱۳۔Ù�Ù�عَلَۃٌ: Ù†Ù�ØÙŽØ§ÛƒÙŒØŒ Ù‚Ù�ضَاۃٌ۔  ۱۴۔Ù�Ù�عَّلٌ: رÙ�کَّعٌ، سÙ�جَّدٌ۔  ۱۵۔Ù�Ù�عَّالٌ: Ú©Ù�تَّابٌ، ØÙ�رَّاسٌ۔  ۱۶۔Ù�Ù�عَلٌ: Ù„Ù�جَجٌ، Ú©Ù�بَرٌ۔  ۱۷۔Ù�َوَاعÙ�Ù„Ù�: نَوَاشÙ�زÙ�ØŒ شَوَامÙ�Ø®Ù�۔  ۱۸۔Ù�َعَائÙ�Ù„Ù�: عَجَائÙ�زÙ�ØŒ صَØÙŽØ§Ø¦Ù�Ù�Ù�۔  ۱۹۔مَÙ�َاعÙ�Ù„Ù�: Ù…ÙŽÙ�َاسÙ�دÙ�ØŒ مَنَازÙ�Ù„Ù�۔ ۲۰۔مَÙ�َاعÙ�یْلÙ�: مَصَابÙ�یْØÙ�ØŒ مَکَاتÙ�یْبÙ�۔  ۲۱۔Ù�َعَالÙ�Ù„Ù�: جَعَاÙ�Ù�رÙ�ØŒ جَØÙŽØ§Ù…Ù�رÙ�۔  ۲۲۔Ù�َعَالÙ�یْلÙ�: دَنَانÙ�یْرÙ�Û”
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 02
🎇 *ØØ±ÙˆÙ� مشبÛ� بالÙ�عل*
🌠 *ا�نّ وَ اَخَوَات� ا�نَّ*
🌠 *ا�نَّ اور ا�نَّ کی ب�نیں*
(ا�نَّ کے بارے میں �م پڑھ چکے �یں ا�نَّ کے علاو� اور ال�اظ �یں جو ا�نَّ والا کام کرتے �یں یعنی اپنے اسم کو منصوب کر دیتے �یں تو و� ا�نَّ کی ب�نیں ک�لاتی �یں)
✨ *ا�نَّ 👈 بیشک یقیناً*
ا�نَّ *اللَّه�* معَ الصَّاب�ر�ینَ
اÙ�نَّ Ù†Û’ اپنے اسم ” Ù„Ù�ظ اللَّهÙ� Ú©Ùˆ منصوب کر دیا Û�Û’
(بے شک الل� صبر کرنے والوں کے ساتھ �ے)
✨ *اَنَّ 👈 ک�*
اَشَّھَدÙ� *اَنَّ* Ù…Ù�ØÙŽÙ…َّدًا رَّسÙ�ولÙ� اللÛ�Ù�
اسم اَنَّ Ù…Ù�ØÙŽÙ…َّدًا منصوب Û�Û’
جو کام ا�نَّ کرتا �ے و� �ی اَنَّ کرتا �ے
(میں گواÛ�ÛŒ دیتا Û�ÙˆÚº Ú©Û� Ù…ØÙ…د اللÛ� Ú©Û’ رسول Û�یں)
✨ *کَاَنَّ 👈 گویا ک�/مانند*
کَاَنَّ *الطّ��لَ* قَمَرٌ
کَاَنَّ نے اپنے اسم کو منصوب کر دیا
(گویا ک� بچ� چاند کی مانند �ے)
✨ *لک�نَّ 👈 لیکن*
ا�نَّ *الْق�رْآنَ* بَیَّنٌ ، لک�نَّ *الکَا��ر�ینَ* جَاھ�ل�ونَ
ی�اں دونوں ال�اظ لک�نَّ اور ا�نَّ آ گئے.
اÙ�نَّ Ù†Û’ اپنے اسم قرآن Ú©Ùˆ منصوب کر دیا ÛŒÛ� اصل میں دو جملے Û�یں اور کاÙ�رین ØØ§Ù„ت نصب Û�Û’ Ù„Ú©Ù�نَّ Ú©ÛŒ وجÛ� سے
(بیشک قرآن ÙˆØ§Ø¶Ø Û�Û’ لیکن کاÙ�ر جاÛ�Ù„ Û�یں)
✨ *لَیتَ👈 کاش*
لَیتَ *الا�سلَامَ* غَال�بٌ
(کاش ک� اسلام غالب �وتا)
✨ *لَعَلَّ 👈 شاید، تاک�، امید �ے*
لَعَلَّ *زَیدًا* صَاد�قٌ
لَعَلَّ نے زید کو منصوب کر دیا �ے
(امید �ے زید سچا �ے)
💫 *لک�نَّ کی مزید مثالیں*
💫 زَیدٌ عَال�مٌ لک�نَّ *ا�بنَ�ٗ* جَاھ�لٌ
*اÙ�بنَÛ�Ù—*…. اÙ�بنَ اسم Ù„Ú©Ù�نَّ اور مضاÙ�
Û�Ù— … مضاÙ� الیÛ�
لک�نَّ نے اپنے اسم ا�بن� کو ا�بنَ کر دیا �ے
(زید عالم �ے اور اسکا بیٹا جا�ل �ے)
💫 الرَّج�ل� غَن�یٌّ *لک�نَّ�ٗ* بَخ�یلٌ
*Ù„Ú©Ù�نَّÛ�Ù—* …. Û�Ù— Ù„Ú©Ù�نَّ کا اسم Û�Û’ اور ÛŒÛ� ضمیر متصلÛ� منصوبÛ� Û�Û’ ÛŒÛ� ØØ§Ù„ت نصب میں Û�Û’.
