AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

AIOU Solved Assignments code 608 Spring 2020 Assignment 1& 2  Course: Tadreeb ul mulameen (608)   Spring 2020. AIOU past papers

ASSIGNMENT No:  1& 2
Tadreeb ul mulameen (608)
Spring, 2020

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

 

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 01

صاب کے بنیادی عناصر میں سے ایک ا�م عنصرطریق� �ائے تدریس بھی �ے ۔اساتذ�ء� کرام کے لئے لازمی �ے ک� و� روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدیدترین طریق� �ائے تدریس کوبھی اپنائیں اورموقع کی مناسبت سے اپنی تدریسی حکمت عملی کوبروئے کارلائیں۔

مختل� مواقع پردرست طریق�ء� تدریس کا انتخاب ا�ستادکی صوابدیدپر �ے۔ کسی ایک موضوع کے لئے ایک طریق� کارآمدثابت �و سکتا�ے تو دوسرے موضوع کیلئے دوسرا طریق� موزوں �وسکتا�ے۔ ضروری ن�یں ک� سب کوایک �ی لاٹھی سے �انکا جائے۔چھوٹے اوربڑے بچوں کے لئے مختل� اوقات میں مختل� تدریسی حکمت� عملیاں اختیار کی جاسکتی �یں۔

�مارے اساتذ� جدیدطریق� �ائے تدریس کواپناکراپنی تدریس میں ب�تری لاسکتے �یں۔اسی سلسلے میں آج �م THINK-PAIR-SAHRE کے بارے میں وضاحت کریں گے۔اساتذ�ء� کرام تھوڑی سی توج� کے ساتھ اس تیکنیک کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ان شاء اﷲ ب�ت آسانی سے اس تیکنیک کو تدریس کے عمل میں اپنانے کے قابل �وجائیں گے۔

آج کل جدیدترین تدریسی تیکنیکس میں THINK-PAIR-SAHREکا�ی مش�ور�ے۔THINK-PAIR-SAHREانگریزی زبان کے تین ال�اظ کامجموع� �ے۔ THINK کامطلب �ے سوچنا ،PAIR کا مطلب جوڑا اورSHAREکامطلب بتانا اورگ�تگوکرنا�ے ۔ THINK-PAIR-SAHRE اشتراکی تدریسی تیکنکس(COLLABORATIVE/COOPERATIVE) میں سے ایک �ے جوطلب� کی تدریسی عمل میں شرکت کوبڑھاتی �ے اور ی� تدریسی حکمت عملی �رعمر کے بچوں اور�رجماعت کے لئے م�ید �ے۔

THINK-PAIR-SAHRE ایک سرگرمی �ے جوطلب� کی سیکھنے کے عمل میں مددگارثابت �وتی �ے۔اس تیکنیک کی بنیادا�س نظریئے پر �ے ک� تدریس کے عمل میں طلب� کوسرگرمی کے ساتھ شامل کیاجائے تاک� موئثر تدریس سرانجام پاسکے۔ جب طلب� کو اپنے �م جماعت ا�رادکے گروپ میں کام کرنے کاموقع ملتا�ے تو ا�س وقت و� زیاد� ان�ماک کے ساتھ تدریسی عمل میں شامل �وتے �یں ۔

روایتی انداز میں اساتذ� کوطلب� کی تعلیمی پیش ر�ت کاجائز� لینے کے لئے بڑی محنت ومشقت سے کام لیناپڑتا�ے۔ عام طورپر اس کام کے لئے تحریری ٹیسٹ وغیر� کاا�تمام کیاجاتا�ے ۔ ٹیسٹ کی جانچ پڑتال کے لئے اساتذ� کو ب�ت زیاد� وقت بھی صر� کرناپڑتا�ے۔ THINK-PAIR-SAHREتیکنیک نے اساتذ� کی اس مشکل کوآسان کردیا�ے۔اب اساتذ� کرام اس تیکنیک کے ذریعے طلب� کی تعلیمی پیش ر�ت کابآسانی اوربروقت جائز� لے سکتے �یں۔

ی� تیکنیک نئے موضوعات کے لئے بھی کارآمدثابت �وسکتی �ے لیکن خاص طورپر ی� تیکنیک سابق� پڑھائے گئے اسباق کا جائز� لینے کیلئے ب�ت �ی م�ید �ے بشرطیک� ا�ستاد م�ارت کے ساتھ ا�سے پای� ء� تکمیل تک پ�نچائے۔

Û²
ذیل میں اس تیکنک کے مراحل بیان کئے جاتے �یں تاک� اساتذ� کرام آسانی سے ا�سے اپناسکیں ۔

۱۔گروپ بندی:
سب سے پ�لاقدم طلب� کو مختل� گروپوں میں تقسیم کرنا �ے۔ استاد اس طرح کاگروپ بنائے جس میں طلب�/طالبات کی تعدادج��ت �و۔(گروپ چاریاچھ یاآٹھ طلب� پرمشتمل �و) ا�ستاد اپنے اپنے گروپ میں دودوطلب� پرمشتمل جوڑے بھی بنادے۔طلب�/طالبات کو اپنے ساتھی اور اپنے گروپ سے متعلق کوئی اب�ام ن� ر�ے۔
۲۔ ت�ویض� کار:
اب استاد طلب� کو�دایات دیتے �وئے ک�ے گا : کل جو سبق �م نے اس جماعت میں پڑھاتھا ا�س کے بارے میں اپنے اپنے ذ�ن میں سوچیں۔ اس دوران کوئی طالب علم کسی دوسرے ساتھی سے کوئی بات ن� کرے۔ اس موضو ع کے بارے میں سوچنے کیلئے وقت ایک منٹ �ے۔
مقرر� وقت کے بعد استاد ک�ے گا : جوکچھ آپ نے اپنے ذ�ن میں سوچاتھاا�س کے بارے میں اپنے اپنے ساتھی سے تبادل� ء� خیال کریں ۔ اس کام کے لئے آپ کے پاس پانچ منٹ �یں۔
مقرر� وقت کے اختتام کے بعد استاد تمام طلب� کوخاموش کرواکرنئی �دایات دیتے �وئے ک�ے: اب تمام طلب� اپنے ساتھی سے تبادل� کی گئی باتوں کو اپنے گروپ کے باقی ممبران کوبتائیں۔ �ر طالب� علم کے لئے ضروری �ے ک� و� اپنے گروپ میں اپنی معلومات SHAREکرے۔ گروپ میں SHARINGکے لئے آپ کے پاس پندر� منٹ �یں۔
۳۔ جائز�:
آخر میں طلب� کی کارکردگی کاجائز� لینے کے لئے ا�ستاد سوال جواب یا کسی دوسرے طریقے کواپنائے گا۔اس عمل کے لئے پ�ریڈکا بقی� وقت صر� کیاجاسکتا �ے۔ جس گروپ کے تمام ممبران نے سرگرمی سے حص� لیا�وگاا�ن کی کارکردگی دوسروں سے نمایاں �وگی۔
اس تیکنیک کو THINK-PAIR-SAHREکے نام سے اس لئے جاناجاتا�ے ک� اس میں طلب� سب سے پ�لے اکیلے THINKکرتے �یں ،اس کے بعد اپنے PAIRسے گ�تگوکرتے �یں اورآخر میں اپنے گروپ سےSAHREکرتے �یں۔ اس تیکنیک کاشمارCOLLABORATIVE/COOPERATIVE تدریسی تینیکس میں �وتا�ے کیونک� اس میں اپنے ساتھی اورگروپ کے ساتھ تبادل�ء خیالات بھی کیاجاتا�ے۔

ا�ستاد کاکردار:
اس سارے عمل کی نگرانی ور�نمائی کاذم� دارا�ستاد �وگا۔ ا�ستاد ایک س�ولت کنند� کے طورپرکرداراداکرے گا۔ اگرکسی مرحل� پر ا�ستاد نے غ�لت یاکوتا�ی سے کام لیاتوسارامعامل� تلپٹ �وکررَ� جائے گا۔ا�ستاد کسی بھی مرحل� کے لئے دئیے گئے وقت میں حسب ضرورت کمی بیشی کرنے کااختیاررکھتا�ے۔ اس سارے عمل میں سب سے ا�م کام طلب� کو�دایات جاری کرنا، �رسرگرمی کے لئے مقرر کرد� وقت کوملحوظ� خاطررکھنا،طلب� /طالبات کواپنے مقصدپرقائم رکھنے کے لئے چوکنا ر�نا اور آخر پر جدیدطریقے استعمال میں لاتے �وئے طلب� کی کارکردگی کاجائز� لینا �ے۔ بظا�ری� طریق� تدریس مشکل نظرآتا�ے لیکن �ے ن�ایت �ی دلچسپ اورآسان۔میں نے جب بھی ا�س جدیدطریق کو جماعت میں اپنایاتو مجھے ا�س کے اچھے نتائج حاصل �وئے۔ میری تمام اساتذ� کرام سے گ�زارش �ے ک� جدیددور کے تقاضوں کے مطابق اپنے طریق� �ائے تدریس میں ب�تری لائیں اور روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدیدطریقوں کو بھی اپنائیں اوراپنے کرداراورعمل سے ثابت کردکھائیں ک� آج کاا�ستادپ�لے سے زیاد� اچھے طریقے سے ملک وقوم کی تعمیر وترقی کے عمل میں نمایاں کرداراداکرر�ا�ے۔ اگرایساکرلیاجائے تویقین مانیں آج بھی ا�ستاد کوو�ی عزت واحترام حاصل �وسکتا �ے جو �مارے اسلا� کونصیب تھا۔ �مارے اساتذ� کرام آج بھی اقبالؒ کے ا�س قول کی عملی تصویر پیش کرسکتے �یں:
شیخ� مکتب �ے ا�ک عمارت گر
جس کی صنعت �ے روح� انسانی

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 02

دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا �ے بلک� زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیز� اصول اور �طری نظام پیش کرتا �ے ۔ الل� تعالی حق بات ک�نے سے ن�یں شرماتا، اس نے �میں اپنے پیغمبر کے ذریع� زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی ۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگا� کی ح�اظت کے ساتھ ا�زائش نسل کا سبب �ے پھر الل� اتنی بڑی بات کیسے ن�یں بتلاتا، ی� بھی �میں بتلادیا۔آج �م جس دور سے گزر ر�ے �یں اس میں برائی �یشن اوربے حیائی عام سی بات �وگئی �ے ۔الل� نے �میں ک�ر وضلالت سے نجات دے کر ایمان و�دایت کی تو�یق بخشی �ے، �میں �میش� اپنا قدم بڑھانے سے پ�لے سوچنا �ےک� ک�یں کوئی غلطی تو ن�یں �ور�ی �ے ، �ر�رقدم پھونک پھونک کر اٹھانا �ے۔
پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی د�لیز پ� قدم رکھتا �ے تو اسے �طری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی �ے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیز� نظام پیش کیا �ے ۔ نکاح سے ان�رادی اور سماجی دونوں سطح پ� �ساد وبگاڑ کا عنصر ختم �وجاتا �ے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشر� کی تعمیر �وتی �ے ۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے �یں ج�اں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشت� نظر آتا �ے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتے�یں ، پاکیز� تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پرد� اٹھ جاتا �ے گویا دونوں ایک جاں دو قالب �وجاتے �یں ۔ ی� الل� کا بندوں پر بڑا احسان �ے ۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں �مبستری سے تعبیر کرتے �یں ۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیز� نظام دیا �ے اسی طرح جماع کےبھی صا� ستھرےر�نما اصول دئے �یں ، ان اصولوں کی جانکاری �ر مسلم مردوخاتون پر ضروری �ے ۔سطور ذیل میں جماع کا طریق� اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کرر�ا�وں۔
ی�ودیوں کا خیال تھا ک� بیوی کی اگلی شرمگا� میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا �وگا ، الل� نے اس خیال کی تردید کرتے �وئے �رمایا: ن�سَاؤ�ك�مْ حَرْثٌ لَّك�مْ �َأْت�وا حَرْثَك�مْ أَنَّىٰ ش�ئْت�مْ ۖ (البقرة:223)
ترجم�: تم�اری بیویاں تم�اری کھیتیاں �یں، ل�ذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چا�و آؤ۔
اس آیت کا مطلب ی� �ے ک� بیوی کی اگلی شرمگا� میں جس طرح سے چا�یں جماع کرسکتے �یں ، شو�ر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگا� �ی حلال �ے اور پچھلی شرمگا� میں وطی کرنا حرام �ے چنانچ� اس بات کو الل� نے اس آیت سے پ�لے بیان کیا �ے ۔ الل� کا �رمان �ے:
وَيَسْأَل�ونَكَ عَن� الْمَح�يض� ۖ ق�لْ ه�وَ أَذًى �َاعْتَز�ل�وا النّ�سَاءَ ��ي الْمَح�يض� ۖ وَلَا تَقْرَب�وه�نَّ حَتَّىٰ يَطْه�رْنَ ۖ �َإ�ذَا تَطَهَّرْنَ �َأْت�وه�نَّ م�نْ حَيْث� أَمَرَك�م� اللَّه� ۚ إ�نَّ اللَّهَ ي�ح�بّ� التَّوَّاب�ينَ وَي�ح�بّ� الْم�تَطَهّ�ر�ينَ (البقرة:222)
ترجم�:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے �یں ک�� دیجئے ک� و� گندگی �ے حالت حیض میں عورتوں سے الگ ر�و اور جب تک و� پاک ن� �و جائیں ان کے قریب ن� جاؤ ، �اں جب و� پاک �وجائیں تو ان کے پاس جاؤ ج�اں سے الل� نے تم�یں اجازت دی �ے الل� توب� کرنے والوں کو اور پاک ر�نے والوں کو پسند �رماتا �ے ۔
ی�اں پر الل� حکم دے ر�ا �ے ک� حیض کی حالت میں بیوی سے جماع ن� کرو اور جب حیض سے پاک �وکر غسل کرلے تواس کے ساتھ اس جگ� سے جماع کرو جس جگ� جماع کرنے کی اجازت دی �ے ۔ حیض اگلی شرمگا� سے آتا �ے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع �ےا ور جب حیض بند �وجائے تو اسی جگ� جماع کرنا �ےج�اں سے خون آر�ا تھا۔
” Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ حَرْثٌ لَّكÙ�مْ” Ú©ÛŒ تÙ�سیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظÛ� Ù�رمالیں تاکÛ� بات مزید واضح Û�وجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللÛ� عنÛ�ما بیان کرتے Û�یں جب ÛŒÛ� آیت نازل Û�وئی :(Ù†Ù�سَاؤÙ�ÙƒÙ�مْ حَرْثٌ Ù„ÙŽÙƒÙ�مْ Ù�َأْتÙ�وا حَرْثَكÙ�مْ أنَّى Ø´Ù�ئْتÙ�مْ)أي Ù…Ù�قبÙ�لاتÙ� ومÙ�دبÙ�راتÙ� ومÙ�ستَلقÙ�ياتÙ� يعني بذلÙ�ÙƒÙŽ مَوضعَ الولَدÙ�(صحيح أبي داود:2164)
ترجم�: تم�اری بیویاں تم�اری کھیتی �یں ل�ذا تم جس طریقے سے چا�و ان سے جماع کرو یعنی خوا� آگے سے خوا� پیچھے سے خوا� لٹا کر یعنی اولاد والی جگ� سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس �ی سے مروی �ے ۔ ن�سَاؤ�ك�مْ حَرْثٌ لَك�مْ �َأْت�وا حَرْثَك�مْ أَنَّى ش�ئْت�مْ أقب�لْ وأدب�رْ، واتَّق� الدّ�برَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجم�:تم�اری بیویاں تم�اری کھیتی �یں ل�ذا تم جس طریقے سے چا�و ان سے جماع کرو خوا� بیوی سے آگے سے صحبت کرو چا�ے پیچھے کی طر� سے کرومگر پچھلی شرمگا� سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پر�تن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی ی� بات جاننی چا�ئے اور اسے �ی عملی زندگی میں نا�ذ کرنا چا�ئے ، جولوگ �حش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے �یں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی �ے ،لمح� ب� لمح� بے حیائی کی را� چلنے لگتا �ے۔یاد رکھیں ، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب �ے ۔ نبی ﷺ کا �رمان �ے :
و�ي ب�ضْع� أَحَد�ك�مْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ الله�، أَيَأتي أَحَد�نَا شَهْوَتَه� وَيَكون� له ��يهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْت�مْ لو وَضَعَهَا �ي حَرَام� أَكانَ عليه ��يهَا و�زْرٌ؟ �َكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا �ي الحَلَال� كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجم�: اور(بیوی سے جماع کرتے �وئے) تم�ارے عضو میں صدق� �ے۔صحاب� کرام ﷺ نے پوچھا:اے الل� کے رسول ﷺ !�م میں سے کوئی اپنی خوا�ش پوری کرتا �ے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا �ے؟آپ ﷺ نے �رمایا:بتاؤاگر و� ی�(خوا�ش) حرام جگ� پوری کرتا تو کیا اسے اس گنا� �وتا؟اسی طرح جب و� اسے حلال جگ� پوری کرتا �ے تو اس کے لئے اجر �ے۔

اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل ذکر کئے جاتے �یں ۔
(1) بیوی سے جماع ع�ت وعصمت کی ح�اظت ، ا�زائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے �و، ایسی صورت میں الل� ن� صر� جماع پ� اجر دےگا بلک� نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔
(2) جماع ش�وت رانی ن�یں �ے بلک� زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں �ے ،اس لئے قبل از جماع شو�ر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذ�نی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے ۔
(3) جماع سے قبل ی� دعا پڑھنا مسنون �ے : بسْم� اللَّه�، اللَّه�مَّ جَنّ�بْنَا الشَّيْطَانَ وجَنّ�ب� الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمÛ�:اے اللÛ�!Û�میں شیطان سے علیحدÛ� رکھ اور تو جو اولاد Û�میں عنایت Ù�رمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ “پھر اگر انھیں بچÛ� دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان Ù†Û�یں Ù¾Û�نچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگ� آواز سننے والا اور دیکھنے والا کوئی ن� �و یعنی ڈھکی چھپی جگ� �واور جماع کی حد تک شرمگا� کھولنا کا�ی �ے تا�م ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل بر�ن� �ونا آپس میں جائز �ے ، جس حدیث میں مذکور �ے ک� جماع کے وقت بیوی کی شرمگا� دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق �وتی �ے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث قراردیا�ے۔ اوراسی طرح و� ساری احادیث بھی ضعی� �یں جن میں مذکور �ے ک� سید� عائش� رضی الل� عن�ا اور رسول الل� ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگا� ن�یں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روز� جماع ممنوع �ے ،باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے �یں ۔حالت حیض اور حالت ن�اس میں صر� جماع کرنا منع �ےمگر جماع کے علاو� بیوی سے لذت اندوز �ونا جائز �ے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نص� دینا صدق� کرنا �وگا ساتھ �ی الل� سے سچی توب� کرے تاک� آئند� الل� کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب ن� کرے ۔ی�ی حکم ن�اس کی حالت میں جماع کا �ے البت� صحیح قول کی روشنی میں مستحاض� سے جماع کرنا جائز �ے۔
(6)دوران حمل بیوی سے جماع کرنا جائز �ے تا�م شو�ر کو اس کنڈیشن میں �میش� بیوی کی ن�سیات ، صحت اور آرام کا خیال رکھنا چا�ئے ۔ حمل کی مشقت ب�ت سخت �ے ، قرآن نے اسے دکھ پر دکھ ک�ا �ے ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شو�ر کومنع کرتے �یں ل�ذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا حمل کے آخری ایام کا�ی دشوار گزار �وتے �یں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت �وسکتا �ے ۔
(7)مطلق� رجعی� کی عدت میں جماع کرنا رجعت �ے ک� ن�یں اس پ� ا�ل علم میں مختل� اقوال �یں ، ان میں قول مختار ی� �ے ک� اگر شو�ر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا �ے تو رجوع ثابت �وگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع ن�یں �وگا مثلا ش�وت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع کے دوران ش�وت کی باتیں کرنے سے متعلق سوال کرتے �یں تو اس میں کوئی حرج ن�یں �ے ، ن� �ی عیب کی بات �ے ، �اں �حش اور بے �ود� باتیں جس طرح عام حالات میں ممنوع �یں اسی طرح دوران جماع بھی ممنوع �وں گی ۔
(9)جماع سے قبل ش�وت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان د� �ے ل�ذا اس چیز سے اجتناب کریں ،�اں کسی آدمی میں جنسی کمزوری �و تو ما�ر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائق� ن�یں �ے ۔
(10) بیوی کی اگلی شرمگا� میں جماع کرنا حیض ون�اس سے پاکی کی حالت میں جائز �ے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار �ونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگا� چھونا یا دیکھنا جائز وحلال �ے ۔ پھر اگلی شرمگا� میں جماع کے لئے جو کی�یت و�یئت اختیار کی جائے تمام کی�یات جائز �یں ۔ یاد ر�ے جماع کی خوا�ش بیدار �ونے اور اس کا مطالب� کرنے پر ن� شو�ربیوی سے انکار کرے اور ن� �ی بیوی شو�ر سے انکار کرے ۔
(11) شو�ر کے لئے بیوی کی شرمگا� چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج ن�یں �ے لیکن اسے چومنا بے حیائی �ے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگا� چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج ن�یں �ے مگر اسے چومنا اور من� میں داخل کرنا بے حیائی �ے ۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاص� ی� �ے ک� عورت کی شرمگا� چومنا اور من� سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی �ے اور اسلام کی پاکیز� تعلیمات کے خلا� �ے ۔
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیر�طری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راست� اختیار کرنا �ے ، مومن �ر کام میں حیا کا پ�لو مدنظر رکھتا �ے ۔ عموما شو�ر اپنی بیوی کو غیر�طری طریق� مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا �ے ایسی عورت کے سامنے ع�د رسول کی اس انصاری عورت کا واقع� �ونا چا�ئے جس کے قریشی یعنی م�اجرشو�ر نے اس سے اپنے ی�اں کے طریق� سے مباشرت کرنا چا�اجوانصاری کے ی�اں معرو� ن� تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور ک�ا �م صر� ایک �ی انداز سے جماع کے قائل �یں ل�ذا و�ی طریق� اپناؤ یا مجھ سے دور ر�و ۔ی�اں تک ک� بات رسول الل� ﷺ تک پ�نچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (ن�سَاؤ�ك�مْ حَرْثٌ لَك�مْ �َأْت�وا حَرْثَك�مْ أنَّى ش�ئْت�مْ) نازل �وئی جس کی ت�سیر اوپر گزرچکی �ے۔ واقع� کی ت�صیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا �رمان �ے ک� جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتا�ے،و� ملعون �ے(صحیح ابی داؤد:2162)۔ل�ذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوق�ر ال�ی کا سزاوار ن� بنائے ۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد �وگیا �و تو و� �ورا رب کی طر� الت�ات کرے اور الل� سے توب� کرکے گنا� معا� کرالے۔ج�اں تک لوگوں کا ی� خیال کرنا ک� بیوی کی پچھلی شرمگا� میں جماع کرنے سے نکاح باطل �وجاتا �ے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت ن�یں �ے ۔
(14) ایک �ی رات میں دوبار� جماع کرنے سے پ�لے اگر میسر �و تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبار� جماع کرسکتے �یں کیونک� رسول الل� ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت �رماتے تھے ۔
(15) مرد کی شرمگا� عورت کی شرمگا� میں داخل �ونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب �وجاتا �ے چا�ے منی کا انزال �و یا ن� �و۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا �ے تا�م �جر سے پ�لےیا جو وقت �واس نماز کے واسطے غسل کر لےتاک� بلاتاخیر وقت پ� نماز پڑھ سکے ۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت ن�یں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ، بات چیت،کھاناپینا سب جائز �یں حتی ک� سحری بھی کھاسکتے �یں۔
(16)جب جماع کی حالت میں اذان �ونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج ن�یں تا�م اس سے جلد �راغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد ر�ے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے ر�نا حتی ک� اقامت �ونے لگے تب جماع کرنا �ماری کوتا�ی اور نماز سے غ�لت �ے۔ج�اں تک اذان کے جواب کا مسئل� �ے تو ی� سب پر واجب ن�یں بلک� �رض ک�ای� اوربڑے اجر وثواب کا حامل �ے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چا�یں تو دینے میں کوئی حرج ن�یں �ے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا �ے ،جب اس عمل سے �ارغ �وجائیں تو بقی� کلمات کا جواب دے سکتے �یں ۔
(17) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وق�� کرنے کی نیت سے جماع کرتے �وئے منی شرمگا� کے با�ر خارج کرنا جائز �ے ، شوقی� ایسا کرنے سے ب�رصورت بچنا چا�ئے کیونک� نکاح کا ا�م مقصد ا�زائش نسل �ے۔
(18) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت �ے، رسول الل� ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع �رمایا �ے ۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چا�ئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے �یں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے �یں ۔ نعوذبالل� کتنے ملعون �یں �حش ویڈیوز بنانے ، پھیلانےاوردیکھنے والے ۔ نبی ﷺ کا �رمان �ے :
كلّ� أمَّتي م�عا�ًى إلَّا الم�جاه�رينَ ، وإنَّ منَ الم�جاهرة� أن يعمَلَ الرَّجل� باللَّيل� عملًا ، ث�مَّ يصب�حَ وقد سترَه اللَّه� ، �يقولَ : يا �لان� ، عم�لت� البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يستر�ه ربّ�ه� ، ويصب�ح� يَكش��� سترَ اللَّه� عنه�( صحيح البخاري:6069)
ترجم�:میری تمام امت و معا� کردیا جائے گا مگر جو اعلانی� گنا� کرتے �یں۔ علانی� گنا� کرنے کا مطلب ی� �ے ک� ایک شخص رات کے وقت گنا� کرتا �ے باوجودیک� الل� تعالیٰ نے اس کے گنا� پر پرد� ڈالا �وتا �ے لیکن صبح �وتے �ی و� ک�نے لگتا �ے: اے �لاں! میں نے رات �لاں �لاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گنا� چھپا رکھا تھا جب صبح �وئی تو و� خود پر دیےگئے الل� کے پردے کھو لنے لگا۔