(آدمی غنی �ے لیکن و� کنجوس �ے.)
💫 وَقتÙ� ØÙ�سَابÙ� النَّاسÙ� قَرÙ�یبٌ Ù„Ú©Ù�نَّ *اَکثَرَھÙ�Ù…* غَاÙ�Ù�Ù„Ù�ونَ
اصل اَکثَر� تها لک�نَّ نے اَکثَرَ کر دیا
(لوگوں Ú©Û’ ØØ³Ø§Ø¨ کا وقت قریب Û�Û’ لیکن ان میں سے اکثر غاÙ�Ù„ Û�یں)
💫 ا�نَّ *اللَّهَ* لَذ�و �َضْل� علی النَّاس� وَ لک�نَّ *اَکثَرَ* النَّاس� لَا یَشک�رَونَ
بیشک الل� اپنے بندوں پر �ضل کرنے والا �ے لیکن اکثر لوگ شکر ادا ن�یں کرتے
💫 لَیسَ عَلَيْكَ ھ�دَاھ�م وَ لک�نَّ *اللَّه�* یَھد�ی مَن یَشَاء�
آپ کے ذم� �دایت دینا ن�یں لیکن الل� �دایت دیتا �ے جسکو و� چا�تا �ے
🌀 *ا�نَّ وَ اَخَوَات� ا�نَّ +ما*
<ا�نَّ کے ساتھ ما ملایا دیا جائے تو و� بن جاتا �ے ا�نَّمَا.
ا�نَّمَا سے بھی تاکید کا پ�لو نکلتا �ے ی� بھی تاکید کیلئے استعمال �وتا �ے لیکن اسکا اثر آگے مبتدا یا اسکے اسم پر ن�یں �وتا)
🌀 *ØØ±ÙˆÙ� مشبÛ� بالÙ�عل Ú©Û’ ساتھ (ما زائدÛ�) کا استعمال* ØØ±ÙˆÙ� مشبÛ� بالÙ�عل کا اثر ختم کر دیتا
مثال دیکھیں مش�ور مثال �ے
🌀 *ا�نَّمَا الاَعمَال� ب�الن�ّیَّات�*
بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر �ے
اب ی� 👆اَعمَال� ، اَعمَال� �ی ر�ا اگر ا�نَّ �وتا تو اَعمَالَ بن جاتا تو اسکا(ا�نَّ) کا اثر ختم �وگیا تاکید کا پ�لو اپنی جگ� پر قائم �ے
🌀 *ا�نَّمَا الْم�ؤْم�ن�ونَ ا�خوَۃٌ*
بے شک مومن بھائی بھائی �یں
🌀 *اÙ�نَّمَا Ù†ÙŽØÙ’Ù†Ù� Ù…Ù�سلÙ�Ù…Ù�ونَ*
بیشک �م مسلمان �یں
🌀 *ا�نَّمَا اَنتَ مدَّک�ر�*
بیشک آپ یاد د�انی کرانے والے �یں
🌀 *ا�نَّمَا اَنَا رَس�ول� رَبّ�کَ*
بیشک میں تمھارے رب کا رسول �وں
🌀 *اÙ�نَّمَا ھذَا الØÙ�یَاۃÙ� الدّÙ�نیَا مَتَاعٌ*
بیشک ی� دنیاوی زندگی برتنے کا سامان �ے
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 03
اÙ�عال ناقصÛ� ÙˆÛ� Ù�عل Û�یں جو عموما اکیلے Ù�اعل Ú©Û’ ساتھÛ� مکمّل معنی Ù†Û�یں دیتے… بلکÛ� انکے ساتھÛ� کوئی Ù�عل یا اسم آتا Û�Û’ خبر Ú©ÛŒ صورت میں… لیکن ÛŒÛ� Ù�عل تام Ú©ÛŒ Ø·Ø±Ø Ø¨Ú¾ÛŒ استعمال Û�Ùˆ سکتے Û�یں…Â
.
لَیْسَ – ÛŒÛ� جملے میں Ù�عل ØØ§Ù„ میں Ù†Ù�ÛŒ Ú©Û’ معنی پیدا کرتا Û�Û’ … لیس خبر Ú©Ùˆ منصوب کرتا Û�Û’ یا پھر ‘بÙ�’ لگا کر مجرور…
.
کان – Û�وا Û�Û’ یا تھاÂ
.
صَارَ – Û�Ùˆ چکاÂ
.
ما دام – جب تکÂ
.
ان اÙ�عال میں مختلÙ� اوقات ظاÛ�ر Û�وتے Û�یں…Â
أَصْبَØÙŽ â€“ ØµØ¨Ø Ú©Û’ وقتÂ
أَضْØÙ°ÛŒ – چاشت یا دوپÛ�ر Ú©Û’ وقتÂ
أَمْسٰی – شام Ú©Û’ وقتÂ
ظَلَّ – دن Ú©Û’ وقتÂ
بَات – رات بھرÂ
.Â
ی� چاروں جملے میں استمراری معنی پیدا کرتے �یں یعنی ک� کام مسلسل �وتا ر�ا…
 مَا زالَ – ابھی تک، اب بھیÂ
مَا بَرÙ�ØÙŽÂ
مَا �َت�یئَ
مَا انْÙ�ÙŽÚ©ÙŽÙ‘Â
.