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 03

النَّبْر� �ي  تجويد القرآن أو  علم الصوتيات ظاهرة صوتية دقيقة تهد� إلى إبراز الصوت على مقطع من الكلمة وهو أشيع �ي اللغات الغربية منه �ي العربية، بحيث يمكن أن يتغير معنى الكلمة �ي تلك اللغات بتغير موقع النبر، بينما �ي العربية لا يغير النبر المعنى لكنه قد يساعد السامع على ال�هم.

نبر الجـ�مَل أو السياق

وهو أن يميّز المتكلم – أثناء كلامه – كلمة (برمّتها) ØŒ Ù�يزيد من نبرها، للإشارة إلى غرض خاص؛ Ù�مثلا: (هل ساÙ�ر أخوك؟) Ù�حين نَنْبر Ù�ÙŠ كلمة (ساÙ�ر) Ù�ÙŠ هذه الجملة؛ ربما يكون المعنى أنّ المتكلم يشك Ù�ÙŠ حدوث السÙ�ر من أخي السامع، أما إذا ضغطنا على كلمة (أخوك) Ù�Ù�ـهم من الجملة أننا لا نشكّ Ù�ÙŠ السÙ�ر، إنما الذي نشك Ù�يه هو المساÙ�ر Ù†Ù�سه، Ù�ربما كان أباه أو عمَّه أو غيرهما – لا أخاه. وأما إذا ضغطنا Ù�ÙŠ كلمة (أمس) Ù�Ù�هم من الجملة أن الشك Ù�ÙŠ تاريخ السÙ�ر.

موقع النبر �ي الكلمات والجمل

لا تكاد تخلو من النبر جميع اللغات، ولكن ينبغي أن نعلم أنّ هناك اختلا�ات �ي مواقع النبر �ي مقاطع كلمات هذه اللغات، �بعضها يخضع نبر كلماتها لقواعدَ معيّنة كاللغة العربية مثلا، وبعضها يقع النبر �ي المقطع الأخير من كلماتها دائما؛ كاللغة ال�رنسية، كما يقع �ي المقطع الأول لكلمات بعضها كاللغة التشيكية، ومنها ما لا يخضع النبر �يها لأية قاعدة، بل ي�ح�ظ الموقع لكل كلمة على حدة؛ كما �ي اللغة الإنكليزية.

Ù�معرÙ�Ø© مواقع النبر – إذن – له أهمية كبيرة، وخاصة Ù�ÙŠ اللغات الضاغطة كاللغة الإنكليزية، حيث يمكن اضطراب المعنى Ù�ÙŠ هذه اللغة بمجرد تغيير موقع النبر Ù�ÙŠ مقطع من مقاطع الكلمة؛ Ù�إذا نبرت Ù�ÙŠ أولها دلّت على شيء، وإذا نبرت Ù�ÙŠ مكان آخر دلّت على معنى آخر؛ Ù�مثلا الكلمات: Torment, AgumentØŒ لا Ù�رق بينهما إلا Ù�ÙŠ اختلاÙ� موضع النبر. وأما بخصوص لغات غير ضاغطة كالعربية الÙ�صحى مثلا، Ù�قد يرى محمد الأنطاكي أنّ النبر Ù�ÙŠ مقاطع كلماتها لا يغيّر معناها، اللهم إلا Ù�ÙŠ نبر الجمل، Ù�إنه كثيرا ما يدل على الرغبة Ù�ÙŠ التأكيد أو الإشارة إلى غرض خاص، كما مثلنا سابقا.

درجات النَّبر

و��قا للبروز والوضوح السمعي �إن للنبر درجتين، وهما:

  • النّبر الرئيسي، أو الأولي: وهو يقع على المقطع الأخير Ù�ÙŠ الكلمة، مثل: انطلاق، استقال؛ أو ما قبل الأخير Ù�ÙŠ الكلمة، مثل: حزب، علم. وهناك الذي يسبق ما قبل الأخير، إذا كان واقعا مع ما قبله Ù�ÙŠ مثل: علَّمَكْ.
  • النّبر الثانوي: Ù�هو يوجد Ù�ÙŠ الكلمات المتكونة من مقطعين Ù�أكثر، Ù�هو يقع على المقطع الذي يسبق المنبور نبرا أوليا، إذا كان الصوت المنبور نبرا ثانويا طويلا، نحو (ولا الضالين)Ø› والمقطع السابق للمقطع المنبور، ويليه مقطع منبور نبرا أوليا، نحو: (علّمناه)Ø› والمقطع المنبور نبرا أوليا، تكون نسقا أصواتيا، نحو: (ما عرÙ�ناهم).

النبر �ي العربية ال�صحى

يظهر ال�رق بين هذه اللغات هو استعمال النبر مَلمحا تمييزيا أو ملمحا غير تمييزي. وقد أثبت معظم العلماء وجود النبر �ي الكلمات العربية القديمة، إلا أنّ معر�ة حالته �ي ذلك الوقت، أو معر�ة أماكنه المحدَّدة �ي مقاطع الكلمات هو المعدوم؛ وسبب ذلك – كما ذكر إبراهيم أنيس ومحمد الأنطاكي – هو عدم تعرض أحد من المؤل�ين القدماء لهذا الموضوع، وهذا الإغ�ال ناشئ عن عدم شعورهم بأي أثر للنّبر �ي تحديد معاني الكلمات العربية. وذهب العلماء إلى أنّ نبر الكلمة �ي العربية ال�صحى ليس له أثر �ي تحديد المعنى. وهناك أمثلة كثيرة طرحها أحمد المختار عمر، للمناقشة والبحث �ي ذات الموضوع والتي نلتمس- من خلالها– كي� يؤثر النبر �ي تحديد معاني كلمات العربية ال�صحى، ومن هذه الأمثلة، قولهم: (كريم الخلق) – (كريموا الخلق) �التمييز بين الم�رد والجمع– هنا- كان بوضع النبر (مع الم�رد) على المقطع الأول، و(مع الجمع على المقطع الثالث).

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 04

مختل� زبانوں کے ال�اظ آپس میں ایک دوسری زبان میں منتقل �وتے ر�تے �یں۔ اردو زبان بھی کئی زبانوں کے ال�اظ کا ایک خوش نما مرقع �ے۔ اس کے الگ تشخص اور پ�چان کی وج� اس کا الگ رسم الخط �ے، جو اگرچ� عربی اور �ارسی سے لیا گیا �ے لیکن ان دو زبانوں میں برصغیر پاک و �ند کی مقامی بولیوں کے حرو� کا اضا�� کر کے ایک الگ رسم الخط وجود میں آیا �ے، جس سے اردو کی ان�رادیت قائم �وئی �ے۔ ورن� ک�ا جاسکتا �ے ک� وسط ایشیا کی مسلمان قوموں اور پاک و �ند کی اقوام نے اپنی سیاسی اور کاروباری س�ولتوں کے لیے ایک دوسرے کے ال�اظ کو اپنا لیا اور ک�یں ک�یں اپنے اصلی لب و ل�ج� میں کچھ تبدیلیاں کر لیں تو قدیم زبان سے الگ تھلگ ایک بولی وجود میں آگئی۔ ان عربی، �ارسی، �ندی اور انگریزی ال�اظ کو ان میں سے کسی بھی قدیم زبان کے حرو� میں لکھنا ممکن ن�یں تھا۔

موجود� دور میں دیونا گری رسم الخط میں لکھی جانے والی زبان کو �ندی اور �ارسی رسم الخط والی زبان کو اردو ک�ا جاتا �ے۔ کم و بیش پچاسی �ی صد ال�اظ کے اشتراک کے باوجود دو مختل� رسم الخط �ونے کی وج� سے ی� دو زبانیں قرار پائی �یں۔ اب ن� جانے ایک �ی زبان (اردو) کو بیک وقت اردو اور انگریزی حرو� میں لکھ کر اسے کس قسم کی ترقی کی را� پر ڈالا جا ر�ا �ے۔ �اتھ سے کتابت کرنے والے اکثر خود بھی حر� شناس �وا کرتے تھے اور پھر مسلسل مشق اور تجربے کی وج� سے ان کے �اں �جوں اور املا کی غلطی کا امکان ب�ت کم �وتا تھا۔ اب کمپیوٹر کے تخت�ٔ حرو� (Key board) پر انگلیاں چلانے والے جب دھڑا دھڑ اردو ال�اظ کے غلط �جے لکھ ر�ے �یں تو ان سے انگریزی کے صحیح �جوں کی توقع بالکل عبَث �ے۔ بعض اوقات ی� بھی �وتا �ے ک� اگر کوئی انگریزی ل�ظ ایک ص�ح� پر تین بار لکھا گیا �و تو و� تین مختل� �جوں میں �و گا۔

برصغیر پاک و �ند میں ب�ت سی علاقائی زبانیں بھی �یں جن کے ال�اظ اردو میں مستعمل �یں یا �و سکتے �یں۔ ان زبانوں کا اپنا اپنا رسم الخط بھی �ے۔ اگر کوئی لکھنے والا کسی مخصوص زبان کے علاقے کی تاریخ و ت�ذیب یا و�اں کی سیر و سیاحت کے بارے میں اردو زبان میں کچھ لکھے تو �طری امر �ے ک� و� حسب� ضرورت کچھ علاقائی ال�اظ یا اصطلاحیں بھی استعمال کرے گا۔ اس طرح اگر �ر خط� یا زبان کے ال�اظ کو اردو میں لکھتے وقت انھیں اپنے علاقائی رسم الخط میں لکھا جائے تو پھر اردو کے پاس اپنا کیا ر� جائے گا؟ اگر جاپانی اور چینی مصنوعات کے نام اردو حرو� میں لکھنے کے بجائے اردو جمل� میں بھی ان کے اصل (جاپانی یا چینی) حرو� میں لکھ دیے جائیں، روس کی سیاحت کے بعد کوئی صاحب و�اں کے ش�روں یا لوگوں کے نام روسی حرو� میں لکھ کر اردو زبان میں ایک اور س�رنامے کا اضا�� کرنے کا شوق پورا کر لیں تو کیا ی� اردو قارئین پر ظلم ن�یں �و گا۔ ایسی صورت میں و� کون علام� �و گا جو زبان دانی کا دعویٰ کر سکے گا۔