ÛŒÛ� چاروں ناقصه Û�ونے Ú©ÛŒ صورت میں بمعنی صار استعمال Û�وتے Û�یں… یعنی کام Û�وگیا یا Û�Ùˆ چکا…Â
عَادَ – لوٹناÂ
اٰض – پھرناÂ
غَدَا – ØµØ¨Ø Ú©Û’ وقت جانا Â
رَاØÙŽ â€“ شام Ú©Û’ وقت جانا Â
.
يَغْدÙ�ÙˆÙ� يَغْدÙ�وَانÙ� يَغْدÙ�ÙˆÙ�ونَ تَغْدÙ�ÙˆÙ� تَغْدÙ�وَانÙ� يَغْدÙ�وْنَ تَغْدÙ�ÙˆÙ� تَغْدÙ�وَانÙ� تَغْدÙ�ÙˆÙ�ونَ تَغْدÙ�ÙˆÙ�ينَ تَغْدÙ�وَانÙ� تَغْدÙ�وْنَ أَغْدÙ�ÙˆÙ� نَغْدÙ�ÙˆÙ� Â
.
مثالیں Â
.
لَيْسَ Ù†Û�یں Â
.
لَيْسَ Ù‡Ù�ÙˆÙŽ Ø·ÙŽÙˆÙ�يْلًا –  لَيْسَ Ù‡Ù�ÙˆÙŽ بÙ�Ø·ÙŽÙˆÙ�يْلÙ� – ÙˆÛ� لمبا Ù†Û�یں Û�Û’Â
لَيْسَتْ زَهْرَة Ù…Ù�عَلÙ�ّمَةً –  لَيْسَتْ زَهْرَة بÙ�Ù…Ù�عَلÙ�ّمَةÙ� – زھرÛ� استانی Ù†Û�یں Û�Û’Â
لَسْتÙ� ÙˆÙŽØÙ’دÙ�Ù‰ – میں اکیلی، اکیلا Ù†Û�یں
لَيْس�وا ه�مْ ��ى الْمَلْعَب� – و� کھیل کے میدان میں ن�یں �یں
.
کَانَ یَک�ون� – �وا، تھا
.
کَانَ ØÙŽØ§Ù…Ù�دٌ مَرÙ�یْضًا اَمْسَ – ØØ§Ù…د شام سے بیمار تھاÂ
کَانَ الْمَاءÙ� بَارÙ�دٌ – پانی سے ٹھنڈا تھاÂ
کَانَ عÙ�Ù…Ù�رÙ� رَجÙ�لًا غَنÙ�یًّا – عمر سخی آدمی تھاÂ
کَانَ الْبَابÙ� Ù…ÙŽÙ�ْتÙ�ÙˆØÙ‹Ø§ – دروازÛ� کھلا Û�وا تھاÂ
کَانَتْ ھٰذÙ�Û�Ù� السَّاعَةÙ� رَخÙ�یْصَةً – ÛŒÛ� گاڑی سستی تھیÂ
کَانَ الْمÙ�دَرÙ�ّسÙ� Ù�Ù�ÛŒ الْÙ�َصْلÙ� قَبْلَ خَمْسÙ� دَقَائÙ�Ù‚ÙŽ – استاد پانچ منٹ Ù¾Û�Ù„Û’ کلاس میں تھےÂ
کَانَ الطÙ�ّلَابÙ� Ù�Ù�ÛŒ الْمَکْتَبَةÙ� قَبْلَ Ù†Ù�صْÙ�Ù� سَاعَةÙ� – طلبÛ� آدھے گھنٹے Ù¾Û�Ù„Û’ لائبریری میں تھےÂ
کَانَتْ اÙ�Ù…Ù�Ù‘ÛŒ Ù�Ù�ÛŒ الْمَطْبَخÙ� قَبْلَ Ù‚ÙŽÙ„Ù�یْلÙ� – امی ابھی تھوڑی دیر Ù¾Û�Ù„Û’ باورچی خانے میں تھیںÂ
کَانَ الْمÙ�دÙ�یْرÙ� Ù�Ù�ÛŒ غÙ�رْÙ�َتÙ�Ù‡Ù� قَبْلَ سَاعَةÙ� – پرنسپل ایک گھنٹÛ� Ù¾Û�Ù„Û’ اپنے کمرے میں تھےÂ
کَانَ الْوَزÙ�یْرÙ� Ù�Ù�ÛŒ لَنْدَنَ قَبْلَ اÙ�سْبÙ�وعÙ� – وزیر ایک Û�Ù�تے Ù¾Û�Ù„Û’ لندن میں تھاÂ
کَانَتْ اÙ�خْتÙ�ÛŒ Ù�Ù�ÛŒ مَکَّةَ قَبْلَ اَرْبَعَةÙ� اَیَّامÙ� – میری بÛ�Ù† چار دن Ù¾Û�Ù„Û’ Ù…Ú©Û’ میں تھیÂ
کَانَ الأَطÙ�بَّاءٌ Ù�Ù�ÛŒ الْمÙ�سْتَشْÙ�ÙŽÛŒ قَبْلَ Ø«Ù�Ù„Ù�Ø«Ù� سَاعَةÙ� – سارے طبیب بیس منٹ Ù¾Û�Ù„Û’ اسپتال میں تھےÂ
کَانَتْ الطَّالÙ�بَاتÙ� Ù�Ù�ÛŒ الْمَکْتَبَةÙ� قَبْلَ Ù‚ÙŽÙ„Ù�یْلÙ� – طالبات تھوڑی دیر Ù¾Û�Ù„Û’ لائبریری میں تھیں Â
.