اردو میں ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کا استعمال

اردو میں ’’�‘‘ �ائے �وز اور ’’ھ‘‘ �ائے دو چشمی کو لکھتے وقت اکثر گڈ مڈ کر دیا جاتا �ے۔ اردو کی پرانی تحریروں میں ’’ھ‘‘ کا استعمال کم تھا اور �ندی الاصل ال�اظ ’’بھول، پھول، تھال، کھانا، دکھ، سکھ، سنگھ‘‘ وغیر� کو عموماً ’’�‘‘ سے لکھا جاتا تھا اور ان کی صورت ’’ب�ول، پ�ول، ت�ال، ک�انا، دک��، سک��، سنگ��‘‘ �وتی تھی۔ اب صورت حال ب�ت ب�تر �و گئی �ے۔ غالباً انیسویں صدی کے آخری چند عشروں میں اردو اخبارات کے عام چلن کی وج� سے ’’�‘‘ کی بجائے ’’ھ‘‘ کا استعمال عام �و گیا۔ اب املا کا ی� اب�ام کا�ی حد تک ختم �و گیا �ے اور ال�اظ کو زیاد� تر درست لکھا جاتا �ے۔ اس لیے ’’ب�اری‘‘ اور ’’بھاری‘‘، ’’پ�اڑ‘‘، اور ’’پھاڑ‘‘، ’’د�را‘‘ اور ’’دھرا‘‘ اور ’’د�ن‘‘ اور ’’دھن‘‘ لکھتے اور پڑھتے وقت ا�ن میں امتیاز کیا جا سکتا �ے۔ لیکن ابھی تک ب�ت سے ال�اظ مثلاً ’’انھوں، انھیں، تمھارا، تمھیں، چولھا، دولھا، دلھن‘‘ وغیر� کو �ائے �وز سے �ی یعنی ’’ان�وں، ان�یں، تم�ارا، تم�یں، چول�ا، دول�ا، دل�ن‘‘ لکھا جاتا �ے اور اسے عام طور پر غلط سمجھا بھی ن�یں جاتا۔

دراصل ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک �ی نام دینے کی وج� سے ایک ب�ت بڑا مغالط� در آیا �ے ک� شاید ی� ایک �ی حر� �ے یا دونوں ایک دوسرے کے متراد� و متبادل �یں۔ اس غلط ��می کی وج� قدیم ما�رین� لسانیات کا ی� تصور �ے ک� اردو میں بھاری یا سخت آوازوں والے حرو� ’’بھ، پھ، تھ، کھ‘‘ وغیر� مرکب حرو� �یں۔ یعنی ب+�= بھ، پ+�= پھ، ت+�= تھ، ک+�= کھ۔ اسی لیے آج تک بچے کو جب اردو حرو� ت�جی کا ابتدائی تعار� کرایا جاتا �ے تو مروج� قاعدوں میں تمام دو چشمی حرو� کو حرو� ت�جی کا حص� ظا�ر ن�یں کیا جاتا۔ �ارسی حرو� میں صر� ’’ٹ‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ کی تین آوازوں کا اضا�� کر کے اردو حرو� ت�جی کو مکمل تصور کر لیا جاتا �ے۔ بچ� بھی ی� سمجھتا �ے ک� اس نے سب حرو� کی شکلیں اور آوازیں ذ�ن نشین کر لی �یں۔ اگلے مرحلے میں بچے کو حرو� جوڑ کر مختل� آوازوں کو ملانے اور لکھتے وقت انھیں جوڑنے اور توڑنے کے قواعد سکھائے جاتے �یں۔ اب بچ� ی� سمجھتا �ے ک� و� حرو� کی سب م�رد اور مرکب شکلوں سے آگا� �و گیا �ے، ل�ٰذا اس کے من� سے نکلنے والی �ر آواز اب حرو� جوڑ کر ال�اظ کی شکل میں لکھی جا سکتی �ے۔ لیکن اس مرحلے کے بعد و� ایک نئی الجھن کا شکار �وتا �ے اور اسے ی� سکھایا جاتا �ے ک� �ماری زبان میں ایک اور ’’�‘‘ بھی موجود �ے اور اس کی دو آنکھیں �یں۔ جب اس کی آنکھیں ب، پ، ت، ٹ، ج، چ، د، ڈ، ر، ڑ، ک، گ، ل، م اور ن سے ملتی �یں یا لڑتی �یں تو بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ وجود میں آتے �یں۔ اس طرح بچ� ان حرو� کی شکلوں اور آوازوں سے تو شاید واق� اور مانوس �و جاتا �ے لیکن اسے ی� علم عمر بھر ن�یں �وتا ک� و� �ائے دو چشمی والے حرو� کو حرو� ت�جی کا حص� تصور کرے یا ن�یں۔ اگر انھیں حرو� ت�جی ک�ا جائے تو پ�لے تعار� میں انھیں شامل کیوں ن�یں کیا جاتا اور اگر و� حرو� ت�جی کا حص� ن�یں تو انھیں کیا نام دیا جائے؟ جب ک� ان کے استعمال کے بغیر اردو میں شاید ایک جمل� لکھنا بھی ممکن ن� �و۔

باون حرو� کے خاندان میں اگر پندر� کو خاندان کا حص� �ی ن� مانا جائے تو خاندان کا نظام کیسے چلے گا۔ اس الجھن کا شکار معمولی پڑھے لکھے ا�راد سے لے کر اعلیٰ تعلیم یا�ت� بلک� لسانیات کے ما�رین اور لغات کے مرتبین بھی �یں۔ لغت کی بعض کتابوں میں بھی ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں کوئی �رق ن�یں سمجھا گیا اور ان کو اس طرح مخلوط و مج�ول کر دیا گیا ک� ایک عام �رد ل�ظ کے تل�ظ، املا یا معنی سمجھنے کے بجائے مزید الجھاؤ کا شکار �و جاتا �ے۔ ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز ن� کرنے کی وج� سے ’’من�‘‘، ’’منھ‘‘، ’’مون��‘‘ اور ’’مونھ‘‘ ایک �ی ل�ظ چار مختل� شکلوں میں لکھا جاتا �ے بلک� عین ممکن �ے ک� اسے کسی اور املا سے بھی لکھا جاتا �و جو راقم کو معلوم ن� �و۔ لط� کی بات ی� ک� ان املا کو لغت کی کتابوں میں بھی کسی تصریح کے بغیر کبھی ایک طرح سے اور کبھی دوسری طرح سے لکھا جاتا �ے۔

حقیقت ی� �ے ک� جس طرح ’’ٹ‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ مرکب اور مخلوط حرو� ن�یں یعنی و� کسی دوسرے حر� کو ’’ط‘‘ سے ملا کر ن�یں بنائے گئے، ا�سی طرح اردو میں �ائے دو چشمی گرو� کے سارے حرو� اپنی اپنی حیثیت میں مستقل اور م�رد حرو� �یں۔

’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز ن� کرنے کی وج� سے اردو کے قدیم شعرا اپنے شعری دیوان مرتب کرتے وقت ’’ھ‘‘ کی ردی�وں مثلاً ’’آنکھ، ساتھ، �اتھ‘‘ وغیر� کو ردی� ’’�‘‘ کی ذیل میں �ی لکھا کرتے تھے۔ اس طرح ’’�‘‘ کی ردی� میں ’’ی�، و�، نقش�، جگ�‘‘ کے ساتھ �ی ’’آنکھ، بیٹھ، ساتھ، �اتھ‘‘ وغیر� بھی موجود �وتے تھے۔ اس کی وج� غالباً ی� تھی ک� و� ردی�وں کے نام صر� �ارسی حرو� پر رکھتے تھے اور ’’بھ، ٹھ، چھ، کھ‘‘ وغیر� کے استعمال کو جائز ن�یں سمجھتے تھے۔

�ن ابجد اور علم الاعداد تقریباً ا�تنے �ی پرانے �نون �یں، جتنا پرانا �ن� کتابت �ے۔ �مارے �اں رائج �ن� ابجد عربی کے اٹھائیس حرو� ت�جی پر مبنی �ے۔ اس �ن کے تحت �ر حر� کی ایک عددی قیمت متعین کر دی گئی �ے، مثلاً ال�=ا، ب=۲، ج=۳ اور د=۴۔ اور اسی طرح تین تین اور چار چار حرو� کے مختل� ترتیب سے سیٹ بنا کر ان کی اکائی، د�ائی اور سیکڑا میں قیمتیں �رض کر لی گئی �یں۔ عربی سے ی� �ن �ارسی اور اردو میں بھی پ�نچا لیکن ان زبانوں کے زائد حرو� کی کوئی قیمت مقرر ن�یں کی گئی بلک� ان کی قیمتیں قریب ترین حر� کی قیمت کے برابر �رض کر لی گئیں۔ مثلاً پ=ب=۲، چ=ج=۳ اور گ=ک=۲۰۔ اردو میں مستعمل �ندی حرو� ٹ، ڈ، ڑ وغیر� بھی قریب ترین حر� کے عدد کے برابر شمار کیے گئے لیکن ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک �ی حر� �رض کر کے ان کی قیمت ایک �ی رکھی گئی۔ ی�اں اس کی مکتوب� شکل سے دھوکا کھا کر اسے ب+ھ= ۲+۵= ۷ تصور کی گئی �ے۔

آواز اور اس کی مقرر� علامت یعنی حر� کے با�می تعلق کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے علم� عروض ایک ب�ت اچھا ذریع� �ے۔ عروض میں مصرع کی تقطیع کے قواعد کی رو سے ’’ھ‘‘ خاندان کے تمام حرو� م�رد �ی شمار �وتے �یں۔ ان کی مکتوب� شکل سے دھوکا کھا کر انھیں مخلوط یا مرکب حرو� ن�یں سمجھا جاتا۔ ی� الگ بات �ے ک� قدیم عروض دان انھیں واضح طور پر ایک حر� ماننے کے بجائے یوں لکھا کرتے تھے ک� ’’تقطیع میں ’ھ‘ ساقط �و جاتی �ے۔‘‘ حال آں ک� اس سقوط سے مراد ی�ی �ے ک� ’’ھ‘‘ کی اپنی کوئی الگ آواز ن�یں �ے اور ی� مخلوط حر� ن�یں۔ سات، ساتھ، کاٹ، کاٹھ، کھاٹ اور گول، گھول وغیر� ال�اظ �م وزن �یں جب ک� ’’بھاؤ اور ب�اؤ‘‘، ’’دھن اور د�ن‘‘، ’’پھن اور پ�ن‘‘ اور ’’پھل اور پ�ل‘‘ �م وزن ن�یں �یں، جو اس بات کا واضح ثبوت �ے ک� ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک �ی حر� یا ایک دوسرے کا متبادل و متراد� سمجھنا ب�ت بڑا علمی مغالط� �ے۔

حقیقت میں ’’ھ‘‘ اردو حرو� ت�جی کی و� مکتوب� شکل یا علامت �ے جو پندر� حرو� میں مشترک� طور پر استعمال �وتی �ے۔ ی� الگ سے کوئی حر� ن�یں اور ن� �ی اس سے کوئی ل�ظ شروع �وتا �ے۔ اگر حرو� �جا کی اشکال کے لحاظ سے گرو� بندی کی جائے تو ’’ب، پ، ت، ٹ، ث‘‘، ’’ج، چ، ح، خ‘‘ اور ’’ر، ڑ، ز، ڑ‘‘ وغیر� چند گرو� وجود میں آتے �یں جنھیں ت�جی ترتیب میں ایک ساتھ لکھا جاتا �ے۔ ’’بھ، پھ، تھ۔۔۔ لھ، مھ، نھ‘‘ وغیر� بھی �م شکل حرو� کا ایک گرو� �ے جس کے ارکان کی تعداد سب سے زیاد� یعنی پندر� �ے لیکن انھیں جب ایک گرو� کی شکل میں لکھا جائے تو بنیادی حرو� تسلیم �ی ن�یں کیا جاتا اور اگر بنیادی حرو� کی ترتیب میں یعنی ’’ب‘‘ کے بعد ’’بھ‘‘ لکھا جائے تو پھر بھی ترتیب نمبر سے محروم رکھا جاتا �ے اور انھیں اس طرح منتشر کر دیا جاتا �ے ک� ان کی ا�میت اجاگر ن�یں �و پاتی۔

عربی زبان کے بعض خطوط میں �ائے مخت�ی (�) کو �ائے دو چشمی (ھ) کی طرح بھی لکھا جاتا �ے اور ی�ی رواج اردو میں بھی موجود �ے۔ کیونک� عربی میں �ائے دو چشمی کا کوئی الگ وجود ن�یں �ے، اس لیے اسے دونوں شکلوں میں لکھنا جائز �ے لیکن اردو میں ایسی ’’ھ‘‘ پر مشتمل حرو� کا ایک پندر� رکنی خاندان موجود �ے جن کا �ائے مخت�ی سے کوئی تعلق ن�یں۔ اس لیے ی� ضروری �ے ک� ’’�‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک دوسرے کا متراد� یا متبادل تصور ن� کیا جائے اور املا میں بھی ان کے �رق کو ملحوظ رکھ کر ایک ب�ت بڑے مغالطے کا ا�زال� کیا جائے۔

اردو میں ’’ڑ‘‘ سے کوئی ل�ظ شروع ن�یں �وتا اور اسی طرح ’’ژ‘‘ (زائے �ارسی) کا اردو میں استعمال بھی ن� �ونے کے برابر �ے لیکن و� حرو� ت�جی میں برابر کے ارکان �یں تو �ندی الاصل بھاری آوازوں والے حرو� جو �ائے دو چشمی سے لکھے جاتے �یں، انھیں بھی حرو� ت�جی کی ��رست میں شامل کر کے بچے کو حرو� کے پ�لے تعار� میں �ی ان سے روشناس کرایا جانا چا�یے تاک� ایک ب�ت بڑے لسانی سقم کو دور کیا جا سکے اور املا کے مغالطے سے نجات حاصل کی جا سکے۔

لغت کی کتابوںمیں ان حرو� کو شامل کیا جاتا �ے اور ان کی آوازوں پر مشتمل ال�اظ کے معانی و مطالب اور زبان کے قواعد کی دوسری ضروری تصریحات کی جاتی �یں لیکن انھیں حرو� ت�جی کی ��رست میں کوئی ترتیب نمبر ن�یں دیا جاتا۔ مثلاً ’’ب‘‘ کو اردو حرو� ت�جی کا دوسرا حر� لکھا جاتا �ے اور ’’بھ‘‘ کو ایک مستقل حر� قرار دے کر اس سے شروع �ونے والے ال�اظ کی الگ ��رست لکھی جاتی �ے لیکن اسے تیسرا حر� ن�یں سمجھا جاتا بلک� آگے چل کر ’’پ‘‘ کو تیسرا حر� شمار کیا جاتا �ے۔ لغت کے بعض مرتبین نے ’’بھ‘‘، ’’پھ‘‘ وغیر� کو الگ حر� شمار �ی ن�یں کیا اور ’’ب-و‘‘ کے بعد ’’ب-� اور ب-ھ‘‘ کی ذیل میں لکھا �ے اس طرح ’’ب�را‘‘ اور ’’بھرا‘‘، ’’ب�اؤ‘‘ اور ’’بھاؤ‘‘ کو ایک ساتھ لکھ کر ان کے تل�ظ کی الگ الگ تصریح بھی ن�یں کی اور یوں مسئلے کو الجھا دیا �ے۔

اگر انگریزی حرو� �جا کی تعداد چھبیس اور عربی کے حرو� کی تعداد اٹھائیس �ے اور ان زبانوں کی تمام تحریروں میں ایسی کوئی شکل یا علامت ن�یں پائی جاتی جو ا�ن چھبیس یا اٹھائیس حرو� کے علاو� �و تو اردو میں ایسا کیوں �ے ک� اس کے سینتیس حرو� ت�جی کے علاو� پندر� مزید ایسی اشکال بھی �یں جو بنیادی حرو� تو ن�یں لیکن ان کے بغیر زبان مکمل بھی ن�یں �و سکتی۔

زبانیں ایک دوسری کے میل جول اور اشتراک و ادغام سے بنتی �یں۔ کسی بھی ل�ظ کے تل�ظ یا املا کی سب سے بڑی سَنَد اس کی ابتدائی زبان �وتی �ے جس سے و� کسی دوسری زبان میں منتقل �وا �و۔ دو چشمی حرو� چونک� �ندی الاصل �یں اور دیونا گری رسم الخط میں انھیں آزاد اور مستقل حر� کی حیثیت حاصل �ے، ان کی املائی اشکال بھی کسی دوسرے قریب المخرج حر� سے ملتی جلتی ن�یں �یں، اس لیے اردو میں بھی انھیں الگ حر� کی حیثیت ملنی چا�یے اور حرو�� ت�جی کی ��رست میں انھیں خاص ترتیب نمبر دیا جانا چا�یے۔

پاکستان میں اردو لغت بورڈ نے اردو کی جدید لغت اردو زبان و ادب کے ب�ت بڑے ما�رین کی کم و بیش نص� صدی کی محنت سے مکمل کی �ے۔ اس لغت میں حرو� کی ترتیب ا، ب، بھ، پ، پھ �ی رکھی گئی �ے۔ ۳۲ جلدوں پر مشتمل �زاروں ص�حات کی ی� لغت چونک� عام آدمی کی رسائی سے با�ر �ے، اس لیے معلوم ن�یں �و سکا ک� اس میں دو چشمی ’’ھ‘‘ والے حرو� کو ایک مستقل حر� تسلیم کیا گیا �ے یا ن�یں اور اسے ت�جی ترتیب نمبر بھی دیا گیا �ے یا ن�یں۔

ANS 05

(أ) همزة وصل : 

وهي همزة تنطق �ي ابتداء الكلام ولا تنطق عند وصله بما قبلها ، ولا يرسم عليها أو تحتها همزة وتكتب هكذا (ا).

 مواضع همزة الوصل :

(1) �ي الأ�عال :

 

 أمر الثلاثي المبدوء بهمزة  مثل : اضربْ، اجلسْ , العبْ
 ماضي وأمر ومصدر الخماسي  مثل : انطلقَ، انطلقْ، انطلاق
 ماضي وأمر ومصدر السداسي  مثل : استقبلَ ، استقبلْ ، استقبال

 

(2) �ي الأسماء:

 

” ابن ، ابنة ، ابنم ØŒ ابنان ØŒ ابنتان ، اثنان ، اثنتان ، امرؤ ، امرأة ، اسم ، است ØŒ امرآن ØŒ امرأتان ØŒ اسمان ØŒ ايمن  ” .

 

(3) �ي الحرو� :

 

ال التعري� ، مثل :  القاضي  ، المدرسة .

 

% هام جداً :

مواضع حذ� همزة الوصل :
ï‚¶
 إذا سبقت بهمزة است�هام : أنطلق الجواد ؟ ، أستسلم العدو ؟
ï‚¶
 إذا سبقت بلام الابتداء [ لَل�تى] ، أو لام الاستغاثة [يا لَلّه] ، أو لام الجر   [ل�لرجل ]
ï‚¶
 تحذ� من البسملة التامة : بسم الله الرحمن الرحيم .

 تحذ� همزة (ابن) �ي ثلاثة مواضع :

  إذا وقعت بين علمين الثاني والد الأول ولم تقع (ابن) �ي بداية السطر : محمد بن عبدالله
ï‚¶
  إذا سبقت بحر� نداء : يا بن  عبد الله
ï‚¶
 إذا سبقت بهمزة الاست�هام : أبنك محمد ؟

 

  تحذ� همزة (امرؤ ، امرأة) إذا سبقت بـ (أل) : �تصيران (المرء ، المرأة) .

 

 ملحوظة :

 إذا دخلت همزة الاست�هام على المعر� بـ (أل) ق�لبت همزة الاست�هام وهمزة الوصل مدة  ، مثل: آلكتاب لك ؟

 (ب)همزة القطع :  

وهي همزة متحركة تقع �ي أول الكلمة ، وينطق بها �ي ابتداء الكلام و�ي وسطه ، وتكتب هكذا: (أَ�) إذا جاءت م�توحةً أو مضمومة ، و  (إ�) إذا كانت مكسورة.

 مواضع همزة القطع :

 

(1) �ي الأ�عال :

 

 ماضي الثلاثي ومصدره  مثل : أكل ، أكلا- أخذ ، أخذا
 ماضي الرباعي وأمره مصدره  مثل : أضربَ ، أضر�بْ ، إضراب
 كل مضارع مبدوء بهمزة  مثل : أكتب� , أشرب� ، أستعمل�

 

(2) �ي الأسماء:

�ي جميع الأسماء عدا شواذ الأسماء  المذكورة �ي همزة الوصل .

(3) �ي الحرو�:

جميعها عدا [ال] التعريÙ� ØŒ مثل : إلى – أو – أم – إن – أن

 

 قاعدة مهمة للت�رقة بين همزة القطع وهمزة الوصل :
للت�ريق بين هاتين الهمزتين �ي بداية الكلمة هناك طريقة سهلة وهي :أن تضع قبل الكلمة حر� الواو أو ال�اء ثم تنطقها �إن نطقت الهمزة �هي همزة قطع ، وإن لم تنطق الهمزة �هي همزة وصل .

مثال : أخذ (وأخذ ، �أخذ) لاحظ أنك تنطق الهمزة إجبارا ، ولاحظ أن الهمزة قطعت عليك النطق بين حر� الواو أو ال�اء وحر� الخاء

مثال : استعمل (واستعمل ، �استعمل) لاحظ أنك لم تنطق الهمزة  ، وإنما اتصل حر� الواو بالسين واتصل حر� ال�اء بالسين  ولذلك سميت همزة وصل  .

  �ال القمرية  المظهرة ، و �ال الشمسية

 

” â€�ال القمرية  المظهرة ” :

هي التي تكتب �ي أول الأسماء وتظهر عند النطق ، وهي لام ساكنة ، وتسمى (أل) المظهرة  ؛ لأنها تظهر عند النطق بها .

 

مثال : الْعلم – الْقلم – الْكلام – المثال .

 

ويأتي بعدها حر� من الحرو� الآتية:

 

 أ –  ب  –  ج  –  ح  –  خ  –  ع  –  غ  –  Ù�  –  ق  –  ك  –  م  –  Ù‡ –   –  و  –  ي 

 

و حرو� (أل) القمرية جمعت �ي هذه الجملة : 

”  ابغ حجك وخÙ� عقيمه “

 

” ال الشمسية المدغمة ” :

هي التي تكتب ولا تنطق (لأنها تدغم بالحر� الذي بعدها ، �يكتب الحر� الذي بعدها مشددًا)  

.

مثال : التّÙ�Ù�اح – الذَّهب – الصّÙ�دق – الطَّعام .

 

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 01

حرو�� جارۃ ایسے حرو� کو ک�تے �یں جو اپنے بعد آنے والے اسموں کو مجرور کر دیں۔ حرو�� جار� کے بعد آنے والے اسم کے آخری حر� پر زیر آ جائے گی۔ لیکن چند اسم ایسے �یں ک� جو کبھی مجرور ن�یں �وتے۔ مثلاً: ابرا�یم، عائش� وغیر�۔
حرو�� جار� کی کل تعداد
۱۷ بتائی جاتی �ے۔ حرو�� جار� مندرج� ذیل شعر میں جمع کر دیئے گئے �یں:

 

با و تا و کا� و لام و واؤ‘ منذ و مذ‘ خلا
ر�بّ‘ حاشا، م�ن‘ عدا‘ �ي‘ عَن‘ علیٰ‘ حتیٰ، ا�لیٰ

مثالیں:

 

  1. ب� + اسم = ب�سم� الله�۔ ب کی وج� سے اسم مجرور �وا جبک� الل� کا ل�ظ اسم کا مضا� الی� �ونے کی وج� سے مجرور �وا۔
  2. تالله�
  3. هو رجلٌ قوي كالأسد�
  4. لله�
  5. والعصر�
  6. كان يقرأ القران منذ صباح�
  7. كان يقرأ القران مذ صباح�
  8. رأيت البيت خلا غر�ة� النوم�
  9. ر�بَّ شيء� �ي ملك� احمد
  10. حاشا! هذا شيء� عجيب
  11. من الكلية�
  12. هو اشترى لباسه عدا جوربين
  13. �ي المدرسة�
  14. عن البيت�
  15. على الارض�
  16. سا�رت حتى المساء
  17. إلى المدرسة�

     جو ح�رو� اسْم پر داخل �وکرا�سے جرّ دیتے �یں ا�ن�یں ح�رو��  جارّ� یاحرو�� جر ک�تے �یں ، ی� ستر� حرو� �یں :