مَا زَالَ ØŒ لَا یَزَالÙ� – ابھی تکÂ
.
اÙ�بْرَاهÙ�یْمÙ� نَائÙ�Ù…ÙŒ – ابراھیم سو رÛ�ا Û�Û’ …… لَا یَزَالÙ� اÙ�بْرَاهÙ�یْمÙ� نَائÙ�مًا – ابراÛ�یم ابھی تک، اب بھی سو رÛ�ا Û�Û’Â
آمÙ�Ù†ÙŽØ©Ù� نَائÙ�مَةٌ – آمنÛ� سو رÛ�ÛŒ Û�Û’ …… لَا تَزَالÙ� آمÙ�Ù†ÙŽØ©Ù� نَائÙ�مَةً – آمنÛ� ابھی تک، اب بھی  سو رÛ�ÛŒ Û�Û’Â
ھَشَّامٌ عَزَبٌ – ھشام کنوارا Û�Û’ ….. لَا یَزَالÙ� ھَشَّامٌ عَزَبًا ھشام ابھی تک، اب بھی کنوارا Û�Û’Â
Ø£ÙŽØÙ’مَدÙ� مَرÙ�یْضٌ – اØÙ…د بیمار Û�Û’ ….. لَا یَزَالÙ� Ø£ÙŽØÙ’مَدÙ� مَرÙ�یْضًا اØÙ…د ابھی تک، اب بھی بیمار Û�Û’Â
اَلْمَکْتَبَةÙ� Ù…Ù�غْلÙ�قَةٌ لائبریری بن Û�Û’ ….. لَا تَزَالÙ� الْمَکْتَبَةÙ� Ù…Ù�غْلÙ�قَةً لائبریری ابھی تک، اب بھی بند Û�Û’Â
ØÙŽØ§Ù…Ù�دٌ غَائÙ�بٌ ØØ§Ù…د غیر ØØ§Ø¶Ø± Û�Û’ ….. لَا یَزَالÙ� ØÙŽØ§Ù…Ù�دٌ غَائÙ�بًا ØØ§Ù…د ابھی تک، اب بھی غیر ØØ§Ø¶Ø± Û�Û’Â
اَلْجÙ�ÙˆÙ�Ù‘ ØÙŽØ§Ø±ÙŒÙ‘ – Ù�ضا گرم Û�Û’ …..  لَا یَزَالÙ� الْجÙ�ÙˆÙ�Ù‘ ØÙŽØ§Ø±Ù‹Ù‘ا Ù�ضا ابھی تک، اب بھی گرم Û�Û’ Â
السَّیٌّارَةÙ� جَدÙ�یْدَةٌ گاڑی نئی Û�Û’ ….. لَاتَزَالÙ� السَّیَّارَةÙ� جَدÙ�یْدَةً گاڑی ابھی تک، اب بھی نئی Û�Û’Â
.
کَادَ یَکَادÙ� – (Ú©ÙŽÙˆÙ�دَ یَکْوَدÙ�) – کرنے والا تھا یا قریب تھاÂ
.
Ù�َتَØÙŽ Ø²ÙŽÚ©ÙŽØ±Ù�یَّا الْبَابَ ÙˆÙŽ کَادَ یَخْرÙ�جÙ� – زکریا Ù†Û’ دروازÛ� کھولا اور ÙˆÛ� نکلنے Û�ÛŒ والا Ú©Û’ قریب تھاÂ
یَکَادÙ� الْاÙ�مَامÙ� یَرْکَعÙ� – امام رکوع میں جانے Û�ÛŒ والا تھاÂ
یَکَادÙ� الْجَرَسÙ� یَرÙ�Ù†Ù�Ù‘ – گھنٹی بجنے Û�ÛŒ والی تھیÂ
اÙ�نْقَلَبَتْ سَیَّارَةÙ� ØÙŽØ§Ù…Ù�دÙ� ÙˆÙŽ کَادَ یَمÙ�وْتÙ� – ØØ§Ù…د Ú©ÛŒ گاڑی الٹ گئی اور ÙˆÛ� مرنے Û�ÛŒ والا تھاÂ
ضَرَبَتÙ� الْمÙ�دÙ�یْرَةÙ� سÙ�عَادَ Ù�َکَادَتْ تَبْکÙ�ÛŒ – پرنسپل Ù†Û’ سعاد Ú©Ùˆ مارا تو ÙˆÛ� رونے Ú©Û’ قریب تھی Â
ضَرَبَ Ø·Ù�Ù�ْلÙ�ÛŒ نَظَّارَتÙ�ÛŒ بÙ�االْعَصَاءÙ� ÙˆÙŽ کَادَ یَکْسÙ�رÙ�ھَا – ایک بچی Ù†Û’ میری عینک Ú©Ùˆ Ú†Ú¾Ú‘ÛŒ سے ضرب لگائی، ÙˆÛ� اسے توڑنے Ú©Û’ قریب تھیÂ
السَّاعَةÙ� الْآنَ الْوَاØÙ�دَةÙ� یَکَادÙ� الْمÙ�دÙ�یْرÙ� ÛŒÙ�خْرÙ�جÙ� – ابھی ایک بجا Û�Û’ØŒ پرنسپل نکلنے Û�ÛŒ والے Û�یںÂ
.
AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020
ANS 04
رØÙ…Ù† Ú©Û’ خادم
 خداوند متعال Ù†Û’ اپنی کتاب Ú©Û’ متن میں اپنے نیک بندوں Ú©ÛŒ صÙ�ات اور خصوصیات کا تذکرÛ� کیا ØŒ انھوں Ù†Û’ مومنین Ú©ÛŒ Ù¾Û�Ù„ÛŒ سورت میں اور سورت الÙ�رقان Ú©Û’ اختتام میں ذکر کیا ØŒ جو ایسی خصوصیات Û�یں جو عموما اپنے بندے سے ڈرنے والے مومن بندے Ú©ÛŒ خصوصیت Û�یں ØŒ اور باقی لوگوں Ú©ÛŒ تقلید کرتی Û�یں ØŒ اور اÛ�Ù… ترین شخص سے جو نمائندگی کرتی Û�Û’Û” اس میں کوئی Ø´Ú© Ù†Û�یں ØŒ Û�مارے بزرگ رسول Ù…ØÙ…د صلی اللÛ� علیÛ� وسلم اس مضمون میں ان خصوصیات میں سے Ú©Ú†Ú¾ Ú¯Ù�تگو کریں Ú¯Û’Û”
رØÛŒÙ… Ú©Û’ بندوں Ú©ÛŒ خصوصیات
 عاجزی: میں Ú©Û’ طور پر آیات: (اور غلاموں الرØÙ…Ù† Û�یں پر چلنے والوں Ú©Ùˆ زمین میں عاجزی) ØŒ عاجزی ÛŒÛ�اں وقار اور استØÚ©Ø§Ù… اور خاکساری اور مطلب ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� غلاموں Ú©ÛŒ الرØÙ…Ù† Ú©Û’ طور پر بیان کر خدا Ú©Û’ بغیر شائستÛ� آپ بڑھنے اپ ØŒ دوسروں سے بÛ�تر خود نظر Ù†Û�یں آتا، Ù†Û�یں Ú©Û’ طور پر خدا تعالی Ú©ÛŒ طرÙ� سے برکت بھی اگر دوسروں Ú©Û’ ساتھ برکت Û�Û’Û” جاÛ�Ù„ اور رواداری سے اجتناب: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور جب جاÛ�لوں Ù†Û’ انÛ�یں مخاطب کیا تو انÛ�ÙˆÚº Ù†Û’ سلام Ú©Û�ا) ØŒ یعنی رØÛŒÙ… Ú©Û’ بندے ØŒ بیمار Û�ونے والوں Ú©Ùˆ نظرانداز کریں ØŒ اور معاÙ� کردیں ØŒ اور اگر جاÛ�Ù„ لوگ ان Ú©Ùˆ برا بھلا Ú©Û�تے Û�یں اور اس Ú©ÛŒ عمدÛ� مثال Ú©Û�تے Û�یں اور Ú©Û�تے Û�یں: Û�مارے نبی. رسول صلی اللÛ� علیÛ� وآلÛ� وسلم Ú©Ùˆ جو نقصان Ù¾Û�Ù†Ú†Û’ اور بری باتیں ÙˆÛ� Ú©Ù�ار قریش سے برداشت کریں ØŒ Ù„Û�ذا ÙˆÛ� ان سے تعزیت کرتا Û�Û’ اور انÛ�یں معاÙ� کرتا Û�Û’ ØŒ اور ان Ú©Û’ اعمال Ú©Ùˆ اچھے اخلاق سے ملتا Û�Û’Û” رات Ú©Ùˆ ثابت قدم رÛ�Ùˆ : جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور جو لوگ اپنے رب Ú©Û’ لئے نماز اور قیامت میں سجدÛ� کرتے Û�یں) ØŒ Ù„Û�ذا عبد الرØÙ…Ù† اس بات Ú©Ùˆ یقینی بناتا Û�Û’ Ú©Û� رات اور خدا Ú©ÛŒ عبادت کا بÛ�ترین وقت ØŒ رات اور جادو کا وقت اٹھتا Û�Û’ ØŒ اور ÙˆÛ� اپنے رب Ú©ÛŒ طرÙ� رجوع کرتا Û�Û’ اور سوتا Û�Û’ ØŒ اور خدا Ú©ÛŒ طرÙ� رجوع کرتا Û�Û’Û” خدا Ú©ÛŒ طرÙ� سے ØŒ سونے اور آرام کرنے Ú©Û’ لئے. Ø¢Ú¯ Ú©Û’ عذاب Ú©Û’ خوÙ�: آیات میں Û�Û’: (اور جن لوگوں Ù†Û’ Ú©Û�ا، “اے Û�مارے رب ØŒ جÛ�نم Ú©Û’ عذاب، اور بنی نوع انسان Ú©ÛŒ درد Û�میں سے مشغول ٹھیک Û�Û’. اچھ givingÛ’ کاموں Ú©Ùˆ مختلÙ� طریقوں سے ØØ§ØµÙ„ کرنا ØŒ خیرات دینے سے یا نقصان Ù¾Û�نچانے سے یا دوسرے نیک اعمال سے۔ اسراÙ� Ù†Û�یں کرنا: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور ÙˆÛ� لوگ ØŒ جب انÛ�ÙˆÚº Ù†Û’ خرچ کیا ØŒ ضائع Ù†Û�یں کیا ØŒ اور Ù†Û� Û�ÛŒ رÛ�ا ØŒ اور ان میں طاقت بھی موجود تھی) ØŒ Ù„Û�ذا عبد الرØÙ…ٰن ÛŒÛ�اں خداوند متعال Ù†Û’ بیان کیا Û�Û’ ØŒ اس سے دور Û�Û’Û” خدا Ú©ÛŒ قسم۔ خدا میں مشغول Ù†Û�یں: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور ÙˆÛ� لوگ جو خدا Ú©Û’ ساتھ دوسرا معبود Ù†Û�یں Ú©Û�تے Û�یں) ØŒ عبد الرØÙ…ٰن Ù†Û’ ÛŒÛ�اں خدا Ú©Û’ ذریعÛ� بیان کیا Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� خدا Ú©Û’ ساتھ کسی اور چیز میں شامل Ù†Û�یں Û�Û’ ØŒ خواÛ� ÙˆÛ� اس Ú©Û’ دل ØŒ اس Ú©Û’ کام یا اس Ú©Û’ ارادے میں Û�Û’ ØŒ تاکÛ� ÙˆÛ� اپنے تمام کاموں Ú©Ùˆ اکیلا Û�ÛŒ اللÛ� تعالی Ú©Û’ لئے بچائے ØŒ اور یقین Û�Û’ Ú©Û� Ù†Û�یں۔ اس Ú©Û’ لیے. توبÛ�: جیسے آیات میں: (سوائے ان لوگوں Ú©Û’ جو توبÛ� کرتے Û�یں اور ایمان لاتے Û�یں اور نیک اعمال کرتے Û�یں) ØŒ سب سے اچھے Ú¯Ù†Û�گار ÙˆÛ� لوگ Û�یں جو توبÛ� کرتے Û�یں ØŒ اور عبد الرØÙ…ٰن ان Ú©ÛŒ صÙ�ات میں سے ایک Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� خدا سے توبÛ� کرتا Û�Û’ ØŒ اس Ú©ÛŒ طرÙ� لوٹتا Û�Û’ اور اس سے توبÛ� کرنے کا مطالبÛ� کرتا Û�Û’ اور جو اس Ú©Û’ دل میں یقین رکھتا Û�Û’ Ú©Û� خدا اسے معاÙ� کردے گا۔ بغیر کسی ØÙ‚ Ú©Û’ شخص Ú©Ùˆ قتل کرنے اور زنا سے دور رÛ�نا: جیسے آیات میں Û�Û’: ( اور ÙˆÛ� اس Ø±ÙˆØ Ú©Ùˆ Ù†Û�یں ماریں Ú¯Û’ جو خدا Ú©Ùˆ روک کر ØÙ‚ Ú©Û’ سوا منع کرے ) ØŒ (اور زناکاری Ù†Û� کریں )Û” Û�ر Ø·Ø±Ø Ú©ÛŒ ناÙ�رمانی Ú©Ùˆ ØØ±Ø§Ù… کاری پر رکھنا ØŒ Ù„Û�ذا ÙˆÛ� اللÛ� Ú©Û’ Ù�رمان Ú©Û’ مطابق اپنے ØØµ passÙˆÚº Ú©Ùˆ برقرار رکھتا Û�Û’Û” بیکار تقریر سے دور رÛ�نا : جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: ( اور جو باطل Ú©Û’ گواÛ� Ù†Û�یں Û�وتے اور اگر ÙˆÛ� Ù…ØØ§ÙˆØ±Û� سے وقار سے گزر جاتے Û�یں ) اور Ù…ØØ§ÙˆØ±Û� ÙˆÛ� تقریر Û�Û’ جس کا کوئی Ù�ائدÛ� Ù†Û�یں Û�Û’ ØŒ اور جھوٹی گواÛ�ÛŒ Û�ÛŒ جھوٹی گواÛ�ÛŒ Û�Û’Û” ÙˆÛ� جو اچھی اولاد Ú©ÛŒ تلاش کرتا Û�Û’: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: ( اور جو لوگ Ú©Û�تے Û�یں Ú©Û� Û�مارے رب Ù†Û’ Û�میں اپنی بیویوں سے Û�Ù… سے نوازا Û�Û’ ØŒ اور Û�ماری اولاد عین کا قرآن Û�Û’ ) ØŒ Ù„Û�ذا خدا کا بندÛ� راستباز Û�Û’Û”
ANS 05
لما أردت كتابة مقالات �ي بعض أنواع المعاملات المالية ولا سيما المعاصرة منها خطر ببالي أنه يجدر بي قبل ذلك أن أق� مع م�هوم المعاملات المالية أولا، لكي يكون التصور لدى القارئ تاما، والمعلومة مكتملة.
ولذا خصصت المقالات الأولى لمÙ�هوم المعاملات المالية وتقسيماتها وبعض القواعد الناظمة لها وغير ذلك مما يكون كالتوطئة والتمهيد Ù„Ù„ØØ¯ÙŠØ« عن بعض أنواع تلك المعاملات.
إن المعاملة من صيغتها التÙ�اعلية تقتضي المشاركة والتÙ�اعل بين طرÙ�ين Ù�أكثر غالبا*. والطرÙ�ان، هما العاقدان، ويسميان: البائع والمشتري Ù�ÙŠ باب المعاوضات، والمØÙŠÙ„ ÙˆØ§Ù„Ù…ØØ§Ù„ عليه Ù�ÙŠ باب الØÙˆØ§Ù„ة، والواهب والموهوب له Ù�ÙŠ باب الهبة، والراهن والمرتهن Ù�ÙŠ باب الرهن، والمقرض والمقترض Ù�ÙŠ باب القرض، والمضارÙ�ب والمضارَب Ù�ÙŠ باب المضاربة، وهكذا، Ù�العاقدان هما طرÙ�ا المعاملة، والمعاملة هي عين العقد الذي يتم بينهما من بيع أو شراء أو هبة أو وقÙ� وهكذا .
و المالية: نسبة إلى المال، وهو �ي اللغة ما يقتنى ويملك من جميع الأشياء: قال �ي لسان العرب: ( المال معرو� ما ملكته من جميع الأشياء، ومال الرجل يمول مولا ومؤولا إذا صار ذا مال، وتصغيره مويل)([1]).
واشتقاقه من الميل لأن طباع الناس تميل إليه ويميلها، ولهذا سمي مالا([2]).
أما المال Ø§ØµØ·Ù„Ø§ØØ§: Ù�قد اختلÙ�ت تعريÙ�ات الÙ�Ù‚Ù‡Ø§Ø¡Â ÙˆØ§Ù„Ø¨Ø§ØØ«ÙŠÙ† Ù�يه؛ نظرا لاختلاÙ� وجهات نظرهم Ù�ÙŠ المعاني الاصطلاØÙŠØ© المرادة منه، واختلاÙ� المأخذ والوجهة التي عرÙ�وه منها، Ù�منهم من عرÙ�Ù‡ بصÙ�ته، ومنهم من عرÙ�Ù‡ بوظيÙ�ته، ومنهم من عرÙ�Ù‡ بØÙƒÙ…Ù‡ . . إلا أن المؤثر الرئيس Ù�ÙŠ اختلاÙ�هم والذي كان له أثر ØÙ‚يقي على الÙ�روع، هو اختلاÙ� الأعراÙ� Ù�يما يعد مالا وما لا يعد، وذلك أنه ليس له ØØ¯ Ù�ÙŠ اللغة ولا Ù�ÙŠ الشرع، Ù�ØÙƒÙ… Ù�يه العرÙ�([3])  وهذه أهم تعريÙ�اتهم له :
أولا: تعريÙ� الØÙ†Ù�ية: وقد قالوا: (هو اسم لما هو مخلوق لإقامة مصالØÙ†Ø§ به، ولكن باعتبار وصÙ� التمول، والتمول صيانة الشيء وادخاره لوقت Ø§Ù„ØØ§Ø¬Ø©ØŒ أو ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت Ø§Ù„ØØ§Ø¬Ø© )([4]).
ثانيا: تعريÙ� المالكية: قال الشاطبي رØÙ…Ù‡ الله: ( المال ما يقع عليه الملك ويستبد به المالك عن غيره إذا أخذه من وجهه )([5]).
وبعض المالكية يضيÙ� الأيلولة وهي اعتبار ما يؤول إلى المالية Ù�يعد مالا من ØÙŠØ« Ø£ØÙƒØ§Ù…ه، جاء Ù�ÙŠ ØØ§Ø´ÙŠØ© الصاوي على Ø§Ù„Ø´Ø±Ø Ø§Ù„ØµØºÙŠØ± بتصرÙ�: ( ÙˆÙŽÙ„Ù�مَا لَيْسَ بÙ�مَالÙ� وَلَا آيÙ�Ù„Ù� Ù„ÙŽÙ‡Ù� – أي للمال -كالشÙ�عة ÙˆØ¬Ø±Ø Ø§Ù„Ø®Ø·Ø£ والكتابة وادعاء Ø§Ù„Ù†ÙƒØ§Ø Ø¨Ø¹Ø¯ الموت ونØÙˆÙ‡ Ù�كله يؤال إلى المالية Ù�يثبت بشاهد وامرأتين)([6]).
والشاهد Ø¥Ù„ØØ§Ù‚ ما يؤول إلى المالية بالمال Ù�ÙŠ Ø£ØÙƒØ§Ù…Ù‡ ولذا لابد من مراعاة ذلك عند تعريÙ� المال.
ثالثا: تعريÙ� الشاÙ�عية: نقل السيوطي رØÙ…Ù‡ الله عن الإمام الشاÙ�عي أنه قال: (لا يقع اسم مال إلا على ما له قيمة يباع بها وتلزم متلÙ�Ù‡ وإن قلت، وما لا يطرØÙ‡ الناس مثل الÙ�لس وما أشبه ذلك)([7]).
رابعا: تعريÙ� الØÙ†Ø§Ø¨Ù„ة للمال: جاء Ù�ÙŠ الإقناع من كتب الØÙ†Ø§Ø¨Ù„Ø©: (هو ما Ù�يه منÙ�عة Ù…Ø¨Ø§ØØ© لغير ØØ§Ø¬Ø© أو ضرورة)([8]).
والمتأمل �ي هذه التعري�ات يجد أنها تتمايز إلى مسالك ثلاثة هي:
مسلك الØÙ†Ù�ية: ويقتضي عدم اعتبار المناÙ�ع مالاً لأنها لا تدخر.