                                                بَا وتَا  وکَا� ولَام  ووَاو م�نْذ�  وم�ذْ  خَلَا

              ر�بَّ حَاشَا م�نْ عَدَا ��يْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی ا�لٰی   (در:۱۳)

ا�ن کی ت�صیل حسب ذیل �ے:

          م�نْ(سے): اَلْعَجْوَۃ� م�نَ الْجَنَّۃ�۔  حَتّٰی(تک): حَتّٰی مَطْلَع� الْ�َجْر�۔ ا�لٰی(تک، طر�): ت�وْب�وْاا�لٰی الل��۔  عَلٰی(پر): اَلسَلَام� عَلَیْک�مْ۔    ��يْ(میں ) : ع�ثْمَان� ��ي الْجَنَّۃ�۔   عَنْ(سے): نَ�ٰی عَن� الدَوَائ� الْخَب�یْث�۔   ب�(سے): ب�سْم� الل��۔    کَ(طرح) : لَیْسَ الْخَبَر� کَالْم�عَایَنَۃ�۔    لَ�(لیے):  الْمَال� ل�زَیْد�، اَلْقَلَم� لَ�ٗ۔   خَلَا، عَدَا، حَاشَا(علاو�) : نَامَ الْقَوْم� حَاشَا زَیْد�۔   م�ذْ، م�نْذ�(سے) : مَارَأَیْت��ٗ م�ذْ سَنَۃ�۔   ر�بَّ(کئی، کچھ): ر�بَّ عَاب�د� جَا��لٌ۔  وَ، تَ (قسم کے لیے):  وَالْعَصْر�،  تَالل��۔(شما:۶تا ۲۹)

تنبی�:   .1حر�� جر اور ا�س کے بعد والے اسم کو جار مجرور ک�تے �یں ،جارمجرور �میش� �عل یا شب�� �عل( اسم� �اعل، اسم� م�عول ، ص�َت� مشب�� ، اسم ت�ضیل، مصدر) کے م�تعل�ّق �وتے �یں اور جس کے متعل�ّق �وتے �یں ا�سے م�تعلَّقک�تے �یں۔

          .2جار مجرور کا متعلَّق ل�ظًا موجود�و تو ا�ن کو ظر�� لَغْوک�تے �یں : ح��َّت� الْجَنَّۃ�

ب�الْمَکَار���۔اور محذو� �و تو ا�ن کو  ظر�� م�ستقَرّک�تے �یں : اَلْحَجَر� الْأَسْوَد� م�نَ الْجَنَّۃ�۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

تمرین  (1)

(ال�) اعراب لگایئے نیز جار مجروراور ان کا متعلَّق پ�چانئے۔

            ۱۔النجاۃ �ي الصدق۔   ۲۔الحمد لل�۔   ۳۔الأعمال بالنیات۔   ۴۔الصدقات لل�قرائ۔  ۵۔الأمواج کالجبال۔   ۶۔الدال علی الخیر ک�اعل�۔  ۷۔ن�ی عن الاختصار �ي الصلاۃ۔  ۸۔لا خیر �ي الاسرا�۔   ۹۔الرجل �ي الدار۔   ۱۰۔لکل امریٔ ما نوی۔   ۱۱۔أ�ضل الکسب عمل الرجل بید�۔   ۱۲۔ما نقصت صدقۃ من مال۔   ۱۳۔السخي قریب من الل� قریب من الجنۃ قریب من الناس بعید من النار۔  ۱۴۔البخیل بعید من الل� بعید من الجنۃ بعید من الناس قریب من النار۔ ۱۵۔الآمر بالمعرو� ک�اعل�۔   ۱۶۔الأنبیاء أحیاء �ي قبور�م۔

 

{…جمع مکسر کے اوزان…}

       ۱۔أَ�ْع�لٌ: أَ�ْل�سٌ، أَنْ��سٌ۔  ۲۔أَ�ْعَالٌ: أَ�ْرَاسٌ، أَقْوَالٌ۔  ۳۔أَ�ْع�لَۃٌ: أَرْغ��َۃٌ، أَطْع�مَۃٌ۔  ۴۔��عْلَۃٌ: غ�لْمَۃٌ، ص�بْیَۃٌ۔  ۵۔�َعَلَۃٌ: بَرَرَۃٌ، کَ�َرَۃٌ۔   ۶۔أَ�ْع�لَائ�: أَنْب�یَاء�، أَوْل�یَائ�۔  ۷۔��عْلٌ: ح�مْرٌ، ��لْکٌ۔  ۸۔��عَالٌ: ر�جَالٌ، ��جَانٌ۔  ۹۔��ع�وْلٌ: ق�ر�وْئٌ، ق�ر�وْنٌ۔  ۱۰۔��عَلٌ: ��رَقٌ، ک�سَرٌ۔  ۱۱۔�َعْلٰی: مَرْضٰی، قَتْلٰی۔  ۱۲۔��عَلَاء�: ع�لَمَاء�، ک�رَمَاء�۔  ۱۳۔��عَلَۃٌ: ن�حَاۃٌ، ق�ضَاۃٌ۔  ۱۴۔��عَّلٌ: ر�کَّعٌ، س�جَّدٌ۔  ۱۵۔��عَّالٌ: ک�تَّابٌ، ح�رَّاسٌ۔  ۱۶۔��عَلٌ: ل�جَجٌ، ک�بَرٌ۔  ۱۷۔�َوَاع�ل�: نَوَاش�ز�، شَوَام�خ�۔  ۱۸۔�َعَائ�ل�: عَجَائ�ز�، صَحَائ���۔  ۱۹۔مَ�َاع�ل�: مَ�َاس�د�، مَنَاز�ل�۔ ۲۰۔مَ�َاع�یْل�: مَصَاب�یْح�، مَکَات�یْب�۔  ۲۱۔�َعَال�ل�: جَعَا��ر�، جَحَام�ر�۔  ۲۲۔�َعَال�یْل�: دَنَان�یْر�۔

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 02

🎇 *حرو� مشب� بال�عل*

🌠 *ا�نّ وَ اَخَوَات� ا�نَّ*
🌠 *ا�نَّ اور ا�نَّ کی ب�نیں*
(ا�نَّ کے بارے میں �م پڑھ چکے �یں ا�نَّ کے علاو� اور ال�اظ �یں جو ا�نَّ والا کام کرتے �یں یعنی اپنے اسم کو منصوب کر دیتے �یں تو و� ا�نَّ کی ب�نیں ک�لاتی �یں)

✨ *ا�نَّ 👈 بیشک یقیناً*
ا�نَّ *اللَّه�* معَ الصَّاب�ر�ینَ
اÙ�نَّ Ù†Û’ اپنے اسم ” Ù„Ù�ظ اللَّهÙ� Ú©Ùˆ منصوب کر دیا Û�Û’
(بے شک الل� صبر کرنے والوں کے ساتھ �ے)

✨ *اَنَّ 👈 ک�*
اَشَّھَد� *اَنَّ* م�حَمَّدًا رَّس�ول� الل��
اسم اَنَّ م�حَمَّدًا منصوب �ے
جو کام ا�نَّ کرتا �ے و� �ی اَنَّ کرتا �ے
(میں گوا�ی دیتا �وں ک� محمد الل� کے رسول �یں)

✨ *کَاَنَّ 👈 گویا ک�/مانند*
کَاَنَّ *الطّ��لَ* قَمَرٌ
کَاَنَّ نے اپنے اسم کو منصوب کر دیا
(گویا ک� بچ� چاند کی مانند �ے)

✨ *لک�نَّ 👈 لیکن*
ا�نَّ *الْق�رْآنَ* بَیَّنٌ ، لک�نَّ *الکَا��ر�ینَ* جَاھ�ل�ونَ
ی�اں دونوں ال�اظ لک�نَّ اور ا�نَّ آ گئے.
ا�نَّ نے اپنے اسم قرآن کو منصوب کر دیا ی� اصل میں دو جملے �یں اور کا�رین حالت نصب �ے لک�نَّ کی وج� سے
(بیشک قرآن واضح �ے لیکن کا�ر جا�ل �یں)

✨ *لَیتَ👈 کاش*
لَیتَ *الا�سلَامَ* غَال�بٌ
(کاش ک� اسلام غالب �وتا)

✨ *لَعَلَّ 👈 شاید، تاک�، امید �ے*
لَعَلَّ *زَیدًا* صَاد�قٌ
لَعَلَّ نے زید کو منصوب کر دیا �ے
(امید �ے زید سچا �ے)

💫 *لک�نَّ کی مزید مثالیں*

💫 زَیدٌ عَال�مٌ لک�نَّ *ا�بنَ�ٗ* جَاھ�لٌ
*اÙ�بنَÛ�Ù—*…. اÙ�بنَ اسم Ù„Ú©Ù�نَّ اور مضاÙ�
Û�Ù— … مضاÙ� الیÛ�
لک�نَّ نے اپنے اسم ا�بن� کو ا�بنَ کر دیا �ے
(زید عالم �ے اور اسکا بیٹا جا�ل �ے)

💫 الرَّج�ل� غَن�یٌّ *لک�نَّ�ٗ* بَخ�یلٌ
*Ù„Ú©Ù�نَّÛ�Ù—* …. Û�Ù— Ù„Ú©Ù�نَّ کا اسم Û�Û’ اور ÛŒÛ� ضمیر متصلÛ� منصوبÛ� Û�Û’ ÛŒÛ� حالت نصب میں Û�Û’.
(آدمی غنی �ے لیکن و� کنجوس �ے.)

💫 وَقت� ح�سَاب� النَّاس� قَر�یبٌ لک�نَّ *اَکثَرَھ�م* غَا��ل�ونَ
اصل اَکثَر� تها لک�نَّ نے اَکثَرَ کر دیا
(لوگوں کے حساب کا وقت قریب �ے لیکن ان میں سے اکثر غا�ل �یں)

💫 ا�نَّ *اللَّهَ* لَذ�و �َضْل� علی النَّاس� وَ لک�نَّ *اَکثَرَ* النَّاس� لَا یَشک�رَونَ

بیشک الل� اپنے بندوں پر �ضل کرنے والا �ے لیکن اکثر لوگ شکر ادا ن�یں کرتے

💫 لَیسَ عَلَيْكَ ھ�دَاھ�م وَ لک�نَّ *اللَّه�* یَھد�ی مَن یَشَاء�

آپ کے ذم� �دایت دینا ن�یں لیکن الل� �دایت دیتا �ے جسکو و� چا�تا �ے

🌀 *ا�نَّ وَ اَخَوَات� ا�نَّ +ما*

<ا�نَّ کے ساتھ ما ملایا دیا جائے تو و� بن جاتا �ے ا�نَّمَا.
ا�نَّمَا سے بھی تاکید کا پ�لو نکلتا �ے ی� بھی تاکید کیلئے استعمال �وتا �ے لیکن اسکا اثر آگے مبتدا یا اسکے اسم پر ن�یں �وتا)

🌀 *حرو� مشب� بال�عل کے ساتھ (ما زائد�) کا استعمال* حرو� مشب� بال�عل کا اثر ختم کر دیتا

مثال دیکھیں مش�ور مثال �ے

🌀 *ا�نَّمَا الاَعمَال� ب�الن�ّیَّات�*

بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر �ے

اب ی� 👆اَعمَال� ، اَعمَال� �ی ر�ا اگر ا�نَّ �وتا تو اَعمَالَ بن جاتا تو اسکا(ا�نَّ) کا اثر ختم �وگیا تاکید کا پ�لو اپنی جگ� پر قائم �ے

🌀 *ا�نَّمَا الْم�ؤْم�ن�ونَ ا�خوَۃٌ*
بے شک مومن بھائی بھائی �یں

🌀 *ا�نَّمَا نَحْن� م�سل�م�ونَ*
بیشک �م مسلمان �یں

🌀 *ا�نَّمَا اَنتَ مدَّک�ر�*
بیشک آپ یاد د�انی کرانے والے �یں

🌀 *ا�نَّمَا اَنَا رَس�ول� رَبّ�کَ*
بیشک میں تمھارے رب کا رسول �وں

🌀 *ا�نَّمَا ھذَا الح�یَاۃ� الدّ�نیَا مَتَاعٌ*
بیشک ی� دنیاوی زندگی برتنے کا سامان �ے

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 03

ا�عال ناقص� و� �عل �یں جو عموما اکیلے �اعل کے ساتھ� مکمّل معنی ن�یں دیتے… بلک� انکے ساتھ� کوئی �عل یا اسم آتا �ے خبر کی صورت میں… لیکن ی� �عل تام کی طرح بھی استعمال �و سکتے �یں… 

.

لَیْسَ – ی� جملے میں �عل حال میں ن�ی کے معنی پیدا کرتا �ے … لیس خبر کو منصوب کرتا �ے یا پھر ‘ب�’ لگا کر مجرور…

.

کان – �وا �ے یا تھا 

.

صَارَ – �و چکا 

.

ما دام – جب تک 

.

ان ا�عال میں مختل� اوقات ظا�ر �وتے �یں… 

أَصْبَحَ – صبح کے وقت 

أَضْحٰی – چاشت یا دوپ�ر کے وقت 

أَمْسٰی – شام کے وقت 

ظَلَّ – دن کے وقت 

بَات – رات بھر 

. 

ی� چاروں جملے میں استمراری معنی پیدا کرتے �یں یعنی ک� کام مسلسل �وتا ر�ا…

 مَا زالَ – ابھی تک، اب بھی 

مَا بَر�حَ 

مَا �َت�یئَ

مَا انْ�َکَّ 

.

ی� چاروں ناقصه �ونے کی صورت میں بمعنی صار استعمال �وتے �یں… یعنی کام �وگیا یا �و چکا… 

عَادَ – لوٹنا 

اٰض – پھرنا 

غَدَا – صبح کے وقت جانا  

رَاحَ – شام کے وقت جانا  

.

يَغْد�و� يَغْد�وَان� يَغْد�و�ونَ تَغْد�و� تَغْد�وَان� يَغْد�وْنَ تَغْد�و� تَغْد�وَان� تَغْد�و�ونَ تَغْد�و�ينَ تَغْد�وَان� تَغْد�وْنَ أَغْد�و� نَغْد�و�  

.

مثالیں  

.

لَيْسَ ن�یں  

.

لَيْسَ ه�وَ طَو�يْلًا –  لَيْسَ ه�وَ ب�طَو�يْل� – و� لمبا ن�یں �ے 

لَيْسَتْ زَهْرَة م�عَل�ّمَةً –  لَيْسَتْ زَهْرَة ب�م�عَل�ّمَة� – زھر� استانی ن�یں �ے 

لَسْت� وَحْد�ى – میں اکیلی، اکیلا ن�یں

لَيْس�وا ه�مْ ��ى الْمَلْعَب� – و� کھیل کے میدان میں ن�یں �یں

.

کَانَ یَک�ون� – �وا، تھا

.

کَانَ حَام�دٌ مَر�یْضًا اَمْسَ – حامد شام سے بیمار تھا 

کَانَ الْمَاء� بَار�دٌ – پانی سے ٹھنڈا تھا 

کَانَ ع�م�ر� رَج�لًا غَن�یًّا – عمر سخی آدمی تھا 

کَانَ الْبَاب� مَ�ْت�وحًا – درواز� کھلا �وا تھا 

کَانَتْ ھٰذ��� السَّاعَة� رَخ�یْصَةً – ی� گاڑی سستی تھی 

کَانَ الْم�دَر�ّس� ��ی الْ�َصْل� قَبْلَ خَمْس� دَقَائ�قَ – استاد پانچ منٹ پ�لے کلاس میں تھے 

کَانَ الط�ّلَاب� ��ی الْمَکْتَبَة� قَبْلَ ن�صْ�� سَاعَة� – طلب� آدھے گھنٹے پ�لے لائبریری میں تھے 

کَانَتْ ا�م�ّی ��ی الْمَطْبَخ� قَبْلَ قَل�یْل� – امی ابھی تھوڑی دیر پ�لے باورچی خانے میں تھیں 

کَانَ الْم�د�یْر� ��ی غ�رْ�َت�ه� قَبْلَ سَاعَة� – پرنسپل ایک گھنٹ� پ�لے اپنے کمرے میں تھے 

کَانَ الْوَز�یْر� ��ی لَنْدَنَ قَبْلَ ا�سْب�وع� – وزیر ایک ��تے پ�لے لندن میں تھا 

کَانَتْ ا�خْت�ی ��ی مَکَّةَ قَبْلَ اَرْبَعَة� اَیَّام� – میری ب�ن چار دن پ�لے مکے میں تھی 

کَانَ الأَط�بَّاءٌ ��ی الْم�سْتَشْ�َی قَبْلَ ث�ل�ث� سَاعَة� – سارے طبیب بیس منٹ پ�لے اسپتال میں تھے 

کَانَتْ الطَّال�بَات� ��ی الْمَکْتَبَة� قَبْلَ قَل�یْل� – طالبات تھوڑی دیر پ�لے لائبریری میں تھیں  

.

مَا زَالَ ، لَا یَزَال� – ابھی تک 

.

ا�بْرَاه�یْم� نَائ�مٌ – ابراھیم سو ر�ا �ے …… لَا یَزَال� ا�بْرَاه�یْم� نَائ�مًا – ابرا�یم ابھی تک، اب بھی  سو ر�ا �ے 

آم�نَة� نَائ�مَةٌ – آمن� سو ر�ی �ے …… لَا تَزَال� آم�نَة� نَائ�مَةً – آمن� ابھی تک، اب بھی  سو ر�ی �ے 

ھَشَّامٌ عَزَبٌ – ھشام کنوارا �ے ….. لَا یَزَال� ھَشَّامٌ عَزَبًا ھشام ابھی تک، اب بھی کنوارا �ے 

أَحْمَد� مَر�یْضٌ – احمد بیمار �ے ….. لَا یَزَال� أَحْمَد� مَر�یْضًا احمد ابھی تک، اب بھی بیمار �ے 

اَلْمَکْتَبَة� م�غْل�قَةٌ لائبریری بن �ے ….. لَا تَزَال� الْمَکْتَبَة� م�غْل�قَةً لائبریری ابھی تک، اب بھی بند �ے 

حَام�دٌ غَائ�بٌ حامد غیر حاضر �ے ….. لَا یَزَال� حَام�دٌ غَائ�بًا حامد ابھی تک، اب بھی غیر حاضر �ے 

اَلْج�و�ّ حَارٌّ – �ضا گرم �ے …..  لَا یَزَال� الْج�و�ّ حَارًّا �ضا ابھی تک، اب بھی گرم �ے  

السَّیٌّارَة� جَد�یْدَةٌ گاڑی نئی �ے ….. لَاتَزَال� السَّیَّارَة� جَد�یْدَةً گاڑی ابھی تک، اب بھی نئی �ے 

.

کَادَ یَکَاد� – (کَو�دَ یَکْوَد�) – کرنے والا تھا یا قریب تھا 

.

�َتَحَ زَکَر�یَّا الْبَابَ وَ کَادَ یَخْر�ج� – زکریا نے درواز� کھولا اور و� نکلنے �ی والا کے قریب تھا 

یَکَاد� الْا�مَام� یَرْکَع� – امام رکوع میں جانے �ی والا تھا 

یَکَاد� الْجَرَس� یَر�ن�ّ – گھنٹی بجنے �ی والی تھی 

ا�نْقَلَبَتْ سَیَّارَة� حَام�د� وَ کَادَ یَم�وْت� – حامد کی گاڑی الٹ گئی اور و� مرنے �ی والا تھا 

ضَرَبَت� الْم�د�یْرَة� س�عَادَ �َکَادَتْ تَبْک�ی – پرنسپل نے سعاد کو مارا تو و� رونے کے قریب تھی  

ضَرَبَ ط��ْل�ی نَظَّارَت�ی ب�االْعَصَاء� وَ کَادَ یَکْس�ر�ھَا – ایک بچی نے میری عینک کو چھڑی سے ضرب لگائی، و� اسے توڑنے کے قریب تھی 

السَّاعَة� الْآنَ الْوَاح�دَة� یَکَاد� الْم�د�یْر� ی�خْر�ج� – ابھی ایک بجا �ے، پرنسپل نکلنے �ی والے �یں 

.

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 04
رحمن کے خادم

 خداوند متعال نے اپنی کتاب کے متن میں اپنے نیک بندوں کی ص�ات اور خصوصیات کا تذکر� کیا ، انھوں نے مومنین کی پ�لی سورت میں اور سورت ال�رقان کے اختتام میں ذکر کیا ، جو ایسی خصوصیات �یں جو عموما اپنے بندے سے ڈرنے والے مومن بندے کی خصوصیت �یں ، اور باقی لوگوں کی تقلید کرتی �یں ، اور ا�م ترین شخص سے جو نمائندگی کرتی �ے۔ اس میں کوئی شک ن�یں ، �مارے بزرگ رسول محمد صلی الل� علی� وسلم اس مضمون میں ان خصوصیات میں سے کچھ گ�تگو کریں گے۔