مسلك الشاÙ�عية والØÙ†Ø§Ø¨Ù„Ø©: ويشمل Ù…ØµØ·Ù„Ø Ø§Ù„Ù…Ø§Ù„ عندهم الأعيان والمناÙ�ع.
مسلك المالكية: ويشمل Ù…ØµØ·Ù„Ø Ø§Ù„Ù…Ø§Ù„ÙŠØ© عندهم بالإضاÙ�Ø© إلى الأعيان والمناÙ�ع (الأيلولة أي اعتبار مالية ما يؤول إلى المال Ù�ÙŠ جواز الاعتياض عنه، ولقد أشار إليها المالكية Ù�ÙŠ باب الشهادات باعتبار أنما يؤول إلى المال بوجه من الوجوه كالمال Ù�ÙŠ نصاب الشهود ومثلوا لذلك Ø¨Ø¬Ø±Ø Ø§Ù„Ø®Ø·Ø¥ والشÙ�عة ÙˆØ§Ù„Ø¬Ø±Ø§Ø Ø§Ù„ØªÙŠ لا قصاص Ù�يها “ولما ليس بمال ولا آئل لهâ€� كما قال خليل..ولكنهم كانوا Ø£ØµØ±Ø Ù�ÙŠ اعتبار بعض الØÙ‚وق قابلة للعوض كتنازل الضرة عن نوبتها بعوض …
ولهذا Ù�إنَّ مجال المالية يمكن أن يوسع بنظرة مقاصدية تعتمد مذهب مالك، ويمكن أن تØÙ„ الإشكالات Ù�ÙŠ العقود Ø§Ù„ØØ¯ÙŠØ«Ø©Ø› لتجيز الاعتياض عن Ù�عل، أو امتناع عن Ù�عل Ù„ØµØ§Ù„Ø Ø¬Ù‡Ø© ما وبخاصة Ù�ÙŠ الخيارات)([9]).
ولعل تعريÙ� المالكية هو الأقرب؛ لتناوله الأعيان والمناÙ�ع والØÙ‚وق وما يؤول إلى المالية ولو لم يكن مالا بذاته، ولنظرته المقاصدية التي قد تسهم Ù�ÙŠ علاج كثير من المشاكل الشائكة Ù�ÙŠ العقود Ø§Ù„ØØ¯ÙŠØ«Ø© لتجيز الاعتياض عن Ù�عل أو امتناع عن Ù�عل Ù„ØµØ§Ù„Ø Ø¬Ù‡Ø© ما وبخاصة Ù�ÙŠ مجال الخيارات Ù�ÙŠ البورصة الدولية، كما ÙŠØÙ�ظ الØÙ‚وق المعنوية التي لها قيمة مادية ÙƒØÙ‚وق الابتكار والØÙ‚وق الذهنية مثل برامج الكمبيوتر والكتب وغير ذلك.
ويمكن صياغة تعريÙ� جامع لما ذهب إليه Ø£ØµØØ§Ø¨ المسلكين الثاني والثالث Ù�نقول:
(المال هو ما كانت له قيمة عرÙ�ا ØØ§Ù„ا أو مآلا وجاز الانتÙ�اع به اختيارا لا اضطرارا. ) وهذا التعريÙ� قريب مما جاء Ù�ÙŠ معجم لغة الÙ�قهاء من تعريÙ� المال بأنه: ( كل ما يمكن الانتÙ�اع به مما Ø£Ø¨Ø§Ø Ø§Ù„Ø´Ø±Ø¹ الانتÙ�اع به Ù�ÙŠ غير ØØ§Ù„ات الضرورة) ([10]) لكن Ù�يه زيادة الأيلولة التي أضاÙ�ها المالكية.
وبعد أن عرÙ�نا Ù…Ù�هوم المعاملات والمال باعتبار الإÙ�راد، لا بد أن نعرÙ� Ù…ØµØ·Ù„Ø Ø§Ù„Ù…Ø¹Ø§Ù…Ù„Ø§Øª المالية باعتباره علما:
ومن خلال ما ذكر Ù�ÙŠ معنى Ù…Ù�ردتي هذا Ø§Ù„Ù…ØµØ·Ù„Ø ÙŠÙ…ÙƒÙ† تعريÙ�Ù‡ باعتباره علما لباب من أبواب الÙ�قه بأنه :علم ينظم تبادل الأموال والمناÙ�ع بين الناس بواسطة العقود والالتزامات.
لكن ÙŠÙ„Ø§ØØ¸ على هذا التعريÙ� تناوله للأØÙƒØ§Ù… Ù�قط بينما يطلق Ù…ØµØ·Ù„Ø Ø§Ù„Ù…Ø¹Ø§Ù…Ù„Ø§Øª المالية Ø£ØÙŠØ§Ù†Ø§ على ذات الÙ�عل الذي يقع Ù�يه التعامل بين الناس كما يطلق على الأØÙƒØ§Ù… المتعلقة بتلك الأÙ�عال المشتركة ([11])من عقود وشروط وخيارات وغيرها.
ولذا لو قلنا Ù�ÙŠ تعريÙ� هذا Ø§Ù„Ù…ØµØ·Ù„Ø Ø¨Ø£Ù†Ù‡: الأØÙƒØ§Ù… والأÙ�عال المتعلقة بتصرÙ�ات الناس Ù�ÙŠ شؤونهم المالية.. لكان أجمع لشموله للمعنين اللذين يأتي لهما ويطلق عليهما
Check Also: AIOU