رحیم کے بندوں کی خصوصیات

 عاجزی: میں Ú©Û’ طور پر آیات: (اور غلاموں الرحمن Û�یں پر چلنے والوں Ú©Ùˆ زمین میں عاجزی) ØŒ عاجزی ÛŒÛ�اں وقار اور استحکام اور خاکساری اور مطلب ÛŒÛ� Û�Û’ Ú©Û� غلاموں Ú©ÛŒ الرحمن Ú©Û’ طور پر بیان کر خدا Ú©Û’ بغیر شائستÛ� آپ بڑھنے اپ ØŒ دوسروں سے بÛ�تر خود نظر Ù†Û�یں آتا، Ù†Û�یں Ú©Û’ طور پر خدا تعالی Ú©ÛŒ طرÙ� سے برکت بھی اگر دوسروں Ú©Û’ ساتھ برکت Û�Û’Û” جاÛ�Ù„ اور رواداری سے اجتناب: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور جب جاÛ�لوں Ù†Û’ انÛ�یں مخاطب کیا تو انÛ�ÙˆÚº Ù†Û’ سلام Ú©Û�ا) ØŒ یعنی رحیم Ú©Û’ بندے ØŒ بیمار Û�ونے والوں Ú©Ùˆ نظرانداز کریں ØŒ اور معاÙ� کردیں ØŒ اور اگر جاÛ�Ù„ لوگ ان Ú©Ùˆ برا بھلا Ú©Û�تے Û�یں اور اس Ú©ÛŒ عمدÛ� مثال Ú©Û�تے Û�یں اور Ú©Û�تے Û�یں: Û�مارے نبی. رسول صلی اللÛ� علیÛ� وآلÛ� وسلم Ú©Ùˆ جو نقصان Ù¾Û�Ù†Ú†Û’ اور بری باتیں ÙˆÛ� Ú©Ù�ار قریش سے برداشت کریں ØŒ Ù„Û�ذا ÙˆÛ� ان سے تعزیت کرتا Û�Û’ اور انÛ�یں معاÙ� کرتا Û�Û’ ØŒ اور ان Ú©Û’ اعمال Ú©Ùˆ اچھے اخلاق سے ملتا Û�Û’Û” رات Ú©Ùˆ ثابت قدم رÛ�Ùˆ : جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور جو لوگ اپنے رب Ú©Û’ لئے نماز اور قیامت میں سجدÛ� کرتے Û�یں) ØŒ Ù„Û�ذا عبد الرحمن اس بات Ú©Ùˆ یقینی بناتا Û�Û’ Ú©Û� رات اور خدا Ú©ÛŒ عبادت کا بÛ�ترین وقت ØŒ رات اور جادو کا وقت اٹھتا Û�Û’ ØŒ اور ÙˆÛ� اپنے رب Ú©ÛŒ طرÙ� رجوع کرتا Û�Û’ اور سوتا Û�Û’ ØŒ اور خدا Ú©ÛŒ طرÙ� رجوع کرتا Û�Û’Û” خدا Ú©ÛŒ طرÙ� سے ØŒ سونے اور آرام کرنے Ú©Û’ لئے. Ø¢Ú¯ Ú©Û’ عذاب Ú©Û’ خوÙ�: آیات میں Û�Û’: (اور جن لوگوں Ù†Û’ Ú©Û�ا، “اے Û�مارے رب ØŒ جÛ�نم Ú©Û’ عذاب، اور بنی نوع انسان Ú©ÛŒ درد Û�میں سے مشغول ٹھیک Û�Û’. اچھ givingÛ’ کاموں Ú©Ùˆ مختلÙ� طریقوں سے حاصل کرنا ØŒ خیرات دینے سے یا نقصان Ù¾Û�نچانے سے یا دوسرے نیک اعمال سے۔ اسراÙ� Ù†Û�یں کرنا: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور ÙˆÛ� لوگ ØŒ جب انÛ�ÙˆÚº Ù†Û’ خرچ کیا ØŒ ضائع Ù†Û�یں کیا ØŒ اور Ù†Û� Û�ÛŒ رÛ�ا ØŒ اور ان میں طاقت بھی موجود تھی) ØŒ Ù„Û�ذا عبد الرحمٰن ÛŒÛ�اں خداوند متعال Ù†Û’ بیان کیا Û�Û’ ØŒ اس سے دور Û�Û’Û” خدا Ú©ÛŒ قسم۔ خدا میں مشغول Ù†Û�یں: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: (اور ÙˆÛ� لوگ جو خدا Ú©Û’ ساتھ دوسرا معبود Ù†Û�یں Ú©Û�تے Û�یں) ØŒ عبد الرحمٰن Ù†Û’ ÛŒÛ�اں خدا Ú©Û’ ذریعÛ� بیان کیا Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� خدا Ú©Û’ ساتھ کسی اور چیز میں شامل Ù†Û�یں Û�Û’ ØŒ خواÛ� ÙˆÛ� اس Ú©Û’ دل ØŒ اس Ú©Û’ کام یا اس Ú©Û’ ارادے میں Û�Û’ ØŒ تاکÛ� ÙˆÛ� اپنے تمام کاموں Ú©Ùˆ اکیلا Û�ÛŒ اللÛ� تعالی Ú©Û’ لئے بچائے ØŒ اور یقین Û�Û’ Ú©Û� Ù†Û�یں۔ اس Ú©Û’ لیے. توبÛ�: جیسے آیات میں: (سوائے ان لوگوں Ú©Û’ جو توبÛ� کرتے Û�یں اور ایمان لاتے Û�یں اور نیک اعمال کرتے Û�یں) ØŒ سب سے اچھے Ú¯Ù†Û�گار ÙˆÛ� لوگ Û�یں جو توبÛ� کرتے Û�یں ØŒ اور عبد الرحمٰن ان Ú©ÛŒ صÙ�ات میں سے ایک Û�Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� خدا سے توبÛ� کرتا Û�Û’ ØŒ اس Ú©ÛŒ طرÙ� لوٹتا Û�Û’ اور اس سے توبÛ� کرنے کا مطالبÛ� کرتا Û�Û’ اور جو اس Ú©Û’ دل میں یقین رکھتا Û�Û’ Ú©Û� خدا اسے معاÙ� کردے گا۔ بغیر کسی حق Ú©Û’ شخص Ú©Ùˆ قتل کرنے اور زنا سے دور رÛ�نا: جیسے آیات میں Û�Û’: ( اور ÙˆÛ� اس روح Ú©Ùˆ Ù†Û�یں ماریں Ú¯Û’ جو خدا Ú©Ùˆ روک کر حق Ú©Û’ سوا منع کرے ) ØŒ (اور زناکاری Ù†Û� کریں )Û” Û�ر طرح Ú©ÛŒ ناÙ�رمانی Ú©Ùˆ حرام کاری پر رکھنا ØŒ Ù„Û�ذا ÙˆÛ� اللÛ� Ú©Û’ Ù�رمان Ú©Û’ مطابق اپنے حص passÙˆÚº Ú©Ùˆ برقرار رکھتا Û�Û’Û” بیکار تقریر سے دور رÛ�نا : جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: ( اور جو باطل Ú©Û’ گواÛ� Ù†Û�یں Û�وتے اور اگر ÙˆÛ� محاورÛ� سے وقار سے گزر جاتے Û�یں ) اور محاورÛ� ÙˆÛ� تقریر Û�Û’ جس کا کوئی Ù�ائدÛ� Ù†Û�یں Û�Û’ ØŒ اور جھوٹی گواÛ�ÛŒ Û�ÛŒ جھوٹی گواÛ�ÛŒ Û�Û’Û” ÙˆÛ� جو اچھی اولاد Ú©ÛŒ تلاش کرتا Û�Û’: جیسا Ú©Û� آیات میں Û�Û’: ( اور جو لوگ Ú©Û�تے Û�یں Ú©Û� Û�مارے رب Ù†Û’ Û�میں اپنی بیویوں سے Û�Ù… سے نوازا Û�Û’ ØŒ اور Û�ماری اولاد عین کا قرآن Û�Û’ ) ØŒ Ù„Û�ذا خدا کا بندÛ� راستباز Û�Û’Û”
ANS 05

لما أردت كتابة مقالات �ي بعض أنواع المعاملات المالية ولا سيما المعاصرة منها خطر ببالي أنه يجدر بي قبل ذلك أن أق� مع م�هوم المعاملات المالية أولا، لكي يكون التصور لدى القارئ تاما، والمعلومة مكتملة.

ولذا خصصت المقالات الأولى لم�هوم المعاملات المالية وتقسيماتها وبعض القواعد الناظمة لها وغير ذلك مما يكون كالتوطئة والتمهيد للحديث عن بعض أنواع تلك المعاملات.

إن المعاملة من صيغتها الت�اعلية تقتضي المشاركة والت�اعل بين طر�ين �أكثر غالبا*. والطر�ان، هما العاقدان، ويسميان: البائع والمشتري �ي باب المعاوضات، والمحيل والمحال عليه �ي باب الحوالة، والواهب والموهوب له �ي باب الهبة، والراهن والمرتهن �ي باب الرهن، والمقرض والمقترض �ي باب القرض، والمضار�ب والمضارَب �ي باب المضاربة، وهكذا، �العاقدان هما طر�ا المعاملة، والمعاملة هي عين العقد الذي يتم بينهما من بيع أو شراء أو هبة أو وق� وهكذا .

و المالية: نسبة إلى المال، وهو �ي اللغة ما يقتنى ويملك من جميع الأشياء: قال �ي لسان العرب: ( المال معرو� ما ملكته من جميع الأشياء، ومال الرجل يمول مولا ومؤولا إذا صار ذا مال، وتصغيره مويل)([1]).

واشتقاقه من الميل لأن طباع الناس تميل إليه ويميلها، ولهذا سمي مالا([2]).

أما المال اصطلاحا: �قد اختل�ت تعري�ات ال�قهاء والباحثين �يه؛ نظرا لاختلا� وجهات نظرهم �ي المعاني الاصطلاحية المرادة منه، واختلا� المأخذ والوجهة التي عر�وه منها، �منهم من عر�ه بص�ته، ومنهم من عر�ه بوظي�ته، ومنهم من عر�ه بحكمه . .  إلا أن المؤثر الرئيس �ي اختلا�هم والذي كان له أثر حقيقي على ال�روع، هو اختلا� الأعرا� �يما يعد مالا وما لا يعد، وذلك أنه ليس له حد �ي اللغة ولا �ي الشرع، �حكم �يه العر�([3])  وهذه أهم تعري�اتهم له :

أولا: تعري� الحن�ية: وقد قالوا: (هو اسم لما هو مخلوق لإقامة مصالحنا به، ولكن باعتبار وص� التمول، والتمول صيانة الشيء وادخاره لوقت الحاجة، أو ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة )([4]).

ثانيا: تعري� المالكية: قال الشاطبي رحمه الله: ( المال ما يقع عليه الملك ويستبد به المالك عن غيره إذا أخذه من وجهه )([5]).

وبعض المالكية يضي� الأيلولة وهي اعتبار ما يؤول إلى المالية �يعد مالا من حيث أحكامه، جاء �ي حاشية الصاوي على الشرح الصغير بتصر�: ( وَل�مَا لَيْسَ ب�مَال� وَلَا آي�ل� لَه� – أي للمال -كالش�عة وجرح الخطأ والكتابة وادعاء النكاح بعد الموت ونحوه �كله يؤال إلى المالية �يثبت بشاهد وامرأتين)([6]).

والشاهد إلحاق ما يؤول إلى المالية بالمال �ي أحكامه ولذا لابد من مراعاة ذلك عند تعري� المال.

ثالثا: تعري� الشا�عية: نقل السيوطي رحمه الله عن الإمام الشا�عي أنه قال: (لا يقع اسم مال إلا على ما له قيمة يباع بها وتلزم متل�ه وإن قلت، وما لا يطرحه الناس مثل ال�لس وما أشبه ذلك)([7]).

رابعا: تعري� الحنابلة للمال: جاء �ي الإقناع من كتب الحنابلة: (هو ما �يه من�عة مباحة لغير حاجة أو ضرورة)([8]).

والمتأمل �ي هذه التعري�ات يجد أنها تتمايز إلى مسالك ثلاثة هي:

مسلك الحن�ية: ويقتضي عدم اعتبار المنا�ع مالاً لأنها لا تدخر.

مسلك الشا�عية والحنابلة: ويشمل مصطلح المال عندهم الأعيان والمنا�ع.

مسلك المالكية: ويشمل مصطلح المالية عندهم بالإضا�ة إلى الأعيان والمنا�ع (الأيلولة أي اعتبار مالية ما يؤول إلى المال �ي جواز الاعتياض عنه، ولقد أشار إليها المالكية �ي باب الشهادات باعتبار أنما يؤول إلى المال بوجه من الوجوه كالمال �ي نصاب الشهود ومثلوا لذلك بجرح الخطإ والش�عة والجراح التي لا قصاص �يها “ولما ليس بمال ولا آئل له� كما قال خليل..ولكنهم كانوا أصرح �ي اعتبار بعض الحقوق قابلة للعوض كتنازل الضرة عن نوبتها بعوض …

ولهذا �إنَّ مجال المالية يمكن أن يوسع بنظرة مقاصدية تعتمد مذهب مالك، ويمكن أن تحل الإشكالات �ي العقود الحديثة؛ لتجيز الاعتياض عن �عل، أو امتناع عن �عل لصالح جهة ما وبخاصة �ي الخيارات)([9]).

ولعل تعري� المالكية هو الأقرب؛ لتناوله الأعيان والمنا�ع والحقوق وما يؤول إلى المالية ولو لم يكن مالا بذاته، ولنظرته المقاصدية التي قد تسهم �ي علاج كثير من المشاكل الشائكة �ي العقود الحديثة لتجيز الاعتياض عن �عل أو امتناع عن �عل لصالح جهة ما وبخاصة �ي مجال الخيارات �ي البورصة الدولية، كما يح�ظ الحقوق المعنوية التي لها قيمة مادية كحقوق الابتكار والحقوق الذهنية مثل برامج الكمبيوتر والكتب وغير ذلك.

ويمكن صياغة تعري� جامع لما ذهب إليه أصحاب المسلكين الثاني والثالث �نقول:

(المال هو ما كانت له قيمة عر�ا حالا أو مآلا وجاز الانت�اع به اختيارا لا اضطرارا. ) وهذا التعري� قريب مما جاء �ي معجم لغة ال�قهاء من تعري� المال بأنه: ( كل ما يمكن الانت�اع به مما أباح الشرع الانت�اع به �ي غير حالات الضرورة) ([10]) لكن �يه زيادة الأيلولة التي أضا�ها المالكية.

وبعد أن عر�نا م�هوم المعاملات والمال باعتبار الإ�راد، لا بد أن نعر� مصطلح المعاملات المالية باعتباره علما:

ومن خلال ما ذكر �ي معنى م�ردتي هذا المصطلح يمكن تعري�ه باعتباره علما لباب من أبواب ال�قه بأنه :علم ينظم تبادل الأموال والمنا�ع بين الناس بواسطة العقود والالتزامات.

لكن يلاحظ على هذا التعري� تناوله للأحكام �قط بينما يطلق مصطلح المعاملات المالية أحيانا على ذات ال�عل الذي يقع �يه التعامل بين الناس كما يطلق على الأحكام المتعلقة بتلك الأ�عال المشتركة ([11])من عقود وشروط وخيارات وغيرها.

ولذا لو قلنا �ي تعري� هذا المصطلح بأنه: الأحكام والأ�عال المتعلقة بتصر�ات الناس �ي شؤونهم المالية.. لكان أجمع لشموله للمعنين اللذين يأتي لهما ويطلق عليهما

Check Also: AIOU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *